الجواب:
ایسی قوالی حرام ہے۔ حاضرین سب گناہگار ہیں۔ اور ان سب کا گناہ ایسا عرس کرنے والوں اور قوالوں پر ہے اور قوالوں کا بھی گناہ اس عرس کرنے والے پر بغیر اس کے کہ عرس کرنے والے کے ماتھے قوالوں کا گناہ جانے سے قوالوں پر سے گناہ کی کچھ کمی آئے یا اس کے اور قوالوں کے ذمہ حاضرین کا وبال پڑنے سے حاضرین کے گناہ میں کچھ تخفیف ہو۔ نہیں بلکہ حاضرین میں ہر ایک پر اپنا پورا گناہ اور قوالوں پر اپنا گناہ الگ، اور سب حاضرین کے برابر جدا اور ایسا عرس کرنے والے پر اپنا گناہ الگ اور قوالوں کے برابر جدا، اور سب حاضرین کے برابر علیحدہ۔وجہ یہ کہ حاضرین کو عرس کرنے والے نے بلایا، یا اسی کے لئے اس گناہ کا سامان پھیلایا اور قوالوں نے انہیں سنایا اگر وہ سامان نہ کرتا، یہ ڈھول اور سارنگی نہ سناتے تو حاضرین اس گناہ میں کیوں پڑتے۔ اس لئے ان سب کا گناہ ان دونوں پر ہوا۔ پھر قوالوں کے اس گناہ کا باعث وہ عرس کرنے والا ہوا۔ وہ نہ کرتا نہ بلاتا تو یہ کیوں کر آتے بجاتے ۔ لہٰذا قوالوں کا گناہ بھی اس بلانے والے پر ہوا۔کَمَا قَالُوا فِی سَائِلِ قَوِيٍّ ذِيْ مِرَّةٍ سَوِيٍّ اِنَّ الْاٰخِذَ وَ الْمُعْطِيَ اٰثِمَانِ لِاَنَّھُمْ لَوْ لَمْ یُعْطُوْا لَمَا فَعَلُوْا فَکَانَ الْعَطَاءُ ھُوَ الْبَاعِثَ لَھُمْ عَلَی الْاِسْتِرسَالِ فِي التَّکَدِّی وَالسُّؤالِ وَھٰذَا کَالظَّاھِرِ عَلٰی مَنْ عَرَفَ الْقَوَاعِدَ الْکَرِیْمَةَ الشَّرْعِیَّةَ وَ بِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ دَعَا اِلىٰ هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا اِلىٰ ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا۔جو کسی امرِ ہدایت کی طرف بلائے جتنے اس کا اتباع کریں ان سب کے برابر ثواب پائے اور اس سے ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ آئے۔ اور جو کسی امرِ ضلالت کی طرف بلائے جتنے اس کے بلانے پر چلیں ان سب کے برابر اس پر گناہ ہو اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ تخفیف راہ نہ پائے۔ (رواہ الائمہ احمد ومسلم والاربعہ عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔باجوں کی حرمت میں احادیث کثیرہ وارد ہیں ازان جملہ اجل واعلیٰ حدیث صحیح بخاری شریف ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ۔ ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو حلال ٹھہرائیں گے عورتوں کی شرمگاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو۔ (حدیث صحیح جلیل متصل وقد اخرجہ ایضا احمد وابوداؤد)
بعض جاہل بد مست یا نیم مُلا شہوت پرست یا جھوٹے صوفی باطل پرست کہ احادیثِ صحاحِ مرفوعہ محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصے یا مختلق واقعے یا متشابہ پیش کرتے ہیں انہیں اتنی عقل نہیں یا قصداً بے عقل بنتے ہیں کہ صحیح کے سامنے ضعیف متعیّن کے آگے محتمل، محکم کے حضور متشابہ واجب الترک ہے۔ پھر کہاں قول کہاں حکایتِ فعل، پھر کجا محرم کجا جمیع ہر طرح، وہی واجب العمل اسی کو ترجیح مگر ہوس پرستی کا علاج کس کے پاس ہے؟ کاش وہ گناہ کرتے اور گناہ جانتے۔ استمرار لاتے یہ ڈھٹائی اور بھی سخت ہے کہ ہوس بھی پالیں اور الزام بھی ٹالیں اپنے لئے حرام کو حلال بنالیں۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ معاذ اللہ اس کی تہمت محبوبانِ خدا اکابرِ سلسلہ عالیہ چشت قدست اسرارہم کے سر دھرتے ہیں۔ نہ خدا سے خوف نہ بندوں سے شرم کرتے ہیں۔حالانکہ خود حضور محبوبِ الہی سیدی و مولائی نظام الحق والدین سلطان الاولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عنہم فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں۔ مزامیر حرام است۔مولانا فخر الدین زادی خلیفہ حضور سیدنا محبوبِ الہی رضی اللہ عنہا نے حضور کے زمانہ مبارک میں خود حضور کے حکمِ احکم سے مسئلہ سماع میں رسالہ "کشف القناع عن اصول السماع" تحریر فرمایا اس میں صاف ارشاد فرمایا کہ "اَنَّ سَمَاعَ مَشَائِحِنَا رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنھُم بَرِیٌ عَنْ ھٰذِہِ التُّھَمَۃِ وَ ھُوَ مُجَرَّدُ صَوتِ الْقَوَّالِ مَعَ الْاَشْعَارِ الْمُشِیْرَۃِ بِکَمَالِ صَنْعَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی"۔ ہمارے مشائخ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا سماع، اس مزامیر کے بہتان سے بری ہے۔ وہ صرف قوال کی آواز ہے ان اشعار کے ساتھ جو کمالِ صنعتِ الہی سے خبر دیتے ہیں۔لِلّٰہِ انصاف اس امامِ جلیل خاندانِ عالی چشت کا یہ ارشاد مقبول ہو گیا یا آج کے مدعیانِ خامہ کار کی تہمتِ بے بنیاد و ظاهرة الفساد۔ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ۔سیدی مولانا محمد بن مبارک بن محمد علوی کرمانی مرید حضور شیخ العالم فرید الحق والدین سیر الاولیاء میں فرماتے ہیں، حضرت سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز می فرمود کہ چند چیز می باید تا سماع مباح شود۔ مسمع و مستمع و مسموع و آلہ سماع۔ مسمع یعنی گویندہ مرد تمام باشد کودک نہ باشد و عورت نہ باشد و مستمع آنکہ می شنود از یادِ حق خالی نباشد و مسموع آنچه بگویند فحش و مسخرگی نباشد و آلہ سماع مزامیر است چون چنگ و رباب و مثل آں می باید کہ در میان نہ باشد ایں چنیں سماع حلال است۔مسلمانو! یہ فتویٰ ہے سرور و سردارِ سلسلہ عالیہ چشت حضرت سلطان الاولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔ کیا اس کے بعد بھی مفتریوں کو منھ دکھانے کی گنجائش ہے؟نیز سیر الاولیاء شریف میں ہے:۔یکے بخدمتِ حضرت سلطان المشائخ عرض داشت کہ دریں روز ہا بعضے از درویشان آستانہ دار در مجمعے کہ چنگ و رباب و مزامیر بود رقص کردند۔ فرمود نیکو نہ کردہ اند آنچہ نامشروع است ناپسندیدہ است بعد ازاں یکے گفت چوں ایں طائفہ ازاں مقام بیرون آمدند بایشان گفتند کہ شما چہ کردہ ید دراں جمع مزامیر بود سماع چگونہ شنیدید و رقص کردید۔ ایشاں جواب دادند کہ ما چناں مستغرقِ سماع بودیم کہ ندانستیم کہ اینجا مزامیر است یا نہ۔ حضرت سلطان المشائخ فرمود ایں جواب ہم چیزے نیست۔ ایں سخن در ہمہ معصیتہا بباید۔
مسلمانو! امامِ ارشاد سے مزامیر ناجائز ہے اور اس عذر کو کہ ہمیں استغراق کے باعث خبر نہ تھی، رد فرمایا کہ یہ تو ہر گناہ میں کہہ سکتے ہیں۔
مسلمانو! کیسا صاف ارشاد ہے کہ مزا میر نا جائز ہے اور اس عذر کا کہ ہمیں استغراق کے باعث مزامیر کی خبر نہ ہوئی کیا مسکت جواب عطا فرمایا کہ ایسا حیلہ ہر گناہ میں چل سکتا ہے شراب پئے اور کہ دے شدت استغراق کے باعث ہمیں خبر نہ ہوئی کہ شراب ہے یا پانی ۔ زنا کرے اور کہہ دے غلبہ حال کے سبب ہمیں تمیز نہ ہوئی کہ جورو ہے یا بیگانی -
رد بدعات و منکرات احمد رضا خان ص نمبر 266
No comments:
Post a Comment