السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدلله والصلوة والسلام على رسول الله
تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں کانوں کو چھونا!!
محمد اقبال قاسمی سلفی
جیسا کہ احناف کے یہاں بکثرت یہ دیکھا جاتا ہے کہ ابتداء نماز میں تکبیر تحریمہ کے لئے ہاتھوں کو بلند کرتے ہوئے کانوں کو چھونا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
جو کہ سراسر غلط ہے کیونکہ یہ عمل نہ سنت نبوی سے ثابت ہے
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے
نہ تابعین رحمہم اللہ سے
نہ تبع تابعین سے
نہ امام ابو حنیفہ سے
نہ امام مالک سے
نہ امام شافعی سے
نہ امام احمد بن حنبل سے
صحیح حدیث تو کیا ،کسی ضعیف اور موضوع روایت میں بھی یہ عمل موجود نہیں ہے۔
دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے فتوے میں رفع الیدین کرتے ہوئے کانوں کی لو کے چھونے کے عمل کی مشروعیت سے انکار کیا ہے۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظہ کریں:
سوال
نماز میں تکبیر تحریمہ کے لیے کب ہاتھ اٹھایا جائے گا؟ کیا انگوٹھا یا شہادت کی انگلی کا کان کی لو سے چھونا سنت ہے؟(۲)اوپر مذکور سوال کا حدیث سے کیا حوالہ ہے؟
الجواب:
تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے اسی کے ساتھ ہاتھ بھی اٹھایا جائے، کان کی لَوْ کو اپنے انگوٹھے یا شہادت کی انگلی سے چھونا سنت نہیں ہے۔ بلکہ اپنے انگوٹھے کو کان کی لو تک اٹھانا یعنی اس کے مقابل کرنا سنت ہے: حَتی یُحَاذِیَ أذُنَیْہِ، اوردوسری حدیث میں: حتی یحاذی منکبیہ، پہلی حدیث میں ہاتھ کو کان کی لو کے مقابل اٹھانے کا ذکر ہے، اور دوسری حدیث میں دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے مقابل اٹھانے کا ذکر ہے، ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، طحاوی وغیرہ سب ہی کتابوں میں یہ حدیثیں ملیں گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
(فتویٰ نمبر: 9908)
رفع الیدین کا نبوی طریقہ جو صحیح احادیث میں موجود ہے وہ یہ کہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے بالمقابل اٹھاتے.
عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ» فَقَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ۔
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع کرتے تو ( پھر ) اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے اور ایسا ہی کرتے ۔
(صحیح مسلم:391)
دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَيَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ ۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر تحریمہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھ اس وقت مونڈھوں ( کندھوں ) تک اٹھے اور اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے لیے تکبیر کہتے اس وقت بھی ( رفع یدین ) کرتے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے سمع الله لمن حمده البتہ سجدہ میں آپ رفع یدین نہیں۔
(صحیح بخاری:736)
لہٰذا دونوں طرح جائز ہے، لیکن زیادہ حدیثوں میں کندھوں تک رفع الیدین کرنے کا ثبوت ہے۔
جیسا کہ ان دو حدیثوں میں دونوں ہاتھوں کو کانوں یا کندھوں کے بالمقابل اٹھانے کا نبوی طریقہ مذکور ہے۔
یہی طریقہ مردوعورت دونوں کے لئے ہے۔
یہی طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ و صحابیات کا تھا، یہی طریقہ تابعین وتابعات کا تھا۔ یہی طریقہ محدثین اور فقہاء کرام بشمول ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کاتھا۔
تقریباً چھ سو سال تک پوری امت کا اسی طریقہ نبوی کے مطابق رفع الیدین ہوتا رہا،
اس مسنون طریقہ میں بدعت کو سب سے پہلے انجکٹ (ادراج) کرنے والا بدعتی حنفی قاضیخان المتوفی ٥٩٢ھ ہے۔
چنانچہ فتاویٰ قاضیخان میں لکھا ہے۔ فاذا اراد التكبير ......و يرفع يده حذاء أذنيه و يمس طرق ابهاميه شحمةاذنيه ....۔
(فتاویٰ قاضیخان بهامش الفتاوى الهنديه: 1/85)
جب تکبیر تحریمہ کا ارادہ کرے ۔۔۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھاۓ اور اپنے دونوں انگوٹھے سے دونوں کانوں کی لو کو چھوۓ۔
اب کیا تھا، حنفی حضرات اس مسئلے میں اپنے مجتہد امام، ابو حنیفہ کو بھی بھلا کر قاضیخان کے مقلد بن گئے جیسا کہ تقلید اور مقلد کی سرشت اور فطرت میں یہ عادت عموماً پائی جاتی ہے۔
جبکہ امام ابو حنیفہ اور متقدمین حنفیوں کے یہاں مس اذنین کا مسئلہ سرے سے ثابت شدہ نہیں تھا
علامہ طحطاوی حنفی مراقی الفلاح کے حاشیۓ میں رقمطراز ہیں: دونوں کانوں کا چھونا کتب متداولہ میں کہیں بھی مذکور نہیں ہے سوائے قاضیخان کے۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح .1/186)
خلیل احمد سہارنپوری حنفی دیوبندی بذل المجہود فی حل ابو داؤد میں لکھتے ہیں: اور رہا دونوں انگوٹھے سے دونوں کانوں کے چھونے کا مسئلہ تو یہ کتب ظاہر الروایہ میں کہیں بھی مذکور نہیں ہے ،اسے بعد کے لوگوں نے اپنی کتابوں میں داخل کر دیا ہے۔ (بذل المجہود 4/398)
یعنی اس مسئلے میں متقدمین اور متاخرین احناف کے مابین بھی اختلاف ہے ، متقدمین احناف کے یہاں مس اذنین عند الرفع کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ یہ سراسر متاخرین احناف کی کارستانی ہے بلکہ متاخرین میں بھی اس مسئلے میں خاصا اختلاف ہے ،بعض متاخرین بھی مس کے منکر ہیں اور قائلین مس کے قول کی تاویل کی ہے کہ کانوں کے چھونے سے مراد حقیقت میں چھونا نہیں ہے بلکہ دونوں ہاتھوں کا دونوں کانوں کی لو کے قریب کرنا مراد ہے۔
جو امام ابو حنیفہ کے موقف کے بھی خلاف ہے۔
محمد بن حسن شیبانی ابو حنیفہ سے روایت کرتے ہیں:
قال ابو حنيفه : إذا افتتح الرجل الصلاة كبر و رفع يديه حذاء اذنيه...........
ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :جب آدمی نماز شروع کرے تو تکبیر کہے اور ہاتھوں کو کانوں کے تک اٹھاۓ۔ (الحجة على اهل المدينة 1/94)
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔