السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: امام نے بھول کر تیسری رکعت پر سلام پھیر دیا!
مصادر : مختلف مراجع و مصادر!
صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والی دیوبندی اور رضاخانی مساجد میں یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ چار رکعت والی نماز میں بھول کر اگر تیسری رکعت پر امام نے سلام پھیر دیا تو ہنگامہ آرائی کرنے کے ساتھ پوری نماز پھر سے دہرائی جاتی ہے ۔
چنانچہ حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص: 473) میں یہ حنفی مسئلہ درج ہے:
"مصل رباعية" فريضة "أو ثلاثية" ولو وتراً "أنه أتمها فسلم ثم علم" قبل إتيانه بمناف "أنه صلى ركعتين" أو علم أنه ترك سجدةً صلبيةً أو تلاويةً "أتمها" بفعل ما تركه "وسجد للسهو" لبقاء حرمة الصلاة.
حاصل المسألة أنه إذا سلم ساهياً على الركعتين مثلاً وهو في مكانه ولم يصرف وجهه عن القبلة ولم يأت بمناف عاد إلى الصلاة من غير تحريمة وبنى على ما مضى وأتم ما عليه".
یعنی: گر کوئی شخص بھول کر تمام رکعات مکمل کرنے سے پہلے ایک طرف یا دونوں طرف سلام پھیردے، تو جب تک اس نے سلام پھیر کر نماز کے منافی کوئی کام نہ کیا ہو، یعنی کسی سےکوئی بات چیت نہ کی ہو اور اپنے سینے کو قبلہ رخ سے بھی نہ پھیرا ہو، اور اٹھ کر چلنا نہ شروع کیا ہو، کچھ کھایا پیا نہ ہو، دوسری نماز شروع نہ کی ہو وغیرہ اور اس کے بعد خود یاد آنے پر یا کسی مقتدی کے تسبیح پڑھنے پر فوراً کھڑے ہوکر نماز مکمل کر لے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے تو اس کی نماز درست ہو جائے گی، اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، اسی طرح اگر صرف سجدہ سہو رہ گیا ہو تو سجدہ سہو بھی ادا کر سکتا ہے۔
لیکن یہ حنفی تقلیدی تفصیل سراسر اس نبوی طریقے کے خلاف ہے جو کتب احادیث میں نبی کریم ﷺ سے مذکور ہے۔
حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ.
حضرت ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ظہر یا عصر کی ) دو رکعت پڑھ کر ( مقتدیوں کی طرف ) پلٹے تو ذوالیدین نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہاں ( آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آخری دونوں رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا، پھر اپنے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اپنے اسی سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ ( یعنی سجدہ سہو کیا )
(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 399)
وَفِي الْبَاب عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَذِي الْيَدَيْنِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ: إِذَا تَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَوْ مَا كَانَ فَإِنَّهُ يُعِيدُ الصَّلَاةَ، وَاعْتَلُّوا بِأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: وَأَمَّا الشَّافِعِيُّ فَرَأَى هَذَا حَدِيثًا صَحِيحًا، فَقَالَ بِهِ، وقَالَ: هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّائِمِ إِذَا أَكَلَ نَاسِيًا فَإِنَّهُ لَا يَقْضِي وَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ ، قَالَ الشافعي: وَفَرَّقَ هَؤُلَاءِ بَيْنَ الْعَمْدِ وَالنِّسْيَانِ فِي أَكْلِ الصَّائِمِ بِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ: إِنْ تَكَلَّمَ الْإِمَامُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ قَدْ أَكْمَلَهَا ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يُكْمِلْهَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ، وَمَنْ تَكَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ عَلَيْهِ بَقِيَّةً مِنَ الصَّلَاةِ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ الْفَرَائِضَ كَانَتْ تُزَادُ وَتُنْقَصُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ وَهُوَ عَلَى يَقِينٍ مِنْ صَلَاتِهِ أَنَّهَا تَمَّتْ، وَلَيْسَ هَكَذَا الْيَوْمَ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ عَلَى مَعْنَى مَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ، لِأَنَّ الْفَرَائِضَ الْيَوْمَ لَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ، قَالَ أَحْمَدُ نَحْوًا مِنْ هَذَا الْكَلَامِ، وقَالَ إِسْحَاق نَحْوَ قَوْلِ أَحْمَدَ فِي هَذَا الْبَابِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
اس باب میں عمران بن حصین، ابن عمر، ذوالیدین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
اس حدیث کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض اہل کوفہ کہتے ہیں کہ جب کوئی نماز میں بھول کر یا لاعلمی میں یا کسی بھی وجہ سے بات کر بیٹھے تو اسے نئے سرے سے نماز دہرانی ہو گی۔ وہ اس حدیث میں مذکور واقعہ کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت سے پہلے کا ہے ۔
رہے امام شافعی تو انہوں نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے فتویٰ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اُس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جو روزہ دار کے سلسلے میں مروی ہے کہ جب وہ بھول کر کھا لے تو اس پر روزہ کی قضاء نہیں، کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے روزہ دار کے قصداً اور بھول کر کھانے میں جو تفریق کی ہے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کی وجہ سے ہے، ۵- امام احمد ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر امام یہ سمجھ کر کہ اس کی نماز پوری ہو چکی ہے کوئی بات کر لے پھر اسے معلوم ہو کہ اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ہے تو وہ اپنی نماز پوری کر لے، اور جو امام کے پیچھے مقتدی ہو اور بات کر لے اور یہ جانتا ہو کہ ابھی کچھ نماز اس کے ذمہ باقی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے، انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فرائض کم یا زیادہ کئے جا سکتے تھے۔ اور ذوالیدین رضی الله عنہ نے جو بات کی تھی تو وہ محض اس وجہ سے کہ انہیں یقین تھا کہ نماز کامل ہو چکی ہے اور اب کسی کے لیے اس طرح بات کرنا جائز نہیں جو ذوالیدین کے لیے جائز ہو گیا تھا، کیونکہ اب فرائض میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ احمد کا قول بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا ہے، اسحاق بن راہویہ نے بھی اس باب میں احمد جیسی بات کہی ہے۔
اس حدیث میں مذکور واقعے کے متعلق یہ دعویٰ کرنا کہ یہ نماز میں بات چیت کے ممنوع قرار دیے جانے سے پہلے کا واقعہ ہے، بے دلیل ہے۔
کیونکہ اس حدیث کے راوی صحابی رسول ذو الیدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات، نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد ہوئی ہے۔
جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: أما ذو اليدين فتأخر بعد النبي صلى الله عليه وسلم بمدة لأنه حدث بهذا الحديث بعد النبي صلى الله عليه وسلم كما أخرجه الطبراني وغيره وهو سلمي واسمه الخرباق
فتح الباري لابن حجر (3/ 97)
ذو الیدین تو حضور صلی اللہ علیہ کی وفات کے بعد تک رہے کیونکہ اس کے بعد بھی انہوں نے اس حدیث کو بیان کیا جیساکہ طبرانی وغیرہ میں موجود ہے ، ان کا نام خرباق سلمی ہے ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے طبرانی کی جس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے وہ (مسند الشاميين للطبراني (4/ 42)
میں ہے، جس میں ابن سیرین خرباق سلمی سے براہ راست روایت کر رہے ہیں ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ذو الیدین بدر میں شہید نہیں ہوئے تھے ، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تک زندہ رہے ، لہذا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ذو الیدین کا کسی واقعہ میں شریک ہونا کوئی محال نہیں۔
علامہ صنعاني سبل السلام (2/ 214) میں لکھتے ہیں:
وَفِي رِوَايَةٍ " رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ " الْخِرْبَاقُ بْنُ عَمْرٍو بِكَسْرِ الْخَاءِ الْمُعْجَمَةِ وَسُكُونِ الرَّاءِ فَبَاءٍ مُوَحَّدَةٍ، آخِرُهُ قَافٌ لَقَبُ ذِي الْيَدَيْنِ، لِطُولٍ كَانَ فِي يَدَيْهِ، وَفِي الصَّحَابَةِ رَجُلٌ آخَرَ يُقَالُ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ هُوَ غَيْرُ ذِي الْيَدَيْنِ، وَوَهَمَ الزُّهْرِيُّ فَجَعَلَ ذَا الْيَدَيْنِ وَذَا الشِّمَالَيْنِ وَاحِدًا، وَقَدْ بَيَّنَ الْعُلَمَاءُ وَهْمَهُ۔
اور ایک روایت میں خرباق بن عمرو یے جنہیں ذوالیدین بھی کہا جاتا ہے۔ اور ذوالیدین کے علاوہ ایک دوسرے صحابی بھی تھے جنہیں ذو الشمالین کہاجا تا تھا۔ لیکن امام زہری کو وہم ہوا اور انہوں نے ذوالیدین اور ذو الشمالین کو ایک ہی قرار دے دیا، جس وہم کو علماء محدثین نے ظاہر کردیا ہے۔
نیز اس حدیث کے راوی ابو ہریرەؓ ہیں جو غزوہ بدر کے بعد خیبر کے سال سنہ سات ہجری میں مسلمان ، معاویہ بن حدیج اس حدیث کے راوی ہیں جو سنہ دس ہجری میں مسلمان ہوے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ واقعہ مدینے میں پیش آیا۔
علامہ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إذا سلم الرجل، أو المرأة من ثنتين في الظهر، أو العصر، أو العشاء، أو المغرب ناسيًا، ثم تذكر؛ يتم الصلاة فقط، يقوم، ويأتي بما بقي، ويسجد للسهو بعد السلام، يسلم بعد التحيات، وبعد الدعاء، ثم يسجد للسهو سجدتين بعد السلام، هذا هو الأفضل، كما فعله النبي ﷺ فإنه في بعض الصلوات سلم من ثنتين في الظهر، أو العصر، ثم نبه؛ فقام، وكمل -عليه الصلاة والسلام- فلما كمل وسلم؛ سجد للسهو بعد السلام سجدتين، وإن سجد قبل السلام؛ أجزأ ذلك، ولا حرج، لكن الأفضل بعد السلام لفعله، عليه الصلاة والسلام.
جب کوئی ظہر، عصر،مغرب، عشاء کی نماز میں بھول کر رکعت مکمل ہونے سے پہلے سلام پھیر دے پھر یاد آۓ تو کھڑے ہو کر صرف اپنی بقیہ نماز پوری کرے گا اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرے گا جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے کیا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر یا عصر کی بعض نمازوں میں جب ایسا کیا ( دو رکعت پر سلام پھیر دیا) پھر جب آپ متنبہ ہوے تو کھڑے ہوے اور بقیہ دو رکعت پوری کر کے سلام پھیرا، سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ الخ(مفہوم)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!
No comments:
Post a Comment