السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
موضوع : مردے کی آنکھ میں سرمہ لگانا
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
از : محمد اقبال قاسمي سلفي
میت کو غسل دینے اور عطر لگانے کے بعد عام طور سے ہمارے یہاں احناف میت کی آنکھوں میں سرمہ بھی لگایا کرتے ہیں۔جبکہ حنفی علما نے اسے زینت قرار دیتے ہوئے فعل عبث قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ سرمہ میت کو ہرگز نہ لگانا چاہیے۔
آئیے حنفی علماء کے فتوے ملاحظہ کرتے ہیں ۔
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن اپنے فتوے میں لکھتے ہیں:
میت کو سنت طریقے کے مطابق عطر کا فور لگایا جائے۔ سرمہ نہ لگایا جائے، یہ زینت ہے اور انتقال کے بعد میت زینت سے بے نیاز ہوچکا ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ بالوں میں کنگھی نہ کی جائے بال او رناخن نہ کاٹے جائیں ۔(فتاوی رحیمیہ) لہٰذا میت کو سرمہ لگانا درست نہیں ہے۔
البحرالرائق میں ہے:
( قوله : ولايسرح شعره ولحيته ، ولايقص ظفره وشعره ) ؛ لأنها للزينة ، وقد استغنى عنها، والظاهر أن هذا الصنيع لايجوز. قال في القنية: أما التزين بعد موتها والامتشاط وقطع الشعر لايجوز، والطيب يجوز". (5/278)فقط
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144010201200
رضاخانی علماء اور مفتیوں سے بھی اس بابت ممانعت وارد ہے۔
چنانچہ:
مفتی محمد حبیب اللہ نعیمی اشرفی لکھتے ہیں :
”میت کو غسل دینے کے بعد سرمہ لگانا نہ چاہیے، چوں کہ میت کو نہ زینت کی ضرورت ہے، نہ آنکھوں کی حفاظت کی حاجت ہے، لہذا یہ فعل عبث ہے۔ سرمہ میت کو ہرگز نہ لگایا جائے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔“
(حبیب الفتاوی، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ج: ١، ص: ٥٤٥، شبیر برادرز لاہور۔)
مفتی محمد اختر رضا خان سے سوال ہوا کہ مردہ کو سرمہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ نے جواب دیا:
” الجواب: ناجائز ہے۔
رد المحتار میں ہے: ” لما في القنيةمن أن التزئين بعد موتها و الإمتشاط و قطع الشعر لا يجوز. نهر.“ واللہ تعالیٰ اعلم۔“
( فتاویٰ تاج الشریعہ، کتاب الصلاۃ، ج: ٤، ص: ٤٩٣، جامعۃ الرضا، بریلی )
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه
No comments:
Post a Comment