Friday, December 16, 2022

کیا صحابہ کرام بغلوں میں بت رکھ کر نماز پڑھا کرتے تھے!! ‏

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا صحابہ کرام بغلوں میں بت رکھ کر نماز پڑھا کرتے تھے!! 

محمد اقبال قاسمی سلفی 

تقلید کے مکاتب اربعہ میں سے حنفی تقلیدی علماء و مفتیان کی طرف سے رفع الیدین کی صحیح احادیث پر عمل سے روکنے کے لئے جو مغالطے پیش کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام چونکہ ابھی نیو مسلم تھے، اسلام ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوا تھا، بت کی محبت ان کے دلوں سے ابھی پوری طرح نکلی نہیں تھی، نماز پڑھتے ہوئے بھی وہ اپنے بغلوں میں بت رکھ لیا کرتے تھے، اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ابتداء اسلام میں انہیں رکوع جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع الیدین کا حکم دیا تھا تاکہ وہ بت گر جائیں، اور بعد میں یہ حکم منسوخ کر دیا گیا۔ 

لیکن پورے ذخیرۂ احادیث میں صحیح تو کیا، کسی ضعیف موضوع اور من گھڑت سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ۔ یہ صرف اور صرف سنت رسول ﷺ سے عداوت اور اپنے خانہ زاد مسلک کی دعوت پر جاہل عوام کو مدعو کرنے کے لئے تراشا گیا ایک افسانہ ہے۔

 اگر بت ہی گرانا تھا تو اس کے لئے عند الرکوع رفع یدین کی کیا ضرورت تھی، ابتدا نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت جو رفع الیدین کیا جاتا ہے وہی کافی تھا، ان بتوں کو گرانے کے لئے کیا رکوع سجدے کافی نہ تھے، نماز وتر کی تیسری رکعت اور عیدین کی نمازوں میں کیا اب تک  مصلیان بت لے کر مسجد آتے ہیں ، اور ایک نہیں سات سات بت لے کر آتے ہیں جنہیں گرانے کے لئے ان مقامات پر رفع الیدین کیا جاتا ہے۔ 
شیخ توصیف الرحمن حفظہ اللہ سے ایک بار یہی سوال کیا گیا کہ  "حنفی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رفع یدین اس لیۓ کرتے تھے کیونکہ مشرکین مکہ اپنی بغلوں میں بت رکھ کر لے آتے تھے تاکہ نماز کے دوران اس کی عبادت کرسکیں اور رفع یدین کرنے سے وہ بت گر جایا کرتے تھے۔ اور بعد میں جب یہ سلسلہ ختم ہوگيا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کرنا موقوف کردیا۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔"

تو انہوں نے اس کاجواب  پریکٹیکل طور سے دیا: شیخ توصیف الرحمن نے پانی کی ایک چھوٹی بوتل لی اور اسے اپنی بغلوں میں رکھ لیا اور پھر عملی طور پر رفع یدین کرتے ہوۓ ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھایا بغل میں رکھی ہوئ بوتل نہ گری اس کے بعد جب آپ نے رکوع میں جانے کا عمل کیا تو بوتل گر گئ۔
پھر آپ نے کہا "اب ذرا سوچنے کا مقام ہے۔ اگر رفع یدین کا مقصد بتوں کا گرانا ہوتا تو یہ مقصد تو اس طرح رفع یدین کرنے سے حاصل نہین ہوتا۔ ہاں رکوع میں جانے سے بغلوں میں چھپاۓ ہوۓ بت خود بخود ہی گر جاتے۔ اس صورت میں تو رفع یدین کا کوئ مقصد ہی نہیں رہتا۔ تو معلوم ہوا کہ حنفیوں کا بتوں کو گرانے والا استدلال باطل ہے۔ اور اس کی کوئ اصل نہین ہے"۔

 سنہ۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا، مکہ سے بتوں کا خاتمہ ہو گیا، خانہ کعبہ کے اندر رکھے ہوئے 360 بت بتوں کا نام نشان مٹا دیا گیا، صحابہ کرام پھر بھی رفع یدین کرتے رہے، 
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ جو یمن کے شہزادے تھے، سنہ ۹ھ میں نبی کریمﷺ کے پاس آۓ(عمدة القاري از عيني حنفي : 274/5) 

 حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( ایک دفعہ ) میں نے ( اپنے دل میں ) کہا : میں ضرور رسول اللہ  ﷺ  کی نماز کو غور سے دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں ؟  چنانچہ میں نے ( توجہ سے ) آپ کی طرف دیکھا ۔ آپ کھڑے ہوئے ، اللہ اکبر کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتی کہ وہ آپ کے کانوں کے برابر ہو گئے ۔ پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی ، جوڑ اور کلائی پر رکھا ۔ پھر جب آپ نے رکوع کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے اسی ( پہلے رفع الیدین کی ) طرح ہاتھ اٹھائے اور آپ نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے ۔ پھر جب آپ نے اپنا سر اٹھایا تو اسی طرح رفع الیدین کیا ۔ پھر سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر رکھا ۔ پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور اپنی دائیں کہنی کا کنارہ اپنی دائیں ران پر رکھا ۔ پھر ہاتھ کی دو انگلیاں بند کیں اور ( درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے ) حلقہ بنایا ۔ پھر اپنی ( تشہد کی ) انگلی کو اٹھایا ، چنانچہ میں نے دیکھا ، آپ اسے حرکت دیتے تھے اس کے ساتھ دعا کرتے تھے ۔ 
(سنن نسائی:890 صحیح) 
 
اس کے بعد حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سردی کے موسم میں دوبارہ نبیﷺ کے پاس تشریف لائے اور اس کا مشاہدہ کیا 
( سنن ابو داؤد:727 صحیح) 
واضح ہو کہ سنہ ۱۰ ھ میں نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی ہے یعنی نبی ﷺ کی وفات سے ٹھیک پہلے کا عمل یہ صحابی رسول بتا رہے ہیں

 تو کیا نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ پوری زندگی دین کی دعوت دیتے رہے اور آپ کو اتنی بھی کامیابی نہ مل سکی کہ آپ اپنے ساتھیوں کو بتوں کی محبت سے  نکال سکیں۔
سُبْحَانَكَ هَٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ !!

نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی صحابہ کرام رفع الیدین کیا کرتے تھے  

سلیمان الشیبانی کہتے ہیں :

”میں نے سالم بن عبد اللہ بن عمر تابعی رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے جب نماز شروع کی تو رفع الیدین کیا، جب رکوع کیا تو رفع الیدین کیا اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو رفع الیدین کیا، میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، میں نے اپنے باپ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کو ایسا کرتے دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔“
(حديث السراج: 115، سندۂ صحيح) 

یہ حدیث دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی صحابہ کرام اور تابعین عظام رفع الیدین کرتے رہے، راوی حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع الیدین ملاحظہ فرمایا، خود بھی رفع الیدین کیا، یہاں تک ان کے بیٹے سالم جو تابعی ہیں، وہ آپ کا رفع الیدین ملاحظہ کر رہے ہیں اور وہ خود بھی رفع الیدین کر رہے ہیں۔

Sunday, December 11, 2022

رفع الیدین اور احناف کی قلا بازیاں!! ‏

بسم اللہ الرحمن الرحیم

رفع الیدین اور احناف کی قلا بازیاں!! 

    محمد اقبال قاسمی سلفی

نماز میں تحریمہ کے علاوہ قبل الرکوع و بعد الرکوع رفع الیدین ان معرکۃ الآراء مسائل میں سے ہے جس پر اہل الراۓ اور اہل الحدیث کے درمیان صدیوں سے معرکہ آرائی چلی آرہی ہے۔ثبوت رفع الیدین کے مضبوط دلائل نے احناف کو ایسی ذہنی خلج کا شکار بنا دیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر تناقضات کے جال میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ 

ذیل میں ہم احناف کے تناقضات کو پیش کریں گے اس امید کے ساتھ کہ حنفی حضرات تقلید و تعصب کی راہ کو چھوڑ کر اتباع سنت کی روش کو سینے سے لگائیں گے۔ 

تمہارے قول و عمل میں تضاد کتنا ہے 
مگر یہ دل ہے کہ خوش اعتقاد کتنا ہے۔ 

1)احناف کبھی رفع الیدین کو منسوخ ومتروک قرار دیتے ہیں۔ 
چنانچہ دارالعلوم دیوبند اپنے ایک فتوے میں یوں رقمطراز ہے:
 ایسی معتبر و مستند کئی روایات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین والی روایت منسوخ ہیں۔
دارالافتاء دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر:167307

2) کبھی رفع الیدین کے منسوخ و متروک ہونے کا انکار کرتے ہیں:

مولانا عبد الحئی حنفی لکھنوی فرماتے ہیں:
رفع یدین کرنے کا ثبوت نبی کریم ﷺ سے بہت زیادہ اور راجح روایتوں میں موجود ہے۔ اور جو لوگ اس کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ دعویٰ ایسا بے دلیل ہے جس سے مریض کی نہ تشفی ہوتی ہے اور نہ پیاسے کی پیاس بجھتی ہے۔(التعلیق الممجد)

نیز اسی صفحہ پر مزید لکھتے ہیں:
’ لاَ يُجْتَرْأُ بِنَسْخِ أَمْرٍ ثَابِتٍ عَنْ رَسُوْلِ ﷺ بِمُجَرَّدِ حُسْنِ الظَنِّ بِالصَّحَابِيْ مَعْ إِمْکَانِ الْجَمْعِ بَيْنَ فِعْلِ الرَّسُوْلِ وَفِعْلِہ صحابی رسول سے محض حسن ظن کی بنیاد پر رسول ﷺ کے ایک ثابت شدہ امر کو منسوخ قرار دینے کی جرأت نہیں کی جا سکتی، باوجود اس کہ دونوں کے درمیان جمع کا امکان موجود ہو۔ 

3) ۔ کبھی رفع الیدین کو ناپسندیدہ یعنی مکروہ قرار دیتے ہیں:

محمود الحسن دیوبندی صاحب فرماتے ہیں: حنفیہ کے نزدیک رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنا مکروہ ہے۔ (ادلہ کاملہ، صفحہ 25)

4) کبھی رفع الیدین پر خلاف اولی ہونے کا فتویٰ لگاتے ہیں:

حبیب الرحمنٰ اعظمی دیوبندی لکھتے ہیں: تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین کا خلاف اولیٰ ہونا بالکل ظاہر ہے۔(تحقیق مسئلہ رفع یدین، صفحہ 14)

5) ۔ کبھی کہتے ہیں کہ رفع الیدین اور ترک رفع الیدین دونوں سنت ہیں۔

 جیسے شاہ ولی اللہ حنفی کہتے ہیں: میرے نزدیک حق بات یہ ہے کہ رفع الیدین کرنا یا نہ کرنا دونوں طرح سنت ہے۔(حجتہ اللہ بالغہ)

6) کبھی نبی کریم ﷺ کی اس سنت کو بدعت کے زمرے میں لا کھڑا کردیتے ہیں:

امین اوکاڑوی دیوبندی لکھتے ہیں:
 
تکبیر تحریمہ کے علاوہ دوسرے مواضع میں رفع یدین کرنا تعارض روایات کی وجہ سے سنیت اور نسخ سنیت میں دائر ہے، اور جب کوئی چیز سنیت اور بدعت میں دائر ہو یعنی اس کے سنت یا بدعت ہونے میں شبہ ہو تو اسکے بدعت ہونے کے پہلو کو راجح قرار دیاجاتا ہے۔ (تجلیات صفدر، جلددوم، صفحہ 372)

7) اور کبھی رفع الیدین کو مقلد کے لئے بھی جائز قرار دیتے ہیں:

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے ایک شخص نے سوال کیا:

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام علماءِ دین شرعِ متین مسئلہ ذیل کے بارے میں ، مقلدین حضرات جب رفع یدین کرتے ہیں، آمین آواز سے کہتے ہیں، سینے پر ہاتھ باندھتے ہیں تو علماء کہتے ہیں صحیح ہے۔ وہی اگر کوئی غیر مقلدین کرتے ہیں تو کہتے ہیں صحیح نہیں ہے۔ لہٰذا آپ سے ادبًا درخواست ہے کہ میری اس جہالت کو آپ کی علم کی روشنی سے دور کریں۔ 

جواب:
رفع یدین ، آمین بالجہر اور سینے پر ہاتھ باندھنے کے سلسلے میں دونوں طرح کی احادیث ہیں، بعض حدیثوں سے ان چیزوں کا ثبوت ہوتا ہے اور بعض سے ممانعت ثابت ہوتی ہے، احادیث کے اس اختلاف اور دیگر دلائل کی بنا پر کسی ایک جہت کو ترجیح دینے میں ائمہ کا اختلاف ہوا؛ چنانچہ علماء احناف کے نزدیک ممانعت والی احادیث راجح ہیں اور شوافع کے نزدیک ثبوت والی احادیث راجح ہیں اور ہر شخص اپنے امام کے اجتہاد کی تقلید کا مکلف ہے؛ لہٰذا اگر کوئی مقلد شخص اپنے امام کی تقلید کرتے ہوئے رفع یدین وغیرہ کرتا ہے تو جائز ہے۔ 
دارالافتاء دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:176557

نوٹ! اوپر کے فتوے میں یہ کہا تھا کہ رفع الیدین منسوخ ہو گیا ہے اور اس فتوے میں اسے جائز بھی قرار دے ہیں۔ منسوخ بھی اور جائز بھی؟؟ 

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا 

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ 


8) کبھی نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ کی اس سنت کو جانوروں کا فعل قرار دیتے ہیں:

دیوبندیوں کا مناظر ’’اسلام‘‘ امین اوکاڑوی لکھتا ہے: اس رفع یدین پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار بھی فرمایا اور اسے جانوروں کے فعل سے تشبیہ بھی دی۔ (تجلیات صفدر، جلددوم، صفحہ350)

9)کبھی کہتے ہیں رفع الیدین کرنے والا نہ کرنے والے  سے زیادہ پیارا اور پسندیدہ ہے۔ 
شاہ ولی اللہ دہلوی حنفی لکھتے ہیں:
 وَالَّذِیْ یَرْفَعُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّنْ لَا یَرْفَعُ(حجۃ جلد 2ص8)
مجھے رفع الیدین کرنے والا نہ کرنے والے  سے زیادہ پیارا اور پسندیدہ ہے۔ (حجۃ اللّٰه جلد 2ص8)
10) کبھی کہتے ہیں:جو سنت کی محبت سے رفع الیدین کرے اس کو برا نہیں جانتا۔ 
 رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں :
”جو سنت کی محبت سے بلاشر و فساد آمین بالجہر اور رفع الیدین کرے، اس کو برا نہیں جا نتا“۔ (تذكرة الرشيد : 175/2) 

11) کبھی کہتے ہیں:رفع الیدین شاذ ہے:

 امین اوکاڑوی دیوبندی لکھتاہے : الغرض عدم رفع تعاملاً متواتر تھی اور رفع یدین عملاً شاذ۔ (تجلیات صفدر، جلددوم، صفحہ266)

12) کبھی "ثم لا يعود" کی ضعیف پیش کرکے یہ باور کراتے ہیں کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ نماز میں کسی مقام پر رفع الیدین نہیں ہے، اور پھر وتر کی تیسری رکعت اور عیدین کی زائد تکبیروں میں رفع یدین کرکے ازخود اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ 

13) کبھی تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین پر ہمیشگی کی دلیل کا مطالبہ کرتے ہیں اور وتر و عیدین میں خود ہمیشگی اختیار کئے بیٹھے ہیں۔ 

14) کبھی رفع الیدین پر "شریر گھوڑوں کی دموں" کی حدیث پیش کرتے ہیں اور وتر و عیدین بشمول تکبیر تحریمہ ہر روز وہی عمل کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ 

15) کبھی رفع الیدین کرنے پر بغلوں میں بت رکھنے تک کا الزام دھرتے ہیں اور وتر و عیدین بشمول تکبیر تحریمہ خود ہی بتوں کو گرانے کا کام کرتے ہیں۔ 

 رفع الیدین پر احناف کا یہ فکری اختلاف  اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ثبوت رفع الیدین کے قوی دلائل نے انہیں اس قابل  نہیں چھوڑا کہ یہ کسی ایک نکتے اور فتوےپر متفق ہو سکیں اور اپنی عوام کو مطمئن کر سکیں،  دفع الوقتی کے لئے طرح طرح کے بس حیلے ہی آج تک تراشے جاتے رہے ہیں۔ 

یوں تو میرے رقیبوں میں اختلاف بہت ہے۔ 
مرے خلاف مگر اتحاد کتنا ہے۔ 
 اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...