Friday, September 20, 2024

ایوب علیہ السلام کی بیماریوں کے متعلق من گھڑت واقعات ۔

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

محمد اقباال قاسمي سلفي 

موضوع : ایوب علیہ السلام کی بیماریوں کے متعلق من گھڑت واقعات ۔

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

حضرت ایوب علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ ہستیوں میں سے تھے جن کو اللہ رب العزت نے نبی بنا کر مبعوث فرمایا، جنہیں اللہ رب العزت نے اپنی آزمائشوں سے آزمایا جس پر ایوب علیہ السلام نے صبر کیا اور شکرگزاری کا بھر پور ثبوت دیا ،جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورہ ص آیت نمبر 38 میں فرمایا: 

وَاذْكُرْ عَبْدَنَـآ اَيُّوْبَۚ اِذْ نَادٰى رَبَّهٝٓ اَنِّىْ مَسَّنِىَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ (41)اُرْكُضْ بِـرِجْلِكَ ۖ هٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ (42)
وَوَهَبْنَا لَـهٝٓ اَهْلَـهٝ وَمِثْلَـهُـمْ مَّعَهُـمْ رَحْـمَةً مِّنَّا وَذِكْرٰى لِاُولِـى الْاَلْبَابِ (43)وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَلَا تَحْنَثْ ۗ اِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ اِنَّهٝٓ اَوَّابٌ (44)

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور عذاب پہنچایا ہے۔
اپنا پاؤں (زمین پر) مار، یہ ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو ہے۔
اور ہم نے ان کو ان کے اہل و عیال اور کتنے ہی اور بھی اپنی مہربانی سے عنایت فرمائے اور عقلمندوں کے لیے نصیحت ہے۔
اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو کا مٹھا لے کر مار اور قسم نہ توڑ، بے شک ہم نے ایوب کو صابر پایا، وہ بڑے اچھے بندے، اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

یہ آیتیں حضرت أیوب علیہ السلام کی زندگی کی ابتلاء و آزمائش کا بہترین خاکہ پیش کرتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ ان‌آزمائشوں پر آہ و فگا کرنے کے بجائے کس قدر صبر و استقامت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے رب کو پکارا۔ انتہائی معجزانہ انداز میں چند جملوں کے اندر واقعے کی صحیح صورت حال کو واضح کر دیا گیا ہے ۔ نہ اس تکلیف کی تفصیل بتائی گئی اور نہ ہی ان کے بدن میں کسی طرح ک کیڑے پڑنے کا ذکر ہے ، جیسا کہ عوام و خواص میں یہ بات مشہور ہے ۔

لیکن قرآن کے بیان کردہ مختصر ، سچے اور سنہرے حروف پر افسانہ تراشوں نے رنگ آمیزی کرکے کچھ کا کچھ بنا دیا ہے ۔اور آج ہماری تفسیری کتابیں اس رنگ آمیزی سے بھری ہوئی ہیں ۔
چنانچہ اکثر مفسرین نے ان آیتوں کی تفسیر میں یہ نقشہ کھینچا ہے کہ جب ایوب علیہ السلام پر مصیبتیں آئیں تو اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہر چیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہیں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیرلیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔

جلال الدین سیوطی نے الدر المنثور میں حضرت قتادہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ جب حضرت ایوب کو یہ ابتلاء پیش آیا تو بن کے آل اولاد ، مال مویشی سب ہلاک ہوگئے اور بن کے جسم کو شدید نقصان پہنچا ،حضرت ایوب علیہ السلام سات سال اور کچھ مہینے اس مصیبت میں رہے اور بنی اسرائیل کے کوڑے خانے میں ڈال دیئے گئے ،ان کے جسم کے زخموں میں کیڑے رینگتے رہے، پھر اللہ نے ان کی مصیبت کو کم‌ کر دیا اور بن کو بہترین اجر دیا۔

(الدر المنثور: 7/166)

عبد الرحمٰن بن جبیر کی روایت میں ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام مال و اولاد اور جسم‌کی بیماری میں مبتلا ہو گئے تو ان کو ایک گھوڑے پر ڈال دیا گیا، ان کی بیوی شہر میں جا کر محنت مزدوری کرتی تھی اور ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرتی تھی یہ دیکھ کر شیطان کو غصہ آیا اور اس نے مالداروں س جا کر یہ کہ دیا کہ یہ عورت جو تمہارے یہاں آتی ہے ،اس کو بھگاتے کیوں نہیں ہو ،اس کے ش ہر کو کوڑھ ہ ، یہ عورت اس کی تیمارداری کرتی ہے ، اس کے بدن کو اپنے ہاتھ سے چھوٹی ہے ، یہ عورت جذام پھیلا دے گی ،تمہارے کھانے گندے ہو جائیں گے ، اس کو اپنے دروازوں بر کھڑے مت ہونے دو ، اس کے بعد لوگوں نےاس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا اور جب کسی کے پاس جاتی تو لوگ اس کو دھتکار دیتے ، یا بڑی نرمی کی تو کہتے کہ تم‌دور کھڑی رہو ،ہمارے قریب مت آؤ، ہم وہیں تمہیں کھانا دے دیتے ہیں۔

الدر المنثور: 7/169

اسی طرح وہب بن منبہ کی روایت ہے ۔
اس سلسلے میں اور بھی کئی راویوں کے روایت ہے ۔لیکن ان میں سے اکثر موضوع اور من گھڑت ہے ۔

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف حنفی دیوبندی بنوری ٹاؤن نے بھی حضرت ایوب علیہ السلام کے بدن میں کیڑے پڑنے کی باتوں کو غیر معتبر اور مقام نبوت و منصب رسالت کے خلاف بتایا ہے۔
چنانچہ جب ان سے اس بابت سوال کیا گیا کہ اہل علم کی محفل تھی، حضرت ایوب علیہ السلام کا موضوع چھڑ گیا ایک عالم زید نے کہا کہ حضرت ایوب کے جسم میں کیڑے نہیں پڑے تھے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کو ایسے جسمانی ،عیوب جس سے لوگ نفرت کریں، بری کرتا ہے، دوسرے نے کہا کہ کیڑے پڑے تھے۔ آپ مستند، عربی تفاسیر سے اس مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں!
تو انہوں نے جواب دیا : 
حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں قرآنِ پاک میں اللہ رب العزت نے صرف ان کی آزمائش و تکلیف کا تذکرہ کیا ہے کہ جس عارضہ میں مبتلا ہوگئے تھے، اس میں ان کے لیے سخت تکلیف اور مشقت تھی ، البتہ جسمانی تکلیف کی نوعیت کیا تھی؟

 اس سلسلہ میں قرآن وحدیث میں کوئی صراحت منقول نہیں ہے، اور بدن میں کیڑے وغیرہ پڑنے کی جو باتیں عوام میں مشہور ہیں، یہ سب غیر معتبر ہیں ، نیز مقامِ نبوت اور منصبِ رسالت کے بھی خلاف ہیں، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی انہیں بیان کیا جائے ۔ 
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر: فتوی نمبر : 144110201106

اسی طرح دارالعلوم دیوبند نسے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ بعض لوگ بیان میں کہتے ہیں کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بدن پر کیڑے پڑ گئے تھے جب کوئی کیڑا ان کے بدن سے گر جاتا تو وہ اس کو اٹھاکر بدن پر ڈال لیتے اور کہتے کہ تیری روزی میرے بدن میں ہے تو کیوں جاتا ہے؟ کیا یہ صحیح ہے؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
 

قرآن کریم میں اتنا بتایا گیا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کوایک شدید قسم کا مرض لاحق ہوگیا تھا، لیکن اس مرض کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔ احادیث میں بھی اس کی کوئی تفصیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہے۔ البتہ بعض آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کے جسم کے ہرحصے پر پھوڑے نکل آئے تھے، یہاں تک کہ لوگوں نے گھن کی وجہ سے آپ کو ایک کوڑی پر ڈال دیا تھا، لیکن بعض مفسرین نے ان آثار کو درست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر بیماریاں تو آسکتی ہیں، لیکن انھیں ایسی بیماریوں میں مبتلا نہیں کیا جاتا، جن سے لوگ گھن کرنے لکیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری بھی ایسی نہیں ہوسکتی، بلکہ یہ کوئی عام قسم کی بیماری تھی، لہٰذا وہ آثار جن میں حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف پھوڑے پھنسیوں کی نسبت کی گئی ہے یا جن میں کہا گیا ہے کہ آپ کو کوڑی پر ڈال دیا گیا تھا، یا بعض لوگوں کا یہ بیان کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے بدن پر کیڑے پڑگئے تھے، روایةً و درایةً قابل اعتماد نہیں ہیں۔ (معارف القرآن)
دار الافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 7047
رضاخانیوں کا غالی بدعتی گروہ دعوت اسلامی نے بھی اس واقعے کو غیر معتبر قرار دیا ہے ۔
چنانچہ ان دعوت اسلامی کے بہنوں کے اجتماع میں جب اس واقعے کو بیان کیا گیا کہ حضرت ایوب علیہ الصلوۃ و السلام کو نہ کوڑھ کا مرض تھا اور نہ ہی آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے بدن مبارک میں کیڑے پڑے تھے ، کیونکہ انبیائے کرام علیھم السلام ان چیزوں سے پاک ہوتے ہیں جن سے لوگوں کو گھن آتی ہو۔"

   اب بعض لوگوں کا یہ کہنا ہےکہ یہ درست نہیں ہے اور ایوب علیہ السلام کے بدن میں معاذ اللہ کیڑے پڑے تھے ، یہ بات پہلے بھی کچھ علما بیان کرتے چلے آئے ہیں ، تو ایسے لوگوں کو کس طرح سمجھائیں ، اس کا کوئی ثبوت بیان کر دیجیے ۔

تو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: 

   حضرت ایوب علیہ السلام بلا شبہ اللہ پاک کے نبی ہیں اورانبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہر اس بات سے محفوظ ومامون ہوتے ہیں جن سے لوگوں کو گھن آتی ہے ، لہٰذا حضرت ایوب علیہ السلام کے متعلق یہ کہنا کہ مَعَاذَ اللہ آپ کو کوڑھ کا مرض تھا یا بدنِ مبارک میں کیڑے پڑ گئے تھے ہر گز درست نہیں ، بلکہ یہ غیر معتبر واقعہ ہے ، جیساکہ کتب ِمعتبرہ میں موجود ہے :

   چنانچہ مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں :" حضرتِ ایوب علیہ السلام کے جسم پر کیڑے پڑنا منقول تو ہے ، پر تمام مفسرین نے اسے نقل نہیں کیا ہےبعض تفسیروں میں ایسے واقعات کو لکھ کر ان کی صحّت کے بارے میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں بھی واقعے کے بارے میں شبہ تھا اللہ تعالیٰ انبیاے کرام کو کسی ایسے مرض میں مبتلا نہیں فرماتا جس سے لوگوں کو نفرت ہو لہٰذا جب تک کسی صحیح حدیث سے یہ واقعہ ثابت نہ ہو تب تک اسے بیان کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ "(وقارالفتاوی ، جلد01 ، صفحہ 71،کراچی)

   مزید اس کی تفصیل کے متعلق صراط الجنان فی تفسیر القرآن میں ہے :

   "حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیماری کے بارے میں علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:"عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ مَعَاذَ اللہ آپ کو کوڑھ کی بیماری ہو گئی تھی۔ چنانچہ بعض غیر معتبر کتابوں میں آپ کے کوڑھ کے بارے میں بہت سی غیر معتبر داستانیں بھی تحریر ہیں ، مگر یاد رکھو کہ یہ سب باتیں سرتا پا بالکل غلط ہیں اور ہر گز ہرگز آپ یا کوئی نبی بھی کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا، اس لئے کہ یہ مسئلہ مُتَّفَق علیہ ہے کہ اَنبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کا تمام اُن بیماریوں سے محفوظ رہنا ضروری ہے جو عوام کے نزدیک باعث ِنفرت و حقارت ہیں ۔ کیونکہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کا یہ فرضِ منصبی ہے کہ وہ تبلیغ و ہدایت کرتے رہیں تو ظاہر ہے کہ جب عوام ان کی بیماریوں سے نفرت کر کے ان سے دور بھاگیں گے تو بھلا تبلیغ کا فریضہ کیونکر ادا ہو سکے گا؟ الغرض حضرت ایوب عَلَیْہِ السَّلَام ہرگز کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ آپ کے بدن پر کچھ آبلے اور پھوڑے پھنسیاں نکل آئی تھیں جن سے آپ برسوں تکلیف اور مشقت جھیلتے رہے اور برابر صابر و شاکر رہے۔" (عجائب القرآن مع غرائب القرآن، حضرت ایوب علیہ السلام کا امتحان، ص181 ، 182 )

    یونہی بعض کتابوں میں جو یہ واقعہ مذکور ہے کہ بیماری کے دوران حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسم مبارک میں کیڑے پیدا ہو گئے تھے جو آپ کا جسم شریف کھاتے تھے، یہ بھی درست نہیں کیونکہ ظاہری جسم میں کیڑوں کا پیدا ہونا بھی عوام کے لئے نفرت و حقارت کا باعث ہے اور لوگ ایسی چیز سے گھن کھاتے ہیں ۔لہٰذا خطباء اور واعظین کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف ایسی چیزوں کو منسوب نہ کریں جن سے لوگ نفرت کرتے ہوں اور وہ منصبِ نبوت کے تقاضوں کے خلاف ہو۔

مجیب:ابوالفیضان عرفان احمدمدنی

فتوی نمبر:WAT-1179

تاریخ اجراء:22ربیع الاول1444ھ/19اکتوبر2022ء

علامہ اسیر ادروی لکھتے ہیں: 

یہ صحیح ہے کہ ایوب علیہ السلام ابتلاء و آزمائش میں رہے ، ان کا متاع و مال اور اولاد تباہ و برباد ہو گئے ، شدید بیمار بھی رہے، ان حالات میں انہوں نے صبر و ضبط کا وہ عظیم المثال مطاہرہ کیا کہ ان کا صبرضرب المثل بن گیا اور آخر قصہ میں قرآن نے ان کی فضیلت بیان کر کے قصہ تمام کر دیا ، ابتلاء میں کوئی شک نہیں ، لیکن یہ کیا ضروری ہے کہ خدا تو اسے نہ بیان کرے ،خدا کا رسول جو اسے تلاوت کر رہا ہے ، اس کی تفصیل سے خاموش رہے ، اور افسانہ تراشوں اور حکایت سازوں کے گھڑے ہوے قصوں ،جھوٹے سچے قصوں کو اس کے ساتھ جوڑ کر قرآن کی صداقت و حقانیت کو غیر وں کی نگاہ میں داغدار کیا جائے اور ایسے اتہامات عائد کیے جائیں جو کسی نبی یا رسول کی ذات کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتے ۔جو یہود اللہ پر الزام تراشیاں کرتے ہیں وہ حضرت ایوب کو کیس بخش سکتے ہیں ؟
یہ بات قابل تسلیم‌ نہیں کہ ان کو کوڑھ اور جذام ہو گیا تھا، ان کا جسم سر سے پائوں تک ایسا زخم بن گیا تھا کہ کیڑے دوڑتے پھرتے یا وہ گھور اور مزیلہ میں پھنک دیے گیۓ تھے اور بنی اسرائیل کے کتے ان سے چھیڑ کرتے تھے، اگر اللہ رب العزت اپنے پیغمبروں کو ایسے گھناؤنے اور نفرت انگیز مرضوں میں مبتلا کرے گا تو پیغمبروں کا مقصد تبلیغ کیسے پورا ہوگا ؟ لوگ ان سے نفرت کریں گے ، دور بھاگیں گے ، جب عوام و خواص ان سے گھن کریں گے تو ان کی بات کون سنے گا ؟ پھر ایسی نبوت و رسالت کیا مفید ہوگی ؟

اانبیاء ہمیشہ شریف اور معزز گھرانوں میں پیدا ہوتے رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے اہل خاندان ،اعزہ ،اقربا کیا ہو گیۓ ؟جو ان کو گھر میں رکھتے اور کھانا کھلاتے ، صرف بیوی ان کی خدمت کرتی ہوئ نظر آتی ہے اور نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ ان کو سر کی چوٹیاں تک فروخت کرنی پڑتی ہیں تاکہ حضرت ایوب کو ایک وقت کا کھانا کھلا سکے ۔
اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ قرآن و صحیح حدیث ن واقعے کے جتنے حصے کو بیان کیا ہے صرف اتن ہی حل پر اکتفا کیا جائے اور اس طرح کی گندی اور گھناؤنی باتوں کو ایک نبی کی طرف منسوب کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ ایک مسلمان کے لئے صحیح راستہ یہی ہے جو نبیوں اور رسولوں کی عظمت و جلالت قدر کا صحیح شناسا اور رتبہ شناس ہے۔
جب قرآن و حدیث ن ہمیں واقعے کی تفصیل نہیں بتائیہے تو تیسرا کون ہے جو حضرت ایوب کا واقعہ ہمیں سنا رہا ہے ؟ یہ بتایا جاۓ کہ یہ تفصیلات کہاں سے آئیں ؟ وہ کون مستند ذریعہ ہے جس کے بیان کردہ واقعے کو بلا تحقیق قبول کر لیا جاۓ ؟ علماء امت کے نزدیک اسرائیلیات متروک ہیں ، اس لیے ادھر سے آنکھیں پھیر لو اور ان خرافات سے اپنے کانوں کو بند کر لو کیونکہ وہ بےبنیاد افسانے اور کہانیاں گھڑا کرتے ہیں ۔

(تفسیروں میں اسرائیلی روایات: اسیر ادروی ، صفحہ نمبر : 84)
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه! 

حضرت عبدااللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: 
 تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جبکہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی وہ تازہ بھی ہے اور محفوظ بھی اور تمہیں اس نے بتا بھی دیا کہ اہل کتاب نے اپنا دین بدل ڈالا اور اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور اسے اپنے ہاتھ سے ازخود بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں ۔ تمہارے پاس ( قرآن و حدیث کا ) جو علم ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع کرتا ہے ۔ واللہ ! میں تو نہیں دیکھتا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے بارے میں پوچھتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہو ۔
صحیح بخاری: حدیث نمبر: 7363
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...