Thursday, September 30, 2021

مولانامودودی اور امیر معاویہؓ پر الزام بغاوت ‏۔ ‏پارٹ2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا اقبال قاسمی سلفی

مولانامودودی اور امیر معاویہؓ پر الزام بغاوت ۔ پارٹ2

حضرت عکرمہ فرماتے ہیں:
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور  ( اپنے صاحبزادے )  علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے  ( رضاعی )  بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو  ( ہمارے پاس )  تشریف لائے اور  ( چادر اوڑھ کر )  گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں  ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے )  ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی  ( اطاعت کی )  طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ 
(صحیح بخاری:2812) 

 اس حدیث میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے تعلق سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :"اے عمار تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔" 

 اس باغی جماعت سے کون سی جماعت مراد ہے۔ کیا اس سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت مراد ہے جیسا کہ مولانا مودودی اور انکے فالوورس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت پر باغی جماعت ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ 
کیا واقعی صحابی رسول، کاتب وحی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ باغی تھےتھے؟؟؟ اور اگر نہیں تھے توان روایات کا کیا مطلب ہے؟؟ 

اس سے پہلے کے بلاگ پوسٹ میں ہم نے چند پوائنٹس رکھے تھے۔ بہتر ہوگا اسے بھی مطالعہ کر لیں۔ 

اب آگے ملاحظہ کریں۔ 

 صحیح بخاری کی اس روایت کے بارے میں صحیح موقف یہی ہے کہ "تقتله الفئة الباغيه" کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، یہ راویوں کا اضافہ یے۔ امام بخاری نے اسے درج نہیں کئے تھے۔ 
ابو مسعود الدمشقی نے "اطراف الصحیحین" میں، امام بیہقی نے "دلائل النبوۃ" میں، امام حمیدی نے "الجامع بین الصحیحین" میں، ابن اثیر جزری نے اپنی کتاب "جامع  الاصول فی احادیث الرسول"میں ، امام مزی نے اپنی کتاب "تحفۃ الاشراف بمعرفۃ الاطراف" میں اور امام ذہبی نے اپنی کتاب "تاریخ الاسلام ووفیات المشاھیر" میں اسی موقف کو اپنایا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کی صحت پر تو امت کا اجماع ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ اس اجماع کے باوجود چند ایک متعین مقامات ہیں جن میں کچھ علل و اوہام کی بناء پر محدثین نے کلام کیا ہے۔
أبو بكر الخلال(235ـ311هـ)  (شیخ الحنابلۃ) فرماتے ہیں:
محمد بن عبداللہ بن ابراہیم نے اپنے والد سے سنا، وہ کہتے ہیں:
" میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ، اس حوالے سے 28 روایات مروی ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک روایت بھی صحیح نہیں ہے۔ "
(ابو بکر الخلال:السنہ:2/463) 
امام ابو بکر الخلال دوسرا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ہمیں اسماعیل بن فضل نے خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن ابراہیم سے سنا یے ، وہ کہتے ہیں:

"میں نے امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، ابو خیثمہ اور معیطی رحمہ اللہ کے حلقے میں یہ بات سنی ہے کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ، اس حوالے سے کوئی ایک روایت بھی صحیح نہیں ہے۔" 
(ابو بکر الخلال:السنہ:2/463)

اور اگر  روایت کے اس ٹکڑے کو درست بھی مان لیا جائے تو "الباغيه" کا یہاں پر وہ معنی نہیں ہے جو مخالفین صحابہ، مرزائی اور حنفی مودودی نے لیا ہے۔ یہاں بغاوت سے وہ بغاوت  مراد نہیں ہے جو خوارج وغیرہ کے لئے بولا گیا ہے۔ 
اس کی وجہ یہ ہے کہ صحیح بخاری کی ہی ایک روایت میں رسول ﷺ نے فرمایا  :
 لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ ، دَعْوَتُهُمَا وَاحِدَةٌ.
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہو گی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا۔ 
(صحیح بخاری:7121) 
اور حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔ ان دو جماعتوں سے مراد حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی جماعت ہے۔ اور ان کے دعوی سے مراد "اسلام" ہے کہ دونوں اسلام کے نام پر لڑیں گے۔ یا ان کے دعوے سے مراد یہ ہے کہ دونوں حق پر ہونے کا دعویٰ کریں گے۔ 
جیسا کہ صحیح مسلم کی روایتوں میں اس کی صراحت ہے۔ 
عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَ فِيهِ قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَى فُرْقَةٍ مُخْتَلِفَةٍ يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ مِنْ الْحَقِّ۔ 
 نبی کریم ﷺ نے یہ بات ایک حدیث میں روایت کی جس میں آپ نے اس قوم کا تذکرہ فرمایا جو ( امت کے ) مختلف گروہوں میں بٹنے کے وقت نکلے گی ، ان کو دونوں گروہوں میں سے حق سے قریب تر گروہ قتل کرے گا۔ 
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَمْرُقُ مَارِقَةٌ فِي فُرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ فَيَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں میں گروہ بندی کے وقت دین میں سے تیزی سے نکل جانے والا ایک فرقہ تیزی سے نکلے گا ۔ ان کے قتل کی ذمہ داری دونوں جماعتوں میں سے حق سے زیادہ تعلق رکھنے والی جماعت پوری کرے گی ۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَقِّ
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے دو گروہ ہوں گے ان دونوں کے درمیان سے ، دین میں سے تیزی سے باہر ہوجانے والے نکلیں گے ، انھیں وہ گروہ قتل کرے گا۔ جو دونوں گروہوں میں سے زیادہ حق کے لائق ہوگا۔ 
(صحیح مسلم:2459، 2460، 2461) 
ان تمام احادیث میں دونوں گروہوں سے مراد حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی جماعت ہے۔
نیز ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں ہی جماعت حق پر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک جماعت  "اولى بالحق" اور "اقرب من الحق" ہے۔
یعنی حق پر تو دونوں ہی جماعت ہے لیکن ان میں سے ایک جماعت زیادہ حق پر اور حق کے قریب تر ہے، اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت ہے۔ 

اب اگر "تقتله الباغيه" میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت کے لئے باغی سے وہ معنی مراد لیں جو مرزائی اور مودودی لوگ لیتے ہیں، یعنی ناحق پر ہونا یا باطل ہونا، تو دونوں حدیثوں میں تضاد ہوجاۓ گا، کہ ایک حدیث(حدیث نمبر:7121) میں تو اللہ کے رسول ﷺ  معاویہ کی جماعت کو حق پر ہونا قرار دے ہےہیں ، جبکہ دوسری حدیث میں باغی یعنی باطل کہہ رہے ہیں۔ 
 اور زبان رسالت سے ایسا تضاد صادر نہیں ہو سکتا۔

لہذا بغی کا یہاں اصل معنی "چایت" کے ہیں جیسا کہ قرآن پاک آیات "ابتغاء مرضات الله" اللہ کی رضا چاہنے کے لئے، اور حدیث "يا باغي الخير" اے خیر کے چاہنے والے ، میں جو معنی مراد ہیں

اور بغی کا اصل معنی یہی ہوتا ہے چاہنے والا۔ 
البتہ بعض اوقات اس لفظ میں "چاہت" کے ساتھ کسی معنی کا اضافہ ہو ہوتا ہے
۔جیسا کہ آیت مبارکہ
 "فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ۔ 
میں وہ چاہنا مراد ہے  جو آپ کا حق نہ ہو۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اس معنی میں "باغی" کہا گیا کہ وہ اپنا حق تو چاہ ہی رہے ہیں یعنی قاتلینِ عثمان کا بدلہ۔ لیکن اس سے زیادہ چاہ رہے ہیں جتنا ان کا بنتا ہے یعنی ان حالات میں قصاص چاہ رہے ہیں جن حالات میں حضرت علی کے لئے قصاص لینا ممکن نہیں تھا۔ 
 
اور اگر "بغی" کو  بغاوت ہی کے معنی میں لیں تو مطلب ہوگا کہ حضرت عمار رضی عنہ کو واقعی باغی جماعت ہی نے قتل کیا تھا جو اس وقت سبائی ٹولے کی شکل میں موجود تھا۔ موقع ملتے ہی کسی طرح وہ  معاویہ رضی اللہ عنہ کی صفوں میں گھس  کر حضرت عمار کو شہید کردیا ۔ اور الزام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت پر لگا دیا۔

Monday, September 27, 2021

فرض ‏نماز ‏کے ‏بعد ‏سر ‏پر ‏ہاتھ ‏رکھ ‏کر ‏"ياقوي"پڑھنا تھانوی ایجاد ‏! ‏

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مولانا اقبال قاسمی سلفی

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں اور ضعیف و موضوع روایتوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی عوام، علماء اور مفتیوں کو بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ امام کے فرض نماز کے سلام سے فارغ ہوتے ہی لوگ اپنا ماتھا پکڑلیتے ہیں اور  مختلف وظیفے ادا کرتے ہیں۔ کوئی ياقوي اور یا نور کا ورد کرتا ہےاور کوئی يارحمان اور يا رحيم کا۔ اور پھر انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرتے ہیں۔ 
  
لیکن ان کا یہ عمل بالکل نادرست اور من گھڑت ہے۔ فرض نماز کے نماز کے بعد ماتھا پکڑ کر "ياقوي" اور "يا نور" پڑھنااور انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں میں پھیرنا۔۔۔۔ 

نہ رسول اللہﷺ سے ثابت ہے
نہ صحابہ کرام سے۔ ۔  ۔۔ 
نہ امام ابوحنیفہ سے 
نہ امام شافعی سے 
نہ امام مالک سے
نہ امام احمد بن حنبل سے۔۔ نہ شیخ عبدالقادر جیلانی سے۔۔ 

یہ عمل صحیح تو کیا کسی ضعیف، موضوع اور من گھڑت روایت میں بھی موجود نہیں ہے۔ یہ کتاب وسنت میں نہیں بلکہ سراسر آج کے تھانویوں اور رضاخانیوں کے دماغ کی اپج ہے، جس کا اعتراف دیوبند کے مشہور مفتی، مفتی شبیر قاسمی نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ وہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :
"اور ’’ یاقوي‘‘یا  ’’یا نور‘‘ وغیرہ پڑھنا کسی حدیث میں نہیں ملا؛ البتہ حضرت تھانویؒ نے بہشتی زیور میں بطور علاج اس عمل کو لکھا ہے کہ سلام کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر ’’ یاقوی‘‘ گیارہ مرتبہ پڑھنے سے دماغ میں قوت آتی ہے اور گیارہ مرتبہ ’’یانور‘‘ پڑھ کر انگلیوں پر پھونک مار کر آنکھوں پر پھیر لینے سے آنکھوں کی روشنی بڑھتی ہے، یہ طب اور تجربہ کے اعتبار سے اچھا عمل ہے" 
(فتویٰ نمبر9478/38)

معلوم ہوا کہ یہ عمل سراسر تھانوی ایجاد ہے۔ 
 فرض نماز کے بعد صحیح اور مسنون عمل کیا ہیں؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھا کرتے تھے؟  صحیح احادیث میں مذکور ہیں۔ مثلاً نبیﷺسے  فرض نماز کے بعد مندرجہ ذیل اذکار ثابت ہیں:

1) اللَّهُ أَكْبَرُ
(صحیح البخاری:842) 

2)أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(مسلم: 591) 

3) سُبْحَانَ اللَّهِ (33دفعہ)۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ(33دفعہ)۔ اللَّهُ أَكْبَرُ (34دفعہ)
(مسلم:596) 

4) لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ
[بخاری:ـکتاب 844) 


5) لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كره الكافرون
(مسلم:594) 

6) اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ
(بخاری :2822) 

7) اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
(أبوداؤد:1522) 
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:  اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں ، پھر فرمایا:  اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك
( اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما)۔  
 معاذ رضی اللہ عنہ نے صنابحی کو اور صنابحی نے ابوعبدالرحمٰن کو اس کی وصیت کی۔ (ابوداؤد:1522) 

8) رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
(مسلم:709 ) 
 
9) سورۃ الفلق

10)سورۃ الناس
(ترمذی:2903) 

اس طرح اور بھی مسنون اذکار ہیں جو نبی کریم ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت شدہ ہیں جنہیں پڑھنے سے واقعی دل ودماغ تروتازہ اور روشن رہتے ہیں۔ کیونکہ نبیﷺ نے خود یہ دعا فرمائی ہے۔ ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے(اس پر عمل کرے) اور دوسروں تک پہنچائے" (ابوداؤد:2658)

اب آئیے ان روایتوں کا جائزہ لیتے جن میں نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھنے کا ذکر ہے۔ سلام الطّويل المدائني عن زيد العمي عن معاويه بن قرة عن انس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه سے روایت ہے کہ
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله تعالىٰ عليه وسلم إذا قضي صلاته مسح جبهته بيده اليمني ثم قال : أشهد أن لاإله إلا الله الرحمن الرحيم، اللهم اذهب عني الهم و الحزن

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز پوری کرتے (تو) اپنی پیشانی کو دائیں ہاتھ سے چھوتے پھر فرماتے : ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ رحمٰن و رحیم ہے۔ اے اللہ ! غم اور مصیبت مجھ سے دور کر دے۔ “

[ عمل اليوم الليلة لابن السني : ح 112 واللفظ له، الطبراني فى الاوسط 243/3 ح 2520 دوسرا نسخه : 2499، كتاب الدعاء للطبراني 1096/2 ح 659، الأمالي لابن سمعون : ح 121، نتائج الافكار لابن حجر 301/2، حلية الاولياء لابي نعيم الاصبهاني 301، 302/2 ]
↰ اس روایت کی سند سخت ضعیف ہے۔
➊ سلام الطّویل المدائنی : متروک ہے
◈ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا : تركوه [كتاب الضعفاء مع تحقيقي : تحفة الاقوياء ص 51 ت : 155 ]
◈ حاکم نیشاپوری نے کہا:
”اس نے حمید الطّویل، ابوعمرو بن العلاء اور ثور بن یزید سے موضوع احادیث بیان کی ہیں۔“ [المدخل الي الصحيح ص 144 ت : 73 ]
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا:
وقد أجمعوا على ضعفه ”اور اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔ “ [مجمع الزوائد ج 1 ص 212 ]
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رحمہ الله فرماتے ہیں :
والحديث ضعيف جداً بسببه
”اور (یہ) حدیث سلام الطویل کے سبب کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔“ [نتائج الافكار 301/2 ]

➋ اس سند کا دوسرا راوی زید العمی : ضعیف ہے۔ [تقریب التہذیب : 2131]
اسے جمہور (محدثین) نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزوائد 110/10، 260 ]
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وبقية رجال أحد إسنادي الطبراني ثقات وفي بعضهم خلاف
اور طبرانی کی دو سندوں میں سے ایک سند کے بقیہ راوی ثقہ ہیں اور ان میں سے بعض میں اختلاف ہے۔ [مجمع الزوائد : 110/10 ]
طبرانی والی دوسری سند تو کہیں نہیں ملی، غالباً حافظ ہیثمی رحمہ اللہ کا اشارہ البزار کی حدثنا الحارث بن الخضر العطار : ثنا عثمان ب ن فرقد عن زيد العمي عن معاوية بن قرة عن أنس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه… . . إلخ والی سند کی طرف ہے۔ [ديكهئے كشف الاستار 22/4 ح 3100 ]

عرض ہے کہ الحارث بن الخضر العطار کے حالات کسی کتاب میں نہیں ملے اور یہ عین ممکن ہے کہ اس نے عثمان بن فرقد اور زید العمی کے درمیان سلام الطویل المدائنی کے واسطے کو گرا دیا ہو۔ اگر نہ بھی گرایا ہو تو یہ سند اس کے مجہول ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

دوسری روایت :

كثير بن سليم عن انس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه سے سند مروی ہے کہ :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله تعالىٰ عليه وسلم إذا قضي صلاته مسح جبهته بيمينه ثم يقول : باسم الله الذى لا إله غيره، اللهم اذهب عني الهم و الحزن، ثلاثاً

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز پوری کرتے تو دائیں ہاتھ سے اپنی پیشانی کا مسح کر کے تین دفعہ فرماتے : ”اس اللہ کے نام کے ساتھ (شروع) جس کے علاوہ کوئی [برحق] الٰہ نہیں ہے، اے اللہ ! میرے غم اور مصیبت کو دور کر دے۔“ 

[الكامل لابن عدي 199/7 ترجمة كثير بن سليم، واللفظ له، الاوسط للطبراني 126/4 ح 3202 وكتاب الدعاء للطبراني 1095/2 ح 658، الأمالي للشجري 249/1 وتاريخ بغداد 480/12 و نتائج الافكار 302، 301/2 ]
 
کثیر بن سلیم کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : منكر الحديث [كتاب الضعفاء بتحقيقي تحفة الاقوياء : 316]
جسے امام بخاری رحمہ اللہ منکر الحدیث کہہ دیں، ان کے نزدیک اس راوی سے روایت حلال نہیں ہے۔ [ديكهئے لسان الميزان ج1 ص20]
کثیر بن سلیم کے بارے میں امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : متروك الحديث [كتاب الضعفاء و المتروكين : 506 ]
متروک راوی کی روایت شواہد و متابعات میں بھی معتبر نہیں ہے۔ دیکھئے اختصار علوم الحدیث للابن کثیر رحمہ اللہ [ص38، النوع الثاني، تعريفات اخري للحسن ]

خلاصہ التحقیق :
یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ سخت ضعیف ہے۔
شیخ البانی رحمہ الله نے بھی اسے ضعيف جداً ”سخت ضعیف قرار دیا ہے۔“ [السلسة الضعيفة 114/2 ح 660 ]

تنبیہ : سیوطی رحمہ الله نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [الجامع الصغير : 6741 ]
(بتحقیق غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ)

اس تحقیق سے یہ بخوبی واضح ہو گیا کہ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر ذکر کرنے کی جتنی روایتیں آئی ہیں، ان میں کوئی بھی روایت نبیﷺ سے صحیح ثابت نہیں ہے۔ کیونکہ ان روایتوں میں سلام الطویل المدائنی، زید العمی اور کثیر بن سلیم جیسے روات موجود ہیں جن پر محدثین نے متروک الحدیث، منکر الحدیث اور شدید ضعیف ہونے کا حکم لگایا ہے۔ ان جیسے روایوں کی روایت پر عمل کرنا باتفاق امت ناجائز اور حرام ہے۔ 

رہا نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر گیارہ گیارہ مرتبہ یا قوی پڑھنا اور انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرنا،  یہ صحیح تو کیا کوئی موضوع روایت بھی ایسی موجود نہیں ہے۔ بیسویں صدی میں مولانااشرف علی تھانوی نے سب سے پہلے اس وظیفہ کو دماغی قوت بڑھانے کا نسخہ بتایا لوگوں میں ایجاد کیا تھا۔ جسے آج تک لوگ گیارہ گیارہ مرتبہ ہر فرض نماز کےبعد  "دماغین ٹانک" سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں۔ 
لیکن اس ٹانک سے آج تک تقلیدی دیوبندیوں اور رضاخانیوں کا نہ دماغ بڑھا اور نہ ہی عقل بڑھی۔ اور بڑھتی بھی کیسے کیونکہ رہبر انسانیت، حکیم الامت جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے 14 سو سال پہلے ہی اس کو رجکٹ قرار دے دیا تھا 
حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں:: من عمل عملا ليس عليه امرنا فهو رد ".
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم(حدیث، سنت یا طریقہ موجود نہیں ہے) تو وہ مردود (rejected) ہے۔“
(صحیح مسلم:4493)

اس حقیقت کے باوجود دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کا فتویٰ ملاحظہ کریں۔ 
چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے اس عمل کے بارے میں پوچھا گیا:
سوال:
کچھ لوگ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ سات مرتبہ یا قوی پڑھتے ہیں ، کیا اس کا ذکر کسی حدیث میں ہے؟

جو جواب ملا وہ ملاحظہ کریں:
 قويٌّ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیتِ دعاء احادیث سے ثابت ہے۔ أسماء اللہ الحسنیٰ التي أمرنا بالدعاء بھا (بخاری ومسلم) وفي لفظ ابن مردویة وأبي نعیم: من دعا بھا استجاب اللہ دعاءہ۔ اور بوقت دعا و ذکر سر پر ہاتھ رکھنا بھی حدیث سے ثابت ہے اور نماز کے بعد بھی وروینا في کتاب ابن السني عن أنس -رضي اللہ عنہ- قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیدہ الیُمنی ثم قال: أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن (کتاب الأذکار للنووي:ص63) اور جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے اور یاقوي کا وظیفہ وہ شخص پڑھتا ہے جس کا ذہن کمزور ہوتا ہے لہٰذا جب اس کی نظیر احادیث سے ثابت ہے تو اس کو بدعت کہنا درست نہیں۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند۔
 جواب نمبر:  1052

ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پوچھے گئے سوال کے مطابق :
"کچھ لوگ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ سات مرتبہ یا قوی پڑھتے ہیں ، کیا اس کا ذکر کسی حدیث میں ہے؟"
 
جواب دیتے کہ سر پر ہاتھ رکھ کر سات مرتبہ یا قوی پڑھنا فلاں حدیث میں ہے۔ یہ عمل فلاں صحابی، تابعی یا تبع تابعی کا ہے۔ یا کم از کم فقہ حنفی کی فلاں کتاب میں یہ عمل مذکور ہے۔
اور دراصل سوال کے طریقےسے  سائل کا منشاء بھی یہی ظاہر ہورہا ہے۔ کیونکہ سوال میں واضح طور پر اس عمل کے متعلق حدیث کا مطالبہ کیا گیا۔

لیکن سائل کے اس مطالبے کو پورا کرنے کے بجائے اس بے دلیل عمل کو کس طرح سند جوازعطا کیا گیا۔ 

آئیے اس فتویٰ کا جائزہ لیں۔

 مفتی صاحب فرماتے ہیں:
قويٌّ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیتِ دعاء احادیث سے ثابت ہے۔ أسماء اللہ الحسنیٰ التي أمرنا بالدعاء بھا (بخاری ومسلم) وفي لفظ ابن مردویة وأبي نعیم: من دعا بھا استجاب اللہ دعاءہ۔ 

جواب: یقیناً "قوي"اسماۓ حسنی میں سے ہے اور اسماۓ حسنی کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیت دعا قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اسماء الحسنیٰ کے وسیلے سے دعا کرنا دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا (اعراف:180)
" اور اللہ تعالٰی کے سب نام اچھے ہیں، اسے انہی ناموں سے پکارو"۔
 سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ان للہ تسعۃ وتسعین اسما مائۃ الا واحد من احصاھا دخل الجنۃ"(مشکوٰۃ ص199)
" بے شک اللہ کے ننانوے ایک کم سو نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا"
پتہ چلا کہ اسماۓ حسنی کے ذریعے اللہ سے دعا کرنی چاہئے۔ دعاؤں میں اللہ کے اسماۓ حسنی کا وسیلہ اختیار کرنا چاہیئے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: 
أَلِظُّوا بياذا الجلالِ و الإكرامِ.(صحيح الجامع:1250) 
ذوالجلال والا کرام کے نام کا حوالہ دیکر اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کیا کرو۔
 معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اسماۓ حسنی کے ذریعہ دعا کرنے کی تعلیم دی ہے، اپنی طرف سے اسے دماغی قوت بڑھانے کا نسخہ بنانے کی تعلیم نہیں دی ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان تقلیدیوں کا عمل اگر 
کتاب و سنت کے مطابق ہوتا تو دماغی قوت میں از خود اضافہ ہوجاتا۔ 
 
آگے مفتی صاحب فرماتے ہیں:
" اور بوقت دعا و ذکر سر پر ہاتھ رکھنا بھی حدیث سے ثابت ہے". 
جواب : یہ سراسر جھوٹ ہے۔ بوقت دعا اور ذکر سر پر ہاتھ رکھنا کہیں بھی ثابت نہیں ہے۔

 آگے فرماتے ہیں:
"اور نماز کے بعد بھی۔ (سر پر ہاتھ رکھنا ثابت ہے۔) وروینا في کتاب ابن السني عن أنس -رضي اللہ عنہ- قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیدہ الیُمنی ثم قال: أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن" (کتاب الأذکار للنووي:ص63)
جواب:
اس روایت کی تحقیق اوپر گذر چکی کہ  باعتبار سند یہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔ نیز اس روایت میں "ياقوي" نہیں بلکہ أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن پڑھنا مذکور ہے۔ 
 اور انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرنے کا بھی  کہیں ذکر نہیں ہے۔ 

اس کے بعد فرماتے ہیں:
 "اور جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے." 

جواب:یقیناً جس عضو میں تکلیف ہو اس ہر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے.  سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ایک درد کی شکایت کی ،  جو ان کے بدن میں پیدا ہو گیا تھا جب سے وہ مسلمان ہوئے تھے ۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار  ( بسم اللہ ) کہو ،  اس کے بعد سات بار یہ کہو (اَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ )” میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جس کو پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں“ ۔ (صحیح مسلم:5737) 
لیکن اس حدیث میں کہیں بھی سر پر ہاتھ رکھ کر "یا قوی" پڑھنے کا ثبوت نہیں ہے۔ نیز بمطابق فتویٰ "جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے." لیکن یہاں تو کسی کے سر میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اور اگر ہے تو کیا تکلیف بھی ان تقلیدیوں کی اجتماعی ہوتی ہے ؟؟فیا للعجب! 

اس کے بعد مفتی دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں:
"اور "یاقوي" کا وظیفہ وہ شخص پڑھتا ہے جس کا ذہن کمزور ہوتا ہے۔"
جواب: صحیح فرمایا آپ نے! قوی ذہن کا آدمی ایسا من گھڑت عمل کر بھی کیسے سکتا ہے؟ 
 
اور اخیر میں مفتی صاحب فرماتے ہیں:
"لہٰذا جب اس کی نظیر احادیث سے ثابت ہے تو اس کو بدعت کہنا درست نہیں"

جواب: آپ کا فتویٰ ہی بے نظیر ہے جناب!  آپ کے اس فتوے کے بعد دنیا میں کسی بھی بدعت کو بدعت کہنا درست نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہر بدعت کی نظیر یا کم از کم اس نظیر کی نظیر تو موجود ہی ہے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Friday, September 17, 2021

"میں اور علی ایک نور تھے"وائرل روایت کی تحقیق!!! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مولانا اقبال قاسمی سلفی

غلو کرنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں اس حد تک غلو کرجاتے ہیں کہ انہیں انبیاء کرام علیھم السلام پر بھی برتری اور فوقیت دینی شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی شان میں حدیثیں وضع کر جاتےہیں۔ ان ہی موضوع احادیث میں سے ایک حدیث کی تحقیق آپ کے پیش خدمت ہے۔ جس میں یہ کہا گیا ہے کہ "میں اور علی ایک نور تھے۔ 

حدثنا الحسن قثنا أحمد بن المقدام العجلي قثنا الفضيل بن عياض قثنا ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن زاذان عن سلمان قال سمعت حبيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ((كنت انا وعلي نورا بين يدي الله عز وجل قبل ان يخلق آدم بأربعة عشر ألف عام فلما خلق الله آدم قسم ذلك النور جزءين فجزء أنا وجزء علي عليه السلام))

ترجمہ:حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے چودہ ہزار سال پہلے میں اور آدم ایک نور تھے۔پھر جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو اس نور کو دو حصوں میں تقسیم کیا، اس نور کا ایک حصہ میں ہوں اور ایک حصہ علی ہے۔
(فضائل صحابہ؛ امام احمد بن حنبل:1130) 
ابن عساکر؛ تاریخ دمشق 42/67
امام مغازلی؛ مناقب علی:130
اخطب خوارزم؛ مناقب:ص145
یہ روایت موضوع ہے۔
اس کی سند میں  حسن بن علي بن صالح بن زكريا أبو سعيد العدوي ہے۔

اس کے بارے میں محدثین کے جرح و تعدیل کے اقوال:
 قال ابن عدي رحمه الله في الكامل : (3/195) ط دار الكتب العلمية
يضع الحديث ويسرق الحديث ويلزقه على قوم آخرين ، ويحدث عن قوم لا يعرفون

اس راوی کے بارے میں ابن عدی "الکامل" میں فرماتے ہیں: یہ راوی حدیث وضع بھی کرتا تھا اور چوری بھی۔  الزام دوسروں پر ڈال دیتا تھا اور نامعلوم لوگوں سے حدیثیں بیان کرتا تھا۔ 

وقال ابن حبان في المجروحين (1/292 ) 
من أهل البصرة سكن بغداد يروي عن شيوخ لم يرهم ويضع على من رآهم الحديث
ابن حبان "المجروحین" میں فرماتے ہیں۔ 
بصری تھا لیکن بغداد میں سکونت اختیار کر کیا تھا ۔ ایسے شیوخ سے حدیثیں بیان کرتا تھا جنہیں اس نے دیکھا نہیں ہے، اور جن لوگوں کو دیکھا تھا ان کے نام پر حدیثیں وضع کرتا تھا۔ 

وقال الدار قطني: متروک يضع اسانيد و متونا، كذاب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول على رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقل. 
امام دار قطنی فرماتے ہیں:
متروک ہےاور وہ سند اور متن دونوں گھڑتاتھا۔ اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ باندھا کرتا تھا اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا تھا جو آپ نے نہیں کہی ہیں۔ 
حمزہ بن یوسف کہتے ہیں میں نے امام دار قطنی سے حسن بن علی ابوسعید بصری راوی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: وہ متروک ہے، میں نے پوچھا لوگ اسے بھیڑیا کہتے ہیں۔ دارقطنی نے کہا:ہاں۔ 
(تاریخ بغداد:الخطیب بغدادی)

اس روایت کو سبط ابن جوزی  رافضی نے امام احمد بن حنبل کی کتاب فضائل صحابہ کے حوالے سے "تذکرہ خواص الامہ" میں روایت کیا ہے اور کہا: و رجاله رجال الصحيح. 
اس کے رجا ل صحیح کے رجال ہیں۔  

قال سبط ابن الجوزي:
قال أحمد في الفضائل: حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن خالد بن معدان، عن زاذان عن سلمان، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:۔۔۔۔۔۔ 

لیکن اس کی سند منقطع ہے کیونکہ امام احمد بن حنبل کی وفات 241ھ یے جبکہ عبد الرزاق کی وفات 211ھ ہے۔لہذا یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ نیز یہ روایت مصنف عبد الرزاق میں  موجود بھی نہیں ہے۔
نیز اس سند سے یہ روایت "فضائل صحابہ" میں کہیں موجود نہیں ہے۔ 

"فضائل صحابہ" میں اس کی سند اس طرح ہے:
حدثنا الحسن قثنا أحمد بن المقدام العجلي قثنا الفضيل بن عياض قثنا ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن زاذان عن سلمان قال سمعت حبيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 


اور اس سند سمیت دوسری تمام سندوں میں حسن بن علی بن صالح بن زکریا موجود یے جو کذاب یے۔ لہذا اس روایت کی کوئی سند صحیح نہیں ہے۔ 
بعض لوگوں نے اس حدیث کو یہ کہہ کر صحیح قرار دینے کی کوشش کی ہے کہ  اس روایت میں جو "حسن" ہے وہ حسن بن علی نہیں بلکہ حسن بن موسى الاشيب ہے۔

لیکن دوسری روایتوں میں اس کی صراحت ہے کہ اس روایت میں موجود راوی  حسن بن موسی نہیں بلکہ حسن بن علی بن صالح بن زکریا ابوسعید العدوی یی یے جو کذاب، وضاع اور سارق الحدیث ہے۔

ابن عساكر کی روایت:

أخبرنا أبو غالب بن البنا أنا أبو محمد الجوهري أنا أبو علي محمد بن أحمد بن يحيى العطشي نا أبو سعيد العدوي الحسن بن علي أنا أحمد بن المقدام العجلي أبو الأشعث أنا الفضيل بن عياض عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن زاذان عن سلمان قال سمعت حبيبي  رسول الله ...
(تاریخ دمشق:ابن عساکر:42/67) 
 عساکر نے اس میں اس راوی کا پورا نام اور کنیت دونوں کی صراحت کر دی ہے۔ 
امام مغازلی نے بھی "مناقب"ص87 میں اس کے نام کی  پوری صراحت کردی ہے:

أخبرنا أبو غالب محمد بن أحمد سهل النحوي رحمه الله أخبرنا أبو الحسن علي بن منصور الحلبي الاخباري أخبرنا علي بن محمد العدوي الشمشاطي حدثنا الحسن بن علي بن زكريا حدثنا أحمد بن المقدام العجلي حدثنا الفضيل بن عياض عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان ، عن زاذان ، عن سلمان قال : ...

اس سے یہ واضح ہو گیا کہ "فضائلِ صحابہ:امام احمد بن حنبل " والی روایت میں صرف"حسن" سے مراد حسن بن علی بن صالح بن زکریا ابو سعید العدوی ہی ہے۔ جو جمہور محدثین کے نزدیک کذاب اور وضاع ہے۔

اللهم انا نسئلك علما نافعا ورزقا طيبا و عملا متقبلا!! 

Thursday, September 16, 2021

मौलाना अहमद रज़ा खान हनफ़ी कादरी बरेलवी और जातिवाद!!


मौलाना इक़बाल क़ासमी सलफी

 मौलाना अहमद रज़ा खान
 (1856-1921) भारत में रज़ा खानी जमात के संस्थापक और सर्वोच्च नेता हैं। मौलाना जब तक जीवित रहे, मुसलमानों को बिद्आत और अंधविश्वास का उपहार देते रहे। मौलाना भारतीय खान समुदाय से थे!यह वही अहमद रजा खान हैं जिन्होंने अंग्रेजों की चापलूसी की थी। जिहाद के खिलाफ फतवा जारी कर अंग्रेज आकाओं को खुश करने के लिए उन्होंने "इलाम-उल-इलाम बिअनन्: हिंदुस्तान दार-उल-इस्लाम" जैसी किताब लिखी। वह उपमहाद्वीप के जातिवादी विद्वानों में से एक थे जिन्होंने प्रचलित जाति के आधार पर मुसलमानों के साथ भेदभाव करके उम्मा की एकता को तोड़ दिया। मौलाना की दृष्टि में सैयद की स्थिति इतनी महान थी कि यदि चोरी, व्यभिचार और हत्या जैसा अपराध सिद्ध भी हो गया तो न्यायाधीश को कोई सज़ा लगाने का इरादा नहीं होगा। 

 जब उनसे पूछा गया: 
प्रश्न: क्या  सय्यद लड़के को उसके शिक्षक  द्वारा मारा जा सकता है या नहीं?

इरशाद : जिस जज को खुदा की हदें क़ायम करने पर मुक़र्रर किया गया है, उस के सामने अगर किसी सैय्यद के उपर हद साबित कर दी जाए, और उस पर सज़ा जारी करना वाजिब हो  तो उसे हुक्म दिया जाता है कि वह सज़ा देने का इरादा न करे। , बल्कि दिल में ये निय्यत करे कि राजकुमार के पैर में कीचड़ लग गइ है जिसे, मैं साफ कर रहा हूं। (अल-मलफूज़ ३/५५) 

 हालाँकि, कुरान की किसी भी आयत में या प्रामाणिक हदीस में इस तरह के विरोधाभासों के लिए कोई जगह नहीं है। इसके विपरीत, इस्लामी समानता और न्याय के पृतीक पैग़म्बर स० के शब्द आज भी सुनहरे शब्दों में मौजूद हैं जो आपने अपनी बेटी फातिमा के बारे में कहे थे:उस ज़त की क़सम जिस के हाथ में मेरी आत्मा है अगर मुहम्मद की बेटी फातिमा ने भी चुराई होती, मैं उसका भी  हाथ काट दिया होता।"
 हज़रत आयशा से रिवायत है कि कुरैश एक मख़ज़ूमी औरत के चोरी हो जाने से बहुत परेशान हो गया था। उन्होंने कहा: कौन उसके लिए अल्लाह के रसूल के साथ हस्तक्षेप करेगा? फिर उसने (स्वयं) कहा: अल्लाह के रसूल के प्रिय उसामा बिन ज़ैद के अलावा और कौन ऐसा करने की हिम्मत कर सकता है? जब हज़रत ओसामा ने उनके लिए मध्यस्थता की, तो नबी (सल्लल्लाहु अलैहि व सल्लम) ने कहा: "क्या तुम अल्लाह द्वारा निर्धारित सीमाओं में से एक के लिए हस्तक्षेप कर रहे हैं? तब वह खड़ा हुआ और कहा: "तुम से पहले के लोग नाश हो गए, क्योंकि जब एक उच्च पद का व्यक्ति   चोरी करता, तो  उसे छोड़ दिया जाता, और जब कोई कमजोर आदमी चोरी करता, तो उसे हद लगा ते(सज़ा देते। अल्लाह की क़सम! अगर  मुहम्मद (सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम) की बेटी फातिमा ने भी चोरी की होती, तो मैं उसका हाथ भी काट देता। ”(सुनन निसाई: 4903)

खान साहब इस जात पात को निकाह में इतना महत्वपूर्ण मानते हैं कि ब्राह्मणवाद भी अपना चेहरा शर्म से ढांप ले  लेकिन इन मनोवादियों को बिल्कुल भी शर्म नहीं आती है। न जाने किस मुँह से ये लोग मुसलमानों को भाईचारा, एकता और समानता का पाठ पढाते रहे जबकि वे खुद ज़ात पात और भेदभाव  के बीज बोते रहे। 
अथवा  जब उनसे पूछा गया: "एक व्यक्ति कहता है कि सैय्यद की बेटी सभी तक पहुंच सकती है, यानी हर किसी से शादी करना जायज़ है," दूसरे ने जवाब दिया कि भले ही सफाई करने वाला (भंगी, महतर) मुसलमान हो जाए तब भी जायज़ है।'' 

इस सवाल के जवाब में मौलाना अहमद रजा खान हनफी बरेलवी कहते हैं: 

वह वयक्ति बेअदब और गुस्ताख है, सयय्दों की लड़कीया किसी मुगल, पेठान  या अन्सारी शैख को नहीं पहुचतीं जब तक वह आलिमे दीन (मौलाना)न हो| क्योंकि सयय्दों का सम्मान महान  उच्च है और गैर-कुरैश कुरैश का कुफू (समान) नहीं हो सकता है, फिर नीच लोग सादात के कुफू कैसे हो सकते हैं। अगर वयस्क (बालिग) सयय्दानी खुद किसी मुगल पठान या अंसारी शेख से अपनी मर्जी से शादी कर ले तो भी शादी नहीं होगी। (अल मल्फूज़ात: ३/११८) 
मौलाना सिर से पांव तक सयय्दवाद में इतने डूबे हुए थे कि तथाकथित सैय्यदों को छोड़कर सभी लोग उन्हें नीच दिखाई देते थे। अगर मौलाना  सैयदानवाद के अंधेपन से बाहर निकल कर इस्लाम की बेमिसाल समानता पर नज़र डालते तो वह ब्राह्मणवाद और मनुवाद की ऐसी गंदगी नहीं फिरते। भेदभाव को मिटाने के लिए तो पैगंबर (सल्लल्लाहु अलैहि व सल्लम) ने अपनी  फूफी ज़ाद बहन ज़ैनब बिन्त जह़श का निकाह अपने ग़ुलाम ज़ैद बिन हारिस के साथ करा दिया और अपनी खास चचेरी बहन ज़ुबाआ का निकाह मिक़दाद किन्दी (जो कपड़े बुनने का काम करते थे) के साथ कर दिया था! 
और फरमाया: "मैंने ज़ैद बिन हारिसा से ज़ैनब बिन्त जह़श का और मिक़दाद बिन असवद किन्दी से ज़ुबाआ बिन्त ज़ुबैर बिन अब्दुल मुत्तलिब का निकाह करा दिया ताकि लोग जान सकें कि सबसे बड़ा सम्मान इस्लाम का सम्मान है।" (सुनन सईद बिन मंसूर: 585)

कुछ अज्ञानी और ब्राह्मणवादी उलमाओं का कहना है कि बरादरी में फर्क के कारण, ज़ैद और ज़ैनब का कुछ दिनों बाद तलाक़ हो गया था लेकिन ह़क़ीक़त यह है कि हज़रत ज़ैद और ज़ैनब की तलाक़ किसी गैर-समुदाय में शादी के कारण नहीं हुई थी बल्कि उनकी तलाक़ एक गलत रस्म को मिटाने के लिए की गयी थी। और वह  गलत रस्म थी:गोद लिए गए बेटे(ले पालक बेटे) की पत्नी से निकाह को हराम समझना। ज़ैदद को अल्लाह के रसूल (सल्लल्लाहु अलैहि व सल्लम) ने अपने बेटे के रूप में गोद लिया था। और लोग ऐसे बेटे की पत्नी से निकाह़ को हराम समझते थे|

इस लिए इस रस्म को समाप्त करने के लिए, अल्लाह ने ज़ैद से तलाक दिलवाकर  ज़ैनब र॰ को पैगंबर से शादी करा दी। ताकि अपने पैगंबर के माध्यम से अज्ञानता के इस अनुष्ठान को समाप्त कराए। 

अल्लाह सर्वशक्तिमान ने  भी  इस तलाक का कारण समुदाय की असमानता नहीं बल्कि अज्ञानता के एक  अनुष्ठान का उन्मूलन बताया है। 

"तो जब ज़ैद ने इस औरत के साथ अपना मकसद पूरा कर लिया, तो हमने उसे तुम्हारे निकाह़ में दे दिया ताकि मुसलमानों को अपने ले पालकों की पत्नियों के बारे में कोई कठिनाई न हो, जबकि वे उसके साथ अपना उद्देश्य पूरा कर ले़ं। अल्लाह का यह आदेश होकर ही रहने वाला था। (सूरत अल-अहज़ाब: 37) 

ज़ैनब को तलाक देने के बाद, पैगंबर (सल्लल्लाहु अलैहि व सल्लम) ने ज़ैद की शादी अपनी फूफी की नतनी उम्मे कुलथुम बिन्त अक़बा से करा दी, लेकिन ज़ैद ने उसे भी तलाक़ दे दी थी और पैगंबर स॰ की चचेरी बहन दुरर्ह बिन्त अबी लहब  से निकाह़ कर लिया था और फिर उनको भी  तलाक़ दे दिया था। और और नबी स॰ की फूफी बहन हिंद बिन्त अल-अव्वाम से शादी कर ली। 
(अल-इसाबा फी तमीज़ अल-सहाबा, इब्न हजर: वॉल्यूम 2, पृष्ठ 496)
 
अगर हज़रत ज़ैद और ज़ैनब के तलाक का कारण गैर बरादरी में शादी होती, तो हज़रत ज़ैद को क़ुरैश और हाशमी परिवारों में अधिक शादियाँ करने से मना कर दिया जाता। लेकिन तथ्य यह है कि हज़रत ज़ैद (जो अल्लाह के रसूल के मुक्त दास थे) ने कुरैश परिवार में एक के बाद एक विवाह किया, यह इस बात का प्रमाण है कि विवाह में ज़ात पात,वंश और क़बीले का कोई महत्व नहीं है।  
इसी घटना में  हज़रत ज़ैनब  को यह कहते हुए सुना गया  कि जब पैगंबर स॰ ने ज़ैनब बिन्त जाह्श से हज़रत ज़ैद के साथ  निकाह़ करना चाहा। ज़ैनब ने यह कहते हुए इनकार कर दिया कि मुझे यह पसंद नहीं है क्योंकि मैं उनसे वंश में बेहतर हूं। मैं कुरैश की राजकुमारी हूं। मैं एक गुलाम से कैसे शादी कर सकतती हूं?
 सूरह अल-अहज़ाब की श्लोक ३६ है नाज़िल हो गई: 

"और जब अल्लाह और उसके रसूल कोई मामला तय कर दें , तो किसी भी ईमान वाले पुरुष या ईमान वाली महिला के पास कोई विकल्प नहीं होता है, और जो कोई अल्लाह और उसके रसूल की अवज्ञा करता है, वह वास्तव में गुमराही  में पड़ जाता है। , खुले तौर पर गुमराही। (सूरत अल-अहज़ाब: 36)

और फिर इस आयत के प्रकट होने के बाद, हज़रत ज़ैनब और उनके परिवार ने हज़रत ज़ैद से शादी करने के लिए अल्लाह और उसके रसूल के फैसले को स्वीकार कर लिया।
 

Tuesday, September 14, 2021

مولانا احمد رضا خان حنفی قادری بریلوی اور ذاتی واد ان اسلام۔۔۔ ‏

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

موضوع : مولانا احمد رضا خان بریلوی اور ذات پات 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

مولانا اقبال قاسمی سلفی

 مولانا احمد رضا خان (1856-1921)  ہندوستان میں رضا خانی جماعت کے بانی اور مرشد اعلیٰ ہیں۔ مولانا جب تک زندہ رہے مسلمانوں کو بدعات و خرافات کے تحفے لٹاتے رہے۔ مولانا کا تعلق ہندوستانی خان برادری سے تھا۔یہ وہی احمد رضاخان بریلوی ہیں جس نے انگریزوں کی جی بھر کر چاپلوسی کی تھی۔ جہاد کے خلاف فتوی دیتے ہوئے انگریزی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے"اعلام الاعلام بان هندوستان دار الاسلام "جیسی کتاب لکھی تھی۔ 

یہ برصغیر کے ان منووادی علماء میں سے ایک تھے جنہوں نے مروجہ ذات پات کی بنیاد پر مسلمانوں کو تفریق کا شکار بناکر امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا۔ 

مولانا کی نظر میں سید  کا اتنا عظیم مقام تھا کہ چوری، زنا اور قتل جیسے جرم بھی ثابت ہوجاۓ  تو قاضی حد لگاتے ہوئے حد کی نیت نہ کرے گا۔ چنانچہ جب ان سے پوچھا گیا: 
عرض:سید لڑکے کو اس کا استاد تادیبا مار سکتاہے یا نہیں؟ 
ارشاد: قاضی جو حدودالہیہ قائم کرنے پر مجبور ہے ، اس کے سامنے اگر کسی سید پر حد ثابت ہوئی تو باوجودیکہ اس پر حد لگانا فرض ہے اور وہ حد لگاۓ گا لیکن اس کو حکم ہے کہ سزا دینے کی نیت نہ کرے ، بلکہ دل میں یہ نیت رکھے کہ شہزادے کے پیر میں کیچڑ لگ گئی ہے ، اسے صاف کر رہا ہوں۔ 
(الملفوظ 3/55) 
یہ ہے احمد رضا خان حنفی کی سادات نوازی!! 
حالانکہ اس طرح کے منوازم  کی گنجائش نہ قرآن کی کسی آیت میں ہے نہ اللہ کے رسول ﷺ کی صحیح حدیث میں۔ بلکہ اس محسن انسانیت، عدل و انصاف کے پیکر اسلامی مساوات کے علمبردار کے الفاظ آج بھی سنہرے الفاظ میں موجود ہیں جو آپ نے اپنی بیٹی فاطمہ کے سلسلے میں کہے تھے "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔"

چنانچہ سنن نسائی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی ، کی وجہ سے قریش بڑے فکرمند ہوئے ۔ وہ کہنے لگے : اس کی سفارش رسول اللہ  ﷺ  سے کون کرے گا  ؟  پھر ( خود ہی ) کہنے لگے : اس کی جرأت رسول اللہ  ﷺ  کے محبوب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا کون کر سکتا ہے ! حضرت اسامہ نے آپ سے اس کی سفارش کی تو رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا :’’ تو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں سے ایک حد ( کو نافذ نہ کرنے ) کی بابت سفارش کر رہا ہے  ؟ ‘‘ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطاب کرتے ہوئے فرمایا :’’ تم لوگوں سے پہلے لوگ اسی بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی بلند مرتبہ شخص چوری کر لیتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کر لیتا تو اس کو حد لگا دیتے ۔ اللہ کی قسم ! اگر ( بالفرض ) محمد (  ﷺ  ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔‘‘ 
(سنن نسائی:4903)

خان صاحب اس ذات پات اونچ نیچ کو نکاح میں اس قدر معتبر مانتے ہیں کہ برہمن ازم بھی شرم سے اپنا منہ ڈھانپ لے لیکن ان منووادیوں کو ذرا بھی شرم نہ آۓ۔ نہ جانے کس منہ سے یہ لوگ مسلمانوں  میں  بھائی چارگی، اتحاد، مساوات اور "واعتصموا بحبل اللہ جمیعا"کا راگ الاپتے رہے۔ 
جبکہ یہ خود تفریق کا بیج بوتے رہے۔ 

چنانچہ جب ان سے پوچھا گیا کہ:
"ایک شخص کا فرمان ہے کہ سید کی دختر ہر ایک کو پہنچ سکتی ہے یعنی ہر ایک سے عقد جائز ہے ، دوسرے نے جواب دیا کہ اگر جاروب کش (بھنگی، مہتر) مسلمان ہو جائے تو بھی جائز ہے تو اس کا جواب دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں"
مولانا احمد رضا خان حنفی بریلوی صاحب اس سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

شخص مذکور جھوٹا کذاب اور بے ادب گستاخ ہے۔سادات کرام کی صاحبزادیاں کسی مغل، پٹھان یا غیر قریشی شیخ مثلا انصاری شیخ کو بھی نہیں پہہنچتیں۔ جب تک وہ عالم دین نہ ہوں کہ اگرچہ یہ قومیں شریف گنی جاتی ہیں مگر سادات کا شرف اعظم و اعلیٰ ہے اور غیر قریشی قریش کا کفو نہیں ہو سکتا تو رذیل قوم والے معاذاللہ کیوں کر سادات کے کفو ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر بالغہ سیدانی خود اپنا نکاح خود اپنی خوشی و مرضی سے کسی مغل پٹھان یا انصاری شیخ غیر عالم دین سے کرے گی تو نکاح سرے سے ہوگا ہی نہیں۔ 
(ملفوظات اعلحضرت:3/118)
مولانا سادات پرستی میں سر سے پیر تک اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ نام نہاد سیدوں کے سوا باقی لوگ انہیں رذیل دکھائی پڑتے تھے۔ کاش مولانا سیداں  پرستی  سے باہر آکر کبھی  اسلام کی بے نظیر مساوات کو جھانکا ہوتا تو  اس طرح کی برہمنیت اور منوازم کی غلاظت نہ پھرتے۔
رسول ﷺ نے تو اونچ نیچ کو مٹانے کے لئے اپنی سگی پھوپھی زاد بہن زینب بنت جحش کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے ساتھ کر دیا اور اپنی خاص چچازاد بہن ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب کا نکاح مقداد کندی (جن کا قبیلہ کپڑے بننے کا کام کیا کرتا تھا) کے ساتھ کر دیا تھا۔ اور یہ فرمایا تھا کہ " میں نے زید بن حارثہ کی زینب بنت جحش سے اور مقداد بن اسود کندی کی ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب سے شادی اس لئے کرائی تاکہ لوگو ں کو معلوم ہو جائے کہ سب سے بڑا شرف اسلام کا شرف ہے"۔ (سنن سعید بن منصور:585)
 
کچھ  منووادی اور برہمنوادی سوچ کے حامل علماء یہ کہتے ہیں کہ برادری میں فرق کی وجہ سے کچھ دنوں بعد حضرت زید اور زینب کے درمیان طلاق ہو گئی تھی،لہذا برادری اور کفو میں ہی شادی کرنی چاہئیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت زید اور زینب کی طلاق غیر برادری میں شادی کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی بلکہ ان کی طلاق ایک غلط رسم کو مٹانے کے لئے ہوئی تھی۔ اور وہ غلط رسم تھی منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کو حرام سمجھنا۔ حضرت زید کو اللہ کے رسول ﷺ نے  اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا تھا  ۔اور منہ بولے بیٹے کو لوگ اپنے بیٹے کی طرح تصور کرتے تھے اور اس کی بیوی سے نکاح کو حرام سمجھتے تھے۔ اللہ رب العزت نے اسی رسم جاہلیت کو ختم کرنے کے لئے حضرت زید سے طلاق دلوا کر زینب رضی اللہ عنہا کو نبی ﷺ کی زوجیت میں  دے دیا۔ 
تاکہ اپنے نبی ﷺ کے ذریعہ اس جاہلیت کی رسم کا خاتمہ کراۓ۔ اللہ رب العزت نے بھی اس طلاق کی وجہ برادری کی نابرابری نہیں بلکہ اسی جاہلیت کی رسم کو ختم کرنا بتایا  ہے۔

فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَٰكَهَا لِكَىْ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِىٓ أَزْوَٰجِ أَدْعِيَآئِهِمْ إِذَا قَضَوْاْ مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ مَفْعُولًا
پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے، جبکہ وہ اپنی غرض اس سے پوری کر لیں۔ اللہ کا یہ حکم تو ہو کر ہی رہنے والا تھا۔
(سورة الاحزاب:37) 

حضرت  زینب کو طلاق دینے   کے بعد  رسول ﷺ نے ان کی شادی اپنی پھوپھی کی نواسی ام کلثوم بنت عقبہ سے کرا دی تھی لیکن زید نے ان کو بھی طلاق دے دی اور حضور ﷺ کی چچا زاد بہن درہ بنت ابی لہب سے نکاح کر لیا تھا ۔ پھر ان کو بھی طلاق دے دی اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن ہند بنت العوام سے نکاح کیا۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابة، ابن حجر :ج:2، ص:496) 
(ان روایتوں کا راوی ابن کلبی ہے جو 
 محدثین کے نزدیک متروک ہے۔ لیکن اس سے منووادیوں کو کوئی فرق نہیں پڑنا چائیے) 

اگر حضرت زید اور زینب کی طلاق کی وجہ غیر برادری میں شادی ہوتی تو حضرت زید کو اللہ کے رسول ﷺ قریش اور ہاشمی خاندانوں میں مزید شادیاں کرنے سے منع فرما دیتے۔

لیکن حضرت زید رضی اللہ عنہ کا(جو اللہ کے رسول ﷺ کے ایک آزاد کردہ غلام تھے) قریش خاندان میں ایک کے بعد ایک نکاح کرنا  اس بات کی دلیل ہے کہ نکاح میں حسب ونسب اور من گھڑت سید شیخ (ہندوستان میں کسی کا نسب محفوظ نہیں ہے)کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
اسی واقعہ میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا قول مذکور ہے(مجھے اس کی صحیح سند نہی ملی )  کہ جب رسول ﷺ نے اونچ نیچ کو مٹانے کے لئے زینب بنت جحش کا نکاح حضرت زید سے کرنا چاہا تو اولا زینب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ میں اپنے لئے ان کو پسند نہیں کرتی کیونکہ میں ان سے نسب میں بہتر ہوں "انا خير منه نسبا"و انا ايم قريش"میں قریش کی شہزادی ہوں،  ایک غلام سے کیسے نکاح کرلوں۔

 لیکن اللہ رب العزت کو ان کی یہ بات ہر گز منظور نہ ہوئی اور سورہ احزاب کی آیت:36 نازل ہوگئی۔ 
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍۢ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًا مُّبِينًا
اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو کوئی اختیار باقی نہیں رہتا اور و اللہ تعالی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرےگا تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا، کھلا ہوا گمراہ۔ 
(سورہ الاحزاب:36)

اور پھر اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت زینب اور ان کے گھر والوں نے حضرت زید سے نکاح کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے پہ سر تسلیم خم کر دیا۔ آپ کو بتا دیں کہ گرچہ تمام مفسرین (تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی، تفہیم القرآن، احسن البیان، معارف القرآن وغیرہ) نے اس آیت کا سبب نزول اسی طرح کے واقعے کو بیان کیا ہے لیکن یہ شان نزول سنداً صحیح نہیں ہے۔
تاہم اتنی بات تو طے شدہ ہے کہ حضرت زید کا نکاح حضرت زینب کے ساتھ ہوا تھا (سورہ الاحزاب:37) اور حضرت زید آزادکردہ غلام تھے جبکہ زینب قریش خاندان سے تھیں۔ دور نبوت کا یہ مثالی نکاح منووادی علماؤں کے منوازم اور من گھڑت مروجہ کفاءت (برابری)کا بھرم توڑنے کے لئے کافی ہے۔ اگلے پوسٹ میں ہم بتائیں گے کہ اسلامی کفاءت کیا ہے اور مذہب اسلام کو نکاح کے لئے کن چیزوں میں کفاءت(برابری)  مطلوب ہے۔

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه! 

Thursday, September 9, 2021

‎عیدین ‏کی ‏نماز ‏میں ‏12تکبیرات ‏کے ‏دلائل

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!! 

مولانا اقبال قاسمی سلفی

عیدین کی نماز میں  تکبیرات زائدہ کتنی ہیں، 12 یا 6؟؟ 
احناف عیدین کی نماز 6 زائد تکبیروں کے ساتھ ادا کرتے ہیں، جبکہ اہل حدیث، سارے محدثین ،امام شافعی،امام مالک، امام حنبل اور حرمین شریفین میں لوگ 12 زائد تکبیروں(پہلی رکعت میں قرات سے پہلے سات اور دوسی رکعت میں قرات سے پہلے پانج تکبیریں)کے ساتھ عیدین کی نماز ادا کرتے ہیں۔
 

اس پوسٹ میں ہم بتائیں گے کہ
(1) عیدین کی نماز میں مسنون زائد تکبیرات  12 ہی ہیں۔ یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےیہی ثابت شدہ ہے۔ ۔ 2) اصول حدیث کی روشنی میں بھی 12 تکبیرات کی مرفوع روایت صحیح ہے۔ 
3) جمہور محدثین کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے۔ 
4) اس حدیث کے ایک راوی عبداللہ بن عبدالرحمن الطائفی کے متعلق محدثین کے جرح و تعدیل کے اقوال۔ 
5) حنفیوں کے علاوہ ساری دنیا شروع سے آج تک عیدین کی نماز 12 تکبیروں کے ساتھ ہی ادا کرتی رہی ہے۔ 
6) امام ابوحنیفہ کے دو مشہور شاگرد امام محمد اور ابویوسف کا عمل بھی 12 تکبیروں پر رہا ہے۔ 
 اب دلیل ملاحظہ کریں۔ 

 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيَّ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  التَّكْبِيرُ فِي الْفِطْرِ سَبْعٌ فِي الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏وَخَمْسٌ فِي الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقِرَاءَةُ بَعْدَهُمَا كِلْتَيْهِمَا۔ 
 اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور دونوں میں قرأت تکبیر  ( زوائد )  کے بعد ہے ۔ 
(ابوداؤد:1151 صحیح) 

اس کے علاوہ یہ حدیث ابن ماجہ:1278،مسند احمد:2852، مصنف عبد الرزاق:5677،  شرح معانی الآثار، دار قطنی اور بیہقی میں  بھی موجود ہے۔

 حافظ ابن حجر اس حدیث کے متعلق تلخیص الحبیر میں فرماتے ہیں: 
"وصححه احمد و على والبخاري فيما حكاه الترمذي".(اس حدیث کو امام احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور امام بخاری نے صحیح قرار دیا ہے، جسے ترمذی نے حکایت کیا ہے۔) 
ا
(لتلخيص الحبير:ج5 ص47) 

امام شوکانی (م) نیل الاوطار میں لکھتے ہیں:" حديث عمرو بن شعيب قال العراقي:اسناده صالح، و نقل الترمذي في العلل المفردة عن البخاري انه قال:انه حديث صحيح ".( عمرو بن شعیب کی حدیث کے متعلق امام عراقی کہتے ہیں:اس کی سند صالح ہے۔ اور امام ترمذی علل مفردہ میں امام بخاری سے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔) 
(نیل الاوطار:ج3 ص 354، 
ترتیب العلل الکبیر:154) 
 وحسنه النووي في "الخلاصة" (2/831) ، وصححه الألباني في "صحيح أبي داود"۔ 

حافظ زیلعی حنفی رحمۃ اللہ علیہ تخریج ہدایہ میں لکھتے ہیں:
قال النووی فی الخلاصہ قال الترمذی فی العلل سألت البخاري عنه فقال:هو
 صحيح. 
نووی نے خلاصہ میں لکھا ہے کہ ترمذی نے کہا میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تو امام بخاری نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔

اس حدیث کے ایک راوی عبداللہ بن عبدالرحمن الطائفی پر محدثین کے جرح و تعدیل کے اقوال :

أبو أحمد بن عدي الجرجاني : أحاديثه مستقيمة، وهو ممن يكتب حديثه
(ابن عدی:الکامل) 
ابن عدی نے کہا:اس کی احادیث درست ہیں 

امام عجلی نے کہا ثقۃ۔ (التاریخ المشہور بالثقات) 
أبو جعفر العقيلي : نقل قول ابن معين: صويلح
ابو جعفر عقیلی نے ابن معین کا قول نقل کرتے ہوئے صویلح کہا ہے۔ 

أحمد بن شعيب النسائي :  ويكتب حديثه، ومرة: ليس به بأس
امام نسائی کہتے ہیں: اس کی حدیثیں لکھی جائیں گی، اور کبھی یہ بھی کہا کہ اس راوی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ 
امام نسائی سے اس راوی کے بارے میں جرح بھی منقول ہے۔ 
مغلطائی حنفی نے اس کی ایک حدیث کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔ 
شرح سنن ابن ماجہ:111

ابن کثیر نے حسن الاسناد قرار دیا ہے۔ مقدمہ ابن کثیر۔ 1/50

الدارقطني : يعتبر به 
امام دار قطنی کہتے ہیں اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ 

علي بن المديني : ثقة
علی بن مدینی نے کہا یہ ثقہ ہے۔ 
محمد بن إسماعيل البخاري : مقارب الحديث
امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ مقارب الحديث ہے۔ 

يحيى بن معين : صالح
ومرة: ليس به بأس، ومرة قال: صويلح، ومرة: ضعيف
یحییٰ بن معین کبھی صالح، کبھی صویلح کبھی کہتے ہیں "کوئی حرج نہیں ہے" اور کبھی ضعیف بھی۔ 
اور ابن معین سے جس راوی کے بارے میں توثیق و تضعیف دونوں منقول ہو تو وہ راوی ضعیف نہیں ہوا کرتا کیونکہ ابن معین اس سے زیادہ ثقہ راوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے اسے کبھی ضعیف کہ دیتے ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر نے بذل الماعون میں اس کی صراحت کی ہے۔

ابن حبان نے اس راوی کی توثیق کی ہے۔ 

روى له مسلم. 
صحیح مسلم میں اس کی روایت ہے۔ 
۔ حدیث نمبر:2255

امام ترمذی نے اس کی روایت کو حسن قرار دیا یے۔ (سنن ترمذی:باب ما جاء فی الشفعہ) 

ابن خزیمہ نے صحیح ابن خزیمہ میں اس کی روایت کو ذکر کیا ہے۔ 1778

علامہ ہیثمی نے اس کی توثیق کی ہے۔ مجمع الزوائد 3/9، السلسۃ الصحیحہ 2918

امام بغوی نے اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ 
شرح السنہ:باب الشعر والرجز۔ 

بوصیری (صحح له) زوائد ابن ماجةماجة:702) 
(مقالات زبیر علی زئی ج5 ص233) 

ابو حاتم نے ليس هو بالقوي   هو لين الحديث اور امام نسائی نے ليس هو بالقوي کہا ہے۔ لیکن ان کی جرح معتبر نہیں ہے۔ 
1) کیونکہ جمہور محدثین نے اس کی توثیق کی ہے۔

2)یہ جرحیں مبہم ہیں اور اصول حدیث میں یہ ثابت شدہ ہے کہ جب کسی راوی میں جرح مبہم اور تعدیل دونوں جمع ہو تو جرح مبہم قادح نہیں ہوتی۔ 

3)ابو حاتم، نسائی اور یحییٰ بن معین متعنتین فی الرجال میں سے ہیں اور متعنتین کی تعدیل معتبر ہوتی ہے جرح نہیں مگر جبکہ کوئی غیر متشدد فی الرجال ان کے موافق ہو۔ مگر یہاں ایسا کوئی نہیں بلکہ اکثریت نے ان کی تعدیل ہی کی ہے۔

4) امام بخاری سے اس راوی کے بارے میں منقول جرح فيه نظر طائفی پر جرح نہیں ہے بلکہ ان کی بیان کردہ ایک ضعیف السند روایت پر جرح ہے۔ یعنی فی حديثه نظر. 
(مقالات زبیر علی زئی ج5 ص233) 

اہل مدینہ کا عمل بارہ تکبیروں پر تھا 
مؤطا امام مالک
کتاب: کتاب العیدین
حدیث نمبر: 388

عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ شَهِدْتُ الْأَضْحَی وَالْفِطْرَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَکَبَّرَ فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی سَبْعَ تَکْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَائَةِ وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسَ تَکْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَائَةِ
رواه مالكٌ في الموطأ (619) وصحح إسناده الألباني في (إرواء الغليل) (3/110).

نافع سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی عید الضحی اور عید الفطر کی ساتھ ابوہریرہ (رض) کے تو پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہیں قبل قرأت کے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قبل قرأت ۔
اس کے بعد امام مالک کہتے ہیں: 
وهو الامر عندنا.  ہمارے نزدیک بھی معاملہ ایسا ہی ہے یعنی بارہ تکبیرات ہی کہی جاتی ہیں۔ 

قال الشافعيُّ: (فِعْل أبي هريرة بين ظهراني المهاجرين والأنصار أَوْلى؛ لأنَّه لو خالَف ما عرَفوه وورثوه أَنكروه عليه وعلَّموه، وليس ذلك كفِعل رجلٍ في بلدٍ كلُّهم يتعلَّم منه) (التمهيد) (16/39) وقال ابنُ عبد البر: (مثل هذا لا يكون رأيًا، ولا يكون إلا توقيفًا.(التمهيد) (16/37).

ابن عبد البر کہتے ہیں:و جرا عليه عمل اهل المدينة (بارہ تکبیروں پر اہل مدینہ کا عمل جاری ہوگیا۔) (الاتدستذكار:8/53)  

عبداللہ بن احمد کہتے ہیں: میرے والد امام احمد بن حنبل نے کہا :و انا اذهب الى هذا. اور میرا مسلک بھی یہی ہے (کہ بارہ تکبیرات کہی جائیں۔ مسند احمد:2852) 

قال النووي رحمه الله :

"مذهبنا أن في الأولى سبعا , وفي الثانية خمسا ، وحكاه الخطابي في " معالم السنن " عن أكثر العلماء , وحكاه صاحب الحاوي عن أكثر الصحابة والتابعين , وحكاه عن ابن عمر ، وابن عباس ، وأبي هريرة ، وأبي سعيد الخدري ، ويحيى الأنصاري ، والزهري ، ومالك ، والأوزاعي ، وأحمد ، وإسحق , وحكاه المحاملي عن أبي بكر الصديق ، وعمر ، وعلي ، وزيد بن ثابت ، وعائشة رضي الله عنهم , وحكاه العبدري أيضا عن الليث ، وأبي يوسف ، وداود" انتهى .

"المجموع" (5/24-25) 

امام نووی کہتے ہیں:
ہمارا مذہب بھی پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں سات تکبیروں کا ہے۔خطابی نے معالم السنن میں اکثر علماء کا یہی موقف بیان کیا ہے۔ صاحب حاوی نے اکثر صحابہ اور تابعین سے یہی بیان کیا ہے۔ ابن عمر، ابن عباس، ابو ہریرەؓ، ابو سعید خدری، یحییٰ انصاری، امام زہری امام مالک، امام اوزاعی، امام احمد، امام اسحاق سے انہوں نے یہی روایت ہے کیا ہے۔ محاملی نے ابوبکر صدیق، عمر فاروق، حضرت علی ، زیدبن ثابت اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے اسے ہی روایت کیا ہے۔ اور امام عبدی نے بھی لیث، امام ابویوسف اور داود سے بھی بارہ تکبیرات ہی بیان کیا ہے۔ 

امام ترمذی بارہ تکبیروں کے متعلق کہتے ہیں:

 اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے مدینے میں اسی طرح یہ نماز پڑھی،
۵- اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، اور یہی مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ (سنن ترمذی:536)

امام بیہقی فرماتے ہیں:
"والحديث المسند ، مع ما عليه من عمل المسلمين أولى أن يتبع" انتهى .
السنن الكبرى" (3/291)

"عیدین میں بارہ تکبیرات کہنے کی حدیث مسند آئی ہے۔ اسی پر تمام مسلمانوں کا عمل ہے، پس اس حدیث مسند کے مطابق عمل کرنا اولی ہے"۔ 
مزید لکھتے ہیں:

نخالفه في عدد التكببرات و تقديمهن على القراءة في الركعتين لحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم فعل اهل الحرمين و عمل المسلمين الى يومنا هذا. 
چونکہ بارہ تکبیروں کا ثبوت رسول ﷺ کی حدیث سے ہے۔ اور ہمارے زمانے تک اہل حرمین شریفین اور عامۃ المسلمین کا عمل بارہ تکبیروں پر ہے۔ اس لئے ہم لوگوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کی مخالفت کی ہے اور 12 تکبیروں پر عمل کیا ہے۔ 
(بحوالہ مقالات مبارکپوری ص 205)

 ائمہ احناف میں سے امام ابو ابویوسف اور امام محمد کا عمل بارہ تکبیروں پر رہا ہے۔ 
چنانچہ رد مختار میں ہے:

روي عن أبي يوسف ومحمد، فإنهما فعلا ذلك لان هارون أمرهما أن يكبرا بتكبير جده، ففعلا ذلك امتثالا له، لا مذهبا واعتقادا. قال في المعراج: لان طاعة الامام فيما ليس بمعصية واجبة اه‍. ومنهم من جزم بأن ذلك رواية عنهما، بل في المجتبى وعن أبي يوسف أنه رجع إلى هذا، ثم ذكر غير واحد من المشايخ أن المختار العمل برواية الزيادة: أي زيادة تكبيرة في عيد الفطر، وبرواية النقصان في عيد الأضحى عملا بالروايتين وتخفيفا في الأضحى لاشتغال الناس بالأضاحي.
امام ابو یوسف اور امام محمد سے مروی ہے، دونوں بارہ تکبیرات ہی کہا کرتے تھے کیونکہ خلیفہ ہارون رشید نے ان دونوں کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ یہ دونوں ان کے جد امجد عبداللہ بن عباس کی طرح بارہ تکبیریں ہی کہا کریں۔ لہذا ان دونوں اماموں نے ہارون رشید کے حکم کی تعمیل(نہ کہ سنت رسول کی پیروی) کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔ اپنا مذہب اور عقیدہ جان کر نہیں۔ فیاللعجب!! پھر بعض لوگوں نے جو یقین کے ساتھ یہ بات کہی ہے تو ان دونوں سے بارہ تکبیرات کی روایت بھی ہے۔ بلکہ "مجتبیٰ" میں امام ابویوسف سے یہ مروی ہے کہ انہوں نے بارہ تکبیرات ہی کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ اس کے بعد بھی بہت سارے مشائخ حنیفہ سے مذکور ہے کہ زیادہ یعنی بارہ تکبیرات پر عمل کرنا ہی پسندیدہ یے۔۔۔۔۔
بہت ڈرامہ خیز انداز ہے۔ چنانچہ آگے بھی ملاحظہ کریں۔ فرماتے ہیں:

والمذهب عندنا قول ابن مسعود. وما ذكروا من عمل العامة بقول ابن عباس لأمر أولاده من الخلفاء به كان في زمنهم، أما فزماننا فقد زال، فالعمل الآن بما هو المذهب عندنا، كذا في شرح المنية وذكر في البحر أن الخلاف في الأولوية، ونحوه في الحلية.والمذهب عندنا قول ابن مسعود. وما ذكروا من عمل العامة بقول ابن عباس لأمر أولاده من الخلفاء به كان في زمنهم، أما فزماننا فقد زال، فالعمل الآن بما هو المذهب عندنا، كذا في شرح المنية وذكر في البحر أن الخلاف في الأولوية، ونحوه في الحلية.
ہمارا مذہب ابن مسعود رضی اللہ کا قول ہے۔
اور عامۃ المسلمین کا جو بارہ تکبیرات کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے بعد آنے والے خلفاء کو اسی بات کی وصیت کر دی تھی۔ رہا ہمارا زمانہ تو اب 12 تکبیرات کا عمل زائل(منسوخ) ہو گیا۔ اب تو ہم اپنے مسلک پر ہی عمل کریں گے۔ (حاشیہ رد مختارمختار، ابن عابدین:ج:2، ص:186، 187)
How many takbeers are there in Eid prayers, 12 or 6 ?? The Hanafis offer Eid prayers with  6 takbeers, while Ahlul-Hadeeth, all the muhaddithin, Imam Shafi'i, Imam Malik, Imam Hanbal and people in the two holy shrines offer Eid prayers  12 takbeers. In this post, we will explain that there are only 12 takbeers in Eid prayers. That is, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) performed the Eid prayers with 12 more takbeers. Evidence: The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: There are seven takbeers in the first rak'ah of Eid al-Fitr and five takbeers in the second rak'ah, and the recitation in both is after the takbeer. (Abu Dawud: 1151 Sahih) In addition, this hadith is also found in Ibn Majah: 1278, Musnad Ahmad: 2852, author Abdul Razzaq: 5677, Sharh Ma'ani Al-Athar, Dar Qatani and Bayhaqi. Al-Haafiz Ibn Hajar says in a summary of this hadeeth in al-Hubayr: Imam Shoukani (may Allah be pleased with him) writes in Nil al-Awtar: Regarding the hadeeth of Amr ibn Shuayb, Imam al-Iraqi says: Its chain of transmission is Saleh. Al-Nawawi in Al-Khalasah (2/831), and Al-Albani in Sahih Abi Dawood. Hafiz Zailai Hanafi (may Allah have mercy on him) writes in Takhrij Hidayah: Al-Nawawi said in summary: Nawawi has written in the summary that Tirmidhi said that he asked Imam Bukhari about this hadith and Imam Bukhari said that this hadith is saheeh. One of the narrators of this hadith, Abdullah ibn Abdul Rahman al-Taifi, has been quoted by the narrators as follows: Abu Ja'far Aqeeli, quoting Ibn Mu'in, said: Ahmad ibn Shoaib al-Nisa'i: He wrote the hadeeth, and he said: It is not enough. The narration of this narrator is also narrated from Imam Nisa'i. The Mughal Hanafi has declared one of his hadiths as Sahih al-Isnad. Sharh Sunan Ibn Majah: 111 Ibn Katheer has declared Hasan al-Isnad. Case of Ibn Kathir. 1/50 Al-Dar Qatani: Imam Dar Qatani says it will be trusted. Ali ibn al-Madini: Trust Ali ibn al-Madini said that it is trustworthy. Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari: Muqarib al-Hadith Imam Bukhari says that it is Muqarib al-Hadith. Yahya ibn Mu'in: Saleh and Ma'rat: Not enough, and Ma'rat Qal: Sawil, and Ma'r: Da'eef And the narrator who is narrated from Ibn Mu'in about both confirmation and weakness is not weak, because Ibn Mu'in sometimes attributes it to a more trustworthy narrator and calls him weak, as Hafiz Ibn Hajar said in Bazl al-Ma'un. It is explicit.

Ibn Habban has confirmed this narrator. From the Muslim. It is narrated in Sahih Muslim. ۔ Hadith No. 2255. Imam Tirmidhi called his narration beautiful. Ibn Khuzaymah has narrated it in Sahih Ibn Khuzaymah. 1778 Allama Haitham has confirmed it. Majma 'al-Zawaid 3/9, Al-Silsa al-Sahiha 2918 Imam Baghawi has declared his hadith to be saheeh. Sharh al-Sunnah: The chapter on poetry and rhymes. Al-Busayri (Sahih) Zawaid Ibn Majmajah: 702) (Articles of Zubair Ali Zai vol. 5 p. 233) But their argument is not credible. 1) Because the majority of narrators have confirmed it. 2) These arguments are ambiguous and it has been proved in the principles of hadith that when a narrator has both ambiguous arguments and modifications, the ambiguous arguments are not valid. 3) Abu Hatim, Nisa'i and Yahya ibn Mu'in are among the mut'atin per al-rijal, and the modification of the mut'atin is valid. But there is no such thing here and the majority has modified them. 4) The narration narrated from Imam Bukhari about this narrator is not a narration on the view of Taifi, but a narration on a weak chain of narrators narrated by him. That is, in a hadith commentary. (Articles of Zubair Ali Zai vol. 5 p. 233) The people of Madinah acted on twelve takbeers. Seven takbeers before recitation in rak'ah and five takbeers before recitation in the second rak'ah. Then Imam Malik says: This is also the case with us, that is, only twelve takbeers are said. Ibn 'Abd al-Barr says: Abdullah ibn Ahmad said: My father Imam Ahmad ibn Hanbal said: And this is also my view (to say twelve takbeers. Musnad Ahmad: 2852) Qal Al-Nawawi (may God have mercy on him): This is the position of most of the scholars in Ma'alim al-Sunan. This is what Sahib Hawi has said to most of his companions and followers. This is the narration from Ibn Umar, Ibn Abbas, Abu Huraira, Abu Saeed Al-Khudri, Yahya Ansari, Imam Zuhri, Imam Malik, Imam Ozai, Imam Ahmad and Imam Ishaq. Mahamali has narrated it from Abu Bakr Siddiq, Umar Farooq, Hazrat Ali, Zaid bin Thabit and Ayesha. And Imam Abdi has also narrated twelve takbeers from Laith, Imam Abu Yusuf and Dawood. Imam al-Tirmidhi says about the twelve takbeers: And it is narrated from Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) that he offered this prayer in Madinah in the same way. Ahmed and Ishaq ibn Rahawiyah also say. (Sunan al-Tirmidhi: 536) Imam Bayhaqi says: “Sunan al-Kubra” (3/291). This is the practice of all Muslims, so it is better to act according to this hadith.
He further writes: Since the proof of the twelve takbeers is from the hadith of the Prophet (peace be upon him). And until our time, the practice of the Ahl al-Haramain and the general Muslims is based on the twelve takbeers. Therefore, we have opposed the saying of Ibn Mas'ud and have followed the 12 takbeers. (Refer to Mubarakpuri Articles, p. 205) Among the Hanafi Imams, Imam Abu Abu Yusuf and Imam Muhammad have acted on twelve takbeers. Therefore, it is narrated in Mukhtar: It is narrated from Imam Abu Yusuf and Imam Muhammad, both of them used to say twelve takbeers because Caliph Harun Rashid had ordered them both to recite twelve takbeers like their ancestor  Abdullah bin Abbas. Just say Therefore, these two Imams did so in obedience to the order of Haroon Rashid (not following the Sunnah of the Prophet).  Wonderful !! Then there is the tradition of twelve takbeers from both of them who have said this with certainty. On the contrary, it is narrated from Imam Abu Yusuf in Mujtaba that he had referred to only twelve takbeers. Even after this, it is mentioned by many Hanafi scholars that it is better to follow twelve takbeers.  So look no further! Our religion is the saying of Ibn Mas'ud. And the twelve takbeers mentioned by the general Muslims are due to the saying of Abdullah ibn Abbas, may Allah bless him and grant him peace, because he bequeathed this to his successors. As for our time, now the practice of 12 takbeers has been abolished. Now we will follow our profession.  Hashiya Radde Mukhtar, Ibn Abedin: vol. 2, pp. 186, 187)

Thursday, September 2, 2021

کیا ٹرین اور ہوائی جہاز✈ میں سفر کرنا، بریانی اور پلاؤ کھانا بدعت ہے۔؟؟؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 
مولانا اقبال قاسمی سلفی 

بریلوی حضرات کو جب  بدعات و خرافات سے روکا جاتا ہے، فاتحہ، میلاد، تیجا،چہلم، برسی،انگوٹھے چومنا، عرس منانا، چادریں چڑھانا،اذان و اقامت سے پہلے درود پڑھنا جیسے سینکڑوں بدعت سے جب انہیں منع کیا جاتا ہے کہ یہ بدعت ہے۔ اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لے جانے والی ہے تو یہ بدعتی حضرات ماننے کے بجائے الٹی سیدھی باتیں کرنے لگتے ہیں، سائیکل اور موٹر سائیکل کی مثالیں دینی شروع کردیتے ہیں کہ یہ بھی بدعت ہے، کیونکہ یہ چیزیں بھی اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں موجود نہیں تھیں۔جبکہ یہ دنیوی چیزیں ہیں، اور بدعت کا تعلق دینی امور سے ہے۔ دین میں نئی بات پیدا کرنا، نیا عمل ایجاد کرنا، یہ بدعت ہے۔ اور یہ بات خود ان کے امام مولانا احمد رضا خان نے بھی کہی ہے۔ 

مولانا احمد رضا خان صاحب فرماتے ہیں:
"بدعت وضلالت وہی ہے جو بات دین میں نئی پیدا ہو، دنیوی رسوم وعادات پر حکم بدعت نہیں ہو سکتا، مثلاً انگرکھا پہننا، پلاؤ کھانا، دلہن کو پالکی میں بٹھاناکہ ان سب کو کوئی دینی بات سمجھ کر نہیں کرتا نہ بغرض ثواب کیا جاتا ہے بلکہ سب ایک رسم ہی جان کر کرتے ہیں ہاں اگر کوئی جاہل اجہل ایسا ہو کہ اسے دینی بات جانے تو اس کی بیہودہ سمجھ پر اعتراض صحیح ہے۔ (فتاویٰ رضویہ: 23/320 جامعہ نظامیہ لاہور)

اللہ کے رسول ﷺ نے بھی دین میں نئی چیزیں نکالنے سے منع فرمایا۔ دنیاوی امور میں نہیں۔ 

 عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :  جس نے ہمارے اس امر  ( دین )  میں کوئی ایسی نئی بات شروع کی جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے۔ 
(Sahi muslim:4492) 
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه، و ارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه 

When Barelvi people are prevented from innovations and superstitions, Fatiha, Milad, Teja, Chehlum, Bursi, kissing the thumb, celebrating Urs, putting on sheets, reciting Durood before Adhan and Iqamah, when they are forbidden from It is an innovation. And every innovation is misguidance and every misguidance leads to hell, so these innovators, instead of believing, start talking straightforwardly, giving examples of bicycles and motorbikes, that this is also innovation, because they did not exist in the time of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him). But Creating something new in religion, inventing a new practice in religion, this is innovation. And this has been said by his own Imam Maulana Ahmad Raza Khan. Maulana Ahmad Raza Khan says: “Innovation is the only thing that is new in religion. The ruling on worldly customs and traditions cannot be innovation, such as wearing a tunic, eating palao, putting the bride in a palanquin so that they all understand something religious. He does not do it, nor is it done for the sake of reward, but everyone does it knowing the same ritual. The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) also forbade the creation of new things in the religion. She said: The Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) said: Whoever introduces something new in this matter of ours (religion) which is not in it, then he is rejected. (Sahi Muslim: 4492)

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...