Tuesday, September 12, 2023

موضوع: نماز جنازہ کی صفوں کے درمیان عام نمازوں کی طرح فاصلے رکھنا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: نماز جنازہ کی صفوں کے درمیان عام نمازوں کی طرح فاصلے رکھنا! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر چلنے والے دیوبندی اور رضاخانی عوام علماء اور مفتیان فرض نمازوں میں صفوں کی درستگی کا اہتمام تو کبھی کرتے نہیں، لیکن نماز جنازہ میں منظر اس کے برعکس دیکھنے کو ملتا ہے۔ نماز جنازہ ایسی نماز ہے جس میں نہ رکوع ہے نہ سجدہ ہے۔ تاہم لوگ جگہ کی تنگی کے باوجود دو صفوں کے بیچ اتنے فاصلوں کے ساتھ صف بندی کرتے ہیں جتنے میں بآسانی رکوع اور سجدہ کیا جا سکے۔ حد تو یہ ہے کہ یہ جاہلانہ تکلفات بڑے بڑے امام مفتیوں کی امامت و نگرانی میں کئے جاتے ہیں۔ 

جبکہ نماز جنازہ میں ایسے تکلفات کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔اور نہ کتاب و سنت میں اس کی کوئی اصل ہے۔ اپنے ہی گھر کے فتوؤں سے تقلیدی مفتیوں کی لا علمی کے نتیجے میں آج لوگ سڑکوں پر نماز جنازہ کی صف بندی کرتے اور سڑکوں کو بلا وجہ جام کرتے نظر آتے ہیں۔ 

دارالعلوم دیوبند سے اس بابت جب سوال کیا گیا کہ نماز جنازہ میں دو صفوں کے بیچ کی دوری کتنی ہونی چاہئے؟

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتے ہوئے لکھا: 

نماز جنازہ میں چوں کہ رکوع، سجدہ نہیں ہے؛ اس لیے ہر دو صف کے درمیان صرف اتنا فصل کافی ہے کہ ایک صف والوں کا جسم دوسرے صف والوں کے جسم سے ٹچ نہ ہو، مثلا ڈیڑھ، دو بالشت کا فصل ہو، لوگوں میں جو مشہور ہے کہ عام نمازوں کی طرح نماز جنازہ میں بھی رکوع سجدے کے بہ قدر فصل ہونا چاہیے تو شریعت میں اس کی کچھ اصل نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کچھ ضرورت ہے ( فتاوی دار العلوم دیوبند، ۵: ۲۸۹، جواب سوال: ۲۸۱۷، مطبوعہ:مکتبہ دار العلوم دیوبند، 
فتاوی محمودیہ، ۸: ۵۹۸، ۵۹۹، جواب سوال: ۴۰۸۳، ۴۰۸۴، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)۔

مستفاد:و رکنھا شیئان: التکبیرات الأربع… والقیام (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳:۱۰۵، ۱۰۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند )

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 158805

رضاخانی اور دعوت اسلامی مفتیوں نے بھی یہی جواب دیا۔ چنانچہ جب ان سے سوال کیا گیاکہ کیانمازِجنازہ کی صفوں کے درمیان اتنا فاصلہ ضروری ہے کہ جتنا نمازپنجگانہ والی صفوں کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے ، ہمارے ہاں جنازے کی صفوں میں صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے کہ آدمی کھڑا ہو سکتا ہے ، رہنمائی فرما دیں ۔

جواب: 
 نمازِ جنازہ کی صفوں کے درمیان اتنافاصلہ رکھنا جتنا رکوع و سجود والی نماز میں فاصلہ کیا جاتا ہے ، ایسا ضروری نہیں ، کیونکہ رکوع و سجود والی نماز میں تو اس لیے مخصوص فاصلہ کیا جاتا ہے تا کہ نمازی آسانی سے رکوع اور سجدہ کر سکے اور جنازے میں رکوع وسجودنہیں ہوتے ، لہٰذا اگر اتنا فاصلہ نہیں کیا گیا اور قریب قریب صفیں بنا کر نمازِ جنازہ ادا کر لیا گیا ،تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ 

دارالافتاء اہلسنت 
فتویٰ نمبر: WAT-933

دیوبندیوں کے نزدیک معتبر فتوے کی کتاب فتاویٰ محمودیہ میں ہے: 

صلوۃ مطلقہ میں رکوع سجدے ہوتا ہے، دو صفوں کے بیچ اتنی جگہ خالی چھوڑی جاتی ہے کہ رکوع سجدہ سنت کے موافق ادا ہو سکے ، نماز جنازہ میں اس کی ضرورت نہیں، قریب قریب صفیں ہوں تب بھی درست ہے۔ 
(فتاوی محمودیہ، ۸: ۵۹۸، ۵۹۹، جواب سوال: ۴۰۸۳، ۴۰۸۴، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)۔


واضح ہو کہ دو صفوں کے بیچ کے فاصلے کی کوئی حد شریعت نے مقرر نہیں کی ہے، لیکن فرض نمازوں میں دو صفوں کے بیچ اس قدر فاصلہ رکھنا ضروری ہے جس سے رکوع سجدہ ممکن ہو۔ سکے۔ نماز جنازہ میں چونکہ رکوع سجدے نہیں ہے، اس لیے نہ تو اس تکلف کی ضرورت ہے اور نہ ہی کتاب و سنت میں اس کی کوئی دلیل موجود ہے۔ اسی طرح نماز جنازہ میں چونکہ رکوع سجدے نہیں ہیں، اس لیے بقیہ نمازوں کی طرح نماز جنازہ میں امام اور مقتدی کے درمیان بھی اتنا فصل کافی ہے جتنا کہ بآسانی کھڑے ہو سکیں، خصوصاً اس وقت جبکہ لوگوں کا ازدحام بھی زیادہ ہو۔ حد تو یہ ہےکہ عام نمازوں کی طرح نماز جنازہ میں بھی امام کے لیے مصلی بچھانے کا شدت سے اہتمام کیا جاتا ہے جس تکلف کی شرعاً کوئی اصل نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کچھ ضرورت ہے۔ انتہا تو یہ ہے کہ بسا اوقات حنفیوں کی جاہل عوام جو صرف نماز جنازہ میں ہی شرکت کیا کرتے ہیں، اس غیر ضروری مصلے کو جھگڑے اور نزاع کا باعث بنا کر مصلی آنے تک نماز جنازہ کو مؤخر کرواتے ہیں اور اماموں اور مفتیوں کے لب تک نہیں ہلتے۔

 اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! ٱمين!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...