Saturday, February 5, 2022

‎"علم حاصل کرو گرچہ تمہیں چین جانا پڑے"حدیث ‏نہیں ہے

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مولانا اقبال قاسمی سلفی

موضوع: حدیث "علم حاصل کرو گرچہ تمہیں چین جانا پڑے"
کی تحقیق

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

علم  کی فضیلت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حنفی علماء، خطباء اور مفتی حضرات بھی اکثر  یہ روایت  نقل کیا کرتے ہیں: "اطلبوا العلم ولو بالصين".
ترجمہ: علم حاصل کرو گرچہ تمہیں چین جانا پڑے۔ 

روایت مع سند درج ذیل ہے۔ 
امام بیہقی فرماتے ہیں: 

أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ثنا محمد بن علي بن عفان ( ح ) و أخبرنا أبو محمد الأصبهاني أنا أبو سعيد بن زياد ثنا جعفر بن عامر العسكري قالا ثنا الحسن بن عطية عن أبي عاتكة وفي رواية أبي عبد الله ثنا أبو عاتكة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اطلبوا العلم و لو بالصين فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم. 
شعب الایمان :(رقم الحدیث: 1663
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم حاصل کرو، اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے۔

مذکورہ بالا روایت "شعب الایمان" کے علاوہ درج ذیل کتب میں بھی ذکر کی گئی ہے۔

۱۔ تاریخ اصبھان لابی نعیم الأصبهاني:(رقم الحدیث: 124/2،ط: دارالکتب العلمیۃ)

۲۔المدخل الی السنن الکبری:(رقم الحدیث: 325،241،ط: دار الخلفاء للكتاب الإسلامی)

۳۔جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر:(رقم الحدیث: 17،19،26)ص: 16،18،ط: دارالکتب)

۴۔الرحلة في طلب الحديث للخطیب البغدادی:(رقم الحدیث: 1،72،ط: دارالکتب العلمیۃ)

۵۔ترتیب الامالی للشجری: :(رقم الحدیث: 284،77/1،ط: دارالکتب العلمیۃ)

۶۔مسند الفردوس للدیلمی:(رقم الحدیث: 234،78/1،ط: دارالکتب العلمیۃ)

 اس روایت کو "حسن بن عطیہ عن طریف بن سلیمان ابی عاتکہ عن انس" کے طریق سے الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ مرفوعاً نقل کیا گیا ہے، بعض روایات میں صرف "اطلبوا العلم ولو بالصين" اور بعض میں "اطلبوا العلم ولو بالصين" کے بعد "فان طلب العلم فريضة على كل مسلم" کے الفاظ کا اضافہ اور بعض میں صرف "طلب العلم فريضة على كل مسلم" کے الفاظ ملتے ہیں۔


اس کی سند میں ابوعاتکہ طریف بن سلیمان مرکزی راوی ہے۔ جس پر محدثین نے سخت جرح کیا ہے۔

امام حاكم فرماتے ہیں: ليس بالقوي عندهم
یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔ 

ابن عدی فرماتے ہیں: عامة ما يرويه عن أنس لا يتابعه عليه أحد من الثقات. 
 یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایسی حدیثیں روایت کرتاہے جس پر ثقہ راویوں کی متابعت نہیں پائی جاتی۔ 

امام العقيلي : متروك الحديث
 یہ متروک الحدیث راوی ہے۔ 

امام الرازي فرماتے ہیں : ذاهب الحديث
 ذاھب الحدیث ہے (جس کی حدیثیں نہیں لی جاتیں) 

 بن حبان البستي فرماتے ہیں: منكر الحديث جدا يروي عن أنس مالا يشبه حديثه وربما روى عنه ما ليس من حديثه. 

یہ انتہائی منکر الحدیث ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایسی حدیثیں روایت کرتے ہے جو ان کی روایتوں کے مشابہ نہیں ہوتیں۔ 

امام ترمذي فرماتے ہیں: يضعف
محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ 
امام نسائی فرماتے ہیں:
 ليس بثقة. 
یہ ثقہ نہیں ہے۔  

ابن عبد البر فرماتے ہیں : عندهم ضعيف. 
محدثین کے نزدیک یہ ضعیف ہے۔ 
امام الذهبي فرماتے ہیں : ضعفوه
محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ 
عبد الرحمن بن مهدي فرماتے ہیں: 
عامة ما يرويه عن أنس لا يتابعه عليه أحد من الثقات. 
عموماً یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایسی روایتیں بیان کرتا ہے جس پر کسی بھی ثقہ راوی کی متابعت نہیں پائی جاتی ہے۔ 

محمد بن إسماعيل البخاري : ذكر له حديث، وقال: منكر الحديث. 
امام بخاری نے اس کی ایک روایت ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہ منکر الحدیث ہے۔ 

امام بزار مسند بزار میں فرماتے ہیں:فليس لهذا الحديث اصل. 
تو اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔ 

ابن جوزی اور امام سخاوی نے مقاصد حسنه میں ابن حبان کا قول نقل کیا ہے کہ ابن حبان اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
باطل لا أصل له.
یہ حدیث باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ 

امام بیہقی اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’ھذا حدیث متنہ مشہور و أسانیدہ ضعیفۃ۔ لاأعرف لہ إسنادًا یثبت بمثلہ الحدیث۔ واللّٰہ أعلم‘‘

اس حدیث کا متن مشہور ہے اور اس کی سندیں ضعیف ہیں۔ مجھے اس کی کوئی ایسی سند معلوم نہیں جس سے یہ حدیث ثابت ہوتی ہو۔ واللہ اعلم (المدخل الی السنن الکبریٰ: ۳۲۵)

علامہ البانی نے بھی السلسلۃ الضعیفہ میں اس حدیث کو باطل کہا ہے۔ 

مشہور حنفی دیوبندی علامہ  یوسف بنوری پاکستانی کا بھی اس حدیث کے متعلق یہی فتویٰ ہے۔ چنانچہ جب ان سے پوچھا گیا ہم نے یہ سنا ہے کہ یہ حدیث ہے کہ ’’علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘  کیا یہ حدیث ہے یا نہیں؟

جواب
یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ ملتی ہے: "اطلبوا العلم ولو بالصین".  یعنی "علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے". اور اسے امام بیہقی رحمہ اللہ نے "شعب الایمان" میں اور خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے "کتاب الرحلۃ" میں اپنی سندوں کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ذکر کیا ہے، لیکن اکابر محدثین نے ان سندوں کو ضعیف قرار دیا ہے، چناں چہ امام ابنِ حبان نے اس کو باطل قرار دیا اور امام ابنِ جوزی رحمہما اللہ نے موضوع روایات سے متعلق اپنی کتاب میں اس روایت کو بھی ذکر کیا ہے، اس لیے محدثین کے بیان کردہ قواعد کی روشنی میں اس حدیث کو بیان کرنا درست نہیں.

یاد رہے کہ بعض اہلِ علم نے تاریخی واقعات وقرائن سے اس روایت کی تائید پیش کرکے اسے حدیث ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن محدثین کے ہاں جب سنداً روایت کا ثبوت نہ ہو تو خارجی قرائن سے وہ ثابت قرار نہیں پاتی.
فتوی نمبر : 144003200013

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔ 

اس حدیث کا ایک اور طریق ہے، جسے ابن عبد البر نے "جامع بيان العلم و  فضله " میں يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم العسقلاني، ثنا عبيد بن محمد الفريابي، نا ابن عيينة، عن الزهري، عن أنس کے طریق سے مثل حدیث ابی عاتکہ مرفوعاً روایت کیا ہے۔ 
چنانچہ ابن عبد البر فرماتے ہیں:
وأخبرنا أحمد نا مسلمة، نا يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم العسقلاني، ثنا يوسف بن محمد الفريابي ببيت المقدس ثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اطلبوا العلم ولو بالصين فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم" 

اس سند میں"یعقوب بن اِسحاق بن اِبراہیم العسقلانی"نامی راوی ہے جِسے اِمام الذہبی رحمہُ اللہ نے لسان المیزان میں کذاب قرار دِیاہے۔ 
علامہ جلال الدین سیوطی نے "اللآلئ المصنوعة في الاحاديث الموضوعة" میں اس حدیث کا ایک شاہد بھی ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں:
 وفي الميزان روى ابن كرام ، حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن عَبْد الله الجويباري ، عَن الفضل بْن مُوسَى ، عَن مُحَمَّد بْن عمرو ، عَن أَبِي سلمة ، عَن أَبِي هُرَيْرَةَ ، حديث " اطلبوا العلم ولو بالصين " ، والجويباري وضَّاع . والله أعلم
اس سند میں "احمد بن عبداللہ الجویباری" وضاع ہے۔ 

امام دارقطنی فرماتے ہیں: كذاب، وكذاب، دجال، خبيث، وضاع للحديث، لا يكتب حديثه، ولا يذاكر. 
جھوٹا ہے اور جھوٹا ہے، دجال، خبیث اور حدیثیں گھڑنے والا ہے۔ اس کی حدیث لکھی جائے گی اور نہ  اس کا تذکرہ۔ 
امام ذہبی فرماتے ہیں: كذاب، ممن يضرب به المثل بكذبه. 
جھوٹا ہے اور ایسے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے جن کے جھوٹ کی مثال دی جاتی ہے۔ 
ابن حبان فرماتے ہیں: دجال من الدجاجلة كذاب لا يحل ذكرهم في الكتب إلا على سبيل الجرح فيه
دجالوں میں سے ایک دجال ہے، جھوٹا ہے، کتابوں میں اس کا ذکر کرنا جائز نہیں ہے مگر بر سبیل جرح۔ 
الله اكبر!!

اس لئے ایک مسلمان کو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی روایتوں کو اللہ کے رسول ﷺ کی طرف منسوب کرے!!
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Thursday, February 3, 2022

امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور سورہ اعراف کی آیت 204

امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور سورہ اعراف کی آیت 204

امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کی جو دلیل دی جاتی ہے اور جس کے ذریعے سے عوام کو غلط فہمیوں کا شکار بنایا جاتا ہے وہ سورہ اعراف کی آیت نمبر 204 ہے۔ 
جس میں اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتا ہے۔ 
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ۔ 
ترجمہ: اور جب قرآن پڑھا جائے تو تم اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ 

جواب: لیکن 
1) خیر القرون میں سے کسی نے اس آیت سے مقتدی کو سورہ فاتحہ پڑھنے سے منع نہیں کیا 
2)  یہ آیت کریمہ نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدی کو جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا، کبھی منع نہیں کیا۔ 
3) آیت کریمہ عام ہے جبکہ یہ حدیث سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں خاص ہے اور عام دلیل کو خاص پر محمول کیا جاتا ہے۔ 
4) یہ آیت نماز کے بارے میں نازل نہیں ہوئی جیسا کہ امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں فرمایا ہے۔ 
اور اس سلسلے میں جو روایات ہیں وہ ضعیف ہیں۔ 
مثلاً
ا) عبداللہ بن عباس سے مروی ہے:يعني فى الصلوة المفروضة. 
یعنی فرض نماز کے بارے میں۔ 
کتاب القراءت للبیہقی:254
یہ روایت ضعیف ہے۔ 
علی بن ابی طلحہ کا عبداللہ بن عباس سے سماع ثابت نہیں۔ 
لیث بن ابی سلیم کثیر الغلط، سئ الحفظ اور مختلط ہونے کی وجہ سے جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف الحدیث راوی ہے۔

عبداللہ بن عباس سے ایک اور روایت مروی ہے :يعني في المكتوبة
یعنی یہ فرض نماز کے بارے میں ہے۔ 
کتاب القراءت للبیہقی:255
اس سند میں ابن لہیعہ ہیں جو ضعیف عند الجمہور ہیں۔ 

امام بیہقی اس روایت کے بعد خود ہی فرماتے ہیں و هذا اسناد فيه ضعف
(اس سند میں ضعف ہے۔) 


ب)عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
فی الصلوۃ
یعنی یہ آیت نماز کے بارے میں ہے۔ 
کتاب القراءت للبیہقی:250

اس کی سند سخت ضعیف ہے
ابوالمقدام ہشام بن زیاد بن مقدام ضعیف اور متروک راوی ہے۔ امام بیہقی اس روایت کے بعد فرماتے ہیں ولیس بالقوی (اور یہ قوی نہیں ہے) 
اس سند میں حسن بصری مدلس ہیں اور سماع کی صراحت بھی نہیں ہے

ج) عبداللہ بن عمر سے مروی ہے:
جب بنو اسرائیل کے ائمہ قراءت کرتے تھے تو مقتدی بھی پڑھتے تھے تو اللہ تعالی نے یہ عمل اس امت کے لئے ناپسند کیا اور فرمایا:"جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو۔"

(الدر المنثور للسیوطی:3/156) 
یہ بے سند روایت ہے

د) محمد بن کعب القرضی سے مروی ہے: قال كان رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) إذا قرا في الصلاة اجابه من وراءه إن قال بسم الله الرحمن الرحيم قالوا مثل ما يقول حتى تنقضي الفاتحة والسورة فلبث ما شاء الله ان يلبث ثم نزلت : وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ فَقَرَاَ واَنْصَتُوا۔ 
(تفسیر ابن ابی حاتم:9493)
یہ مرسل روایت ہے۔ 

ر) مجاہد تابعی سے مروی ہے:
قال کان يقرأ في الصلوة فسمع قراءة فتى من الانصار فنزل " وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا".
(کتاب القراءت للبیہقی:248) 

 اللہ کے رسول ﷺ نماز میں قرأت کیا کرتے تھے تو ایک انصاری نوجوان کو بھی قرأت کرتے سنا تو یہ آیت نازل ہوئی" وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا".
یہ مرسل روایت ہے۔ 

س) ابو العالیہ تابعی سے مروی ہے:قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى فقرا اصحابه فنزلت "فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا".
(کتاب القراءت للبیہقی:249)
اللہ کے رسول ﷺ جب نماز پڑھاتے تو پیچھے صحابہ بھی قرأت کرتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ "فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا".
 
ص) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مقتدیوں سے فرمایا:
"شاید تم قراءت کرتے ہو ، ہم نے کہا:جی ہاں، فرمایا:آپ سمجھتے کیوں نہیں کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ۔ 
ترجمہ: اور جب قرآن پڑھا جائے تو تم اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔"
(تفسیر ابن ابی حاتم:1775وسندہ حسن) 
اس میں یہ کہیں ذکر نہیں ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مقتدیوں کو سورہ فاتحہ پڑھنے سے روکا ہے۔ اس میں مطلق قرأت سے منع کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے ک جب سورہ فاتحہ پڑھ چکو تو اس کے بعد کچھ مت پڑھو بلکہ اب امام کی قرأت کو غور سے سنو اور خاموش رہو۔ 

4) زيد بن ارقمؓ فرماتے ہیں : ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے ، ایک آدمی نماز میں اپنے ساتھی سے گفتگو کر لیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت اتری،  ( وقوم للہ قنتین ) (سورہ بقرہ:238) اللہ کے حضور انتہائی خشوع و خضوع کے عالم میں کھٹرے ہو تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہمیں گفتگو کرنے سے روک دیا گیا ۔ 
(صحیح مسلم :1203) 

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
  ( پہلے )  ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کر لیتے تھے، تو  ( ایک بار )  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہو گئی ، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم نازل کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو ، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔
(ابوداؤد:924) 

حضرت معاویہ بن ابی حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا : یرحمک اللہ اللہ تجھ پر رحم کرے ۔ لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا : میری ماں مجھے گم پائے ، تم سب کو کیا ہو گیا ؟ کہ مجھے گھور رہے ہو پھروہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے ۔ جب میں نے انھیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں ( تو مجھے عجیب لگا ) لیکن میں خاموش رہا ، جب رسول اللہ نماز سے فارغ ہوئے ، میرے ماں باپ آپ پرقربان ! میں نے آپ سے پہلے اور آپکے بعدآپ سے بہتر کوئی معلم ( سکھانے والا ) نہیں دیکھا ! اللہ کی قسم ! نہ تو آپ نے مجھے ڈانٹا ، نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا ۔ آپ نے فرمایا : یہ نماز ہے اس میں کسی قسم کی گفتگو روا نہیں ہے ‘ یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے ۔ یا جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔
(صحیح مسلم :1199)
ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 238 "و قوموا لله قانتين" اور اللہ کے حضور چپ چاپ کھڑے رہو۔ اور سورہ اعراف کی آیت میں جس چیز سے روکا گیا ہے وہ کلام الناس ہے۔
جیساکہ زید بن ارقم، عبداللہ بن مسعود اور معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہم کی حدیث سے واضح ہے۔ 

امام بیہقی فرماتے ہیں اس حدیث میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام اور منفرد کی نماز کی طرح مقتدی کی نماز بھی تلاوت قرآن،تکبیر اور تسبیح پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس لئے کہ نبی ﷺ نے معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا حکم دیا کہ انَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ۔  یہ نماز ہے اس میں کسی قسم کی گفتگو روا نہیں ہے ‘ یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے ۔
اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کو نماز میں بات چیت اور گفتگو سے منع فرمایا ہے نہ کہ تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن سے۔
اور معاویہ بن حکم اس نماز میں مقتدی تھے نہ کہ امام اور منفرد۔ 
تو اس میں واضح بیان ہے اس بات کا کہ (سورہ بقرہ:238 اور سورہ اعراف:204 میں) لوگوں کو جس چیز سے روکا گیا ہے وہ حالت نماز میں ایک دوسرے سے گفتگو اور بات چیت ہے جو کہ پہلے ایسا کرلینا جائز تھا، 
(رہا نماز میں ذکر اور تلاوت قرآن تو  نماز ہی اسی کانام
 ہے۔" کتاب القراءت للبیہقی:292) 

5) سکوت اور انصات جس کا سورہ اعراف میں حکم دیا گیا ہے، امام کے پیچھے آہستہ سورہ فاتحہ پڑھنے کے منافی نہیں ہے۔
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب ( آغاز ) نماز کے لیے تکبیر کہتے تو قراءت کرنے سے پہلے کچھ دیر سکوت فرماتے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! دیکھیے یہ جو تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کی خاموشی ہے ( اس کے دوران میں ) آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں کہتا ہوں : اللہم باعدبینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب اللہم نقنی من خطایای کما ینقی الثوب الابیض من الدنس ، اللہم اغسلنی من خطایای بالثلج والماء والبرد اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے جس طرح تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے ۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے پاک کر دے برف کے ساتھ ، پانی کے ساتھ اور اولوں کے ساتھ ۔‘‘
اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ سکوت (خاموشی) بھی فرماۓ ہیں اور دعاۓ ثنا کی قرأت بھی کر رہے ہیں۔ 
، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏   مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ جُمُعَتِهِ الَّتِي قَبْلَهَا.
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنے کپڑوں میں سے اچھے کپڑے پہنے، اور اگر اس کے پاس ہو تو خوشبو لگائے، پھر جمعہ کے لیے آئے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے، پھر اللہ نے جو نماز اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے پڑھے، پھر امام کے  ( خطبہ کے لیے )  نکلنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک خاموش رہے، تو یہ ساری چیزیں اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہوں گی جو اس جمعہ اور اس کے پہلے والے جمعہ کے درمیان اس سے سرزد ہوئے ہیں(ابوداؤد:343) 

اس حدیث میں جمعہ کی نماز کے لئے آنے والے لوگوں کو  امام کے  ( خطبہ کے لیے )  نکلنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک خاموش رہنے (انصات) کی ترغیب دی گئی ہے۔
لیکن اس انصات اور خاموشی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پوری نماز خاموشی کے ساتھ اس طرح پڑھ لی جائے کہ دعاۓثنا، رکوع و سجدے کی تسبیحات، التحیات، درود و دعا کچھ بھی نہ پڑھی جائے۔ 
اسی طرح امام کے پیچھے آہستہ سورہ فاتحہ پڑھنا اس انصات کے منافی نہیں ہے جس کا سورہ اعراف میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے لوگوں کو حکم دیا ہے۔ 

6) احناف کا اس آیت سے امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھنے پر دلیل پکڑنا اپنے مذہب حنفی کے اصولوں  سے بغاوت اور انحراف کے مترادف ہے۔ کیونکہ حنفی مذہب کے مطابق سورہ اعراف کی یہ آیت سورہ مزمل کی آیت نمبر 20 سے ٹکراتی ہے جس میں اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتاہے:فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ(پس قرآن سے جو میسر ہو پڑھ لیا کرو)۔ 
اور جب دو آیتیں آپس میں ٹکرا جائیں تو حنفی اصول(اذاتعارضا تساقطا جب دو دلیلیں آپس میں ایک دوسرے سے متعارض ہوجائیں تو دونوں ہی ساقط ہو جاتی ہیں) 
کے مطابق دونوں ہی دلیلوں سے استدلال باطل ہو جاتا ہے۔
 (نعوذ باللہ من مثل ذالك الاستدلال!) 

وحكمها بين الآيتين المصير إلی السنة؛ لأن الآيتين إذا تعارضتا تساقطتا، فلا بد للعمل من المصير إلی ما بعده وهو السنة، ولا يمكن المصير إلی الآية الثالثة؛ لأنه يفضی إلی الترجيح بكثرة الأدلة، وذلك لا يجوز، ومثاله قوله تعالی:﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ مع قوله تعالیٰ ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ فإن الأول بعمومه يوجب القراءة علی المقتدي، والثاني بخصوصه ينفيه، وردا في الصلاة جميعاً فتساقطا، فيصار إلی حديث بعده، وهو قوله عليه السلام: من كان له إمام فقراءة الإمام قراءة له.
اس تعارض کا حکم یہ ہے کہ جب دو آیتوں میں تعارض ہو گیا تو سنت کی جانب رخ کرنا ہوگا۔ اس وجہ سے کہ اس صورت میں ہر دو آیت پر عمل ممکن نہیں رہا اور جن تعارض ہوگا تو دونوں ہی ساقط ہوں گی لہٰذا عمل کیلئے سنت پر نظر کرنا ہوگی کہ اس کا درجہ اس کے بعد ہے کسی تیسری آیت کی جانب رجوع کرنا ممکن نہیں۔ اس وجہ سے کہ اس سورت میں کثرت دلائل کی وجہ سے ترجیح دینا لازم آجائے گا جو درست نہیں ۔
مثال: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ اس کے بالمقابل دوسری آیتٰ ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ وارد ہوئی۔ لہٰذا تعارض ہو گیا کہ اول آیت علی العموم مقتدی پر قراءت کو ثابت کرتی ہے اور ثانی خاص صورت میں اس کی نفی کرتی ہے ھالانکہ حضرات مفسرین کی تصریح کے مطابق ہر دو آیت نماز کیلئے ہیں۔ اس وجہ سے اب ضرورت ہوئی سنت کی جانب متوجہ ہونے کی۔ اس میں قال عليه السلام: من كان له إمام فقراءة الإمام قراءة له. جس سے ثابت ہو گیا کہ مقتدی قراءت نہ کرے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 87 – 88 جلد 02 كشف الأسرار شرح المصنف على المنار مع شرح نور الأنوار على المنار - حافظ الدين النسفي- ملاجيون - دار الكتب العلمية

7) قرآن کی یہ آیت کریمہ عام ہے، امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا صحیح احادیث کی روشنی میں اس سے مستثنیٰ ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ کی آحادیث قرآن کی آیتوں کی بہترین تفسیر ہے۔
مثلاً نماز کو ہی لے لیجئے! قرآن مجید میں اس کا تفصیلی طریقہ موجود نہیں ہے کہ ظہر کی چار رکعت ہے، مغرب کی تین رکعات ہیں اور فجر کی دو رکعات ہیں، قرآن میں تو مطلق نماز قائم کرنے کو کہا۔ اب اگر کوئی کہے کہ قران نے تو مطلق نماز قائم کرنے کو کہا، فجر کی دو، ظہر، عصر و عشا چار اور مغرب تین کیوں؟ یہ تو قرآن کے مطلق حکم کے خلاف ہے۔ 
حدیث کے بغیر قرآن کو اس طرح سمجھنا انکار حدیث اور ضلالت نہیں تو اور کیا ہے۔ 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی حضرت عمران بن حصینؓ (۵۲ھ) کے ہاں علمی مذاکرہ ہورہا تھا کہ ایک شخص نے کہا “لاتحدثوا الابما فی القرآن” (قرآن کے سوا اوربات نہ کیجئے) حضرت عمرانؓ نے اسے کہا کہ:”تو احمق ہے، کیا قرآن میں ہے کہ ظہر اور عصر کی چار رکعتیں ہیں اوران میں قرآن جہری نہیں؟ مغرب کی تین رکعتیں ہیں پہلی دو میں قرات جہری ہے اور تیسری میں آہستہ؟ عشاء کی چار رکعتیں ہیں دو میں قرات جہری ہے اور دو میں آہستہ؟ کیا یہ قرآن میں ہے”۔ (المصنف عبد الرزاق:۱۱/۲۵۵)
خطیب بغدادی (۴۶۳ ھ) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اسے یہ بھی کہا:
“اگر تم اور تمہارے ساتھی واقعی صرف قرآن پر ہی اعتماد کرتے نہیں توکیا تمہیں قرآن میں ملتا ہے کہ ظہر، عصر اور مغرب کی چار چار اور تین (فرض) رکعت ہیں اور یہ کہ(سورت فاتحہ کے بعد) صرف پہلی دو رکعتوں میں قرآن کریم پڑھا جاتا ہے ؟ کیا تمہیں قرآن کریم میں ملتا ہے طواف کعبہ کے سات چکر ہیں؟ اوریہ کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی ضروری ہے”۔ (الکفایہ فی علوم الروایہ:۱۵)

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏   أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَلَا لُقَطَةُ مُعَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا۔ 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  سنو، مجھے کتاب  ( قرآن )  دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی  ( یعنی سنت ) ، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے ۱؎: اس قرآن کو لازم پکڑو، جو کچھ تم اس میں حلال پاؤ اسی کو حلال سمجھو، اور جو اس میں حرام پاؤ، اسی کو حرام سمجھو، سنو! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ کسی نوکیلے دانت والے درندے کا، اور نہ تمہارے لیے کسی ذمی کی پڑی ہوئی چیز حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے دستبردار ہو جائے۔ 

اللہ سبحانہ و وتعالی فرماتا ہے۔ 
وَما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ }(الحشر: 7) 
رسول جو تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز آجاؤ اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ 


قرآن میں مطلقاً زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا گیا، کب دینا ہے کسے دینا ہے اس کا نصاب کیا ہوگا یہ ساری تفصیلات ہم احادیث کی روشنی میں طے کرتے ہیں۔ 

قرآن کریم نے حلال طیبات کو جائز قرار دیا اورخبائث اور ناپاک چیزوں کو حرام کہا، اب یہ موضوع کہ درندے اورشکاری پرندے طیبات میں داخل ہیں یا خبائث میں یہ تفصیل قرآن پاک میں نہیں ملتی،حدیث میں ارشاد ہے کہ “ذی ناب من السباع” کچلیوں والے درندے اور “ذی مخلب من الطیر” پنچوں سے کھانے والے پرندے مسلمان کے پاکیزہ رزق میں داخل نہیں۔
(۴)”أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ”۔ (المائدہ:۹۶)

حلال کیا گیا تمہارے لیے دریائی شکار؛لیکن یہ بات کہ مچھلی کو پکڑنے کےبعد اس کو ذبح کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں،قرآن کریم میں اس کی وضاحت نہیں ملتی،حدیث میں ہے کہ دریا کے شکار کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں،سمک طافی(مری مچھلی جو تیر کر اوپر آجائے) کو حدیث میں ناجائز بتلایا گیا ہے،قرآن پاک نے خون کو مطلقا حرام کہا تھا،حدیث نے تفصیل کی اوربتایا کہ کلیجی اور تلی (کی صورت میں جما ہوا خون) حلال ہے۔

اسی طرح سورہ اعراف کی یہ آیت کریمہ عام ہے اس میں مطلق اور مجمل طور پر  یہ بات کہی گئی ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم خاموش رہو نہ نماز کا ذکر ہے، نہ امام کا نہ مقتدی۔
اللہ کے رسول ﷺ کی صحیح احادیث نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کو اس آیت سے مستثنیٰ کرتی ہیں۔

8) دن رات میں فرض نمازوں کی تعداد سترہ رکعات ہیں۔ جن میں سے صرف چھ رکعات(فجر میں دو، مغرب میں دو اور عشاء کی پہلی دو رکعت)میں امام جہری قرأت کررہا ہوتا ہے باقی گیارہ رکعتوں میں امام آہستہ ہی قرأت کرتا ہے۔ تب یہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کیوں نہیں پڑھتے، اس وقت قرآن کی کون سی آیت انہیں سورہ فاتحہ پڑھنے سے روک رہی ہوتی ہے۔

انہوں نے تو امام کے لئے بھی اخیر کی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کی رخصت دے رکھی ہے، امام کی نماز بھی بغیر فاتحہ کے ہوتی ہے۔

9) اگر سورہ اعراف سے امام کے پیچھے کسی بھی طرح کی قرأت ممنوع ہے تو پھر لقمہ دینا بھی ممنوع ہونا چاہیے 

10) یہ عجیب المیہ ہے کہ احناف اپنے مقتدیوں کو امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے سے سختی کے ساتھ روکتے ہیں جو کہ صحیح احادیث کی روشنی میں ضروری تھاجبکہ امام کے پیچھے ثنا پڑھنے کی خوب اجازت ہے۔ امام جہری قرأت کر رہا ہو یا سری،ابتداء سے امام کی اقتداء کر رہا ہو یا بعد میں شامل ہوا ہو، قیام کی حالت میں ملنے والا نیت باندھنے کے بعد سورہ فاتحہ پڑھے یا نہ پڑھے، ثنا پڑھنا ضروی سمجاجاتا ہے، جو کہ حنفیوں کے یہاں بھی غیر ضروری ہے۔ کاش اس کے بجائے سورہ فاتحہ پڑھ لیا ہوتا تو نماز بھی ہوجاتی، نبیﷺ، اور صحابہ کرام کے طریقے پر عمل بھی ہو گیا ہوتا۔ 

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...