بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
موضوع: روزہ رکھنے کی من گھڑت نیت اور مدرسہ رشیدیہ کا قابل تعریف اقدام !
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
از : محمد اقبال قاسمی سلفی
ہمارے یہاں عام طور پر ہر سال کیلنڈروں میں حنفی اداروں کی جانب سے " بصوم غد نويت من شهر رمضان " ک الفاظ روزہ رکھنے کی نیت کے طور پر شائع کیے جاتے ہیں۔
جبکہ روزہ رکھنے کی ایسی کوئی نیت کتاب سنت میں موجود نہیں ہے۔
1) یہ نیت نہ قرآن مجید میں ہے۔
2) نہ کسی حدیث رسول ﷺ میں ہے۔
3) نہ خلفاء راشدین سے ثابت ہے۔
3) نہ عشرہ مبشرہ سے۔۔۔۔۔۔
3) نہ کسی صحابی رسول نے یہ نیت کی ہے۔
4) نہ کسی تابعی نے۔۔۔۔
5) نہ کسی تبع تابعین نے۔۔۔۔
6) نہ امام ابو حنیفہؒ، امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد بن حنبل نے۔۔۔۔
7) نہ امام محمد اور ابو یوسف نے۔۔۔۔۔
کسی صحیح سند میں تو کیا، کسی ضعیف اور من گھڑت سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں روزہ رکھنے کی نیت کے یہ الفاظ موجود ہوں ۔
دارالعلوم دیوبند سے جب اس نیت کے الفاظ کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا یہ نیت کسی حدیث میں موجود ہے، تو دارالعلوم دیوبند نے بھی یہ جواب دیا کہ روزہ کی نیت مذکورہ بالا الفاظ کے ساتھ کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
(دارالعلوم دیوبند، سوال نمبر :7352)
عنوان:
روزہ رکھنے کی نیت بصوم غد نویت من شہر رمضان کس حدیث سے ثابت ہے؟ کیا روزہ کی ان الفاظ سے نیت کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے، یہ نبی ﷺ کی سنت نہیں بلکہ مشائخ کی سنت یے۔ (لیکن یہ کن مشائخ کی سنت ہے، وہ مشائخ کون ہیں آج تک ان کا اتا پتہ نہیں ہے۔)
(سوال نمبر:7352)
یاد رکھیں تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔عمل کی درستگی کے لئے نیت کا درست ہونا ضروری ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا
"تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا"
(صحیح بخاری حدیث نمبر 1)
اور نماز روزے تو ہماری اہم ترین عبادتوں میں سے ہے اگر اس کی نیت ہی من گھڑت ہوگی تو ہماری عبادت کا کیا ہوگا کیونکہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے۔
من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد ( متفق علیہ)
ترجمہ: جس کسی نے بھی ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز گھڑی جو اس میں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر 2697)
اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں "جس کسی نے بھی کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر نہیں تو وہ مردود ہے۔
(صحیح مسلم حدیث نمبر 1718)
اور روزے رکھنے کی من گھڑت نیت پر نہ تو رسول اللہ کا امر ہے نہ خلفاء راشدین کا ۔۔۔
اور چونکہ یہ عبادات کے قبیل سے ہے بلکہ تمام عبادات کے مبنی علیہ کے قبیل سے ہے اس لئے جب تک اس نیت پر اللہ اور اس کے رسول کے امر کی مہر نہ لگ جاۓ، اپنی طرف سے کوئی قیاس آرائی نہیں کی جا سکتی۔
نیت صرف دل کے ارادے کا نام ہے۔ کسی بھی نماز ( فرض ، سنت، نفل، نماز تراویح، نماز جنازہ،عیدین ) یا روزے کی زبان سے نیت کرنا جہالت اور بدعت ہے۔ دین اسلام میں اس کے جواز کی کوئی گنجاش نہیں ہے۔ قرآن و حدیث، صحابہ کرام تابعین تبع تابعین سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
اکابر علمائے احناف نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے بدعت لکھا ہے۔
امام ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں:
بعض حفاظ نے کہا ہے کہ کسی صحیح یا ضعیف سند سے بھی ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ابتدا کرتے وقت یہ فرماتے کہ میں فلاں نماز ادا کر رہا ہوں اور نہ ہی صحابہ یا تابعین میں سے کسی سے یہ منقول ہے۔ بلکہ جو منقول ہے وہ یہ کہ آپ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ’اللہ اکبر‘ کہتے، اور یہ (زبان سے نیت کرنا) بدعت ہے۔ (فتح القدیر شرح الہدایہ‘‘ (۱/۲۶۶،۲۶۷)
علامہ حموی حنفی رقم طراز ہیں:
’ابن امیر حاج ’’حلیہ شرح منیہ‘‘ میں ’’فتح القدیر‘‘ کی عبارت پر اضافہ کرتے ہیں کہ یہ فعل ائمۂ اربعہ سے بھی مروی نہیں۔ ’’شرح الأشباہ والنظائر‘‘ (ص۴۵) میں (۵۔۶)
علامہ ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں:
ظاہر ہےفتح القدیر سے اس کا بدعت ہونا ہی ثابت ہوتا ہے۔‘‘’(بحر الرائق‘‘ (ص۲۱۰)
علامہ حسن شرنبلالی حنفی نے ’’مجمع الروایات‘‘ سے نقل کیا ہے :
کہ زبان سے نیت بولنے کو بعض علماء نے حرام کہا ہے، اس لیے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے کرنے والے کو سزا دی ہے۔‘‘ (شرح نور الایضاح:۵۶)
فتاویٰ غربیۃ، کتاب الصلوۃ کے دسویں باب میں ہے:
’’کہا گیا ہے کہ زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔‘‘(فتاوی غربیہ:ج۳،ص۲۳۴)
امام ابن عابدین حنفی اپنی کتاب ) میں فرماتے ہیں:
زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔(رد المحتار‘‘ ۱/۲۷۹
ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں:
’’الفاظ کے ساتھ نیت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بدعت ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع جس طرح آپ کے کاموں میں کرنا لازم ہے، اسی طرح اتباع کام کے نہ کرنے میں بھی لازم ہے، جو شخص آپ کے نہ کیے ہوئے پر اڑا رہےگا وہ بدعتی ہے... نیز فرماتے ہیں: تم جان چکے ہو کہ نہ بولنا ہی افضل ہے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘ (۱/۴۱)
مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نقشبندی حنفی لکھتے ہیں:
’’زبان سے نیت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سند صحیح بلکہ سند ضعیف سے بھی ثابت نہیں اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم زبان سے نیت نہیں کرتے تھے بلکہ جب اقامت کہتے تو صرف ’اللہ اکبر‘ کہتے تھے، زبان سے نیت بدعت ہے۔‘‘ (مکتوبات دفتر اول حصہ سوم، مکتوب نمبر ۱۸۶ ص۷۳)
طحطاوی حنفی ’’میں لکھتے ہیں:
’’صاحب در مختار‘‘ کے قول: ’’یعنی سلف نے اس کو پسند کیا ہے‘‘، اس میں اشارہ ہے اس امر کا کہ حقیقت میں نیت کے ثابت ہو نے کے بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے اس لیے کہ زبان سے بولنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور نہ صحابہ وائمہ اربعہ سے، یہ تو محض بدعت ہے۔‘(‘شرح در مختار‘‘ (۱/۱۹۴)
علامہ انور شاہ کاشمیری دیوبندی حنفی فرماتے ہیں:
’’نیت صرف دل کا معاملہ ہے۔‘‘
(فیض الباری شرح صحیح البخاری :۱/۸)
علامہ عبد الحی لکھنوی حنفی فرماتے ہیں:
نماز کی ابتداء میں زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔(عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح الوقایہ‘‘(۱/۱۵۹)
مولانا اشرف علی تھانوی اپنی لکھتے ہیں:
زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ دل میں جب اتنا سوچ لیوے کہ آج کی ظہر کے فرض پڑھتی ہوں اور اگر سنت نماز پڑھتی ہو تو یہ سوچ لے کہ ظہر کی سنت پڑھتی ہوں، بس اتنا خیال کر کے ’اللہ اکبر‘ کہہ کے ہاتھ باندھ لیوے تو نماز ہو جاوےگی اور جو لمبی چوڑی نیت لوگوں میں مشہور ہے اس کا کہنا کچھ ضروری نہیں( ’’بہشتی زیور‘‘ (۲/۲۸)
جب اس بابت آج کے حنفی علماؤں سے مسئلہ دریافت کیا جاتا ہے اور جب ان سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ نیت کے یہ الفاظ کس حدیث میں ہے۔ تو وہ بھی یہی جواب دیتے ہیں کہ یہ کسی حدیث میں نہیں ہے لیکن ساتھ میں یہ شوشہ اکثر چھوڑ دیا کرتے ہیں کہ زبان سے نیت کرنا بہتر ہے۔
معلوم ہونا چاہیئے کہ کسی شرعی مسئلے کے بارے میں یہ حکم لگانا کہ "یہ بہتر ہے" یہ بھی تو ایک شرعی حکم ہے۔ اور کوئی بھی شرعی حکم بغیر دلیل کے ثابت نہیں ہوتا۔
ہمیں آج یہ لکھتے ہوے خوشی ہو رہی ہے کہ مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا ، ضلع گیا جو سالوں سے روزہ رکھنے کی اس خود ساختہ نیت کو شائع کرتا چلا آرہا تھا ، اس نے اس سال اپنے رمضان اشتہار ھیں اسے شائع نہ کر کے ایک قابل تعریف اقدام کیا ہے ۔
جزاکم اللہ احسن الجزاء
اللهم اني اسئلك علما نافعا و رزقا طبيبا و عملا متقبلا!!
No comments:
Post a Comment