السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
محمد اقباال قاسمي سلفي
موضوع : مسجد میں کوئی نماز پڑھنے سے پہلے ٹھوڑی دیر بیٹھ لینا۔
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
کتاب و سنت کو چھوڑ کر صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی مساجد میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے، بالخصوص جمعہ کے دن ، کہ لوگ مسجدوں میں آنے کے بعد اول وہلہ میں تھوڑی دیر بیٹھنے کو مشروع سمجھتے ہیں ، بعد ازاں تحیۃ المسجد اور سنن و نوافل کی ادائیگی کرتے ہیں ۔
جبکہ یہ طریقہ سراسر جہالت اور سنت کے خلاف ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث صحیحہ میں بغیر دو رکعت پڑھے بیٹھنے سے ممانعت فرمایا ہے۔
صحیح مسلم میں ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے:
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ النَّاسِ قَالَ فَجَلَسْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ جَالِسًا وَالنَّاسُ جُلُوسٌ قَالَ فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ
صحیح مسلم:1655
رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے کہا : تو میں بھی بیٹھ گیا ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمھیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں نے آپ کو بیٹھے دیکھا اور لوگ بھی بیٹھے تھے ( اس لئے میں بھی بیٹھ گیا ) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو دو رکعت نماز پڑھے بغير نہ بیٹھے ۔‘‘
اسی طرح صحابی رسول جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما حضرت سلیک غطفانی رضی اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں :
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ فَقَالَ لَهُ يَا سُلَيْكُ قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا ثُمَّ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا.
صحیح مسلم: 2024
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے،۔
انھوں نے کہا : سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعے کے دن ( اس وقت ) آئے جب رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے تو وہ بیٹھ گئے ۔ آپ نے ان سے کہا :’’ اے سلیک ! اٹھ کر دو رکعتیں پڑھو اور ان میں اختصار برتو ۔‘‘ اس کے بعد آپ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی جمعے کے دن آئے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے اور ان میں اختصار کرے ۔‘‘
صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2024
اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن جب خطیب خطبہ جمعہ شروع کر چکا ہو ،اس کے بعد کوئی شخص مسجد پہنچتے تب بھی اسے دو رکعت پڑھے بغیر نہیں بیٹھنا چاہیے۔
ہاں بھول کر اگر کوئ شخص پہلے بیٹھ جاۓ تو یہ قابل مواخذہ نہیں ،بلکہ جب اسے یاد آۓ پڑھ لے جیسا کہ سلیک غطفانی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعت ادا کرنے کو کہا جبکہ وہ بیٹھ چکے تھے۔
البتہ جان بوجھ کر پہلے ٹھوڑی دیر بیٹھ لینا اس کےبعد نماز ادا کرنا سراسر جہالت ہے۔حد تو یہ ہے لوگ اسے ہی دین و شریعت سمجھ بیٹھ ہیں اور جو عین شریعت و سنت ہے اسے بدعت و گمراہی سمجھے بیٹھے ہیں ۔
حنفی رضاخانی امجد علی ایک دریافت طلب فتوے میں رقمطراز ہیں:
سوال: یہاں علی العموم لوگوں کا اعتقاد ہے کہ جب نماز کے لیے مسجد میں جائے تو وضو کر کے بیٹھ جائے، اس کے بعد کھڑے ہو کر نماز کی نیت کرے، اور اس اعتقاد میں لوگ ایسے پختہ ہیں کہ واجب اور فرض کی طرح اس کے ترک کو گناہ سمجھتے ہیں، بلکہ منع کرنے والوں کو برا کہتے ہیں تو کیا کہیں اس کا ثبوت ہے۔
جواب:
بیٹھنے کی کچھ ضرورت نہیں۔ مسجد میں پہنچ کر اگر فوراً نماز پڑھنا چاہیں پڑھیں اور وقت مکروہ نہ ہو تو تحیۃ الوضو یا تحیۃ المسجد پڑھیں، بلکہ تحیۃ المسجد میں بہتر یہ ہے کہ قبل جلوس (بیٹھنے سے پہلے) ہو، اگرچہ جلوس (بیٹھنے) سے ساقط نہ ہوگی۔
حدیث میں ہے:
إذا دَخَلَ أحَدُكُمُ المَسْجِدَ، فَلا يَجْلِسْ حتّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ. [البخاري، صحيح البخاري، رقم الحديث: ١١٦٣]
رد المحتار میں ہے:
والظاهر أن دخوله بنية صلاة الفرض لإمام أو منفرد أو بنية الاقتداء ينوب عنها إذا صلى عقب دخوله، وإلا لزم فعلها بعد الجلوس، وهو خلاف الأولى كما يأتي، فلو كان دخوله بنية الفرض مثلا لكن بعد زمان يؤمر بها قبل جلوسه
[ابن عابدين ,الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ,2/18]
مراقی الفلاح میں ہے:
سن تحية المسجد بركعتين قبل الجلوس
(الشرنبلالي، مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، صفحة ١٤٨)
نیز تحیت کی شان ہی یہ ہے کہ ابتداءً ہو نہ یہ کہ بیٹھنے کے بعد ادا کی جائے۔
(فتاویٰ امجدیہ، ج: 1، ص: 233، 234)
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه
No comments:
Post a Comment