Saturday, October 28, 2023

موضوع: بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں تک رہتی ہے روایت کی تحقیق!!

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: "بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں تک رہتی ہے."   کی تحقیق!! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر!

صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے حنفی ائمہ اور مفتیان بہتان تراشی کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب اکثر یہ روایت بیان کیا کرتے ہیں کہ ایک بے نمازی کی نحوست چالیس گاؤں یا گھروں پر پڑتی ہے، چالیس گھر دائیں جانب، چالیس گھر بائیں جانب، چالیس گھر آگے کی جانب اور چایس گھر پیچھے کی جانب۔ 

بے نمازی کے بارے میں قرآن و صحیح احادیث میں بہت ساری وعیدیں ہیں یہاں تک کہ عمداً نماز ترک کرنے کو کفر و شرک تک سے تعبیر کردیا گیا ہے اور کفر و شرک سے بڑی نحوست کیا ہو سکتا ہے؟ 

لیکن دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے چالیس گھروں تک نحوست پڑنے والی جو روایت بیان کی جاتی ہے وہ بالکل بے اصل، بے سند اور من گھڑت ہے۔ صحیح تو کیا، کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں بے نمازی کے متعلق نبی کریم ﷺ نے مذکورہ وعید بیان فرمائی ہو۔ 

مفتیان دارالعلوم دیوبند کو بھی ایسی کوئی روایت نہیں ملی۔ 
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت فتوی طلب کیا گیا کہ : 

ائمہ حضرات بکثرت اپنے بیانات میں یہ فرماتے ہیں کہ " حدیث میں آیا ہے کہ ایک بے نمازی کی نحوست چالیس گاؤں پر پڑتی ہے ، کیا یہ حدیث صحیح ہے یا موضوع؟ اس کی تحقیق و تخریج مرحمت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔"
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دینے ہوے درج ذیل فتوی دیا: 

جواب: ”بے نمازی کی نحوست چالیس گاوٴں پر پڑتی ہے“ ایسی کوئی ورایت ہمیں نہیں ملی، جو حضرات اسکو بیان کرتے ہیں ان سے اس کا حوالہ دریافت کریں، اگرحوالہ معلوم ہوجائے تو اس کی تحقیق کی جاسکتی ہے کہ روایت کس درجہ کی ہے۔

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 155532

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی پاکستانی نے بھی اپنے فتوے میں ایسی کسی روایت کے ثبوت سے انکار کیا ہے۔

چنانچہ جب ان پوچھا گیا:

سنا یہ گیا ہے کہ بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں تک جاتی ہے، اس بات کی کوئی دلیل ہے، یا یہ بات محض ایک بے بنیاد بات ہے ؟

جواب : تلاش کے باوجود اس بات کا ثبوت کتبِ احادیث میں نہیں مل سکا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144102200096

اپنے ہی گھر کے فتووں سے بے خبر حنفی ائمہ اور مفتیان اس روایت کو منبر و محراب اور اجلاس عام کے پرشکوہ اسٹیجوں سے بکثرت بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 

عمداً نماز ترک کرنے کی قرآن و صحیح احادیث میں بے شمار وعیدیں موجود ہیں لیکن ان صحیح روایات کو چھوڑ کر ایسی بے سند اور من گھڑت روایات بیان کر کے کیوں امت کو ضلالت و بدعت کے راستے پر دھکیلا جاتا ہے؟؟ 

جبکہ نبی کریم ﷺ کی طرف جان بوجھ کر بے سند اور موضوع روایات کی نسبت کرنا حرام ہے اور ایسے مختلق اور مفتری کا ٹھکانا جہنم ہے۔ 

سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔

(صحیح بخاری: 1291) 

علامہ سخاوی لکھتے ہیں: اس لئے کہ نبی کریم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ایسا نہیں ہے جیسا کہ مخلوق میں سے کسی دوسرے انسان کی طرف منسوب کردینا۔ کیونکہ ارباب علم و بصیرت نے یہ اتفاق کیا ہے کہ یہ کام گناہ کبیرہ میں سے سب سے بڑا گناہ ہے۔اور متعدد علماء دین اور ائمہ نے ایسے شخص کی توبہ قبول نہ ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔ بلکہ شیخ ابو محمد جوینی نے تو ایسے شخص کو کافر کہاہے اور اس کے فتنے اور نقصانات سے ڈرایا ہے۔ 
(المقاصد الحسنه : صفحہ نمبر: 4) 

خلاصۃ التحریر: 
۱) چالیس گھروں تک بے نمازی کی نحوست پڑنے والی جو روایت بیان کی جاتی ہے، وہ بے سند اور بے اصل ہے۔ 

۲) دارالعلوم دیوبند جیسے حنفی ادارے نے بھی اس روایت کا بے سند ہونا تسلیم کیا ہے۔ 
۳) دیوبندی اور رضاخانی ائمہ و  خطباء حضرات عام طور پر اپنے گھر کے فتوؤں سے بھی بے خبر ہوتے ہیں۔ 
۴) دیوبندی اور رضاخانی ائمہ کے  ٹولے اکثر بلا تحقیق جھوٹی اور بے سند روایتیں بیان کرتے ہیں۔ 

۵) جان بوجھ کر یا بلا تحقیق ایسی رواتیں بیان کرنا حرام ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...