Wednesday, June 23, 2021

حلالہ ‏! ‏! ‏! ‏! ‏! ‏ایک ‏نحوست ‏! ‏! ‏! ‏ایک ‏لعنت ‏


حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی صاحب کا تجربہ

ایک انگریز عیسائی جوڑے نے جس کو اسلام قبول کئے ہوئے دس بارہ سال ہی ہوئے تھے ، اپنی بیوی کو تین طلاقیں بیک وقت دے دیں ، تمام علماء نے حلالہ کا فتوی دیا ، کسی نے مشورہ دیا کہ دار العلوم ندوۃ العملماء کے اجلاس میں مفتی محمد شفیع صاحب آئے ہوئے ہیں ان سے رجوع کرو ، وہ مفتی صاحب کے پاس گیا ، انہوں نے مشورہ دیا کہ صبح کو اپنے تمام واقعات لکھ کر لے آؤ ، وہ صبح آئے ، مفتی صاحب نے دوسرے مفتیان صاحبان کو جو تشریف رکھتے تھے ، وہ کاغذ دکھایا ، سب نے حلالہ کا فتوی دیا ، جناب مفتی شفیع صاحب نے اس پر فتوی تحریر کیا:

*”مسلمانوں کے ایک مسلک موسومہ بہ اھل الحدیث کے نزدیک ایک ہی طلاق ہوئی ہے ، رجوع کر لیا جائے“*

وہ چلے گئے اور رجوع کر لیا ، جب وہ چلے گئے تو مفتی صاحب نے فرمایا:

*اگر اس وقت میں یہ فتوی نہ دیتا تو یہ جوڑا پھر عیسائی ہوجاتا کہ جس اسلام میں میری ایک ذرا سی غلطی کی تلافی ممکن نہیں ہے ، وہ مذھب صحیح نہیں ہو سکتا* 

[ماہنامہ الشریعہ جلد 21 شمارہ 7 جولائی 2010 صفحہ 14، بحوالہ تحفہ احناف ص 385]

معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں رائج حلالہ وہ نحوست ہے جو لوگوں کوکل بھی اسلام سے دور کرتا تھا اور آج بھی دور کرتا ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ 

 ‏‏‏‏‏‏عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏  أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  هُوَ الْمُحَلِّلُ، ‏‏‏‏‏‏لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ .
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  کیا میں تم کو کراۓ کے سانڈ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے-
(سنن ابن ماجه:1936،صحيح)
 
صحابہ کرام کا متفقہ فتوی ہے کہ حلالہ کی نیت سے کیا گیا نکاح باطل ہے اور اس نکاح سے عورت اپنے پہلے شوہر کے لئے ہرگز حلال نہ ہوگی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میرے پاس حلالہ کرنے والے اور حلالہ کروانے والے کو لایا گیا تتو میں انہیں رجم کروں گا 

(مصنف عبد الرزاق وابن ابی شیبہ) 

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص سوال کرتا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے ڈالیں ، پھر اس کا ایک بھائی اس کی بیوی سے اس نیت سے نکاح کرتا ہے کہ پہلے شوہر کے لئے وہ حلال ہوجائے حالانکہ پہلے شوہر سے کوئی معاملہ طے نہیں ہوا تو کیا اس طرح وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی ؟ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نےجواب دیا کہ : نہیں الا یہ کہ وہ شخص اسے بیوی رکھنے کی رغبت سے شادی کرے ، اس عمل کو تو ہم عہد رسالت میں زنا شمار کرتے تھے۔ اور وہ دونوں زناہی کرتے ہیں گے گرچہ وہ اس طرح دس سال گذار دیں۔ 

أنَّهُ تزوَّجَها ولم يأمُرني ولَم أُعلمهُ ، فقال ابنُ عمرَ : لا إلَّا نِكاحَ رغبةٍ إن رضيتَ أمسَكتَ ، وإن كرِهتَ فارقتَ ، كنَّا نَعُدُّ هذا على عَهدِ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ سِفاحًا

الراوي : عبدالله بن عمر | المحدث : أبو نعيم | المصدر : حلية الأولياء

الصفحة أو الرقم: 7/105 | خلاصة حكم المحدث : غريب من حديث الثوري

 عنِ ابنِ عمرَ أنَّ رجلًا قال له : تزوَّجتُها أُحلُّها لزوجِها لم يأمرْني ولم يعلمْ قال : لا إلا نكاحَ رغْبةٍ إن أعجبَتْك أمسكْتَها وإن كرهتَها فارقْتَها ، قال : وإن كنا نعدُّه على عهدِ رسولِ اللهِ سِفاحًا وقال لا يزالا زانِيَينِ وإن مكثا عشرين سنةً إذا علم أنه يُريدُ أن يُحلَّها
الراوي : عبدالله بن عمر | المحدث : الألباني | المصدر : إرواء الغليل
الصفحة أو الرقم: 1898 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
مولانا اقبال قاسمی سلفی

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...