السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: جوتے چپل پہن کر نماز جنازہ پڑھنا!
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
کیا نماز جنازہ جوتے چپل پہن کر پڑھی جا سکتی ہے ؟ کیونکہ دیوبندی اور رضاخانی عوام کی اکثریت اس سلسلے میں تقلیدی کنفیوزن کے شکار ہیں۔ بعض لوگ جوتے چپل پہن کر نماز پڑھتے ہیں، بعض لوگ جوتے اتار کر نماز جنازہ پڑھتے ہیں تو بعض ان جوتے چپلوں کو پاؤں سے نکال کر ان چپلوں پر کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ہیں۔ نیز یہ ایک دوسرے کو غلط بھی سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
جبکہ جوتے چپل پہن کر نماز ادا کرنا بلا کراہت جائز ہے۔
دلائل درج ذیل ہیں:
عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ کی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں
رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا .
میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ جوتے اتار کر بھی نماز پڑھتے تھے اور پہن کر بھی ۔
(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 653)
حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :
إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَا يُؤْذِ بِهِمَا أَحَدًا، لِيَجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا .
جب کوئی نماز پڑھنے لگے اور اپنے جوتے اتارے تو ان سے کسی دوسرے کو ایذا نہ دے ۔ ( یعنی اس کے آگے یا دائیں طرف نہ رکھے یا کسی اور طرح سے بھی اذیت کا باعث نہ بنے ۔ ) چاہیے کہ انہیں اپنے قدموں کے درمیان میں رکھے یا پہنے ہوئے ہی نماز پڑھ لے ۔‘‘
(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 655)
سعید بن یزید ازدی روایت کرتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ اپنی جوتیاں پہن کر نماز پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا ، کہ ہاں !
(صحیح بخاری: حدیث نمبر : 386)
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :
خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ .
یہود کی مخالفت کرو ۔ یہ لوگ اپنے جوتوں یا موزوں میں نماز نہیں پڑھتے ہیں ۔‘‘
(سنن ابو داؤد: حدیث نمبر : 652)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ نے ( دوران نماز میں ) اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ لیے ۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کو دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے ؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے جوتے اتارے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کے جوتے میں گندگی لگی ہے ۔‘‘ ( لفظ ( قذر ) تھا یا ( أذى ) ) آپ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اپنے جوتوں کو بغور دیکھ لیا کرے ۔ اگر ان میں کوئی گندگی یا نجاست نظر آئے تو اسے پونچھ ڈالے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے ۔‘‘
(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 650)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جوتوں میں نماز احادیث کی روشنی میں ایک درست عمل ہے، اس کا ثواب کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں، سفر ہو یا حضر، فرض نمازیں ہوں یا نماز جنازہ، مقتدی ہو یا امام ، تنہا ہو یا با جماعت ۔جوتے پہن کر یا اتار کر، نماز پڑھنا دونوں طرح جائز ہے، اگر جوتے پہنے ہوں تو ان کا پاک ہونا شرط ہے اور انہیں پاک کرنے کے لیے خشک زمیں پر رگڑ لینا ہی کافی ہے۔
نجاست آلود جوتے یا کپڑے میں نماز جائز نہیں۔ اثنائے نماز میں اسے دور کرنا ممکن ہو تو اسے دور کر دے، ورنہ نماز چھوڑ دے اور نجاست دور کرے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازی کو اگر نماز کے آغاز کے وقت اس کا علم نہ ہو سکا ہو کہ اس کے بدن یا جوتے وغیرہ پر نجاست لگی ہوئی ہے اور دوران نماز میں کسی طرح علم ہو جائے تو وہ اس ناپاک چیز کو اسی حالت میں اتار کر نماز کو پورا کر لے تو نماز بالکل صحیح ہو گی۔
دارالعلوم دیوبند سے اس بابت جب دریافت کیا گیا کہ :
نماز خنازہ میں بعض لوگ چپل پہنکر اور بعض لوگ چپل پاوں سے نکال کر ان چپلوں پر کھڑے ہوتے ہیں حالاں کہ ان چپلوں کا استعمال بہت الخلاء کے لیے بھی کرتے ہیں تو کیا اس طرح نماز پڑھنا درست ہے یا چپل بالکل اتار کر علیحدہ رکھنے ضروری ہیں؟ نوٹ:بعض لوگ اپنی بات کو درست کرنے کے لیے یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک چپل پاوں میں ہے تو چپل اور پاوں میں اتصال قوی ہے اور اگر پاوں نکال کر چپل پر رکھ لیں تو اتصال ضعیف ہے ، اب اگر نجاست چپل میں ہو تو بھی مضر نہیں ہوگی۔یہ بات کہاں تک درست ہے ؟ آپ تینوں صورتوں: ۱۔چپل پاوں میں ہوں،۲۔پاوں چپل کے اوپر ہوں،۳پاوں اور چپل بالکل علیحدہ ہوں ، کی وضاحت فرمائیں۔
جواب:
جوتا، چپل پہن کر نماز جنازہ پڑھنے کی صورت میں پورا جوتا یاچپل اور جوتا، چپل کی جگہ دونوں کا پاک ہونا ضروری ہے، اگر جوتے ، چپل کا کوئی بھی حصہ یا جوتا، چپل کی جگہ ناپاک ہوئی اور اس کی ناپاکی بہ قدر مانع ہے تو نماز نہ ہوگی(فتاوی دار العلوم دیوبند، ۵: ۳۱۸، جواب سوال: ۲۸۸۴، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند، احکام میت جدید تخریج شدہ،ص: ۱۰۹ ) ؛ لیکن جو جوتا، چپل استنجا خانہ لے جائے جاتے ہیں، ان کا ناپاک ہونا ضروری نہیں ہے؛ کیوں کہ عام طور پر لوگ احتیاط کے ساتھ ہی آب دست لیتے ہیں اور ناپاک چھینٹیں جوتا، چپل پر نہیں پڑتیں،اور اگر جوتا یا چپل کاتلا ناپاک ہوگیا ہو تو پاک زمین پر بار بار چلنے اور رگڑ لگنے سے وہ پاک ہوجاتا ہے؛ البتہ احتیاط اس میں ہے کہ ایسا جوتا، چپل پہن کر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔
جب آدمی جوتا، چپل پہن کر نماز پڑھے گا تو جسم کے کپڑوں کی طرح جوتا، چپل انسان کے تابع ہوں گے ؛ اس لیے جگہ کی طرح ان کا بھی پاک ہونا ضروری ہوگا۔ اور جوتا، چپل پر کھڑے ہوکر نماز پڑھی جائے تو اس صورت میں جوتا، چپل تابع نہ ہوں گے ۔
اگر کوئی شخص جوتا، چپل اتارکر ان پر کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو صرف جوتا، چپل کے اس حصہ کا پاک ہونا کافی ہے جس پر آدمی کا پیر ہو، جگہ کا یا جوتا، چپل کے تلے اور اطراف کا پاک ہونا ضروری نہیں۔ اور اگر جوتا، چپل اتار کر زمین پر کھڑے ہوکر نماز پڑھی جائے تو صرف زمین کا پاک ہونا کافی ہے۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 158894
علامہ بن باز رحمہ اللہ اس سے متعلق اپنے فتوے میں رقمطراز ہیں:
أما إذا كانت المساجد بدون فرش فإنه إذا صلى في نعليه فهو أفضل إذا كانت نظيفة وسليمة من الأذى عملًا بالسنة۔
جب مسجدیں بنا فرش والی ہوں، تو اگر کوئی اپنے جوتوں میں نماز پڑھے تو سنت پر عمل کی وجہ سے یہ افضل ہے بشرطیکہ وہ جوتے صاف ستھرے ہوں۔
(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 29/228)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!
No comments:
Post a Comment