اکثر بلادِ ہند میں رسم ہے کہ میت کے روزِ وفات سے اس کے اعزہ و اقارب و احباب کی عورتیں اس کے یہاں جمع ہوتی ہیں، اس اہتمام کے ساتھ جو شادیوں میں کیا جاتا ہے۔ پھر کچھ دوسرے دن، اکثر تیسرے دن واپس آتی ہیں، بعض چالیسویں تک بیٹھی رہتی ہیں۔ اس مدتِ اقامت میں عورتوں کے کھانے پینے کا اہتمام اسی طرح ہوتا ہے جس کے باعث ایک قرض کثیر کے زیر بار ہوتے ہیں اگر اس وقت ان کا ہاتھ خالی ہو تو قرض لیتے ہیں۔یوں نہ ملے تو سودی نکلواتے ہیں اگر نہ کریں تو مطعون و بدنام ہوتے ہیں۔ یہ شرعا جائز ہے یا کیا؟
الجواب: سبحان اللہ! اے مسلمان! یہ پوچھنا ہے کہ جائز ہے یا کیا ہے؟ یوں پوچھ کہ یہ ناپاک رسم کتنے قبیح اور شدید گناہوں، سخت و شنیع خرابیوں پر مشتمل ہے۔اولاً: یہ دعوت خود ناجائز و بدعتِ شنیعہ و قبیحہ ہے۔ امام احمد اپنے مسند اور ابن ماجہ سنن میں بسندِ صحیح حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راویت ہے :
"کُنَّا نَعُدُّ الْاِجْتِمَاعَ اِلٰی اَہْلِ الْمَیِّتِ وَ صَنْعَہُمُ الطَّعَامَ مِنَ النِّیَاحَۃِ"(ترجمہ: ہم گروہِ صحابہ اہل میت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرنے کو مُردے کی نیاحت (ماتم) سے شمار کرتے تھے جس کی حرمت پر متواتر حدیثیں ناطق ہیں۔)
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:"یُکْرَہُ اِتِّخَاذُ الضِّیَافَۃِ مِنَ الطَّعَامِ مِنْ اَہْلِ الْمَیِّتِ لِاَنَّہٗ شُرِعَ فِی السُّـرُوْرِ لَا فِی الشُّـرُوْرِ وَہِیَ بِدْعَۃٌ مُّسْتَقْبَحَۃٌ"(ترجمہ: اہل میت کی طرف سے کھانے کی ضیافت تیار کرنی منع ہے کہ شرع نے ضیافت خوشی میں رکھی ہے نہ کہ غمی میں، اور یہ بدعتِ شنیعہ ہے۔)
فتاویٰ خلاصہ، فتاویٰ سراجیہ، فتاویٰ ظہیریہ، فتاویٰ تاتارخانیہ اور ظہیر یہ سے خزانہ المفتیین، کتاب الکراہتہ اور تاتارخانیہ سے فتاویٰ ہندیہ میں بالفاظ متقارب ہے:"لَا یُبَاحُ اِتِّخَاذُ الضِّیَافَۃِ عِنْدَ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْمُصِیْبَۃِ"(ترجمہ: مصیبت کے ایام یعنی تیسرے دن کی دعوت جائز نہیں کہ دعوت تو خوشی میں ہوتی ہے۔)
تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے:"لَا بَاْسَ بِالْجُلُوْسِ لِلْمُصِیْبَۃِ اِلٰی ثَلٰثٍ مِنْ غَیْرِ اِرْتِکَابِ مَحْظُوْرٍ مِّنْ فَرْشِ الْبُسُطِ وَالْاَطْعِمَۃِ مِنْ اَہْلِ الْمَیِّتِ"(ترجمہ: مصیبت کے لیے تین دن بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں جب کسی امر ممنوع کا ارتکاب نہ ہو، جیسے تکلف سے فرش بچھانا اور میت والوں کی طرف سے کھانے کا اہتمام۔)
امام بزازی وجیز میں فرماتے ہیں:"یُکْرَہُ اِتِّخَاذُ الطَّعَامِ فِی الْیَوْمِ الْاَوَّلِ وَالثَّالِثِ وَ بَعْدَ الْاُسْبُوْعِ"(ترجمہ: یعنی میت کے پہلے یا تیسرے دن یا ہفتے کے بعد جو کھانے تیار کرائے جاتے ہیں سب مکروہ ہیں۔)
علامہ شامی رد المحتار میں فرماتے ہیں۔ الطمال ذالك في المعراج وقال : هذه الافعال كلها للسمعة والرياء فيتحسون عنها يعنى معراج الدراية شرح ہدایہ نے اس مسئلہ میں بہت کلام طویل کیا اور فرمایا کہ یہ سب ناموری اور دکھاوے کے کام ہیں ان سے احتراز کیا جائے ۔
ثانيا : غالباً ورثہ میں کوئی یتیم یا اور بچہ نا بالغ ہوتا ہے یا اور ورثہ موجود نہیں ہوتے نہ ان سے اس کا اذن لیا جاتا ہے جب تو یہ امر سخت حرام شدید پر متضمن ہوتا ہے ۔ اللہ عز وجل فرماتا ہے ۔ ان الذين يأْكُلُونَ أَموال اليتیم ظُلُمَا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَاراً وَ سَيَصْلَوْنَ سَعِيراً
بے شک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں وہ بلاشبہ اپنے پیٹ میں انگارے بھرتے ہیں اور قریب ہے کہ جہنم کے گہراؤ میں جائیں گے ۔
مال غیر میں ہے اذن غیر تصرف خود نا جائز ہے ۔ قال الله تعالى لا تَأْكُلُوا أَمْوَائِكُم بَيْنَكُم بِالباطل . خصوصاً نا بالغ کا مال ضائع کرنا جس کا اختیار نہ خود اسے ہے نہ اس کے باپ نہ اس کے وصی کو لأن الولاية للنظر لا للضرر على الخصوص۔
اور اگر ان میں کوئی یتیم ہوا تو آفت سخت تر ہے۔ والعياذ بالله رب العالمين .
ہاں اگر محتاجوں کے دینے کو کھانا پکوائیں تو حرج نہیں بلکہ خوب ہے۔ بشرطیکہ یہ کوئی عاقل بالغ اپنے مال خاص سے کرے یا ترکہ سے کریں تو سب وارث موجود و بالغ و راضی ہوں ۔
ثالثا:۔ یہ عورتیں کہ جمع ہوتی ہیں افعال منکرہ کرتی ہیں۔ مثلاً چلا کر رونا پیٹنا، بناوٹ سے منھ ڈھانکنا الی غیر ذالک۔ اور یہ سب نیاحت ہے اور نیاحت حرام ہے ۔ ایسے مجمع کے لئے میت کے عزیزوں اور دوستوں کو بھی جائز نہیں کہ کھانا بھیجیں کہ گناہ کی امداد ہوگی ۔ قال تعالى وَلَا تَعَاوَنُو عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدوان -
نہ کہ اہل میت کا اہتمام طعام کرنا کہ سرے سے نا جائز ہے تو اس نا جائز مجمع کے لئے ناجائز ترہوگا ۔
کشف الفطار میں ہے . ساختن طعام در روز ثانی و ثالث برائے اہل میت اگر نوحہ گراں جمع باشند مکروه است زیرا که اعانت است ایشان را بر گناه -
رابعا : اکثر لوگوں کو اس رسم شنیع کے باعث اپنی طاقت سے زیادہ ضیافت کرنی پڑتی ہے۔
یہاں تک کہ میت والے بیچارے اپنے غم کو بھول کر اس آفت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اس میلے کے لئے کھا نا پان چھالیاں کہاں سے لائیں اور بارہا ضرورت قرض لینے کی پڑتی ہے۔ ایسا تکلف شرع کو کسی امر مباح کے لئے زینہار پسند نہیں نہ کہ ایک رسم ممنوع کے لئے ۔پھر اس کے باعث جو دقتیں پڑتی ہیں خود ظاہر ہیں پھر اگر قرض سودی مال ک ملا تو حرام خالص ہو گیا اور معاذ الله لعنت انہی سے پورا حصہ ملا کہ بے ضرورت شرعیہ سود دینا بھی سود لینے کے مثل باعث لعنت ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا ۔
غرض اس رسم کی شناعت و ممانعت میں شک نہیں۔ اللہ عز وجل مسلمانوں کو توفیق بخشے کو قطعاً ایسی رسوم شنیعہ جن سے ان کے دین و دنیا کا ضرر ہے ترک کر دیں اور طعن بیہودہ کا لحاظ نہ کریں
تنبیه :- اگر چہ صرف ایک دن یعنی پہلے ہی روز عزیزوں ، ہمسایوں کو مسنون ہے کہ اہل میت کے لیے اتنا کھانا پکوا کر بھیجیں جیسے وہ دو وقت کھا سکیں اور باصرار انہیں کھلائیں۔ مگر یہ کھانا صرف اس میت ہی کے قابل ہونا سنت ہے اس میلے کے لئے بھیجنے کا ہرگز حکم نہیں اور ان کے لئے بھی فقط روز اول کا حکم ہے آگے کا نہیں۔
مسئلہ :۔ مردہ کے نام کا کھانا جو امیر و غریب کو کھلاتے ہیں کس کو کھانا چاہئے اور کس کو نہیں اور یوں بھی کہتے ہیں کہ مردہ کے نام کا کھانا مصلی امیر غریب سب کو کھلاتے ہیں جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب:۔ مردہ کا کھانا صرف فقراء کے لئے ہے عام دعوت کے طور پر جو کرتے ہیں یہ منع ہے غنی نہ کھائے۔ کمافی فتح القدیر و مجمع البركات .
میت کے یہاں جو لوگ جمع ہوتے ہیں اور ان کی دعوت کی جاتی ہے اس کھانے کی تو ہر طرح ممانعت ہے اور بغیر دعوت کے جمعراتوں، چالیسویں ، چھ ماہی ، برسی میں جو بھاجی کی طرح اغنیاء کو بانٹا جاتا ہے وہ بھی اگر چہ بے معنی ہے مگر اس کا کھانا منع نہیں بہتری ہے کہ غنی نہ کھائے اور فقیر کو تو کچھ مضائقہ نہیں کہ وہی اس کے مستحق ہیں۔ الخ
موت میں دعوت بے معنی ہے۔ فتح القدیر میں اسے بدعت مستقبحہ فرمایا : لان الدعوة شرعت في السرور لا في الشرور۔
اغنیاء کا اس میں کچھ حق نہیں اور اگر بنظر :المعهود عرفا کا المشروط لفظا۔
وہ اجرت قرآن خوانی کی حد تک پہونچ گیا ہو۔ کھلانے والا جانتا ہو ان کی تلاوت کے عوض میں مجھے کھانا دینا ہے۔ یہ جانتے ہوں کہ ہمیں قرآن پڑھ کر کھانا لینا ہے تو آپ ہی حرام ہے۔ کھانا بھی حرام۔ اور کھلانا بھی حرام . لا تشتروا بایاتی ثمنا قلیلا۔
اہل میت کے گھر کھانا بھیجنا
..... بروز وفات جو کھانا اہل میت کے یہاں بطریق بھائی بھیجا جاتا ہے اس کو اہل میت کے اعزہ وغیرہ کھا سکتے ہیں یا نہیں۔ بروز سوم - دہم جہلم ششماہی وغیرہ جو کھانا بغرض ایصال ثواب پکا کر مسکین کو تقسیم کیا جاتا ہے اس میں بقدر ضرورت اضافہ کر کے علاوہ مساکین کے دیگر اعزہ واقرباء کو کھلایا اور برادری میں تقسیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں ۔
الجواب: پہلے دن صرف اتنا کھانا کہ میت کے گھر والوں کو کافی ہو بھیجنا سنت ہے۔ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ نہ دوسرے دن بھیجنے کی اجازت نہ اوروں کے واسطے بھیجا جائے۔ نہ اور اس میں کھائیں ۔
ایصال ثواب سنت ہے اور موت میں ضیافت ممنوع - فتح القدیر وغیرہ میں ہے۔ ٹکرہ اتخاذ الضيافةِ مِنَ الطَّعَامِ مِنْ أَهْلِ المَيِّتِ لانہ شُرِعَ فِي السُّرُورِلا في الشرور و هي بدعة مستقبحة - روى الامام احمد وابن ماجة باسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال كُنَّا نَعُد الاجتماع الى أَهْلِ المَيِّتِ وَصَنْعَهُم ! الطَّعَامَ مِنَ النياحة . جب علماء نے اسے غیر مشروع و بدعت قبیحہ کہا تو اس کا کھانا بھی غیر مشروع بدعت قبیحہ ہوا کہ معصیت پر اعانت ہے اور معصیت پر اعانت گناہ ۔ قال تعالى. ولا تعاونوا على الإثم والعدوان . والله تعانی اعلم
فتاوی رضویہ جلد چہارم بحوالہ رد بدعات و منکرات مولانا احمد رضا خان صفحہ نمبر : 321
No comments:
Post a Comment