السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: سجدہ سہو میں ایک طرف سلام پھیرنا!
صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی اماموں اور مفتیوں کو یہ دیکھا جاتا ہے کہ نماز میں سہو ہوجانے پر سجدہ سہو سے پہلے صرف ایک طرف سلام پھیرتے ہیں ۔
ایک طرف سلام پھیرنا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں صرف ایک طرف سلام پھیرنا مذکور ہو۔
نہ نبی کریم ﷺ سے ایسا ثابت ہے۔
نہ صحابہ کرام سے۔۔۔۔۔۔۔
نہ تابعین سے۔۔۔۔۔
نہ اتباع تابعین سے۔۔۔۔۔
حنفیوں کے نزدیک معتبر کتب فتاویٰ میں بھی یہ درج ہے ؛ مثلاً:
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
ویأتی بتسلیمتین ،ھو الصحیح ،کذا فی الھدایہ۔ اور دونوں طرف سلام پھیرے یہی صحیح ہے اور ہدایہ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔
(الفتاوی الھندیہ: 1/139)
رد محتار میں علامہ عابدین فرماتے ہیں:
و قیل : یأتی بالتسلیمتین وھو اختیار شمس الائمۃ. ( رد المحتار: 2/540)
اور کہا گیا کہ دونوں طرف سلام پھیرے اور اسی کو شمس الائمہ نے اختیار فرمایا ہے۔
اس کے برعکس فتوؤں کی کتاب میں جو کچھ درج ہے مثلاً فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہوا ہے :
”صحیح مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف سلام پھیرے یہی جمہور کا مذہب ہے ۔“
(1125/1)
يجب بعد سلام واحد عن یمینہ فقط ؛لأنہ المعھود، و بہ یحصل التحلیل، وھو الاصح وعلیہ لو أتی بتسلیمتین سقط عنہ السجود"
الدرالمختار: (2/540)
یہ باتیں بے سند اور بے دلیل ہے۔ اور بے سند بات شریعت میں مردود اور ناقابل عمل ہے۔
عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں:
الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ.
اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔
(صحیح مسلم: 32)
امام ابوعبد اللہ الحاکم فرماتے ہیں:
اگر اسناد نہ ہوتی، محدثین کرام اس کی طلب اور اس کی حفاظت و صیانت کا مکمل اہتمام نہ فرماتے تو مینارۂ اسلام منہدم ہوچکا ہوتا ، ملحدین اور بدعتیوں کو حدیثیں گڑھنے اور اسانید کو الٹ پلٹ کرنے پر قدرت ہوجاتی؛ کیوں کہ احادیث جب اسانید سے خالی ہوں گی تو وہ بے اعتبار ہوکر رہ جائیں گی ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ،ص : 115)
سفیان ثوری رَحْمَہ اللہ فرماتے ہیں:
الَإسْنَادُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ سِلَاحٌ , فَبِأَيِّ شَيْءٍ يُقَاتِلُ ؟
اسناد مومن کا ہتھیار ہے، جب اس کے پاس ہتھیار ہی نہیں ہوگا تو وہ کس چیز سے جنگ لڑے گا ۔( کتاب المجروحین، ص:31)
عبد اللہ بن مبارک رحمہ الله فرماتے ہیں :
بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ: یَعْنِي الِاسْنَادَ۔
ہمارے (محدثین) اور دوسرے لوگوں کے درمیان قابل اعتماد چیز اسناد ہے ۔
(مقدمہ مسلم)
اسی طرح فتاویٰ عالمگیری کا یہ دعویٰ کہ " ایک طرف سلام پھیرے یہی جمہور کا مذہب ہے "
محض کھوکھلا دعویٰ ہے۔
ایک فتوے میں تو دارالعلوم دیوبند نے ایک طرف سلام پھیرنے کو (بے دلیل) سنت قرار دیا ہے۔
فتویٰ نمبر: 35009
جبکہ کسی عمل کو بے دلیل سنت قرار دینا نبی کریم ﷺ پر بہتان ہے جس کی سخت وعیدیں وارد ہیں۔
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291)
مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی حنفی دیوبندی " انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک" میں 12-13 پر لکھتے ہیں:
جس طرح حضور اکرم ﷺ کے فرمان کا انکار کرنا محرومی اور تباہی کا باعث ہے، اسی طرح کسی دوسرے کی بات کو حضور ﷺ کا فرمان بتانا بھی عظیم ترین گناہ اور کفر کا سبب ہے۔
(انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک: از مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی صفحہ نمبر: 12)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمين!
No comments:
Post a Comment