السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
موضوع: ہرنی اور نبی ﷺ کا واقعہ
صوفی سنتوں کے موضوع اور من گھرت قصے کہانیوں کو اوڑھنا بچھونا بنانے والے رضاخانی مولویوں اور مفتیوں کو منبروں اور اسٹیجوں سے نبی کریم پر جھوٹے واقعات کا بہتان لگاتے اکثر سنا جاتا ہے۔ ان ہی میں سے ہرنی کا واقعہ بھی ہے کہ ایک جنگل میں کسی یہودی نے ہرنی کو شکار کیا اس طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا۔ ہرنی نے آپ کو دیکھ کر درخواست کی کہ میرے بچے بھوکے ہیں۔ آپ اس یہودی سے درخواست کریں کہ مجھے چھوڑدے میں بچو ں کو دودھ پلاکر واپس آجاوں گی۔ یہودی کو اعتماد نہ ہوا تو آپ خود وہاں بیٹھ گئے ۔ہرنی گئی بچوں کو علم ہوا تو وہ بھی دودھ پلائے بغیر ماں کے ساتھ آگئے اس واقعہ کو دیکھ یہودی مسلمان ہوگیا۔
روایت کے الفاظ درج ذیل ہے:
رواه الحافظ أبو نعيم الأصبهاني من حديث عمرو بن علي الفلاس ثنا يعلى بن إبراهيم الغزال ثنا الهيثم بن جماز عن أبي كثير عن زيد بن أرقم قال : كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض سكك المدينة ، فَمَرَرْنا بِخِباء أعرابي فإذا ظبية مَشدودة إلى الخباء ، فقالت : يا رسول الله ، إن هذا الأعرابي صادني ولي خشفان في البرية ، وقد تَعَقّد هذا اللبن في اخلافي ، فلا هو يذبحني فاستريح ، ولا يدعني فأرجع الى خِشفيّ في البرية ، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن تركتك ترجعين ؟ قالت : نعم ، وإلاّ عَذّبني الله عَذَاب العَشّار ، فأطلقها رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلم تلبث أن جاءت تَلَمّظ فَشَدّها رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الخباء ، وأقبل الأعرابي ومعه قِربه ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أتبيعها مني ؟ فقال : هي لك يا رسول الله . قال : فأطلقها رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال زيد بن أرقم : وأنا والله رأيتها تسيح في البر ، وهي تقول : لا إله إلا الله محمد رسول الله !
(زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینے کے اطراف میں تھا، تو ہمارا گزر ایک دیہاتی کے خیمے کے پاس سے ہوا تو وہاں ہم نے ایک بندھی ہوئی ہرن کو دیکھا۔ ہرن نے فریاد کرنی شروع کر دی : اے اللہ کے رسول اس دیہاتی نے مجھے شکار کر لیا ہے اور میرے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور حال یہ ہے کہ میرا تھن دودھ سے بھرا ہوا ہے۔ یہ مجھے ذبح بھی نہیں کر رہا ہے کہ میں آرام پاجاؤں اور مجھے چھوڑتا بھی نہیں کہ میں جنگل میں اپنے بچوں کے پاس لوٹ جاؤں۔ تو رسول ﷺ نے فرمایا: کیا اگر میں تجھے چھوڑ دوں تو تم واپس چلی آؤ گی ؟ تو اس ہرنی نے کہا: ہاں، ورنہ اللہ مجھے سخت عذاب دے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزرنے پایا تھا کہ وہ ہرنی ہانپتے ہوے آپہنچی، آپ نے اسے خیمے سے باندھ دیا، رسول ﷺ نے اس دیہاتی سے پوچھا: کیا تم اسے مجھ سے فروخت کروگے؟ تو اس نے کہا یہ تو آپ ہی کا ہے اللہ کے رسول! راوی کہتے ہیں: تو رسول ﷺ نے اسے آزاد کردیا۔ زید بن ارقم کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے اس ہرنی کو دیکھا کہ وہ جنگل کی طرف جب نکلی تو یہ کہہ رہی تھی، لاالہ الا الله محمد رسول اللہ!
یہ قصہ مختلف کتب (جیسے دلائل النبوة للبيهقي (6/34-35) الدلائل لأبی نعيم الأصبھانی (273 ) میں مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔
لیکن اس روایت کی سند سخت ضعیف اور متن منکر ہے۔ اس کی سند میں يَعْلى بن إبراهيم اور ان کے شیخ الهيثم بن جماز حنفی نامی دونوں راوی مجہول ہیں۔
یحییٰ بن معین اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں: ليس بشىء
امام احمد بن حنبل اور امام نسائی فرماتے ہیں: متروک الحدیث۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:(وأما تسليم الغزالة فلم نجد له إسناداً لا من وجه قوي ولا من وجه ضعيف والله أعلم) (فتح الباري 7/404)
ہرنی والے واقعے کی ہمیں کوئی سند نہیں ملی، نہ قوی نہ ضعیف۔
مزید برآں حافظ ابن حجر لسان الميزان میں ہیثم بن جماز حنفی کے بارے میں فرماتے ہیں:
قال ابن عدي وأحاديثه افراد غراب وفيها ما ليس بالمحفوظ وقال أبو زرعة وأبو حاتم ضعيف زاد أبو حاتم منكر الحديث قال البزار لا يحتج بما انفرد به وقال الجوزجاني كان قاضيا ضعيفا روى عن ثابت معاضيل وقال الساجي متروك جدا ذكره البرقي في الكذابين
(لسان المیزان : 6/205)
(ابن عدی فرماتے ہیں: اس کی حدیثیں منفرد اور غریب ہوا کرتی ہیں اور اس کی رویتوں میں وہ باتیں ہوتی ہیں جو کسی محفوظ روایت میں نہیں پائی جاتی۔
ابوزرعہ اور حاتم کہتے ہیں: یہ ضعیف ہے۔
ابو حاتم اسے منکر الحدیث قرار دیتے ہیں۔
بزار کہتے ہیں:جس روایت میں یہ منفرد ہوجاۓ، اس سے دلیل نہیں پکڑی جا سکتی ہے۔
جوزجانی کہتے ہیں: یہ قاضی تھا لیکن ضعیف الروایہ، یہ ثابت سے معضل روایتیں بیان کرتا ہے۔
ساجی کہتے ہیں: یہ بہت ہی متروک ہے۔
علامہ برقی نے اسے جھوٹوں میں شمار کیا ہے۔)
علامہ سخاوی فرماتے ہیں:
حديث تسليم الغزالة الذي اشتهر على الألسنة وفي المدائح النبوية وليس له أصل كما قال ابن كثير ومن نسبه إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقد كذب. (المقاصد الحسنة ص 156)
ہرنی کے بات کرنے کا واقعہ مدائح نبویہ میں بہت زیادہ بیان کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں جیسا کہ امام ابن کثیر نے بیان کیا ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے، جو اس کو نبی کریمﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے ، وہ آپ پر جھوٹ باندھتا ہے۔
حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں:
ليس له أصل ومن نسبه إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقد كذب] المصنوع في (معرفة الحديث الموضوع ص 80)
اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اور جو اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرے تو اس نے نبی کریم ﷺ پر جھوٹ باندھا۔
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں یعلی بن ابراہیم کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:
له خبر باطل عن شيخ واه, يعني الهيثم بن جماز.
(اس کی یہ روایت باطل ہے جو اس نے ایک غیر معتبر یعنی ہیثم بن جماز سے روایت کیا یے۔
اس کے بعد علامہ ذہبی نے پوری روایت لاکر اس پر موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے۔ (ميزان الاعتدال ٤/ ٤٥٦)
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بخوبی معلوم ہوا کہ تسلیم الغزالہ کا یہ واقعہ موضوع ہے۔ جمہور محدثین نے اسے موضوع اور باطل قرار دیا ہے۔ ایسی روایتوں کو جان بوجھ کر نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا نبی کریم ﷺ پر جھوٹ باندھنا ہے جو کہ ناجائز اور حرام اور جس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
لہذا ایسی موضوع روایتوں سے اجتناب کرتے ہوئے دیوبندی اور رضاخانی خطیبوں اور مفتیوں کو چاہیے کہ امت کے سامنے سیرت نبویﷺ کے ان ہی واقعات و معجزات کو پیش کریں جو صحیح احادیث سے ثابت شدہ ہوں۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمین!
No comments:
Post a Comment