Friday, July 30, 2021

ہندوستانی منووادی علماء اور ذات پات کی موضوع(من گھڑت) روایتیں ۔۔۔۔ ‏


مولانا اقبال قاسمی سلفی

مفتی شفیع عثمانی پاکستانی (م1976ء) دارالعلوم دیوبند کے شعبہ افتاء پر فائز ہونے کے بعد "نہایات االارب فی غایات النسب" نامی کتاب لکھی تھی ۔ اس کتاب میں قاری محمد طیب صدیقی صاحب کی تقریظ "انساب و قبائل کا تفاضل" اور مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کا کتابچہ" وصل السبب فی فصل النسب بھی بطور ضمیمہ شامل تھا۔ مفتی شفیع صاحب نے اس کتاب میں ضعیف، موضوع اور باطل احادیث کا سہارا لے کر ذات پات، اونچ نیچ اور مسلمانوں کے ایک مخصوص طبقے کی تذلیل میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی چاہے "من كذب على معتمدا فليتبوأمقعده من النار."(جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا اسے اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لینا چاہئیے۔) کا مصداق کیوں نہ بننا پڑے۔
چنانچہ مفتی صاحب پیشہ ور برادریوں اور پیشوں کے ضمن میں موضوع احادیث نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
1)اکذب الناس الصباغ"(کنزالعمال، کتاب البیوع)
سب لوگوں سے زیادہ جھوٹے رنگریز ہیں۔

2) جب قیامت کا دن ہوگا تو  ایک منادی آواز دے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے زمین پر رہتے ہوئے اللہ کے ساتھ خیانت کی تھی؟ اس پر ٹھٹھیرے،صراف اور پارچہ باف حاضر کئے جائیں گے۔ (کنز العمال) 

3) میری امت میں سب سے زیادہ بدتر لوگ دستکاری کرنے والے اور سنار ہیں۔
 (کنز العمال) 

4) جس شخص کی تجارت غلہ کی ہوتی ہے اس کے دل میں مسلمانوں کی دشمنی سمائی رہتی ہے کہ وہ ہمیشہ مہنگائی کا خواستگار رہتا ہے۔ (کنز العمال) 

مفتی محمد شفیع عثمانی پاکستانی کے ذریعہ پیش کردہ یہ تمام احادیث موضوع اور بے اصل ہیں۔ 
ان احادیث کو خود کنز العمال کے مصنف شیخ متقی علی الہندی(م1567ء) نے ضعیف کہا ہے جن کی کتاب سے مفتی صاحب نے ان موضوع احادیث کو نقل کیا ہے۔
کیونکہ ان احادیث میں فرقد سنجی، معمر کدیمی اور عثمان بن مقسم جیسے کذاب اور حدیثیں گھڑنے والے روات موجود ہیں۔ ایسے راویوں کی روایت پیش کرنا اشرف علی تھانوی اور مفتی شفیع جیسے تدلیس بازوں کا ہی شیوہ ہو سکتا ہے۔
 
مذکورہ بالا احادیث کی حقیقت کی وضاحت اسی جماعت دیوبندیہ کے محدث کبیر علامہ حبیب الرحمان اعظمی کی زبانی پیش خدمت ہے ، وہ فرماتے ہیں:
اور یہ حضرات جن حدیثوں کی تقویت امر کے درپے ہیں نہ ان کی سند کا پتہ ہے ، نہ کسی محدث نے ان کے یسیر الضعف ہونے کی صراحت کی ہے۔بلکہ اس کے برعکس وہ ایسی کتابوں سے منقول ہیں جن کی حدیثوں کی نسبت حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی "عجالہ نافعہ" میں فرماتے ہیں":
"بہر حال یہ حدیثیں اعتماد اور بھروسے کے لائق نہیں ہیں" یہ حمایتی (منووادی حضرات) اس بات کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ "

(انساب و کفاءت کی شرعی حیثیت ، عنوان:بعض پیشہ وروں کی مذمت کی حدیثیں:محدث مولانا حبیب الرحمان اعظمی) 

تعجب خیز تو یہ ہے کہ جب مولانا تھانوی اور مفتی شفیع صاحب کے ان غیر اسلامی نظریات ( ذاتی واد) پر اعتراض ہوا تو دونوں حضرات نے  بڑی ڈھٹائی سے یہ عذر پیش کیا تھا کہ اگر ہماری کتاب پر اعتراض ہے تو سب سے پہلے ان لوگوں پر اعتراض کرنا چاہیئے جن کی کتابوں سے ہم نے لکھا ہے۔ واہ!!!!!!!! 
کون نہ مر جاۓ اس سادگی پہ اے خدا!!

 تعجب مولانا اور مفتی پر نہیں بلکہ تعجب بالاۓ تعجب تو ان اندھے معتقدین(اندھ بھکتوں)پر ہے  جو ایسے برہمن وادیوں کے سلسلہ بیعت کے مرید بنے ہوئے ہیں۔ اسی لئے میرا سوال اب مولانا اور مفتی صاحبان کے پیروکاروں سے ہی ہے کہ یہ اصول دنیا میں کس قوم کا ہے کہ محض کسی کتاب میں کسی بات کا مذکور ہونا ہی اس کے 
صحیح ہونے کی دلیل ہے؟؟؟

اور اگر بالفرض یہ اصول ہے۔
 تو کیا یہ اصول صرف انہی روایتوں کو پیش کرنے کے لئے جن سے ایک مخصوص طبقے کی دل آزاری ہوتی ہے۔؟؟؟ یہ اصول روایت ان روایتوں کے لئے کیوں نہیں جن سے مزعومہ ذاتوں (جن سے مفتی شفیع کا تعلق ہے) کی مذمت ہوتی ہے۔؟؟؟ 
جبکہ اسی کنزالعمال میں ایک دو نہیں بلکہ بے شمار ایسی روایتیں موجود ہیں جو مفتی صاحب کے مفروضہ ذات کی دھجیاں اڑاتی ہیں۔ 
برہمن وادی مفتی شفیع پر منوواد کا ایسا بھوت سوار تھا کہ مسلمانوں میں ذات پات اور اونچ نیچ کو قائم کرنے کے لئے یہ کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔ خواہ   موضوع حدیثیں پیش کر کے رسول ﷺ پر بہتان تراشی کیوں نہ کرنی پڑے۔
 
ان ہی کی جماعت حنفیہ دیوبندیہ کے محدث کبیر حبیب الرحمان اعظمی کی زبانی سنئیے۔ لکھتے ہیں:

یہیں سے مفتی شفیع صاحب کے مبلغ علم وعقل کا" 
 اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جب پارچہ باف جماعت یہ کہتی ہے کہ آپ لوگ وعظ و تقریر میں ہماری قوم کی تذلیل کرتے ہیں لہذا آپ لوگ معذرت نامہ شائع کیجئے تو مفتی شفیع صاحب جواب دیتے ہیں کہ تمہاری قوم کی تذلیل تو فلاں حدیث میں سرکار نے بھی کی ہے۔ بریں عقل ودانش بیاید گریست! بیچارے مولوی صاحب کو میں کس طرح سمجھاؤں کہ کنز العمال کی جس روایت کا حوالہ دیا ہے اس کی سند تک کا پتہ نہیں ہے۔ ایسی بے سروپا روایت استحلال عرض مسلم (مسلمانوں کے آبروریزی کے جواز) کی سند نہیں بن سکتی۔ 
پھر مولوی شفیع صاحب کی اس سے بڑھ کر عقلمندی یہ ہےکہ انھوں نے لغو و لایعنی و بے تحقیق قصوں کو اور اس چیز کو جس کو وہ حدیث سمجھتے ہیں برابر کردیا۔ افسوس ہے اس دین ودیانت اور اس فہم و فراست پر!!

پھر حدیث بیان کرنے میں بھی مفتی شفیع صاحب کی حیثیت اور ہے، اور مصنف کنزالعمال کی حیثیت اور۔ مصنف کنز العمال کا تو موضوع ہی یہی ہے کہ متفرق کتابوں میں جتنی باتیں حدیث کے عنوان سے مذکور ہیں انسب کو یکجا کردیں۔ لہذا ان کا ذکر کرنا بقصد تذلیل نہیں ہو سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ مصنف کنز العمال نے مولوی شفیع صاحب کی ذکر کردہ روایت جس طرح نقل کی ہے، اسی طرح وہ حدیثیں بھی نقل کی ہیں جن میں بنو العباس اور بنو امیہ کی سخت مذمت ہوتی ہےہے اور قریش کے نوجوانوں کے ہاتھوں امت اسلامیہ کی بربادی اور افراد قبیلہ مضر کا لوگوں کو دین سے بر گشتہ کرنا اس اور قتل عام کرنا بھی مذکور ہے۔ 

پس معلوم ہوا کہ مصنف کنز العمال کا مقصود کسی قوم کی تذلیل نہیں ہے۔ جبکہ مفتی شفیع صاحب کا مقصد صرف فتنہ انگیزی و دل آزاری جماعت مسلمین ہی ہے۔ 

نیز مصنف کنز العمال نے جس طرح مولوی شفیع کی ذکر کردہ روایت نقل کی ہے، اسی طرح پارچہ باف جماعت کی اعلیٰ درجے کی فضیلت والی احادیث بھی ذکر کی ہے۔ بر خلاف مولوی شفیع صاحب کہ جس کا اصل مقصد ہی بعض پیشہ والوں کی مذمت ثابت کرنا اور اہانت آمیز من گھڑت قصے بیان کرنا ہے۔"
(انساب و کفاءت کی شرعی حیثیت:مولانا حبیب الرحمان اعظمی ) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!!

جزاکم اللہ خیرا! والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...