بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا صحابہ کرام بغلوں میں بت رکھ کر نماز پڑھا کرتے تھے!!
محمد اقبال قاسمی سلفی
تقلید کے مکاتب اربعہ میں سے حنفی تقلیدی علماء و مفتیان کی طرف سے رفع الیدین کی صحیح احادیث پر عمل سے روکنے کے لئے جو مغالطے پیش کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام چونکہ ابھی نیو مسلم تھے، اسلام ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوا تھا، بت کی محبت ان کے دلوں سے ابھی پوری طرح نکلی نہیں تھی، نماز پڑھتے ہوئے بھی وہ اپنے بغلوں میں بت رکھ لیا کرتے تھے، اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ابتداء اسلام میں انہیں رکوع جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع الیدین کا حکم دیا تھا تاکہ وہ بت گر جائیں، اور بعد میں یہ حکم منسوخ کر دیا گیا۔
لیکن پورے ذخیرۂ احادیث میں صحیح تو کیا، کسی ضعیف موضوع اور من گھڑت سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ۔ یہ صرف اور صرف سنت رسول ﷺ سے عداوت اور اپنے خانہ زاد مسلک کی دعوت پر جاہل عوام کو مدعو کرنے کے لئے تراشا گیا ایک افسانہ ہے۔
اگر بت ہی گرانا تھا تو اس کے لئے عند الرکوع رفع یدین کی کیا ضرورت تھی، ابتدا نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت جو رفع الیدین کیا جاتا ہے وہی کافی تھا، ان بتوں کو گرانے کے لئے کیا رکوع سجدے کافی نہ تھے، نماز وتر کی تیسری رکعت اور عیدین کی نمازوں میں کیا اب تک مصلیان بت لے کر مسجد آتے ہیں ، اور ایک نہیں سات سات بت لے کر آتے ہیں جنہیں گرانے کے لئے ان مقامات پر رفع الیدین کیا جاتا ہے۔
شیخ توصیف الرحمن حفظہ اللہ سے ایک بار یہی سوال کیا گیا کہ "حنفی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رفع یدین اس لیۓ کرتے تھے کیونکہ مشرکین مکہ اپنی بغلوں میں بت رکھ کر لے آتے تھے تاکہ نماز کے دوران اس کی عبادت کرسکیں اور رفع یدین کرنے سے وہ بت گر جایا کرتے تھے۔ اور بعد میں جب یہ سلسلہ ختم ہوگيا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کرنا موقوف کردیا۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔"
تو انہوں نے اس کاجواب پریکٹیکل طور سے دیا: شیخ توصیف الرحمن نے پانی کی ایک چھوٹی بوتل لی اور اسے اپنی بغلوں میں رکھ لیا اور پھر عملی طور پر رفع یدین کرتے ہوۓ ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھایا بغل میں رکھی ہوئ بوتل نہ گری اس کے بعد جب آپ نے رکوع میں جانے کا عمل کیا تو بوتل گر گئ۔
پھر آپ نے کہا "اب ذرا سوچنے کا مقام ہے۔ اگر رفع یدین کا مقصد بتوں کا گرانا ہوتا تو یہ مقصد تو اس طرح رفع یدین کرنے سے حاصل نہین ہوتا۔ ہاں رکوع میں جانے سے بغلوں میں چھپاۓ ہوۓ بت خود بخود ہی گر جاتے۔ اس صورت میں تو رفع یدین کا کوئ مقصد ہی نہیں رہتا۔ تو معلوم ہوا کہ حنفیوں کا بتوں کو گرانے والا استدلال باطل ہے۔ اور اس کی کوئ اصل نہین ہے"۔
سنہ۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا، مکہ سے بتوں کا خاتمہ ہو گیا، خانہ کعبہ کے اندر رکھے ہوئے 360 بت بتوں کا نام نشان مٹا دیا گیا، صحابہ کرام پھر بھی رفع یدین کرتے رہے،
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ جو یمن کے شہزادے تھے، سنہ ۹ھ میں نبی کریمﷺ کے پاس آۓ(عمدة القاري از عيني حنفي : 274/5)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( ایک دفعہ ) میں نے ( اپنے دل میں ) کہا : میں ضرور رسول اللہ ﷺ کی نماز کو غور سے دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں ؟ چنانچہ میں نے ( توجہ سے ) آپ کی طرف دیکھا ۔ آپ کھڑے ہوئے ، اللہ اکبر کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتی کہ وہ آپ کے کانوں کے برابر ہو گئے ۔ پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی ، جوڑ اور کلائی پر رکھا ۔ پھر جب آپ نے رکوع کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے اسی ( پہلے رفع الیدین کی ) طرح ہاتھ اٹھائے اور آپ نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے ۔ پھر جب آپ نے اپنا سر اٹھایا تو اسی طرح رفع الیدین کیا ۔ پھر سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر رکھا ۔ پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور اپنی دائیں کہنی کا کنارہ اپنی دائیں ران پر رکھا ۔ پھر ہاتھ کی دو انگلیاں بند کیں اور ( درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے ) حلقہ بنایا ۔ پھر اپنی ( تشہد کی ) انگلی کو اٹھایا ، چنانچہ میں نے دیکھا ، آپ اسے حرکت دیتے تھے اس کے ساتھ دعا کرتے تھے ۔
(سنن نسائی:890 صحیح)
اس کے بعد حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سردی کے موسم میں دوبارہ نبیﷺ کے پاس تشریف لائے اور اس کا مشاہدہ کیا
( سنن ابو داؤد:727 صحیح)
واضح ہو کہ سنہ ۱۰ ھ میں نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی ہے یعنی نبی ﷺ کی وفات سے ٹھیک پہلے کا عمل یہ صحابی رسول بتا رہے ہیں
تو کیا نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ پوری زندگی دین کی دعوت دیتے رہے اور آپ کو اتنی بھی کامیابی نہ مل سکی کہ آپ اپنے ساتھیوں کو بتوں کی محبت سے نکال سکیں۔
سُبْحَانَكَ هَٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ !!
نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی صحابہ کرام رفع الیدین کیا کرتے تھے
سلیمان الشیبانی کہتے ہیں :
”میں نے سالم بن عبد اللہ بن عمر تابعی رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے جب نماز شروع کی تو رفع الیدین کیا، جب رکوع کیا تو رفع الیدین کیا اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو رفع الیدین کیا، میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، میں نے اپنے باپ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کو ایسا کرتے دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔“
(حديث السراج: 115، سندۂ صحيح)
یہ حدیث دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی صحابہ کرام اور تابعین عظام رفع الیدین کرتے رہے، راوی حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع الیدین ملاحظہ فرمایا، خود بھی رفع الیدین کیا، یہاں تک ان کے بیٹے سالم جو تابعی ہیں، وہ آپ کا رفع الیدین ملاحظہ کر رہے ہیں اور وہ خود بھی رفع الیدین کر رہے ہیں۔