بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: حدیث میں حنفی اضافہ
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
فرض نماز کے بعد سلام پھیرتے ہی نبی کریم ﷺ ایک بار بلند آواز سے تکبیر یعنی اللہ اکبر کہتے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں:
ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز ختم ہونے کا پتہ تکبیر سے چلتا تھا۔
(صحیح مسلم: 583)
اس کے بعد مندرجہ ذیل کلمات کہتے جیسا کہ ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ: اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: كَيْفَ الْاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ: تَقُولُ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ۔
ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور اس کے بعد کہتے: اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(اے اللہ ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے ، تو صاحب رفعت و برکت ہے ، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے!)
ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: استغفار کیسے کیا جائے؟ انھوں نے کہا: استغفر اللہ، استغفر اللہ کہے۔
(صحیح مسلم: 591)
بعض روایتوں میں تَبَارَكْتَ ذَاالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ کے بجائے تَبَارَكْتَ يا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (یا کے اضافے کے ساتھ) ہے۔ (صحیح مسلم: 592)
لیکن صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں، ضعیف اور موضوع روایتوں پر عمل کر نے والے دیوبندی اور رضاخانی عوام، علماء، اور تقلیدی مفتیوں تک کو یہ سنا جاتا ہے کہ وہ " اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ" کے بعد (وَإِلَیْكَ یَرْجِعُ السَّلاَمُ، حَیِّنَا رَبُّنَا بِالسَّلاَمِ وَأَدْخِلْنَا دَارَالسَّلاَمِ) کے الفاظ کا اضافہ کرتے ہیں۔
یہ سراسر تقلیدی دیوبندیوں اور رضاخانیوں کی ایجاد اور خانہ ساز اضافہ ہے۔ اس اضافے کے ساتھ یہ حدیث رسول ﷺ کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ صحیح تو کیا، کسی ضعیف موضوع اور من گھڑت سند میں بھی یہ اضافہ موجود نہیں ہے۔
دیوبندی اور رضاخانی اضافے کے بغیر یہ حدیث فقط اتنا ہے:
اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔
مشکوۃ کی شرح تصحیح المصابیح میں علامہ جزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اور ’’منك السلام ‘‘ کے بعد جو ’’الیك یرجع السلام فحينا ربنا بالسلام وادخلنا الجنة دارك دار السلام‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے ، اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ یہ کسی واعظ کی اختراع ہے، صحیح ثابت اس طرح ہے: اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام (مسلم)۔
بحوالہ (مرقات: 2/ 358)
دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے فتوے میں ان زائد کلمات کا انکار کیا ہے، چنانچہ دارالعلوم دیوبند نے اس بابت جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:
حدیث میں صرف اس قدر الفاظ آئے ہیں اللہم انت السلام ومنک السلام تبارک یا ذا الجلال والإکرام،
قال في شرح المشکاة عن الجزري وأما ما زاد بعد قولہ ومنک السلام من نحو إلیک یرجع السلام حینا ربنا بالسلام وأدخلنا دار السلام فلا أصل لہ بل مختلق بعض القصاص.
(مشکوۃ کی شرح میں علامہ جزری سے منقول ہے کہ "اور ’’منك السلام ‘‘ کے بعد جو کچھ ’’الیك یرجع السلام فحينا ربنا بالسلام وادخلنا الجنة دارك دار السلام‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے ، اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ یہ قصہ گو خطیب اور مفتیوں کی اختراع(ایجاد)ہے۔
حاشیة طحطاوي علی المراقي (ص:۳۱۲)
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 159436
اسی طرح کچھ لوگ "اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" میں (تَبَارَکْتَ) کے بعد (رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ) کے الفاظ بھی جوڑ دیتے ہیں جو کہ نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ اذکار میں کہیں موجود نہیں ہے۔بلکہ یہ بھی حدیث رسول ﷺ میں اپنی طرف سے اختراع ہے۔ حدیث رسول میں اپنی طرف سے اختراع اور اضافہ ہے۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ جب اپنے بستر پر جانے لگو تو وضو کر لیا کرو جیسے نماز کے لیے کرتے ہو ‘ پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ اور کہو : (اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، )
اے اللہ ! میں نے اپنا چہرہ تیرے تابع کر دیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا ‘ اپنی کمر تیری طرف لگا لی ( تجھے ہی اپنا سہارا بنا لیا ) مجھے تیرا ہی ڈر ہے اور شوق بھی تیری طرف ہے ۔ تجھ سے بھاگ کر کے میرے لیے تیرے سوا کہیں کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں ۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور اس نبی کو تسلیم کیا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تو ( اس رات میں ) مر گیا تو فطرت ( دین اسلام ) پر مرے گا ۔ اور چاہیے کہ یہ تیری آخری بات ہو ( اس کے بعد کوئی اور گفتگو نہ ہو ۔‘‘ ) حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس دعا کو یاد کرتے ہوئے دہرایا تو لفظ کہہ دیے ( وبرسولك الذي أرسلت ) ’’ میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے ۔‘‘ تو آپ نے فرمایا :’’ نہیں ( بلکہ جو الفاظ میں نے تمہیں پڑھائے ہیں وہی یاد کرو ‘ اور وہ الفاظ ہیں ) ( ونبيك الذي أرسلت ) ’’ میں تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے صحابی رسول براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو اپنی حدیث میں کسی بھی طرح کی تبدیلی سے منع فرمایا ہے، جبکہ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، اور وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ. میں کوئی قابل لحاظ فرق نہیں ہے، براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بنبيك کی جگہ برسولک پڑھ دیا تو آپ نے منع فرما دیا، اور بعینہ مسنون الفاظ دہرانے کی تاکید کردی جبکہ یہاں صرف الفاظ کی تبدیلی تھی، کوئی تقلیدی اضافہ نہیں تھا۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!
No comments:
Post a Comment