بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
موضوع :اسلام میں ذات پرستی اور علماء
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
از قلم : محمد اقبال قاسمي سلفي
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا،
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے۔
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (سورۃ البقرہ:208)
اے ایمان والو اسلام میں پورے طور سے داخل ہو جاؤ۔
اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔
لیکن افسوس!!
ایمان بیچنے پر ہیں اب سب تلے ہوئے
لیکن خرید ہو جو علی گڑھ کے بھاؤ سے۔
1)منکر حدیث، منو وادی اور انگریزوں کے خیر خواہ سر سید احمد خان کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ یہ ہندوستان کے پایہ درجے کے منووادی علماء میں سے تھے جس کے اندر منوواد اور اونچ نیچ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
انگریزوں کی چاپلوسی اور امت مسلمہ میں ذات پات اونچ نیچ کو فروغ دینے کی کوئی کسر نہیں چھوڑا کرتے تھے۔
انہیں نے تو 1857ء کی بغاوت میں بھی انگریزوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ اس بغاوت (جہاد) میں (مزعومہ) بڑی ذاتوں کا ہاتھ نہیں ہے۔ وہ تو آپ کے وفادار ہیں۔
اسباب بغاوت ہند: سر سید احمد خان)
اپنی برہمن وادی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا تھا کہ اللہ تعالی صرف مسلمان تیلی ، .....اور ناخواندہ حضرات کو ہی سزا دے گا۔
چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
"قیامت کے دن جب خداوند تعالی مسلمان تیلی، ......، ناخواندہ اور کم علم مسلمانوں کو سزا دینے لگے گا تو بندہ سامنے ہوکر عرض کرے گا کہ جناب باری انصاف فرمائیے۔"
(ہندوستان میں ذات پات اور مسلمان :مسعود عالم فلاحی، باب نہم)
یہ اعلی تعلیم کا حقدار بھی صرف مخصوص طبقے کے لوگوں کو ہی سمجھتے تھے۔
سر سید احمد خان کی انگریز بھکتی اور منووادی نظریات کو دیکھنے کے بعد جواہر لال نہرو جی کو بھی یہ کہنا پڑا تھا کہ:
"سرسید اور دوسرے مذہبی نیتا حضرات در اصل عام لوگوں کی سیاست اور سماجی اٹھاؤ کے مخالف تھے، ان کے مطالبات کا عام لوگوں سے کوئی رشتہ نہیں تھا۔ ان کی مانگ صرف سماج کے اوپری طبقے کے ایک چھوٹے سے گروہ کے لئے محدود تھی۔"
"شرم تم کو مگر نہیں آئی"
قومی شاعر رام دھاری سنگھ دنکر لکھتے ہیں کہ سر سید کے ناقدوں میں اکبر الہٰ بادی بہت اہم گذرے ہیں۔ وہ سر سید کے انگریز بھکتی ہی کے خلاف نہیں بلکہ ان کے سماج سدھاروں کے بھی خلاف تھے۔ ان کے کتنے ہی شعر سر سید کو نشانہ بنا کر لکھے ہوئے دکھتے ہیں جیساکہ:
ایمان بیچنے پر ہیں اب سب تلے ہوئے
لیکن خرید ہو جو علی گڑھ کے بھاؤ سے۔
(بحوالہ ہندوستان میں ذات پات اور مسلمان:مسعود عالم فلاحی)
2) حکیم الامت اشرف علی فاروقی تھانوی صاحب!!!
مولانا نے بھی ہندوستان میں منوازم کو فروغ دینے میں کوئی موقع نہیں چھوڑا۔ ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کی تحقیر وتذلیل میں ذرا برابر عار محسوس نہیں کرتے تھے ،یا انہیں ذات پات کے مرض میں بری طرح مبتلا مریض الامت کہا جاۓ تو بیجا نہ ہوگا حالانکہ لوگ انہیں حکیم الامت کے لقب سے ملقب کرتے ہیں ۔
یہ اپنی کتاب الرفیق فی سواء الطریق میں لکھتے ہیں :
" تین روز ۔۔۔۔۔ہے نے نماز کیا پڑھ لی اپنے آپ کو برگزیدہ ہستی سمجھنے لگا۔ "
شبیر احمد حکیم صاحب"مساوات بہار شریعت "کے حوالے سے مولانا تھانوی کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ:
"۔۔۔۔۔ اور نائیوں کو مسلمان گھرانوں میں داخل نہ ہونے دیا جائے. "
مولانا تھانوی نے ذات پات پر مبنی "رسالہ تبلیغ" نامی ایک کتاب بھی لکھی تھی، جس کے خلاف پورے ہندوستان میں مسلمانوں بالخصوص انصاری شیخوں اور قریشیوں نے مظاہرہ کیا۔ سہارنپور کی مومن کانفرنس نے بذریعہ خط مولانا سے وضاحت طلب کی اور اس کتاب سے اس طرح کی عبارتوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا، لیکن مولانا نے ان عبارتوں کو نکالنے کا نہ حکم صادر فرمایا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی معقول عذر ہی پیش کیا۔بلکہ ادھر ادھر کی بات کر کے خاموشی اختیار کر لی۔ بلکہ مفتی شفیع عثمانی کے ذریعہ اس کتاب کے قابل اعتراض عبارتوں پر مزید حاشیہ آرائی کروادی، جو پہلے سے بھی زیادہ بغض وعناد اور تحقیر وتذلیل پر مبنی تھیں۔ (العیاذباللہ)
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مولانا اپنی عبارتوں پر نظر ثانی کرتے، دلخراش عبارتوں کو اس کتاب سے نکال باہر کرتے۔ ملی اتحاد کو قائم کرتے۔ لیکن افسوس مولانا سے یہ تو نہ ہو سکا بلکہ مزید امام شہاب الدین الابشىيهي(م850 ھ) کی کتاب "المستطرف فی کل فن مستظرف" سے بے سند اور من گھڑت روایتیں پیش کردی جو ان شاءاللہ ہم اگلے پوسٹ میں آپ کے سامنے رکھیں گے۔ لوگوں سے نہیں تو کم از کم یہ موضوع روایتیں پیش کرتے ہوئے کاش اللہ کا خوف کھاۓ ہوتے۔
ہاں! خوف کھانے کی ضرورت کیا تھی انہیں، جنت جو ان کی جاگیر ہے۔ جیسا کہ غایات النسب میں یہ بات مفتی شفیع نے کہی ہے۔ "بخشش و مغفرت کی مستحق بھی یہ چار قومیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ رب العزت سورہ بقرہ میں فرماتا ہے:
وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (111)
بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (112)
اور یہ کہتے ہیں کہ جنت میں سواۓ یہودی اور عیسائی کے کوئی داخل نہ ہوگا۔ یہ تو بس ان کی آرزوئیں ہیں۔ ان کہئے کوئی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو ۔ سنو! جو بھی اللہ کے لئے اپنے آپ کو جھکا دے اور اچھا عمل کرے تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہوگا اور اسے کوئی خوف نہیں گا اور نہ وہ غمگین ہونگے۔ (سورۃ البقرہ:111، 112)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment