Friday, August 30, 2024

خواتین کے سجدہ کرنے کا صحیح طریقہ نبوی

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع : خواتین کے سجدہ کرنے کا صحیح طریقہ نبوی 
از:  محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

ہند و پاک میں عموماً احناف کی عورتوں کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ سجدہ کرتے ہوئے پیٹ کو رانوں سے اور بازووٴں کو بغل سے ملاکر رکھیں، کہنیوں اور کلائیوں کو زمین پر بچھادیں نیز پاوٴں کو کھڑا نہ کریں بلکہ دونوں پاوٴں داہنی طرف نکال دیں اور خوب سمٹ کر سجدہ کریں۔
جیسا کہ دارالعلوم دیوبند ک فتوے میں بھی اسی طریقہ سجدہ کی تعلیم دی گئی ہے ۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ براہ کرم، نماز کے دوران عورت کے لیے سجدہ کے صحیح طریقہ کے بارے میں رہنمائی فرمائیں، جیسے کہنی اور پیروں کو صحیح طورپر رکھنا۔ کیا عورت اور مرد کے لیے سجدہ کا طریقہ ایک ہی طرح کا ہے یا الگ ؟ اگر ممکن ہوسکے تو حوالے دیں۔میں پاکستانی ہوں ، بحرین میں رہ رہی ہوں۔ یہاں میں نے بحرین کی عورتوں کو مردوں کی طرح سجدہ کرتے ہوئے دیکھی ہے، میں تذبذب میں ہوں کہ میرے سجدہ کا طریقہ درست ہے یا نہیں؟ 

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
عورت کے سجدہ کا طریقہ مرد کے سجدہ سے جداگانہ ہے، مردوں کو حکم یہ ہے کہ سجدہ میں پیٹ کو رانوں سے اور بغل کو بازووٴں سے علاحدہ رکھیں اسی طرح کہنیوں اور کلائیوں کو زمین سے اٹھاکر رکھیں نیز دونوں پاوٴں کو کھڑا رکھیں اس کے بخلاف عورتوں کے لیے سجدہ میں حکم یہ ہے کہ پیٹ کو رانوں سے اور بازووٴں کو بغل سے ملاکر رکھیں، کہنیوں اور کلائیوں کو زمین پر بچھادیں نیز پاوٴں کو کھڑا نہ کریں بلکہ دونوں پاوٴں داہنی طرف نکال دیں اور خوب سمٹ کر سجدہ کریں ( کما في البحر الرائق: ۱/۵۶۱، باب صفة الصلاة وفي البدائع: ۱/۴۹۴، زکریا، وہکذا في غنیة المستملي: ۳۴۲، اشرفیہ) وفي الحدیث مر النبي صلی اللہ علیہ وسلم علی امرأتین تصلیان فقال إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلی الأرض فإن المرأة لیس في ذلک کالرجل (رواہ أبوداوٴد في مراسیلہ البحر الرائق باب صفة الصلاة: ۱/۵۶۱، زکریا)

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 21935

جیسا کہ آپ نے دارالعلوم دیوبند ک فتوے میں ملاحظہ کیا کہ عورتوں کے سجدہ کرنے کا ایک مخصوص طریقہ بتایا گیا ہے۔ 

لیکن عورتوں کے سجدہ کرنے کا یہ طریقہ کسی بھی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے۔بلکہ احادیث صحیحہ میں اس طرح سجدہ کرنے کی صریح ممانعت وارد ہوئی ہے ۔

اور فتوے میں جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔کیونکہ اسے یزید بن أبی حبیب براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے ہیں ، اور یزید بن أبی حبیب تابعی ہیں ،صحابی نہیں ، لہذا یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
بعض دوسری دلیلیں بھی ذکر کی جاتی ہیں مثلاََ سنن الکبری للبیہقی کی دو روایتیں، جس کے بارے میں امام بیہقی خود فرماتے ہیں: 
وقد روي فيه حديثان ضعيفان لا يحتج بأمثالهما :
(اور اس سلسلے میں دو ضعیف حدیثیں بھی بیان کی جاتی ہیں ہیں ، جو ایسی ہیں کہ ان جیسی روایتوں سے حجت نہیں قائم کی جا سکتی۔)

پہلی روایت۔ : 
حديث عطاء بن العجلان عن أبي نضرة العبدي عن أبي سعيد الخدري صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ( أنه كان يأمر الرجال أن يتجافوا في سجودهم ، ويأمر النساء ينخفضن في سجودهن ، وكان يأمر الرجال أن يفرشوا اليسرى وينصبوا اليمني في التشهد ، ويأمر النساء أن يتربعن ) ثم قال البيهقي : حديث منكر اهـ 

ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ سجدوں میں اپنے بازؤوں کو پہلو سے الگ رکھیں اور عورتوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ سجدے میں جھک کر بیٹھیں ،مردوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ تشہد میں بایاں پاؤں کو بچھا دیں اور داہنے پاؤں کو کھڑا رکھیں جبکہ عورتوں کو چار زانو بیٹھنے کا حکم دیتے تھے ۔

یہ جھوٹی روایت ہے ، اور ان جیسی روایتوں کو بطور دلیل صرف وہی لوگ پیش کر سکتے ہیں جنہوں نے خشیت الہٰی کو بالائے طاق رکھ دیا ہو۔

 امام بیہقی رحمہ اللّٰہ خود ہی فرماتے ہیں: لا يحتج بأمثالهما۔
اس جیسی روایتیں ناقابلِ استدلال ہوا کرتی ہیں ۔

اس روایت کی سند میں عطاء بن عجلان حنفی بصری واسطی ہے ، جسے محدثین نے متروک اور کذاب قرار دیا ہے ۔

اس راوی کے بارے میں محدثین کرام کی جرح درج ذیل ہے: 

محمد بن إسماعيل البخاري :
منكر الحديث

أبو دواد السجستاني :
ليس بشيء

أحمد بن شعيب النسائي :
متروك الحديث

أبو عيسى الترمذي :
ضغيف، ومرة: ذاهب الحديث

أحمد بن حنبل :
ليس بشيء، لا يكتب حديثه

ابن حجر العسقلاني :
متروك الحديث، وذكره في المطالب العالية، منكر الحديث

الذهبي :
واه

يحيى بن معين :
ليس بثقة، ومرة: كوفي كذاب، ومرة: لم يكن بشيء، ومرة: ليس بثقة ولا مأمون، ومرة: كان يوضع له الحديث فيحدث به، ومرة: كوفي ليس بشيء كذاب

أبو أحمد بن عدي الجرجاني :
أورد له أحاديث، وقال: له غير ما ذكرت وعامة رواياته غير محفوظة

أبو القاسم الطبراني :
ضعيف في روايته، تفرد بأشياء

أبو بكر البيهقي :
ضعيف متروك

أبو حاتم الرازي :
ضعيف الحديث منكر الحديث، وهو متروك الحديث

أبو حاتم بن حبان البستي :
كان لا يدري ما يقول يتلقن كما يلقن ويجيب فيما يسأل حتى صار يروي الموضوعات عن الثقات لا يحل كتابة حديثه إلا على سبيل الاعتبار

أبو زرعة الرازي :
ضعيف

أحمد بن صالح الجيلي :
ثقة

إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني :
كذاب

الدارقطني :
متروك الحديث

زكريا بن يحيى الساجي :
منكر الحديث

زهير بن معاوية الجعفي :
اتهمه

علي بن الجنيد الرازي :
متروك

علي بن المديني :
كان ذاك شيخا ضعيفا، ليس بشيء

عمرو بن علي الفلاس :
كذاب

يعقوب بن سفيان الفسوي :
ليس حديثه بشيء، ومرة: ضعيف، ومرة: لا يكتب حديثه، ومرة: لا يسوى حديثه شيء

اب آپ خود غور کریں کہ جس راوی پر محدثین کرام کی اتنی شدید جرحیں ہوں ،اس کی روایت قابل استدلال کیسے ہو سکتی ہے ،اور بطور استدلال کوئی کیسے اس روایت کو پیش کر سکتاہے ۔
نیز اس روایت میں عورتوں کو چار زانو ہو کر بیٹھنے کا حکم دیا گیا ہے جس پر کسی حنفی خاتون کا عمل نہیں ہے ۔

سنن الکبری للبیہقی کی دوسری حدیث: 
حديث أبي مطيع الحكم بن عبد الله البلخي عن عمر بن ذر عن مجاهد عن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا جلست المرأة في الصلاة وضعت فخذها على فخذها الأخرى وإذا سجدت ألصقت بطنها في فخذيها كأستر ما يكون لها وإن الله تعالى ينظر إليها ويقول يا ملائكتي أشهدكم أني قد غفرت لها " . " سنن البيهقي الكبرى " ( 2 / 222 ) .

عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت نماز میں بیٹھے تو ایک ران کو دوسرے ران پر رکھے اور جب سجدہ کر ت۔ اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے ملا لے،جتنا ہو سکے ستر کرے ۔اللہ تعالٰی اس کی طرف دیکھتا ہے اور فرماتا ہے اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔

سنن الکبری للبیہقی :2/222)

یہ موضوع (من گھڑت) روایت ہے ۔
 امام بیہقی رحمہ اللّٰہ خود ہی فرماتے ہیں: لا يحتج بأمثالهما۔

اس جیسی روایتیں ناقابلِ استدلال ہوا کرتی ہیں ۔

اس روایت کے ایک راوی محمد بن قاسم بلخی کے بارے میں محمد بن حبان لکھتے ہیں:

اس سے اہل خراسان نے ایسی روایات بیان کی ہیں، جن کو کتاب میں ذکر کرنا جائز نہیں، پھر اس کی روایت کے ساتھ مشغول ہونا کیسے درست ہوگا؟ یہ ایسی روایات بیان کرتا ہے جن کے باطل اور غیر ثابت ہونے پر امت گواہی دیتی ہے، محدثین اسے پہچانتے ہی نہیں۔ اس سے اہل الرائے نے روایات لکھی ہیں۔لیکن میں نے اسے اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ ہمارے عام دوست اس سے دھوکہ نہ کھائیں ۔

(کتاب المجروحین: 2/311)

اسی طرح اس روایت کا ایک اور راوی ابو مطیع حکم بن عبد اللہ بلخی حنفی شاگرد ابوحنیفہ پر محدثین کرام ن سخت جرحیں کی ہیں۔
حافظ ذہبی نے اسے حدیثیں گھڑنے والا قرار دیا ہے ۔

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ " لسان المیزان " میں لکھتے ہیں :
" قال ابن معين ليس بشيء وقال مرة ضعيف وقال البخاري ضعيف صاحب رأي وقال النسائي ضعيف وقال ابن الجوزي في الضعفاء الحكم بن عبد الله ابن سلمة أبو مطيع الخراساني القاضي يروي عن إبراهيم بن طهمان وأبي حنيفة ومالك قال أحمد لا ينبغي أن يروي عنه بشيء وقال أبو داود تركوا حديثه وكان جهميا وقال ابن عدي هو بين الضعف عامة ما يرويه لا يتابع عليه قال ابن حبان كان من رؤساء المرجية ممن يبغض السنن ومنتحليها "

 امام ابن معین فرماتے ہیں کہ ابو مطیع (حدیث کی روایت میں ) کوئی شیء نہیں ، اور اسے ضعیف کہا ، اور امام بخاریؒ اور امام نسائیؒ بھی اسے ضعیف کہتے ہیں ، اور ابن الجوزیؒ لکھتے ہیں کہ امام احمدؒ فرماتے ہیں : کہ ابومطیع بلخی اس لائق نہیں کہ اس روایت نقل کی جائے ، اور امام ابو داودؒ فرماتے ہیں : محدثین کے ہاں یہ متروک ہے ، یہ جہمی تھا ۔ ابن عدیؒ کہتے ہیں : یہ یقیناً ضعیف راوی ہے اسکی اکثر روایات کی متابعت نہیں ملتی ، امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں " یہ مرجئہ کے سرداروں میں سے تھا ، اور سنت اور اہل سنت سے بغض رکھنے والوں میں اس کا شمار تھا "

اس کے علاوہ اس روایت کے ایک اور راوی عبیداللہ بن محمد بن موسیٰ سرخسی کے حالات نا معلوم ہیں۔
اب ایسے مجہول اور نا معلوم، راویوں کی روایت قابل استدلال کیسے ہو سکتی ہے ۔

اس طرح خوارزمی کی جامع المسانید سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے ۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ک زمانے میں عورتیں نماز کیسے پڑھتی تھیں ، تو آپ نے فرمایا: " كن يتربعن ثم امرن ان يحتفزن "

وہ چار زانو ہو کر بیٹھا کرتی تھیں ، بعد میں انہیں حکم دیا گیا کہ وہ خوب سمٹ کر بیٹھیں ۔
(جامع المسانید للخوارزمی: 1/400)
آپ کو بتا دیں کہ احناف کے ذریعہ پیش کنندہ یہ روایت جھوٹی ہے۔

یہ تو تھیں مرفوع روایتیں جن کا کذب آپ نے اوپر دیکھا ! 

اب ذرا ان موقوف روایتوں گوبھی دیکھ لیجیے جسے لوگ اپنا مستدل بناتے ہیں ۔
سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں : 
عورت سجدہ کرے تو سمٹ جاۓ اور دونوں رانیں ملالے۔

 ۔‌سنن الکبری للبیہقی:2/222

اس کی سند بھی سخت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں حارث بن عبد اللہ اعور راوی ہے جو باتفاق محدثین ضعیف ہے ، جس کے بارے میں حافظ نووی لکھتے ہیں:
حارث اعور کے ضعیف ہونے اور اس سے حجت نہ لینے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔ 
المجموع شرح المہذب : 3/288

عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے عورت کی نماز کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: 

تجتمع و تحتفز " وہ اکٹھی ہو جاۓ گی اور سمٹ جاۓ گی ۔

مصنف ابن ابی شیبہ : 1/270

یہ سند بھی انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
امام حاکم اس روایت کے ایک راوی بکیر بن عبداللہ اشج کے متعلق فرماتے ہیں: 
اس کا شمار تابعین میں کیا جاتا ہے، لیکن اس کا سماع صحابہ سے ثابت نہیں ۔ 
معرفۃ علوم الحدیث: 45

احناف کی ان دلائل کی
تفصیلات سے معلوم ہوا کہ مردہ .عورت کے رکوع و سجود میں فرق کی کوئی دلیل بسند صحیح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہیں ہے ۔ اور مردہ عورت کے رکوع و سجود میں فرق کی جو روایتیں بطور دلیل منجانب احناف پیش کی جاتی ہیں ،وہ ناقابل استدلال ہیں ۔
احناف کی ان ضعیف اور مطروح روایتوں کے برخلاف صحیح سند سے سیدہ ام درداء رضی اللہ تعالٰی عنہا کے متعلق یہ ثابت ہے کہ وہ نماز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں۔

مصنف ابن ابی شیبہ : 1/270

چنانچہ امام بخاری فرماتے ہیں:
«انهاكانت تجلس فى صلاتها جلسة الرجل و كانت فقيهة» [التاريخ الصغير للبخاري 90]
”وہ نماز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہ تھیں۔“

امام ابوحنیفہ کے استاد امام ابراہیم نخعی سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے: «تَفْعَلُ الْمَرْأَةُ فِي الصَّلَاةِ كَمَا يَفْعَلُ الرَّجُلُ»
(ابن أبى شيبة 2/75/1)

”نماز میں عورت بھی بالکل ویسے ہی کرے جیسے مرد کرتا ہے۔“

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:
 "صلوا كما رأيتموني أصلي" 
میری طرح نماز پڑھیں ۔
(صحیح بخاری: 631) ہر مرد و عورت کو شامل ہے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
 اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ .

  سجدہ میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اور اپنے بازو کتوں کی طرح نہ پھیلایا کرو ۔
صحيح بخاری: حدیث نمبر: 822

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں حیوانات سے مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ اس طرح بیٹھنا جس طرح اونٹ بیٹھتا ہے یا لومڑی کی طرح اِدھر اُدھر دیکھنا یا جنگلی جانوروں کی طرح افتراش یا کتے کی طرح اقعاء یا کوے کی طرح ٹھونگے مارنا یا سلام کے وقت شریر گھوڑوں کی دم کی طرح ہاتھ اٹھانا یہ سب افعال منع ہیں۔“ [زاد المعاد1/ 116]
پس جس طرح جانوروں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے کی دیگر ممانعتیں عام ہیں ، یعنی مرد و عورت دونوں کو شامل ہیں ، اسی طرح اس ممانعت میں بھی مرد و عورت دونوں یکساں ہیں۔

علامہ البانی فرماتے ہیں: 
میں نے مردو عورت کے طر یقہ نماز میں فرق کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں دیکھی ، یہ صرف راۓ اور اجتہاد ہے۔
 السلسلۃ الضعیفہ : 5500 

اسی طرح صفۃ صلاۃ النبی میں لکھتے ہیں:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى نماز كے طريقہ ميں جو كچھ بيان كيا گيا ہے اس ميں مرد اور عورت برابر ہيں، سنت نبويہ ميں كوئى بھى دليل نہيں ملتى جو يہ اس تفریق کا تقاضا کرتی ہو،  بلكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عمومى فرمان:

" تم نماز اس طرح ادا كرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا ہے "

عورتوں كو بھى شامل ہے. "

صفۃ الصلاۃ النبى صلى اللہ عليہ وسلم صفحہ نمبر (189 )

شيخ  ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى فقھاء کے قیاسی موقف کی تردید  كرتے ہوئے لکھتے ہيں:

فقھاء كا قول ہے " عورت كشادہ نہ ہو بلكہ اپنے آپ كو سميٹ كر ركھے اور جب سجدہ كرے تو اپنا پيٹ اپنى رانوں پر اور اپنى رانيں اپنى پنڈليوں كے ساتھ لگائے ركھے... كيونكہ عورت كے ليے ستر لازمى ہے، اور اس كے ليے اپنا آپ سميٹ كر ركھنا كشادہ ہونے سے زيادہ ستر كا باعث ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى اس كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں:

اس كا جواب كئى ايك وجوہات كى بنا پر ہے:

اول:
يہ علت ان عمومى نصوص كے مقابلہ ميں نہيں آسکتی جن 
 نصوص ميں ہے كہ عورت احكام ميں مرد كى طرح ہے، اور خاص كر جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے:

" تم نماز اس طرح ادا كرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا ہے "

كيونكہ يہ خطاب سب مردوں اور عورتوں كو عام ہے.
دوم:     يہ اس وقت ٹوٹ جاتا ہے كہ اگر وہ اكيلى نماز ادا كرے، اور غالب طور پر عورت كے ليے مشروع بھى يہى ہے كہ وہ اكيلى اور اپنے گھر ميں مردوں كى غير موجودگى ميں نماز ادا كرے، تو اس وقت اسے اپنا آپ سميٹنے كى كوئى ضرورت ہى نہيں كيونكہ مرد تو موجود ہى نہيں.

سوم:       آپ يہ كہتے ہيں كہ وہ رفع اليدين كرے گى، اور رفع اليدين كرنا تو كشادہ اور كھل كرنماز ادا كرنے سے زيادہ انكشاف ہے، اور اس كے باوجود آپ يہ كہتے ہيں كہ عورت كے ليے رفع اليدين كرنا سنت ہے، كيونكہ اصل ميں عورت احكام ميں مردوں كے برابر ہے.

آگے مزید لکھتے ہیں : 

راجح قول يہ ہے كہ:
عورت بھى ہر چيز ميں اسى طرح كرےگى جس طرح مرد كرتا ہے، چنانچہ وہ رفع اليدين بھى كرےگى اور كشادہ اور كھل كر نماز ادا كرے، اور ركوع كى حالت ميں اپنى كمر كو پھيلا كر سيدھا كرے گى، اور سجدہ كى حالت ميں اپنا پيٹ رانوں سے اٹھا كر ركھے، اور اپنى رانيں پنڈليوں سے دور ركھےگى... اور دونوں سجدوں كے مابين اور پہلى تشھد اور ايك تشھد والى نماز ميں پاؤں بچھا كر بيٹھے گى، اور دو تشھد والى تين اور چار ركعتى نماز كى آخرى تشھد ميں تورك كر كے بيٹھے گى.

چنانچہ ان اشياء ميں سے عورت كے ليے كچھ بھى مستثنى نہيں ہے "
الشرح الممتع " 3/303،304

سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ الله ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: 

الصواب : أنه ليس بين صلاة المرأة وصلاة الرجل فرق ، وما ذكره بعض الفقهاء من الفرق ليس عليه دليل ، والحديث الذي ذكرتيه في السؤال وهو قوله صلى الله عليه وسلم : (صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي) يعم الجميع ، والتشريعات الإسلامية تعم الرجال والنساء ، إلا ما قام عليه الدليل بالتخصيص ؛ فالسنة أن تصلي المرأة كما يصلي الرجل في الركوع والسجود والقراءة ووضع اليدين على الصدر هذا هو الأفضل ، وهكذا وضعهما على الركبتين عند الركوع وهكذا وضعهما على الأرض في السجود حيال المنكبين أو حيال الأذنين ، وهكذا استواء الظهر في الركوع ، وهكذا ما يُقال في الركوع والسجود بعد الرفع من الركوع وبعد الرفع من السجدة الأولى كله كالرجل سواء عملاً بقوله صلى الله عليه وسلم : (صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي) رواه البخاري في الصحيح .

"صحیح بات یہی ہے کہ مرد اور عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے، البتہ فقہائے کرام جو فرق بیان کرتے ہیں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور جو حدیث آپ نے سوال میں ذکر کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اور نماز ایسے پڑھو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو)اس میں سب مرد و خواتین شامل ہیں، بلکہ پوری شریعت اسلامیہ مرد و زن کیلیے یکساں ہے، البتہ وہاں فرق روا رکھا جائے گا جہاں کوئی دلیل موجود ہو؛ لہذا سنت یہی ہے کہ عورت بھی اسی طرح نماز پڑھے جیسے مرد نماز پڑھتا ہے اس کیلیے رکوع، سجدہ، تلاوت، سینے پر ہاتھ باندھنا وغیرہ تمام کے تمام امور یکساں ہوں گے اور یہی افضل ہے، اسی طرح دورانِ رکوع ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا جائے گا اور سجدے کے دوران کندھوں یا کانوں کے برابر زمین پر ہاتھ رکھے جائیں گے، حالتِ رکوع میں کمر کو سیدھا رکھیں گے اور رکوع و سجدے کی دعائیں ، قومے اور قعدے کی دعائیں دوسجدوں کےد رمیان کی دعا سب کچھ مرد کی طرح عورتیں بھی سر انجام دیں گی ؛ تا کہ صحیح بخاری میں موجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (اور نماز ایسے پڑھو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو) پر عمل ہو جائے

"فتاوى نور على الدرب" (2/799) 

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...