بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: جنید بغدادی اور شیخ عبدالقادر جیلانی کے دریا پار کرانے کا رضاخانی اور تھانوی تنتر!
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر چلنے والے
قبر پرست دیوبندی اور رضاخانی مقررین کو اپنے بزرگوں سے منسوب اکثر شرکیہ اور من گھڑت قصے کہانیاں بیان کرتے ہوئے سنا جاتا ہے۔
ان ہی میں سے جنید بغدادی کے دریائے دجلہ پار کرنے کا واقعہ ہے۔
چنانچہ احمد رضا خان سے سوال کیا گیا:
عرض: حضور! یہ واقعہ کس کتاب میں ہے کہ حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے یا اللہ فرمایا اور دریا سے اتر گئے پورا واقعہ یاد نہیں۔
تو مولوی احمد رضا خان نے جواب دیا
ارشاد : غالباً حدیقہ ندیہ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیدی جنید بغدادی دجلہ پر تشریف لائے اور یااللہ کہتے ہوئے اس پر زمین کے مثل چلنے لگے بعد کو ایک شخص آیا اسے بھی پار جانے کی ضرورت تھی کوئی کشتی اس وقت موجود نہیں تھی جب اس نے حضرت کو جاتے دیکھا، عرض کی میں کس طرح آؤں، فرمایا یاجنید یاجنید کہتا چلا آ، اس نے یہی کیا اور دریا پر زمین کی طرح چلنے لگا جب بیچ دریا میں پہنچا شیطان لعین نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضرت خود تو یااللہ کہیں اور مجھ سے یاجنید یاجنید کہلواتے ہیں، میں بھی یااللہ کیوں نہ کہوں. اس نے یااللہ کہا اور ساتھ ہی غوطہ کھایا. پکارا حضرت میں چلا، فرمایا وہی کہہ یاجنید یاجنید جب کہا دریا سے پار ہوا.
(ملفوظات احمد رضا خان بریلوی جلد:1 ص:124)
اسی طرح کا واقعہ غالی صوفی اشرف علی تھانوی نے بھی اپنی کتاب امداد المشتاق میں لکھا ہے کہ :
ایک دن حضرت غوث الاعظم اپنے سات اولیاء اللہ کے ہمراہ بیٹھے ہوے تھے۔ ناگاہ نظر بصیرت سے ملاحظہ فرمایا کہ ایک جہاز قریب غرق ہونے کے ہے آپ نے ہمت و توجہ باطنی سے اس کو غرق ہونے سے بچالیا ۔
یہ دونوں واقعات موضوع، من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔
پہلا واقعہ جسے احمد رضا خان نے الملفوظ میں بیان فرمایا ہے وہ جنید بغدادی کی طرف منسوب ہے۔جنید بغدادی کی ولادت تیسری صدی ہجری کے اوائل 210ھج اور 220 ھجری بمطابق 830 عیسوی کے درمیان ہوئی ہے۔ جبکہ احمد رضا خان 18 جون 1856 عیسوی کو پیدا ہونے والے انیسوی صدی عیسوی کے عجوبہ روزگار ہیں۔ بالفاظ دیگر جنید بغدادی اور احمد رضا خان کے درمیان ہزاروں سال کا فاصلہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس واقعے کے رونما ہونے کے وقت احمد رضا خان کا اس دنیا فانی میں وجود ہی نہیں تھا کہ وہ اس واقعے کا از خود ملاحظہ کرتے اور نہ ہی اس واقعہ کا کوئی سند اور حوالہ ہی پیش کیا ہے۔
لیکن ایسے بے بنیاد واقعات کو رد کرنے کے بجائے کس طرح تائید کی جاتی ہے ذرا نیچے کے فتوے میں اسے ملاحظہ کریں۔
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین وملت اس مسئلے میں کہ زید نے یا جنید یا جنید کہہ کر دریا پار کرنے کا واقعہ اپنی تقریر میں بیان کیا جسے المفوظ حصہ اول میں حضور مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃ والرضوان نے تحریر فرمایا ہے۔ بکر اس واقعے کو بے بنیاد اور بے اصل کہتا ہے اور اسے گمراہ کن قرار دیتا ہے اور حوالے میں فتاویٰ رضویہ جلد ۲ ص ۲۹۵ کی یہ عبارت پیش کرتا ہے کہ یہ غلط ہے کہ سفر میں دریا ملا بلکہ دجلہ ہی کے پار جانا تھا اور یہ بھی زیادہ ہے کہ میں اللہ اللہ کہتا چلوں گا اور محض افترا ہے کہ انھوں نے فرمایا تو اللہ اللہ مت کہہ یا جنید کہنا الخ۔ اور الملفوظ کو غیر مستند کہتا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا واقعۂ مذکور بیان کرنا درست ہے یا نہیں؟ اور بکر کا قول کیسا ہے؟ بینوا توجروا
المستفتی: محمد اسحاق قادری، ڈھلمئو شریف، ڈاکخانہ التفات گنج، امبیڈکر نگر
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب:
یا جنید یا جنید کہہ کر دریا پار کرنے کا واقعہ مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی عنہ ر بہ القوی کا بیان فرمانا اور امام الفقہا حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمة والرضوان کا اسے الملفوظ میں تحریر فرمانا واقعۂ مذکورہ کے مستند ہونے کی کھلی ہوئی دلیل ہے۔ لہذا زید کا اس کو بیان کرنا درست ہے۔ اور بکر کا اس واقعہ کو بے بنیاد و بے اصل کہنا اور اسے گمراہ کن قرار دینا غلط ہے۔ اور ثبوت میں عبارت مذکورہ کا پیش کرنا صحیح نہیں اس لیے کہ اعلیٰ حضرت نے اصل واقعہ کو غلط قرار نہیں دیا ہے بلکہ سوال میں جتنی باتیں خلاف واقعہ تھیں صرف ان کا غلط ہونا ظاہر فرمایا ہے۔
اگر کوئی کہے کہ یا جنید یا جنید کہے تو نہ ڈوبے اور اللہ اللہ کہے تو ڈوب جائے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو ایسا کہنے والے کو صوبہ مہاراشٹر میں پونہ بھیج دیا جائے کہ اس شہر کے قریب حضرت قمر علی درویش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار مبارک ہے۔ وہاں ایک بڑا گول پتھر ہے جس کا وزن نوے کلو بتایا جاتا ہے وہ ”قمر علی درویش“ کہنے پر انگلیوں کے معمولی سہارا دینے سے اوپر اٹھتا ہے اور اللہ کہنے سے نہیں اٹھتا۔ میں بذات خود اس کا تجربہ کر چکا ہوں ۔ اس میں کیا راز ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اور الملفوظ کو غیر مستند بتانا امام الفقہا حضور مفتی اعظم ہند مصطفی رضاخاں علیہ الرحمة والرضوان کی کھلی ہوئی توہین ہے۔ وهو تعالیٰ اعلم
کتبہ:
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ
[فتاوی فقیہ ملت المعروف بہ فتاوی مرکز تربیت افتا ج: 1، ص: 1]
اسی طرح اشرف علی تھانوی کا شیخ عبدالقادر جیلانی کی طرف منسوب واقعہ بھی بے دلیل ہونے کی وجہ سے مردود ہے، کیونکہ شیخ عبدالقادر جیلانی بارہویں صدی عیسوی کے عالم ہیں جبکہ اشرف علی تھانوی 19 اگست 1863 عیسوی کو تھانہ بھون میں پیدا ہوۓ یعنی شیخ عبدالقادر جیلانی اور اشرف علی تھانوی کے تقریباً درمیان سات سو سالوں کا فاصلہ ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کے سات سو سال بعد تھانہ بھون میں پیدا ہونے والے تھانوی صاحب کو اس واقعہ کا علم کیسے ہوا؟
سرفراز خان صفدر دیوبندی نے لکھا ہے:
’’اور امام بخاریؒ نے اپنے استدلال میں ان کے اثر کی کوئی سند نقل نہیں کی اور بے سند بات حجت نہیں ہو سکتی۔‘‘
(احسن الکلام ج1ص 327، دوسرانسخہ ص 403)
جب امام بخاری کی بیان کردہ بے سند بات حجت نہیں ہو سکتی تو یہ صوفیان کس کھیت کی مولی ہیں کہ بے دلیل ہی ان کی بات کو صحیح تسلیم کر لی جائے؟
نیز یہ افسانے قرآن و حدیث میں دییے گۓ عقیدے کے بھی خلاف ہے۔
قرآن کریم میں تو اللہ فرماتایے:
هُوَ الَّـذِىْ يُسَيِّـرُكُمْ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ ۖ حَتّــٰٓى اِذَا كُنْتُـمْ فِى الْفُلْكِۚ وَجَرَيْنَ بِـهِـمْ بِـرِيْـحٍ طَيِّبَةٍ وَّفَرِحُوْا بِـهَا جَآءَتْـهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّجَآءَهُـمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّـوٓا اَنَّـهُـمْ اُحِيْطَ بِـهِـمْ ۙ دَعَوُا اللّـٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَـهُ الـدِّيْنَ لَئِنْ اَنْجَيْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُـوْنَنَّ مِنَ الشَّاكِـرِيْنَ (22)
فَلَمَّآ اَنْجَاهُـمْ اِذَا هُـمْ يَبْغُوْنَ فِى الْاَرْضِ بِغَيْـرِ الْحَقِّ ۗ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓى اَنْفُسِكُمْ ۖ مَّتَاعَ الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا ۖ ثُـمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَـنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (23)
وہ وہی ہے جو تمہیں جنگل اور دریا میں سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو، اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں تیز ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے ان پر لہریں چھانے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بے شک وہ لہروں میں گھر گئے ہیں، تو سب خالص اعتقاد سے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا دے تو ہم ضرور شکر گزار رہیں گے
کرنے لگتے ہیں، اے لوگو تمہاری شرارت کا وبال تمہاری جانوں پر ہی پڑے گا، دنیا کی زندگی کا نفع اٹھا لو، پھر ہمارے ہاں ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے پھر ہم تمہیں بتلا دیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
.( سورہ یونس; 22,23)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ مشکل گھڑی میں کفار مکہ بھی خالص اللہ کو ہی پکارتے تھے گویا کفار مکہ اللہ ہی کو مشکل کشا ہونے کا عقیدہ اوریقین رکھتے تھے۔ لیکن رضا خانی اور تھانوی افسانہ یہ بتا رہاہے کہ مشکل کشائی میں جنید بغدادی اور شیخ عبدالقادر جیلانی بھی شریک ہے۔
نیز یہ دونوں واقعے کسی بھی معتبر اور مستند حوالے میں موجود نہیں ہے۔
جبکہ مشہور محدث امام ابن ابی حاتم ؒ(المتوفی327ھ ) فرماتے ہیں :
ثقہ محدث یونس بن عبدالاعلیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام شافعی ؒ سے عرض کی کہ امام لیثؒ بن سعد(جو مصر کے جلیل القدر فقیہ ہیں ) فرماتے ہیں :اگر تم کسی کو پانی (یعنی دریا یا سمندر ) پر چلتا بھی دیکھو تو اس پر اعتماد نہ کرو اور اس کے متعلق دھوکے میں نہ پڑو ، تو امام شافعیؒ نے فرمایا کہ امام لیثؒ نے پوری بات نہیں فرمائی جو یہ ہے کہ اگر تم کسی کو (پانی پر چلتا اور) ہوا میں اڑتابھی دیکھو تو اس پر اعتماد نہ کرو اور اس کے متعلق دھوکے میں نہ پڑو۔" اس روایت کی اسناد بہت ہی صحیح اورمعتبر ہے "
(آداب الشافعی ومناقبہ ص141 ) سیر اعلام النبلاء (10/23)
ابو یزید بسطامی (المتوفی 261ھ) جو جنید بغدادی کے ہم عصر ہیں، فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ کی بہت ساری مخلوق ایسی ہے جو پانی پر چلتی ہے ، اور اس وصف کے باوجود اللہ کے ہاں اس مخلوق کی کوئی قدر و قیمت نہیں ، اور اگر تم کسی ایسے آدمی کو دیکھو جسے کئی کرامات حاصل ہیں ،حتی کہ وہ ہوا میں اڑتا ہے تو اس کی کرامات سے ہرگز دھوکا نہ کھانا ۔ تاوقتیکہ جان لو کہ وہ امر ونواہی اور شریعت کا پابند ہے "۔
ذكره الذهبي في سير اعلام النبلاء(13/87)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!
No comments:
Post a Comment