Sunday, September 10, 2023

موضوع: دعا کے اخیر میں کلمہ طیبہ پڑھنا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

موضوع: دعا کے اخیر میں کلمہ طیبہ پڑھنا! 

حنفی مساجد میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اپنی دعاؤں کا اختتام کلمہ طیبہ سے کرتے ہیں۔
لیکن اختتام دعا کا یہ طریقہ کتاب و سنت میں کہیں مذکور نہیں ہے۔ صحیح تو کیا، کوئی ضعیف، موضوع اور من گھڑت روایت بھی ایسی کوئی موجود نہیں ہے جس سے اس عمل کا کوئی ثبوت ملتا ہو۔ 

یہ عمل نہ رسول ﷺ سے۔۔۔۔ثابت ہے۔ 
نہ خلفاء راشدین سے ۔۔۔ 
نہ اتباع تابعین سے۔۔۔ 
نہ ائمہ اربعہ رحمھم اللہ سے 
نہ محدثین کرام سے۔۔۔ 
نہ فقہاء عظام سے۔۔۔۔۔۔ 

کتب حدیث کے علاوہ کسی مستند کتب فقہ میں بھی یہ عمل مذکور نہیں ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ: 

دعا کے آخر میں کلمہ شریف پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

 دعا کے اخیر میں کلمہ شریف لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا پڑھنا منقول نہیں بلکہ آداب ومستحبات دعا میں بھی شمار نہیں پس اس کا التزام خلافِ ست ہے کبھی کبھار کی کسی نے سرًا پڑھ لیا تو مضائقہ نہیں۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 61744

اس سے متعلق ایک دوسرے فتوے میں دارالعلوم دیوبند نے لکھا ہے: 

" کلمہ طیبہ ( لا الہ الا اللہ) کے ذریعہ دعا ختم کرنا ثابت نہیں، لہٰذا اس کا معمول نہ بنایا جائے، اختتام پر درود شریف اور آمین پڑھنا چاہئے۔"

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 602058

نبی کریم ﷺ نے دعا کے مسنون طریقے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:  

 فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ ( مسجد میں ) تشریف فرما تھے، اس وقت ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی، اور یہ دعا کی: اے اللہ! میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم فرما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! تو نے جلدی کی، جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو اللہ کے شایان شان اس کی حمد بیان کر اور پھر مجھ پر صلاۃ ( درود ) بھیج، پھر اللہ سے دعا کر“، کہتے ہیں: اس کے بعد پھر ایک اور شخص نے نماز پڑھی، اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! دعا کر، تیری دعا قبول کی جائے گی“۔ 
(سنن ترمذی: 3476) 

حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
 ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ۔ 
”تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی، اور ( اچھی طرح ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہی اور بے توجہی سے مانگی ہوئی غفلت اور لہو و لعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا“۔
(سنن ترمذی : 3479)

 دعا کرنے والا شخص توحید ربوبیت، توحید الوہیت، اور توحید اسماء و صفات میں وحدانیت الہی کا قائل ہو، اس کا دل عقیدہ توحید سے سرشار ہونا چاہیے؛ کیونکہ دعا کی قبولیت کیلئے شرط ہے کہ انسان اپنے رب کا مکمل فرمانبردار ہو اور نافرمانی سے دور ہو،۔ 

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔ 

ترجمہ: اور جس وقت میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو میں قریب ہوں، ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب بھی وہ دعا کرے، پس وہ میرے احکامات کی تعمیل کریں، اور مجھ پر اعتماد رکھیں، تا کہ وہ رہنمائی پائیں. (البقرة : 186) 

دعا میں قافیہ بندی سے اجتناب کریں۔ 
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں کو وعظ ہفتہ میں صرف ایک دن جمعہ کو کیا کر ، اگر تم اس پر تیار نہ ہو تو دو مرتبہ اگر تم زیادہ ہی کرنا چاہتے ہو تو بس تین دن اور لوگوں کو اس قرآن سے اکتا نہ دینا ، ایسا نہ ہو کہ تم کچھ لوگوں کے پاس پہنچو ، وہ اپنی باتوں میں مصروف ہوں اور تم پہنچتے ہی ان سے اپنی بات ( بشکل وعظ ) بیان کرنے لگو اور ان کی آپس کی گفتگو کو کاٹ دو کہ اس طرح وہ اکتا جائیں ، بلکہ ( ایسے مقام پر ) تمہیں خاموش رہنا چاہئے ۔ جب وہ تم سے کہیں تو پھر تم انہیں اپنی باتیں سناؤ ۔ اس طرح کہ وہ بھی اس تقریر کے خواہشمند ہوں اور دعا میں قافیہ بندی سے پرہیز کرتے رہنا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو دیکھا ہے کہ وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے ۔
(صحیح بخاری: 6337) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمین!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...