بسم الله الرحمن الرحيم
محمد اقبال قاسمی سلفی
وضو میں گردن کا مسح کرنا !!
احناف کے یہاں عام طور سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ وضو کرتے ہوئے سر کا مسح کرنے کے بعد گردن کابھی مسح کرتے ہیں۔
گردن مسح کرنے کا حنفی طریقہ کیا ہے، اسے معتبر حنفی ادارے کے حوالے سے پتہ کرتے ہیں۔
چنانچہ اس بابت جب ان سے فتویٰ طلب کیا گیا اور جو جواب ملا وہ درج ذیل ہے:
سوال:
بعض ساتھی کہتے ہیں کہ گردن کے اس حصے کا مسح کیا جاتا ہے جو کہ دائیں اور بائیں جانب ہے میری مراد حلق اور گدی کے علاوہ کا حصہ. کیا یہ بات درست ہے یا پھر گدی والے حصے کا مسح کیا جائے گا؟
جواب
گردن کے مسح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کی پشت کو گدی پر رکھ کر نیچے اطراف کی جانب کھینچا جائے اور کانوں کے نیچے پہنچنے پر اٹھالیا جائے۔ اس سے گدی اور کانوں کے نچلے حصہ دونوں کا مسح ہوجائے گا۔
فتوی نمبر : 144001200259
دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظہ کریں.
سوال: یہ تو معلوم ہے کہ وضو میں گردن مسح کرنا مستحب ہے ، لیکن مسح کرنے کا طریقہ کیسا ہے ؟ سر مسح کرتے وقت ہی گردن مسح کر لینا افضل ہے ؟ یا سر مسح کرنے کے بعد ہتھیلی کے الٹا طرف سے مسح کرنا چاہیئے ؟ کیسے گردن کا مسح کروں؟
جواب:
گردن کا مسح سر کے مسح کے ساتھ ہی کرلینا چاہیے؛ البتہ دونوں ہتھیلیوں کی پشت سے کرنا بہتر ہے۔
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:149928
لیکن گردن کے مسح کا یہ طریقہ قرآن و حدیث میں کہیں بھی مذکور نہیں ہے۔
صحیح تو کیا کسی ضعیف، موضوع اور من گھڑت سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں گردن کے مسح کا یہ طریقہ موجود ہو۔
یہ طریقہ نہ اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہے۔
نہ صحابہ کرام سے۔۔۔۔۔۔۔
نہ تابعین اور تبع تابعین سے
نہ ائمہ محدثین سے۔۔۔
نہ امام ابوحنیفہ رحمہ الله سے۔۔۔
نہ امام مالک رحمہ اللہ سے۔۔۔
نہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ سے۔۔۔
یہ صرف اور صرف حنفی مولویوں کا مسئلہ سازی ہے جس کو حنفی عوام آنکھیں بند کرکے مثل صم بکم عمی اپناۓ چلے جا رہے ہیں ایسے ہی عوام اور علماء کے بارے میں اللہ رب العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے۔
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ
(سورۃ التوبہ:31)
انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے مفتیوں اور پیروں کو اپنا رب بنا لیا ہے۔
اللہ کو چھوڑ کر مفتیوں اور مولویوں کو رب بنانے کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ انہیں پرورگار مانا جاۓ یا اللہ کو چھوڑ کر ان کے آگے سجدہ ریز ہوا جاۓ۔ نہیں! انہیں اپنا رب بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی اپنی بنائی ہوئی شریعت اور ان کے اپنے بناۓ ہوۓ مسئلے اور طریقے کو مانا جاۓ ۔
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا عَدِيُّ، اطْرَحْ عَنْكَ هَذَا الْوَثَنَ، وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ سورة التوبة آية 31، قَالَ:
أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت یے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی، آپ نے فرمایا: ”عدی! اس بت کو نکال کر پھینک دو، میں نے آپ کو سورۃ برأۃ کی آیت: اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله ”انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو معبود بنا لیا ہے“ ( التوبہ: 31 ) ، پڑھتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ لوگ ان کی عبادت نہ کرتے تھے، لیکن جب وہ لوگ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو وہ لوگ اسے حلال جان لیتے تھے، اور جب وہ لوگ ان کے لیے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ لوگ اسے حرام جان لیتے تھے“
(سنن ترمذی:3095)
حنفیوں کے یہاں مسح کا مکمل ڈرامائی طریقہ اس طرح ہے:
دونوں اَنگوٹھوں اور کلمے کی اُنگلیوں کو چھوڑ کر دونوں ہاتھ کی تین تین اُنگلیوں کے سِرے ایک دوسرے سے مِلا لیجئے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر کھینچتے ہوئے گُدّی تک اِس طرح لے جائیے کہ ہتھیلیاں سَر سے جُدا ر ہیں ، پھر گدّی سے ہتھیلیاں کھینچتے ہوئے پیشانی تک لے آئیے،کلمے کی اُنگلیاں اور اَنگوٹھے اِس دَوران سَر پر باِلکل مَس نہیں ہونے چاہئیں ، پھر کلمے کی اُنگلیوں سے کانوں کی اندرونی سَطح کا اور اَنگوٹھوں سے کانوں کی باہَری سَطح کا مَسح کیجئے اورچُھنگلیاں (یعنی چھوٹی انگلیاں ) کانوں کے سُوراخوں میں داخِل کیجئے اور اُنگلیوں کی پُشت سے گردن کے پچھلے حصّے کامَسح کیجئے۔
مسح کا یہ حنفی تفصیلی اور ڈرامائی طریقہ جو آپ نے اوپر ملاحظہ کیا، کتاب و سنت میں کہیں موجود نہیں ہے۔ یہ محض دین میں اختراع اور عمل میں فلسفیانہ ایجاد ہے۔ قابل غور تو یہ ہیکہ جن کا وضو ہی قرآن وسنت کے مطابق نہیں ہے، ان کے باقی اعمال کیسے ہونگے، اور ان کے دعوے میں کتنی صداقت ہوگی؟؟ کیونکہ جس طریقے کو یہ صحیح اور بہتر طریقہ ہونے کا فتویٰ دے رہے ہیں اس طریقے کا قرآن و حدیث میں کوئی نام و نشان تک موجود نہیں ہے، صحیح تو کیا کوئی ضعیف اور موضوع روایت بھی ان کے اس'صحیح اور بہتر طریقے'کی موجود نہیں ہے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!