بسم الله الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا اقبال قاسمی سلفی
کیا قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے "منها خلقنا كم و فيها نعيد كم و منها نخرجكم تارة أخرى " پڑھنا صحیح ہے؟؟؟
جیسا کہ احناف قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے سورہ طہ کی مذکورہ بالا آیت:55 پڑھا کرتے ہیں۔
جواب: میت کو مٹی دیتے وقت پہلی لپ پر (مِنْھَا خَلَقْنَکُمْ) اور دوسری لپ پر (وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ) اور تیسری لپ پر (وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ) پڑھا جاتا ہے۔ یہ رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے بالکل ثابت نہیں ہے۔
آئیے سب سے پہلے اس آیت کی مختصر تفسیر ملاحظہ کرتے ہیں۔
ترجمہ:اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گےاور اسی سے پھر دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے۔
یہ سورہ طہ کی آیت نمبر 55 ہے۔ یہ آیت کریمہ موسی علیہ السلام اور فرعون کے درمیان گفتگو کے سیاق وسباق میں آئی ہے۔ موسى علیہ السلام فرعون کے دربار میں جا کر جب اپنی رسالت کا اعلان کرتے ہیں تو فرعون پوچھتا ہے "فمن ربكما يموسى":(49) اے موسی تم دونوں کا رب کون ہے؟؟؟
اب موسی علیہ السلام رب کائنات کا ایک زبردست اور تفصیلی تعارف فرعون کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ : ہمارا رب تو وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت عطا کی پھر اسے رستہ دکھایا، وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا، اور اس میں تمہارے لئے راستے بنا دیئے، اور آسمان سے بارش برسایااور پھر اس کے ذریعے سے مختلف نباتات کی کئی قسمیں نکالیں۔ تو خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو بھی کھلاؤ۔ یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے بہت ساری نشانیاں ہیں۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے، اس طرح ہم نے فرعون کے سامنے اپنی قدرت و حکمت کی ساری نشانیاں پیش کر دیں مگر وہ جھٹلاۓ چلا گیا اور نہ مانا۔ (سورہ طہ :51، 53، 54، 55،56)
اس طرح موسی علیہ السلام نے فرعون کے سامنے الله وحده لاشريك کی وحدانیت اور اس کی ربوبیت کو دوٹوک انداز میں بیان کر دیا کہ میں کسے اپنا رب مانتا ہوں اور کیوں مانتا ہوں۔ جس وجہ سے میں اسے رب مانتا ہوں، کسی اور کو رب ماننے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ کیونکہ جس نے مجھے پیدا کیا، جسکا دیا ہوا رزق کھا رہا ہوں، جس کی بنائی ہوئی زمین پر رہ رہا ہوں، میری موت اور زندگی جس کے قبضہ قدرت میں ہے۔جس نے اسی مٹی سے وجود بخشا، اور اسی مٹی سے دوبارہ پھر اٹھا کھڑا کرےگا۔۔ اسے اپنا رب نہ مانوں تو اور کسے مانوں؟؟ اسے اپنا رب، حاجت روا، مشکل کشا ، فریاد رس، غریب نواز، غوث اعظم اور مختار کل نہ تسلیم کروں تو کسے کروں؟؟؟ وہی تو ہے جس نے مجھے اس مٹی سے وجود بخشا پھر اسی میں لوٹاۓ گا اور اسی مٹی سے دوبارہ زندہ کرے گا۔
اب اسی آیت کو کچھ لوگ قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے پڑھتے ہیں۔
اور اس سلسلے میں جو روایات پیش کی جاتی ہیں وہ پیش خدمت ہے۔
حدیث:1: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِى ابْنَ الْمُبَارَكِ - أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِىِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِى أُمَامَةَ قَالَ لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ( مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى) ». قَالَ ثُمَّ لاَ أَدْرِى أَقَالَ « بِسْمِ اللَّهِ وَفِى سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ». أَمْ لاَ فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحَدَهَا طَفِقَ يَطْرَحُ لَهُمُ الْجَبُوبَ وَيَقُولُ « سُدُّوا خِلاَلَ اللَّبِنِ ». ثُمَّ قَالَ « أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَىْءٍ وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَىِّ »
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کوقبر میں اتاراجانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ہم نے تمہیں اس مٹی سے پیدا کیا ، اسی میں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے " اب یہ مجھے یاد نہیں رہاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " کہایا نہیں پھر جب لحد بن گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف ٹہنیاں پھینکیں اور فرمایا کہ اینٹوں کے درمیان کی خالی جگہیں اس سے پر کردو پھر فرمایا اس سے ہوتاکچھ نہیں ہے لیکن زندے خوش ہوجاتے ہیں ۔
(مسند احمد:22540)
یہ روایت السنن الکبری للبیہقی:6973، مستدرک حاکم:3390، معرفۃ الصحابة لابی نعیم اصبھانی:6729 میں بھی انہی الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔
لیکن یہ تمام روایتیں سخت ضعیف اور ناقابل عمل ہیں۔بلکہ موضوع درجے کی روایتیں ہیں۔ کیونکہ ان تمام روایات کے سلسلہ سند میں "عبيد الله بن زحر الافريقي عن على بن يزيد عن القاسم" واقع ہے۔ جس کے متعلق ابن حبان رح نے فرمایا ہے کہ جس سند میں یہ تینوں حضرات اکٹھے ہو جائیں تو غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ وہ روایت موضوع (من گھڑت)ہوتی ہے۔
وہ فرماتے ہیں:
"عبيد الله بن زحر الضمرِي الإفْرِيقِي الْكِنَانِي يروي عَن عَليّ بن بذيمة وَلَيْث بن أبي سليم وَعلي بن يزِيد روى عَنهُ يحيى بن سعيد الْأنْصَارِيّ وَأهل الشَّام مُنكر الحَدِيث جدا يروي الموضوعات عَن الْأَثْبَات وَإِذا روى
عَن عَليّ بن يزِيد أَتَى بالطامات وَإِذا اجْتمع فِي إِسْنَاد خبر عبيد الله بن زحر وَعلي بن يزِيد وَالقَاسِم أَبُو عبد الرَّحْمَن لَا يكون متن ذَلِك الْخَبَر إِلَّا مِمَّا عملت أَيْديهم فَلَا يحل الِاحْتِجَاج بِهَذِهِ الصَّحِيفَة بل التنكب عَن رِوَايَة عبيد الله بن زحر على الْأَحْوَال أولى سَمِعت الْحَنْبَلِيّ يَقُول سَمِعت أَحْمَد بْن زُهَيْر يَقُول سُئِلَ يَحْيَى بْن معِين عَن عبيد الله بن زحر فَقَالَ لَيْسَ بِشَيْء وَسمعت مُحَمَّد بن مَحْمُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ قلت ليحيى بن معِين عبيد الله بن زحر كَيفَ حَدِيثه فَقَالَ كل حَدِيثه عِنْدِي ضَعِيف"
( ابن حبان :المجروحين)
ترجمہ:عبیداللہ بن زحرضمری افریقی کتانی یہ علی بن بذیمہ، لیث بن ابی سلیم اور علی بن یزید سے روایت کرتے ہیں۔ اور اس سے یحییٰ بن سعید اور اہل شام روایت کرتے ہیں۔ یہ (عبیداللہ بن زحرضمری افریقی کتانی)انتہائی منکر الحدیث ہے۔ ثقہ راویوں سے موضوع روایتیں بیان کرتاہے، علی بن یزید سے روایت کرتے ہوئے کوڑا کرکٹ ہی لاتا ہے۔ اور جب کسی خبر کی سند میں عبداللہ بن زحرضمری افریقی، علی بن یزید اور قاسم ابو عبدالرحمن، یہ تینوں ہی جمع ہو جائیں تو اس روایت کا متن ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا ہی نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ پس اس کی پوتھی سے دلیل پکڑنا جائز نہیں ہے۔ بلکہ ہر حال میں عبیداللہ بن زحرضمری افریقی کی روایت سے بچنا ضروری ہے۔ امام دارمی کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا کہ عبیداللہ بن زحرضمری کی حدیث کیسی ہوا کرتی ہے؟ توانہوں نے کہا:میرے نزدیک اس کی تمام حدیثیں ضعیف ہوتی ہیں۔
(ابن حبان:المجروحین)
عبیداللہ بن زحر اور علی بن یزید کو جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
امام بیہقی نے اس روایت کے بعد اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔(:سنن بیہقی:ح.6973)
علامہ ہیثمی مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کر نے کے بعد کہتےہیں: رواه أحمد وإسناده ضعيف(اسے ا حمد نے روایت کیا ہے اور یہ سند اً ضعیف ہے۔) ( مجمع الزوائد:ح.4239)
حافظ الذهبي نے مستدرک کی تلخیص پر اس حدیث کی سند پر جرح کیا ہے۔(تلخيص:ح.335)
دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے ایک فتوے میں اسے ضعیف قرار دیا ہے والحمد لله۔
فرماتے ہیں:
"مذکورہ دعا ایک ضعیف حدیث سے ثابت ہے۔
قال العثمانی التھانوی: فی التلخیص الحبیر(۱۶۴/۱) وعن أبی أمامة رضی اللہ عنہ رواہ الحاکم أیضا، والبیھقی، و سندہ ضعیف، ولفظہ: لما وضعت أم کلثوم بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی القبر قال رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم منہا خلقناکم وفیہا نعیدکم ومنہا نخرجکم تارة أخری بسم اللہ وفی سبیل اللہ، وعلی ملة رسول اللہ۔( اعلاء السنن: ۳۰۷/۸) ۔"
(فتوے نمبر :170858)
عثمانی تھانوی تلخیص الحبیر میں لکھتے ہیں: ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت جسے امام حاکم اور امام بیہقی رحمہمااللہ نے روایت کیا ہے اس کی سند بھی ضعیف ہے۔۔۔۔۔۔۔
اور عوام میں مروجہ طریقہ کہ تین لپ مٹی ڈالتے ہوئے اس آیت کو بھی تین حصوں میں تقسیم کر کے پڑھتے ہیں۔ پہلی لپ پر "منھا خلقناکم" دوسری لپ پر "وفیھا نعیدکم" اور تیسری لپ پر "ومنھا نخرجکم تارة اخریٰ۔" مٹی ڈالتے ہوئے مذکورہ آیت کو تین حصوں میں تقسیم کر کے پڑھنے کی یہ کیفیت صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع روایت میں بھی موجود نہیں ہے۔
واضح رہے کہ میت کے سر کی طرف سے تین لپ مٹی ڈالنا مسنون ہے۔
حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھی، پھر میت کی قبر کے پاس تشریف لا کر اس پر سرہانے سے تین مٹھی مٹی ڈالی۔
(سنن ابن ماجہ:1565،صحیح)
لیکن مٹی ڈالتے ہوئے کوئی دعا یا آیت پڑھنا کسی صحیح مرفوع حدیث میں مذکور نہیں ہے۔
کتب تفاسیر کی طرف منسوب مندرجہ ذیل جو روایت پیش کی جاتی ہے:
وَفِي الْحَدِيثِ الَّذِي فِي السُّنَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَضَرَ جِنَازَةً، فَلَمَّا دُفِنَ الْمَيِّتُ أَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ فَأَلْقَاهَا فِي الْقَبْرِ ثُمَّ قَالَ(٦) ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ﴾ ثُمَّ [أَخَذَ](٧) أُخْرَى وَقَالَ: ﴿وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ﴾ . ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى وَقَالَ: ﴿وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾
ترجمہ:اور سنن کی حدیث میں وارد ہے کہ رسول ﷺ ایک جنازے میں تشریف لائے۔ جب میت کو دفن کردیا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لپ مٹی لیا اور قبر پر ڈالتے ہوئے یہ آیت پڑھی منها خلقناكم پھر دوسری بار آپ نے مٹی ڈالی اور "وفيهانعيدكم" پڑھا اور تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "ومنها نخرجكم تارة أخرى پڑھی۔"
یہ روایت بلکل بے سند ہے۔ مفسرین نے بس "سنن کی حدیث میں ہے" کہ دیا، لیکن یہ روایت کسی سنن کی حدیث کی کتاب میں موجود نہیں ہے۔
نہ سنن ترمذی میں ہے۔
نہ سنن ابوداؤد میں یے۔
نہ سن نسائی میں ہے۔
نہ سنن ابن ماجہ میں ہے۔
نہ سن دارمی میں ہے۔
نہ سنن بیہقی میں ہے۔
نہ سنن دار قطنی میں ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل کے ساتھ، صحیح تو کیا،کسی ضعیف اور موضوع سند کا بھی کہیں کوئی پتہ نہیں ہے۔کسی محدث نے اس روایت کو بالسند ذکر نہیں کیا ہے۔ اسے سب سے پہلے امام نووی نے اپنی کتاب "اذکار" میں ذکر کیا۔ لکھتے ہیں:
"قال جماعۃ من اصحابنا یستحب ان یقول فی الحثیثۃ الاولیٰ مِنْھَا خَلَقْنَکُمْ وفی الثانیۃ فِیْھَا نُعِیْدُکُم وِفی الثالثۃ وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی))(باب ما یقولہ عند الدفن)
یعنی ایک جماعت نے تینوں لپوں پر مذکورہ آیت کے تینوں ٹکڑوں کو علی الترتیب پڑھنا مستحب بتایا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کے بعد جو بھی تشریف لائے بس تقلید در تقلید کرتے چلے گئے، کسی نے اس سلسلہ حدیث کا حوالہ نہ دیا۔ ہمارے مفسر و محقق حافظ ابن کثیر تشریف لائے اور آپ نے اپنی تفسیر میں لکھ دیا کہ:
وَفِي الْحَدِيثِ الَّذِي فِي السُّنَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَضَرَ جِنَازَةً، فَلَمَّا دُفِنَ الْمَيِّتُ أَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ فَأَلْقَاهَا فِي الْقَبْرِ ثُمَّ قَالَ(٦) ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ﴾ ثُمَّ [أَخَذَ](٧) أُخْرَى وَقَالَ: ﴿وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ﴾ . ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى وَقَالَ: ﴿وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾
ترجمہ:اور سنن کی حدیث میں وارد ہے کہ رسول ﷺ ایک جنازے میں تشریف لائے۔ جب میت کو دفن کردیا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لپ مٹی لیا اور قبر پر ڈالتے ہوئے یہ آیت پڑھی منها خلقناكم پھر دوسری بار آپ نے مٹی ڈالی اور "وفيهانعيدكم" پڑھا اور تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "ومنها نخرجكم تارة أخرى پڑھی۔"
ابن کثیر کے بعد علامہ شوکانی آۓ انہوں نے اسے ابن کثیر کی طرف منسوب کردیا۔اور اس کے بعد تقریباً سارے لوگ ابن کثیر کی اس عبارت کو دہراتے چلے گئے۔
ستم بالاۓ ستم یہ کہ ام کلثوم بنت رسول ﷺ کے حوالے سے جو ضعیف روایت ہے، اس میں بھی اس آیت کو مٹی دیتے وقت پڑھنا کہیں نہیں ہے بلکہ میت کو قبر میں اتارتے اسے وقت پڑھنے کا ذکر ہے۔ جیسا کہ اس روایت کے الفاظ ہیں:لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ( مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى) » نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کوجب قبر میں اتاراجانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ہم نے تمہیں اس مٹی سے پیدا کیا ، اسی میں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے "
اس سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ مٹی دیتے وقت منھا خلقناکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری پڑھنا کسی ضعیف روایت سے بھی ثابت نہیں ہے۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اس آیت میں "اللہ رب العزت نے انسان کو مئی سے پیدا کرنے اور مرنے کے بعد پھر اسی میں لوٹانے" کا تذکرہ کیا ہے، یہ زمانی اور وقتی مناسبت اس آیت کو مٹی دیتےوقت پڑھنے کا مقتضی ہے۔ لیکن اس طرح قرآن کی کسی آیت کو ایک متعین موقع سے پڑھنے کا زمانی اور وقتی اقتضاء نکال لینا درست نہیں ہے۔جب تک اس آیت کو اس موقع سے پڑھنے کا حکم اللہ رب العزت یا رسول ﷺ نے نہ دیا ہو۔
مثلاً اللہ رب العزت قرآن میں فرماتا ہے۔ كل نفس ذائقة الموت. کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ تو کیا اس آیت کو ہر انسان کی موت کی خبر سن کر پڑھنا درست ہو گا۔؟ نہیں! کیونکہ گرچہ اس آیت میں اس واقعہ موت کی حقیقت کا تذکرہ ہے اور انسان کی موت اور اس آیت کے درمیان ہر طرح کی مناسبت ہے، لیکن چونکہ اس آیت کو اس موقع سے پڑھنا کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں ہے، اس لئے نہیں پڑھ سکتے۔ بلکہ کسی کی موت کی خبر سن کر مندرجہ ذیل دعا پڑھنی چاہئیے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا.بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ اے اللہ!مجھے میری مصیبت کا اجردے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ۔ جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ان سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی تھی۔
صحیح مسلم میں ہے:
أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ام سلمہ، نبیﷺ کی بیوی، سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے : بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ اے اللہ!مجھے میری مصیبت کا اجردے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ، مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتاہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتاہے ۔
( حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) : تو جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے ، میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرمادیا ۔
(صحیح مسلم:2127) اسی طرح قرآن کی کسی آیت میں وضو، غسل،اذان، نماز ، روزہ، حج، زکوۃ، وغیرہ کا اگر تذکرہ ہے تو اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ان اعمال کی ادائیگی کے وقت ان آیات کو پڑھا جائے گا۔ جب تک اس آیت کو اس موقع سے پڑھنے کی تعلیم اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے نہ دیا ہو۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment