Saturday, May 28, 2022

استقامت فی الدین(راہ دین پر ثابت قدمی) ‏

بسم الله الرحمن الرحيم
 مولانا اقبال قاسمی سلفی
8340286829


استقامت فی الدین(راہ دین پر ثابت قدمی) 

استقامت کے لغوی معنی ہیں سیدھے ہوجانا اور کھڑے ہوجانا۔ 
اصطلاحی مفہوم ہے کسی چیز پر مستقل ہوجانا، مستقل مزاجی، ثابت قدمی، استقلال، consistency. 
اور شریعت میں استقامت کا مطلب ہے 
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی میں ثابت قدمی اختیار کرنا۔ 
استقامت دین ہر مسلمان کا فریضہ ہے اور اللہ رب العزت نے کئی آیات میں استقامت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ 
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (سورہھود:112)

۞ شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ (13) وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِن بَعْدِهِمْ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيبٍ (14) فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ ۖ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ ۖ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِن كِتَابٍ ۖ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ ۖ اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۖ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ ۖ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ۖ اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ (سوره شورى:15)
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ - وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ - قَالَ:    قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ، فَاسْتَقِمْ.حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی پکی بات بتائیے کہ آپ کے بعد مجھے کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے ( ابواسامہ کی روایت میں ’’ آپ کے بعد ‘‘ کے بجائے ’’ آپ کے سوا ‘‘ کے الفاظ ہیں ) آپ نے ارشاد فرمایا :’’ کہو : آمنت باللہ ( میں اللہ پر ایمان لایا ) ، پھر اس پر پکے ہو جاؤ ۔‘‘
Sahi muslim:38

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھتے تھے يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك ”اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئے کیا آپ کو ہمارے سلسلے میں اندیشہ رہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، لوگوں کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں جیسا چاہتا ہے انہیں الٹتا پلٹتا رہتا ہے“۔ سنن ترمذی:2140


اس استقامت کے بدلے اللہ رب العزت نزول ملائکہ اور جنت کی خوشخبری سنائی ہے۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ( سورہ فصلوں:30)

عقیدہ توحید پر استقامت 
قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍؕ-اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ
: إِنَّآ ءَامَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَٰيَٰنَا وَمَآ أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ ٱلسِّحْرِ ۗ وَٱللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰٓ
إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ
وَمَن يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَىٰ
سوره طه :72، 73، 74، 75، 76

 حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا ، اس کا ایک جادوگر تھا ، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا ، اس نے بادشاہ سے کہا : اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، آپ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیجیے میں اس کو جادو سکھا دوں گا ، چنانچہ اس نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیج دیا ، وہ اسے سکھانے لگا ، جب وہ لڑکا ( جادو سیکھنے کے لیے ) جاتا تو اس کے راستے میں ایک راہب تھا ، وہ اس کے پاس بیٹھنے اور اس کی باتیں سننے لگا جو اسے اچھی لگتیں ۔ جب وہ جادوگر کے پاس آتا تو راہب سے گزرتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ جاتا اور جب وہ جادوگر کے پاس جاتا تو وہ ( تاخیر کے سبب ) اس کو مارتا ، اس ( لڑکے ) نے راہب سے اس بات کی شکایت کی ، راہب نے اس سے کہا : جب تمہیں جادوگر سے ڈر لگے تو اس سے کہنا : میرے گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب گھر والوں سے ڈر لگے تو کہہ دینا : مجھے جادوگر نے روک لیا تھا ، وہ اسی طرح ( مقاملہ چلا رہا ) تھا کہ اسی اثناء میں اس کا سامنا ایک بڑے جانور سے ہوا جس نے لوگوں کا راستہ بند کر دیا تھا ۔ لڑکے نے سوچا کہ آج میں پتہ چلا لوں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب ؟ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا : اے اللہ ! اگر تجھے راہب کا معاملہ جادوگر سے زیادہ پسند ہے تو اس جانور کو قتل کر دے تاکہ لوگ گزر سکیں ، اس نے پتھر مار کر اس جانور کو قتل کر ڈالا اور لوگ ( راستے پر سے ) آنے جانے لگے ، پھر وہ راہب کے پاس آیا اور یہ بات بتائی ۔ راہب نے اس سے کہا : بیٹے ! آج تم مجھ سے افضل ہو ، تمہارا ( اللہ کے ہاں مقبولیت کا ) معاملہ وہاں تک پہنچ گیا جو مجھے نظر آ رہا ہے ۔ اب جلد ہی تمہاری آزمائش ہو گی ۔ جب تم آزمائش میں مبتلا ہو جاؤ تو میری نشاندہی نہ کر دینا ۔ یہ لڑکا مادرزاد اندھے اور پھلبہری کے مریض کو ٹھیک کر دیتا تھا ، اور لوگوں کی تمام بیماریوں کا علاج کر دیتا تھا ، بادشاہ کے ایک مصاحب نے ، جو اندھا ہو گیا تھا ، یہ بات سنی تو وہ بہت سے ہدیے لے کر آیا اور کہا : یہ جو کچھ ہے ، اگر تم نے مجھے شفا دے دی تو سب تمہارا ہے ۔ لڑکے نے کہا : میں کسی کو شفا نہیں دیتا ، شفا اللہ دیتا ہے ، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ سے دعا کروں گا ، اللہ تمہیں شفا عطا فرما دے گا ، وہ اللہ پر ایمان لے آیا اور اللہ نے اسے شفا دے دی ، وہ بادشاہ کے پاس گیا اور پہلے کی طرح اس کے پاس بیٹھ گیا ، بادشاہ نے اس سے پوچھا : تمہاری بینائی کس نے لوٹا دی ، اس نے کہا : میرے رب نے ۔ بادشاہ نے کہا : کیا میرے علاوہ تیرا کوئی اور رب ہے ؟ اس نے کہا : میرا اور تمہارا رب اللہ ہے ، بادشاہ نے اسے پکڑ لیا اور مسلسل اسے اذیت دیتا رہا ، یہاں تک کہ اس نے اس لڑکے کا پتہ بتا دیا ، اس لڑکے کو لایا گیا ، بادشاہ نے اس سے کہا : بیٹے ! تمہارا جادو یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ تم مادرزاد اندھوں کو ٹھیک کر دیتے ہو ، پھلبہری کے مریضوں کو تندرست کر دیتے ہو اور یہ کرتے ہو اور یہ کرتے ہو ۔ تو اس نے کہا : میں کسی کو شفا نہیں دیتا ، شفا تو صرف اللہ دیتا ہے ۔ بادشاہ نے اسے پکڑ لیا اور اسے مسلسل اذیت دیتا رہا ، یہاں تک کہ اس نے راہب کا پتہ بتا دیا ، پھر راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا : اپنے دین سے پھر جاؤ ، اس نے انکار کیا تو اس ( بادشاہ ) نے آرا منگوایا اور اس کے سر کے درمیان میں رکھا اور اسے چیرا ، یہاں تک کہ اس کے دو ٹکڑے ( ہو کر ادھر ادھر ) گر گئے ، پھر بادشاہ کے مصاحب کو لایا گیا ، اس سے کہا گیا : اپنے دین سے پھر جاؤ ، اس نے بھی انکار کر دیا ۔ اس نے اس کے سر پر بھی آرا رکھا اور اس کو چیر دیا ، اس کے دو ٹکڑے ( ہو کر ادھر ادھر ) گر گئے ، پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا : اپنے دین سے پھر جاؤ ، اس نے انکار دیا تو اس ( بادشاہ ) نے اسے اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا : اس کو فلاں فلاں پہاڑ پر لے جاؤ ، جب تم پہاڑ کی چوٹی پر پہنچو تو ( پھر بھی ) اگر یہ اپنے دین سے پلٹ جائے تو ٹھیک ، ورنہ اس کو اس چوٹی سے نیچے پھینک دو ، چنانچہ وہ اس کو لے گئے اور اسے لے کر پہاڑ پر چڑھ گئے تو اس نے ( دعا کرتے ہوئے ) کہا : اے اللہ ! تو جس طرح سے چاہے ، میری ان کی طرف سے کفایت ( حفاظت ) فرما ، چنانچہ پہاڑ نے ان کو زور سے ہلایا اور وہ ( پہاڑ سے ) نیچے گر گئے ۔ وہ ( لڑکا ) چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آ گیا ۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا : تیرے ساتھ جانے والوں کا کیا بنا ؟ اس نے کہا : اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا ، چنانچہ اس نے اسے اپنے چند اور ساتھیوں کے سپرد کیا اور کہا : اسے لے جاؤ ، اسے ایک کشتی میں بٹھاؤ اور اسے لے کر سمندر کے وسط میں پہنچو ۔ اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو ٹھیک ، ورنہ اسے ( سمندر میں ) پھینک دو ۔ وہ اسے لے گئے ۔ اس نے کہا : اے اللہ ! تو جس طرح سے چاہے مجھے ان سے بچا ، تو کشتی ان لوگوں پر الٹ گئی اور وہ سب غرق ہو گئے ۔ وہ ( لڑکا ) چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آ گیا ۔ بادشاہ نے اس سے کہا : تمہارے ساتھ جانے والوں کا کیا بنا ؟ اس نے کہا : اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا ، پر اس نے بادشاہ سے کہا : تم ( اس وقت تک ) مجھے قتل نہیں کر سکو گے ، یہاں تک کہ جو میں تمہیں کہوں وہی کرو ۔ اس نے کہا : وہ کیا ہے ؟ لڑکے نے کہا : سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرو اور مجھے ایک درخت پر سولی کے لیے لٹکاؤ ، پھر میرے ترکش میں سے ایک تیر لو ، اسے کمان کے درمیان میں رکھو ، پھر کہو : اللہ کے نام پر جو لڑکے کا رب ہے ، پھر مجھے اس کا نشانہ بناؤ ، اگر تم نے اس طرح کیا تو مجھے مار دو گے ۔ اس نے سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا ۔ اسے کھجور کے ایک تنے کے ساتھ لٹکا دیا ، پھر اس کے ترکش سے ایک تیر نکالا ، اسے کمان کے درمیان میں رکھا ، پھر کہا : اللہ کے نام سے جو ( اس ) لڑکے کا رب ہے ، پھر اسے نشانہ بنایا تو تیر اس کی کنپٹی کے اندر گھسا ، لڑکے نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر ، تیر لگنے کی جگہ رکھا اور جاں باختہ ہو گیا ۔ اس پر سب لوگ کہہ اٹھے : ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے ، ہم لڑکے کے رب پر ایمان لائے ، ہم لڑکے کے رب پر ایمان لائے ۔ بادشاہ کے پاس آ کر کہا گیا : جس بات سے تم ڈرتے تھے اسے دیکھ لیا ؟ اللہ کی قسم ! تمہارا ڈر ( حقیقت بن کر ) تم پر آن پڑا ، لوگوں نے ایمان قبول کر لیا ۔ بادشاہ نے راستوں کے سروں پر خندقوں ( کی کھدائی ) کا حکم دیا تو وہ کھود دی گئیں ، ( ان میں ) آگ بھڑکا دی گئی ۔ اس ( بادشاہ ) نے کہا : جو اپنے دین سے نہ پھرے ، اسے ان میں جلا ڈالو ، یا اس ( ایمان لانے والے ) سے کہا جاتا : اس کے اندر گھسو تو وہ ایسا کر گزرتے ، یہاں تک کہ ایک عورت آئی ، اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا ۔ اس نے اس میں گرنے سے تردد کیا تو اس بچے نے اس سے کہا : میری ماں ! صبر اختیار کر ، تو یقیناً حق پر ہے ۔‘‘ 
(Sahi muslim :7511) 
حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ 
حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا  نے رہتی دنیا تک کے لئے استقامت کی بہترین مثال قائم کردی ہے۔ : 

فرعون کی بیوی آسیہ کا فرعون کے ظلم کے مقابلے میں دین پر ثابت قدمی کی گواہی خود قرآن کی زبانی
وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَۘ-اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ(سورہ تحریم :۱۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اللہ نے مسلمانو ں کے لئے فرعون کی بیوی کو مثال بنا دیا جب اس نے عرض کی، اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔

صحابہ کرام نے اسلام کی خاطر ظلم و ستم کے مقابلے میں جو استقلال کا ثبوت دیا ہے اسے قرآن نے یوں نقشہ کھینچا ہے۔ 

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ ٱلْبَأْسَآءُ وَٱلضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُواْ حَتَّىٰ يَقُولَ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ مَتَىٰ نَصْرُ ٱللَّهِ ۗ أَلَآ إِنَّ نَصْرَ ٱللَّهِ قَرِيبٌ

سنت میں استقامت

عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے 

(Abu dawood:4607) 

2) تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُولِهِ 
(مستدرک للحاکم:318)

Sunday, May 1, 2022

ہزاری روزہ کی حقیقت!! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع : ہزاره روزہ کی حقیقت!! 

از : محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

ہمارے یہاں غیر ثابت شدہ اعمال میں سے ایک ہزاره روزہ بھی ہے جسے  27 رجب کی تاریخ کو ثواب و سنت سمجھ کر رکھنے کا اہتمام کیاجاتا ہے۔ جبکہ یہ روزہ کتاب اللہ اور کسی بھی صحیح حدیث میں موجود نہیں ہے۔ 
یہ روزہ سراسر بدعت اور من گھڑت ہے کیونکہ اس روزے اور اس کی فضیلت کے متعلق جتنی روایات ہیں وہ سب موضوع اور من گھڑت ہیں۔ 

اس سلسلے میں خود احناف کے دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظہ کریں۔ 

چنانچہ اس بابت جب دارالعلوم دیوبند سے سوال کیا گیا کہ  کیا  فرما تے ہیں علمائے دین ہزاری روزہ کے بارے میں ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتا ہوے لکھا :
جواب : 
۲۷/ ویں رجب کے روزے کا ہزار روزوں کے برابر ہونا کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں اور اس سلسلہ میں جو بعض روایات پیش کی جاتی ہیں، وہ یا تو موضوع ہیں یاحد درجہ ضعیف ہیں؛ اس لیے ۲۷/ رجب کے روزے کو ہزاری روزہ جان کر روزہ رکھنا درست نہیں۔ اور بعض لوگ جو اس روزے کو واجب وضروری سمجھتے ہیں، یہ بالکل غلط اور بدعت ہے، اس دن روزے سے احتراز چاہیے؛ البتہ اگرکوئی شخص ہرپیر کو روز رکھتا ہے اور ۲۷/ رجب کو پیر ہو تو وہ حسب معمول نفلی روزہ رکھ سکتا ہے، اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں؛لیکن لوگوں پر اپنے روزے کااظہار نہ کرے ورنہ کسی شخص کو یہ خیال آسکتا ہے کہ یہ ہزاری روزہ رکھ رہا ہے

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر : 161202

اسی طرح احناف کے  مفتی علامہ یوسف بنوری حنفی پاکستانی کا فتویٰ ملاحظہ کریں

سوال
 رجب المرجب کی  27 اور 28 تاریخ روزے کی  حقیقت کیا ہے؟ اور معراج کے بارے میں وضاحت درکار ہے۔ اور رجب کے مہینے میں کچھ خاص تسبیحات جو آپ ﷺ سے ثابت ہوں؟

جواب
رجب کا مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے، ان مہینوں میں عبادت کا ثواب زیادہ ہے، البتہ رجب کے مہینہ میں تخصیص کے ساتھ کسی دن روزہ رکھنا یا کوئی مخصوص قسم کی تسبیحات صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے، لہذا 27 رجب کو تخصیص کے ساتھ روزہ رکھنے  اور  اس رات شب بیدار رہ کر مخصوص عبادت کرنے (مثلاً:  صلاۃ الرغائب  یا دیگر مخصوص  تسبیحات وغیرہ )  کا التزام درست نہیں ہے، اور اس کی جو فضیلت عوام میں مشہور ہے کہ اس روزہ کا ثواب ہزار روزے کے برابر ہے یہ ثابت نہیں ہے؛ اس لیے اس دن کے روزہ کو زیادہ ثواب کاباعث یا اس دن کے روزہ کے متعلق سنت ہونے کا اعتقاد  صحیح نہیں ہے ، علماءِ کرام نے اپنی تصانیف میں اس کی بہت تردید کی ہے،حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ”تبیین العجب بما ورد في فضل رجب“کے نام سے اس موضوع پر مستقل کتاب لکھی ہے،جس میں انہوں نے رجب سے متعلق پائی جانے والی تمام ضعیف اور موضوع روایات پر محدثانہ کلام کرتے ہوئے سب کو باطل کردیا ہے۔

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ رجب کے مہینے میں ”  تبارک“ اور27 رجب کو روزہ رکھنے کے متعلق فرماتے ہیں:

”اس امر کا التزام نا درست اور بدعت ہے“۔(فتاویٰ رشید یہ مع تا لیفات رشید یہ،ص: 148)

حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”ستائیسویں رجب کے روزے کو جوعوام ہزارہ روزہ کہتے ہیں اور ہزارروزوں کے برابر اس کا ثواب سمجھتے ہیں، اس کی کچھ اصل نہیں ہے‘‘۔(فتاوٰی دار العلوم مد لل و مکمل: 6/491۔ 492)

حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”ماہ رجب میں تاریخِ مذکورہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت پر بعض روایات وار دہوئی ہیں، لیکن وہ روایات محدثین کے نزدیک درجہ صحت کو نہیں پہنچیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ”ماثبت بالسنتہ“ میں ذکر کیا ہے۔ بعض بہت ضیعف ہیں اور بعض موضوع (من گھڑت) ہیں“۔(فتاوٰی محمودیہ، 3/281،ادارہ الفاروق کراچی)

حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:

”27 رجب کے روزہ کا کوئی ثبوت نہیں۔“(سات مسا ئل صفحہ:5)

حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

”اس شب کے لیے خصوصی نوافل کا اہتمام کہیں ثابت نہیں ،نہ کبھی حضور صلی الله علیہ وسلم نے کیا ، نہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے، نہ تابعین عظام رحہم اللہ نے کیا۔ علامہ حلبی تلمیذ شیخ ابن ہمام رحمہ اللہ نے غنیتہ المستملی، ص:411 میں، علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے الجر الر ائق شرح کنز الد قائق ،ج:2، ص: 56، میں، علا مہ طحطا وی نے مراقی الفلاح ،ص:22 میں، اس رواج پر نکیر فرمائی ہے اور اس کے متعلق جو فضائل نقل کرتے ہیں ان کو ردکیا ہے‘‘۔(فتاویٰ محمودیہ:3/284،ادارہ الفاروق کراچی)

لہذا اس مہینے میں تخصیص کے ساتھ کسی عبادت کو ضروری سمجھنا درست نہیں ہے، ہاں تخصیص اور التزام کے بغیر جس قدر ہوسکے اس پورے مہینے میں عبادت کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔

2۔  رجب کی ستائیسویں رات کے بارے میں اگرچہ مشہور ہے کہ یہ شبِ معراج ہے، لیکن یقینی طور پر نہیں کہاجاسکتا کہ یہ وہی رات ہے جس میں نبی کریم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے، کیوں کہ اس بارے میں روایات مختلف ہیں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے تھے ، بعض روایتوں میں رجب، بعض میں ربیع الثانی، بعض میں رمضان اور بعض میں شوال  کا مہینہ بیان کیا گیا ہے، اس لیے پورے یقین کے ساتھ نہیں کہاجاسکتا کہ کون سی رات صحیح معنی میں معراج کی رات تھی، اگر یہ کوئی مخصوص رات ہوتی اور اس کے بارے میں خاص احکام ہوتے تو اس کی تاریخ اور مہینہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جاتا، جب کہ شبِ معراج کی تاریخ قطعی طور پرمحفوظ نہیں۔فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144007200326

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن،  پاکستان


اللہ رب العزت امت کو اس بدعت و ضلالت سے حفاظت فرماۓ اور سنت رسول ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے!! 
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!!

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...