Tuesday, August 6, 2024

مشہور درسی کتاب تفسیر جلالین کی خود ساختہ اور گستاخانہ تفسیر۔

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

محمد اقباال قاسمي سلفي
 
موضوع : مشہور درسی کتاب تفسیر جلالین کی خود ساختہ اور گستاخانہ تفسیر۔

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

اللہ رب العزت سورۃ احزاب میں فرماتا ہے: 

وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّـذِىٓ اَنْعَمَ اللّـٰهُ عَلَيْهِ وَاَنْعَمْتَ عَلَيْهِ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللّـٰهَ وَتُخْفِىْ فِىْ نَفْسِكَ مَا اللّـٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَۚ وَاللّـٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَاهُ ۖ فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْـهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَىْ لَا يَكُـوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ فِىٓ اَزْوَاجِ اَدْعِيَآئِهِـمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ اَمْرُ اللّـٰهِ مَفْعُوْلًا (37)
اور جب تو نے اس شخص سے کہا جس پر اللہ نے احسان کیا اور تو نے احسان کیا کہ اپنی بیوی (زینب) کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں ایک چیز چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا، حالانکہ اللہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ تو اس سے ڈرے، پھر جب زید اس سے حاجت پوری کر چکا تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی گناہ نہ ہو جب کہ وہ ان سے حاجت پوری کرلیں، اور اللہ کا حکم ہوکر رہنے والا ہے۔

(سورہ احزاب:37)
صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت زینب بنت جحش اور حضرت زید بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔

(صحیح بخاری: 4787)

اس آیت کے شان نزول میں یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زید رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھر اس وقت گئیں جب زید اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔ حضرت زینب کو بنی سن ری دیکھا، ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہوا نے زید ک درواز کے پردے کھول دیے ، آپ نے زینب ک حسن وجمال کو دیکھا ،اور بن کی محبت آپ کےدل میں گھر کر گئی ۔آپ "سبحان اللہ العظیم" اور " سبحان مقلب القلوب " کہتے ہوے واپس آ گۓ ۔جب زید اپنے گھر پر واپس آۓ تو زینب نے واقعہ بیان کیا اور یوں کہتے ہوے واپس ہو گیۓ ۔ بیوی سے یہ سن کر زید اللہ ک رسول صلی اللہ علیہ وسلم ک پاس گیۓ اور کہا کہ مجھے معلوم ہوا کہ حضور میرے گھر تشریف لے گئے تھے لیکن گھر میں داخل نہیں ہوے ،اگر زینب آپ کو پسند آگئی ہو تو میں طلاق دے دوں ۔تب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ ۔اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دو وَاتَّقِ اللَّهَ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔
 
یہی شان نزول تفسیر جلالین اور دیگر تفسیر کی کتابوں میں بیان گیا ہے جو کہ سراسر خلاف عقل ونقل ہے ۔کسی بھی صحیح حدیث میں آیت مذکورہ بالا کا یہ شان نزول موجود نہیں ہے ۔

اس روایت میں عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم را ی ہے جو جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف اور ناقابل احتجاج ہے۔

مشہور عالم دین اسیر ادروی لکھتے ہیں: 
" اس روایت کو اخباریوں ،تاررخ نویسوں ا ر ان تفسیر کرنے والوں نے لکھا ہے جو ہر رطب و یابس روایت کو بلا جھجھک نقل کر دیتے ہیں اور کثرت روایت کا شوق رکھتے ہیں ، یہ روایت یا اس طرح کی کوئی اور روایت احادیث صحیحہ کے کسی ایسے مجموعے میں نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جائے ، اور جو کچھ صحیح حدیثوں میں آیا ہے، وہ اس کے مخالف ہے اور اس واقعے کی تردید ہوتی ہے ۔ "

(تفسیروں میں اسرائیلی روایات: اسیر ادروی)

آگے مزید لکھتے ہیں: 

" جس روایت کی بنیاد پر عشق و محبّت کی لا یعنی داستان کھڑی ہوئی ہے ، اگر حالات کو ماحول اور واقعاتی زندگی کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھا چاۓ تو اس کا بے اصل ہونا از خود ظاہر ہو جاتاہے ۔ روایت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور ‌صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی حضرت زینب کو نہیں دیکھا، اتفاقی طور پر آپ کی نگاہ حضرت زینب پر پڑ گئی اور نعوذ باللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حسن سے متاثر ہو گئے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔
حضرت زینب حضور ‌صلی اللہ علیہ وسلم ک خاندان ہی کی نہیں بلکہ آپ کی پھوپھی کی صاحبزادی ہیں ،خاندان اور گھرانہ ایک ہے، جس گھرانہ میں ایک دوسرے سے پردہ نہیں ہے ،پھر پھوپھی کا گھر بھتیجے کے لیے ہمیشہ ایک محبت دینے والا گھر رہا ہے ، حضور کی آمدورفت ان کے تھی، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت زینب پلیں بڑھیں، حضور نے ان کا بچپن دیکھا، اس ک بعد کا زمانہ بھی آب کی نگاہوں کے سامنے گزرا، پھر اس وقت تک برد ےکا حکم موجود نہیں تھا، اس لیے زینب حضور کے سامنے ہوتی تھیں.
اس کے باوجود آپ نے اپنے غلام حضرت زید سے ان کی شادی کی بات کی اور بحث و تکرار کے بعد اسے حضرت زینب نے منظور کر لیا۔
اب ان حالات میں معمولی سمجھ بوجھ کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب زینب کی شادی زید سے جلا رہ ہیں ، اس وقت آپ ک دل میں شادی کا تصور نہیں ہوتا اور نہ وہ جذبات محبت بھڑکتے ہیں جس کا روایت میں ذکر ہے اور جب زینب کی شادی آپ ہی کی مرضی اور اصرار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سے ہو جاتی ہے تو اور ان ک ساتھ کچھ زمانہ گزار لیتی ہے ۔اس کے بعد اتفاقی طور پر آپ کی نظر وہ بھی اچٹتی ہوئی زینب پر پڑتی ہے ت۔ اب ان کی محبت دل میں گھر کر جاتی ہے، یہ نگاہ بھی صرف ایک ثانیہ (سیکنڈ )کے لی ہے۔ یہ کتنی غیر فطری ناقابل قبول بات ہے۔"

(تفسیروں میں اسرائیلی روایات : از اسیر ادروی)

در اصل یہ یہودیانہ ذہنیت کی تفسیر ہے جس کے ذریعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کو داغدار بنایاجا رہا ہے، جیسا کہ سابقہ تمام انبیاء کرام علیھم السلام کے ساتھ ان کا شیوہ رہا ہے۔
علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض نے اپنی کتاب شفاء میں اس کا رد کیا ہے کہ اس طرح کا مفہوم پیدا کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نہیں کرنی چاہیے ،حضور کی تنزیہ ضروری ہے ،اس لیے یہ تفسیر قابل قبول نہیں ۔
(تفسیر روح المعانی: 22/278)

صحيح بخاری میں ہے : 

 زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ( اپنی بیوی کی ) شکایت کرنے لگے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر آنحضرت ﷺ کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے ۔ بیان کیا کہ چنانچہ زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواج مطہرات پر فخر سے کہتی تھی کہ تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کی ۔ اور میری اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے شادی کی اور ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت ” اور آپ اس چیز کو اپنے دل میں چھپاتے ہیں جسے اللہ ظاہر کرنے والا ہے ۔“ زینب اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔

(صحیح بخاری:7420)

 صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی عدت گزری تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ اِن ( زینب رضی اللہ عنہا ) کے سامنے ان کی میرے ساتھ شادی کا ذکر کرو ۔‘‘ کہا : تو حضرت زید رضی اللہ عنہ چلے حتیٰ کہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اپنے آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں ، کہا : جب میں نے ان کو دیکھا تو میرے دل میں ان کی عظمت بیٹھ گئی حتیٰ کہ میں ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھا سکتا تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان ( کے ساتھ شادی ) کا ذکر کیا تھا ، میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ کی اور ایڑیوں کے بل مڑا اور کہا : زینب ! رسول اللہ ﷺ نے تمہارا ذکر کرتے ہوئے پیغام بھیجا ہے ۔ انہوں نے کہا : میں کچھ کرنے والی نہیں یہاں تک کہ اپنے رب سے مشورہ ( استخارہ ) کر لوں ، اور وہ اٹھ کر اپنی نماز کی جگہ کی طرف چلی گئیں اور ( ادھر ) قرآن نازل ہو گیا ، رسول اللہ ﷺ بغیر اجازت لیے ان کے پاس تشریف لے آئے ۔ ( سلیمان بن مغیرہ نے ) کہا : ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے اپنے آپ سمیت سب لوگوں کو دیکھا کہ جب دن کا اجالا پھیل گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا ۔ اس کے بعد ( اکثر ) لوگ نکل گئے ، چند باقی رہ گئے وہ کھانے کے بعد ( آپ کے ) گھر میں ہی باتیں کرنے لگے ۔ رسول اللہ ﷺ ( وہاں سے ) نکلے ، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا ، آپ یکے بعد دیگرے اپنی ازواج کے حجروں کی طرف جا کر انہیں سلام کہنے لگے ۔ وہ ( جواب دے کر ) کہتیں : اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے اپنی ( نئی ) اہلیہ کو کیسا پایا ؟ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نہیں جانتا میں نے آپ کو بتایا کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ نے مجھے بتایا ۔ پھر آپ چل پڑے حتیٰ کہ گھر میں داخل ہو گئے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور ( اس وقت ) حجاب ( کا حکم ) نازل ہوا ، کہا : اور لوگوں کو ( اس مناسبت سے ) جو نصیحت کی جانی تھی کر دی گئی ۔
ابن رافع نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا :’’ اے ایمان والو ! تم نبی ﷺ کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے ( آنے کی ) اجازت دی جائے ، اس حال میں ( آؤ ) کہ اس کے پکنے کا انتظار نہ کر رہے ہو ( کھانے کے وقت آؤ پہلے نہ آؤ ) سے لے کر اس فرمان تک :’’ اور اللہ حق سے شرم نہیں کرتا ۔‘‘ 
صحیح مسلم:1428
وَعَنْ ثَابِتٍ ، وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ سورة الأحزاب آية 37 نَزَلَتْ فِي شَأْنِ زَيْنَبَ ، وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ .
اور ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت ” اور آپ اس چیز کو اپنے دل میں چھپاتے ہیں جسے اللہ ظاہر کرنے والا ہے ۔“ زینب اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔
صحیح بخاری:7420

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورہ احزاب کی آیت کریمہ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازل ہی نہیں ہوئی ہے ,اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازل ہی نہیں ہے تو ایسی داستان محبت کھڑی کرکے کیا فائدہ ؟ جس سے عصمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حرف آتا ہو۔

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...