بسم الله الرحمن الرحيم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا اقبال قاسمی سلفی
اکثر قصہ گو مقررین یہ حدیث اپنی تقریروں میں بیان کرتے ہیں کہ :جہنم کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سرخ ہوگئ، پھر ایک ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سفید ہوگئ، پھر ایک ایک ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سیاہ ہوگئ اور اب وہ تاریک رات کی طرح سیاہ ہی ہے۔
اس حدیث کو احناف کے علاوہ جماعت اہلحدیث کے یہاں تقریر کی ایک مشہور کتاب زاد الخطیب میں بھی درج کیا گیا ہے اور صاحب کتاب نےحسن بالشواہد ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
لیکن یہ حدیث اپنے تمام شواہد و طرق کے ساتھ ضعیف ہے۔
آئیے حدیث کو دیکھتے ہیں:
حدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ هُوَ ابْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُوقِدَ عَلَى النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى احْمَرَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کی آگ ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سفید ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی، اب وہ سیاہ ہے اور تاریک ہے“۔
(سنن ترمذی:2591، ابن ماجہ:4320)
یہ حدیث ابو ہریرەؓ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے علاوہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور کعب الاحبار رحمہ اللہ سے موقوفا بھی مروی ہے۔
حدیث ابوہریرہؓ
ابو ہریرەؓ کے طریق سے مروی سند کا دارومدار شریک بن عبداللہ القاضی النخعی الکوفی پر ہے۔
یہ مدلس ہونے کے ساتھ سئ الحفظ اور قلیل الظبط فی الروایہ ہیں۔
أبو حاتم الرازي : صدوق، له أغاليط
الدارقطني : ليس بالقوي
أبو أحمد الحاكم : ليس بالمتين
إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني : سيئ الحفظ مضطرب الحديث مائل
عبد الحق بن عبد الرحمن الإشبيلي : يدلس
اس روایت میں بھی مضطرب ہیں۔
کبھی مرفوعا کرتے ہیں تو کبھی موقوفا۔
کبھی عن عاصم، عن أبي صالح بالجزم روایت کرتے ہیں
کبھی عن أبي صالح، أو عن رجل کے شک کے ساتھ۔
کبھی عن أبي صالح، أو غيره.
اور کبھی عن عاصم، عن رجل لم يسمه کے مبہم الفاظ کے ساتھ۔
حدیث عمر بن خطاب:
اسے ابن ابی الدنیا نے "صفة النار"(157)میں اور اور طبرانی نے "معجم الاوسط"(2583) میں حکم بن مروان الکوفی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
من طريق الحكم بن مروان الكوفي الضرير، قال: حدثنا سلام بن سلم وهو الطويل، عن الأجلح بن عبد الله، عن عدي بن عدي الكندي، قال: قال عمر بن الخطاب: جاء جبريل صلى الله عليه إلى النبي صلى الله عليه وسلم في غير حينه الذي كان يأتيه، فقام إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: “يا جبريل، ما لي أراك متغير اللون؟ قال: يا محمد، ما جئتك حتى أمر الله بمنافخ النار. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “خوفني بالنار وانعت لي جهنم”. قال جبريل عليه السلام: إن الله أمر بجهنم فأوقد عليها ألف عام حتى احمرت، ثم أمر فأوقد عليها ألف عام حتى ابيضت، ثم أمر فأوقد عليها ألف عام حتى اسودت، فهي سوداء مظلمة۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
تین وجوہات بناء پر یہ روایت ضعیف ہے۔
1) سلام بن سلم:
ابن حجر العسقلاني فرماتے ہیں : متروك الحديث
أبو نعيم الأصبهاني فرماتے ہیں: متروك بالاتفاق، وضعفه، روى بأحاديث منكرة
علي بن المديني فرماتے ہیں: كانت له أحاديث منكرة، ومرة: ضعيف جدا۔
2) اجلح بن عبداللہ:
أبو حاتم الرازي فرماتے ہیں : ليس بالقوي يكتب حديثه ولا يحتج به
أبو الفرج بن الجوزي فرماتے ہیں: اتهمه بوضع حديث في فضل علي۔
3) عدی بن عدی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔ عدی بن عدی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نہی پایا ہے۔
حدیث انس بن مالک رضی اللہ عنہ
اسے بیہقی نے "شعب الایمان " (778)میں روایت کیا ہے۔
أخرجه البيهقي فى “الشعب” (778)، و في “البعث” (506): قال :
أخبرنا أبو الحسن بن أبي بكر بن عبدان، أخبرنا أحمد بن عبيد الصفار، حدثنا الكديمي، حدثنا سهل بن حماد، حدثنا مبارك بن فضالة، حدثنا ثابت البناني، عن أنس, قال: قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الآية: (وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ) [البقرة: 24]، فقال: “أوقد عليها ألف سنة حتى احمرت، وألف عام حتى ابيضت, وألف عام حتى اسودت, فهي سوداء مظلمة, لا يطفأ لهبها”, قال: وبين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل أسود يهتف بالبكاء, فنزل جبريل عليه السلام, فقال: يا محمد، من هذا الباكي بين يديك؟ قال: “رجل من الحبشة”, وأثنى عليه معروفا, قال: فإن الله عز وجل يقول: وعزتي وجلالي وارتفاعي فوق عرشي، لا تبكي عين عبد في الدنيا من مخافتي، إلا أكثرت ضحكه معي في الجنة.
اس سند میں محمد بن یونس الکدیمی ہے جو وضع حدیث کے ساتھ متہم ہے۔
کلام عبداللہ بن مسعود:
اسے ابن ابی الدنیا نے "صفة النار" (24) میں روایت کیا ہے۔ قال:حدثنا عبد الرحمن بن صالح، قال: حدثنا الحكم بن ظهير، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله: (وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ) [التكوير:12] قال: سعرت ألف سنة حتى ابيضت، ثم ألف سنة حتى احمرت، ثم ألف سنة حتى اسودت، فهي سوداء مظلمة.
اس سند میں حکم بن ظہیر الکوفی ہے جو محدثین کے نزدیک متروک الحدیث ہے۔
کلام کعب الاحبار
اسے بیہقی نے "البعث" (504)میں روایت کیا ہے۔ قال:
أخبرنا أبو علي الروذباري، أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار، ثنا محمد بن غالب، ثنا عبيد بن عبيدة، ثنا معتمر بن سليمان، عن أبيه، قال: زعم علقمة، عن عاصم، عن أبي صالح، عن كعب، قال: سجرت النار ألف سنة حتى ابيضت، ثم سجرت ألف سنة حتى احمرت، ثم سجرت ألف سنة حتى اسودت، قال: وأظنه قال: ولجهنم سبعة آلاف زمام، مع كل زمام سبعون ألف ملك.
گرچہ اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ کعب احبار رحمہ اللہ کا قول ہے۔
واضح ہوکہ کعب الاحبار گرچہ عہد نبوی میں موجود تھے لیکن عہد نبوی میں مسلمان نہیں ہوۓ تھے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلاف میں مشرف بہ اسلام ہوۓ۔ اس لئے انہوں نے کوئی حدیث براہ راست رسول ﷺ سے نہیں سنی تھی۔البتہ قبول اسلام کے بعد بعض صحابہ کرام سے حدیثیں ضرور سنیں۔ اور پھر دوسرے صحابہ اور تابعین کے سامنے بیان کی۔
ابوہریرہؓ جیسے صحابی رسول نے ان سے روایتیں لی ہیں۔ اور یہ حدیث کی ان نادر مثالوں میں سے ایک ہے جن میں صحابی کسی تابعی سے روایت کرتے ہیں۔لیکن ان کی روایتوں میں زیادہ تعداد اسرائیلی روایتوں کی ہیں جن کے راوی یہ خود (کعب الاحبار) ہیں۔ ان میں گزشتہ اقوام کے حالات اور بہت ہی عجیب وغریب باتیں ہوتی ہیں، بہت سی بے سروپا اسرائیلی حکایتیں شامل ہوتی ہیں جن کو محدثین نے جرح وتعدیل کی کسوٹی پر پرکھ کر رد بھی کر دیا ہے۔
اس لئے ان کی ذکرکردہ روایت کی جب تک قرآن یا صحیح حدیث کے ذریعے تصدیق نہ ہوجاۓ، نہیں لیا جاۓ گا۔
نیز اس سند میں سلیمان التیمی کا "زعم علقمة " کہنا ایک قسم کی تدلیس بھی ہے۔ امام نسائی نے اسے تدلیس میں شمار کیا ہے۔
معلوم ہوا کہ یہ روایت اپنے تمام طرق اور شواہد کے ساتھ ضعیف ہے۔
اللهم ارناالحق حقاوارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!