Friday, May 12, 2023

اصحابي کاالنجوم الخ روایت کی تحقیق ! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

اصحابي کاالنجوم الخ روایت کی تحقیق ! 

صوفی سنتوں اور پیروں کے جعلی اور من گھڑت قصے کہانیاں سنانے والے ،حنفی علماء، خطباء اور مفتیان کرام کو منبر و محراب سے یہ روایت پیش کرتے ہوئے آپ نے ضرور سنا ہوگا ۔ 

صحابہ کرام کے فضائل و مناقب پر خطاب کرتے ہوے   درج ذیل روایت ضرور بیان کی جاتی ہے : 

اصحابي كا النجوم، بأيهم اقتديتم اهتديتم. 
میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جن کی بھی تم اقتدا کروگے ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے۔

یہ روایت "مشکوۃ المصابیح" میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح مروی ہے:

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے اپنے رب سے۔ اپنے بعد اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق دریافت کیا تو اس نے میری طرف وحی فرمائی: ”محمد! آپ کے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ قوی ہیں، اور ہر ایک کی روشنی ہے، اور جس شخص نے باوجود ان کے اختلاف کے جن پر وہ ہیں، عمل کیا تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے۔ “ راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔ “ 
(مشكوة المصابيح:6018) 

  مشکوۃ کے علاوہ مختلف الفاظ کے ساتھ درج ذیل محدثین کرام نے بھی اس کی تخریج کی ہے:

علامہ ابن عبد البر : جامع بیان العلم و فضلہ، 
علامہ ابن حزم: الاحکام فی اصول الاحکام
خطیب بغدادی: الکفایہ فی علم الروایہ،  
امام بیہقی: المدخل، 
ابن عساکر:  تاریخ دمشق، امام دیلمی: مسند دیلمی۔ 

اس روایت کو جمہور محدثین نے باطل اور موضوع قرار دیا ہے۔

علامہ ابن قیم فرماتے ہیں: 
یہ روایت متعدد سندوں سے مروی ہے لیکن اس روایت میں سے کچھ بھی نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ 
اعلام الموقعین (2 /242)

ابن حزم فرماتے ہیں: یہ روایت باطل یے، جھوٹی ہے، اہل فسق کی اختراعات میں سے ہے۔ 
(الإحكام في أصول الأحكام:  5 /61) 

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: لا يصح هذا الحديث. 
یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ 
بحوالہ سلسلة الأحاديث (الضعيفة" ، للشيخ الألباني : 1 /145) 

ابن  ملقن 
فرماتے ہیں: "جميع طرقه ضعيفة "
اس حدیث کی تمام سندیں ضعیف ہیں۔ 
(البدر المنير :9 /587) 

علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:  ](أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم) ضعيف باطل .

صفة الفتوي ، أحمد الحراني الحنبلي ج1 ص55 

علامہ البانی فرماتے ہیں: موضو ع. یہ روایت موضوع ہے۔ 
(السلسلة الضعيفة:58)

متعدد طرق سے مروی اس موضوع روایت کی سند میں سلام بن سلیم،  سلیمان بن ابی کریمہ،  جویبر،  نعیم بن حماد، عبد الرحمن بن زید العمی جیسےاور   ابن ابی حمزہ جیسے وضاع، کذاب اور منکر الحدیث راوی موجود ہیں۔ 

واضح ہوکہ اس روایت کا بعض حصہ دوسری صحیح روایت سے ثابت ہے، صحیح مسلم کی ایک روایت میں صحابہ کرام کو مشابہ بالنجوم قرار دیا گیا ہے ۔ 
 
سعید بن ابی بردہ نے ابوبردہ سے ، انھوں نے اپنے والد ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی ، پھر ہم نے کہا : اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ آپ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) کہا : تو ہم بیٹھے رہے ، پھر آپ ﷺ باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا :’’ تم اب تک یہیں بیٹھے رہے ہو ؟‘‘ ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی ، پھر ہم نے سوچا کہ ہم یہیں بیٹھے رہتے ہیں حتی کہ آپ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ لیں ، آپ نے فرمایا :’’ تم نے اچھا کیا ، یا ( فرمایا : ) تم نے صحیح کیا ۔‘‘ پھر آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور آپ اکثر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے ، آپ نے فرمایا :’’ ستارے آسمان کے لیے امان ( اور سلامتی کی ضمانت ) ہیں اور جب ستارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان پر ( پھٹنے اور ٹکڑے ہونے کا ) وہ مرحلہ آ جائے جس کی اسے خبر کر دی گئی ہے ۔ اور میں اپنے صحابہ کے لیے امان ہوں ۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر وہ ( فتنے ) آ جائیں گے جن سے ان کو ڈرایا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں ۔ جب وہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ ( فتنے ) آ جائیں گے جن سے اس کو ڈرایا گیا ہے ۔‘‘ 
(صحیح مسلم :6466) 

صحیح مسلم کی اس حدیث  میں صحابہ کرام کو ستاروں سے تشبیہ دی گئی ہے لیکن "بأيهم اقتديتم اهتديتم " (ان میں سے جن کی بھی اقتدا کروگے راہ یاب ہوجائے) کا مفہوم اس صحیح حدیث سے بالکل اخذ نہیں ہوتا جیساکہ حافظ ذہبی نے تلخیص المستدرک میں لکھا ہے : یہ حدیث صحابہ کو ستاروں سے تشبیہ دینے کو صحیح قرار دیتی ہے، رہا کسی ایک کی اقتداء کا معاملہ تو ابو موشی اشعری رضی اللہ کی حدیث سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا۔ 
(تلخیص المستدرک: 4/191) 

ابن حزم نے "الاحکام فی اصول الاحکام "میں اس روایت کو متن کے اعتبار سے بھی باطل ہونے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے۔ 

یہ محال ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر صحابی کی اتباع کا حکم دے دیں، جبکہ صحابہ میں سے بعض نے کسی شیء کو حلال کہا ہے تو بعض نے اسے حرام قرار دیا ہے ،  (اس روایت کے صحیح مان لینے کی صورت میں تو) شراب کی بیع کو بھی حلال تسلیم کرنی چاہئیے کیونکہ سمرہ بن جندب اسے حلال سمجھتے تھے، ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کی اقتداء کرتے ہوئے روزہ دار کے لئے برف کھانے کو جائز قرار دیا جانا چاہئیے، حضرت علی، عثمان، طلحہ، ابو ایوب اور ابی بن کعب رضی اللہ عنھم کی اقتدا میں سستی کی وجہ سے ترک غسل کو واجب کہنا پڑے گا جبکہ حضرت عائشہ اور ابن عمر اسے حرام کہتے تھے ، اور یہ تمام روایات ہمارے نزدیک صحیح سند سے ثابت ہیں۔ 
( الإحكام: 6 /244)
 

 اس بابت جب دارالعلوم دیوبند سے سوال کیا گیا:

سوال:
حضرت میرا سوال یہ ہے کہ حدیث "أصحابی کالنجوم..الخ کو ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب موضوعات کبیر میں شامل کیا ہے تو واقعی یہ حدیث من گھڑت ہے؟ موضوعات کبیر اردو، رقم الحدیث 1073۔ 
یہ روایت مشکاة شریف، ص: ۵۵۴/ پر بھی بھی موجود ہے، لیکن محدثین نے جب اس کی سند کے اعتبار سے چھان بین کی تو بعض راوی ایسے نکلے جو متہم بالکذب والوضع تھے لہٰذا اس روایت کو بے اصل کہہ دیا۔ اور ملاعلی قاری نے موضوعات میں اسے ذکر کیا۔ لیکن لفظ کے اعتبار سے کسی روایت کا موضوع اور بے اصل ہونا الگ بات ہے پھر بھی کبھی اس کے بعض معنی معتبر ہوتے ہیں اور دوسری روایت سے ثابت ہوتے ہیں۔ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مشابہ نجوم ہونا یا قابل اقتداء ہونا دوسری روایات سے ثابت ہے۔

وقد ذکر ابن حجر العسقلانی تخریج احادیث الرافعی فی باب ادب القضاء ، وأطال الکلام علیہ ، وذکر انہ حدیث واہٍ ، بل ذکر ابن حزم انہ موضوع باطل لکن ذکر البیہقی انہ قال ان حدیث مسلم یوٴدی بعض معناہ یعنی قولہ صلی اللہ علیہ وسلم النجوم أمنة للسماء الحدیث قال ابن حجر: صدق البیہقی وہو یودی صحة التشبیہ للصحابہ بالنجوم اما فی الاقتداء فلایظہر نعم یمکن ان یتلمح ذالک من معنی الاہتداء بالنجوم قلت: ان الاہتداء فرع الاقتداء ۔ مرقاة شرح مشکاة: ۱۱/۱۶۳

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر :171575

دارالعلوم دیوبند کے اس فتوے سے یہ ظاہر کہ : 

1) محدثین نے جب اس کی سند کے اعتبار سے چھان بین کی تو بعض راوی ایسے نکلے جو جھوٹے اور حدیثیں گھڑنے والے تھے۔ 

2)جمہور  محدثین نے اس روایت کو بے اصل قرار  دیا ہے۔ 

3)  ملا علی قاری حنفی نے بھی اسروایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ 

4) یہ روایت لفظ کے اعتبار سے موضوع ہے۔ 

5) اس روایت کا بعض حصہ معتبر ہے اور دوسری صحیح روایت سے ثابت ہے۔ 
جیسا کہ صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث میں صحابہ کرام کو آسمان کے ستاروں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ 

6) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس روایت پر طویل گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ یہ روایت واہیات ہے، بلکہ ابن حزم نے اسے موضوع اور باطل قرار دیا ہے الخ 

7) صحابہ کرام کا قابل اقتدا ہونا دوسری روایات سے ثابت ہے،  (جب تک اس صحابی کا عمل کتاب و سنت کے مطابق ہو۔ ) 

8) فتوے میں درج " لیکن لفظ کے اعتبار سے کسی روایت کا موضوع اور بے اصل ہونا الگ بات ہے، پھر بھی کبھی اس کے بعض معنی معتبر ہوتے ہیں" 
دارالعلوم دیوبند کی تلبیس کاری ہے۔ 
محدثین کسی روایت پر موضوع ہونے کا حکم اسی وقت لگاتے ہیں جب وہ روایت لفظ ومعانی دونوں اعتبار سے موضوع ہو۔ نیز کسی روایت کے بعض معنی معتبر ہونے سے اس  روایت کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا۔ 

صحابہ کرام کے فضائل میں نبی کریم ﷺ کی بہت ساری صحیح احادیث مذکور ہیں، حنفی علماء، خطباء اور مفتیان حضرات کوچاہئیے کہ اپنے خانہ زاد اکابرین کے بنائے ہوئے من گھڑت قصے کہانیوں کو چھوڑ کر صحیح احادیث کا مطالعہ کریں اور امت کو کتاب و سنت کے صحیح منہج سے روشناس کرائیں۔۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! 

اے اللہ! ہمارے سامنے حق کو واضح فرمادے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما! اور باطل کو بھی ظاہر فرمادے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...