Tuesday, February 21, 2023

ختم تراویح میں سورہ ناس کے بعد "المفلحون" تک پڑھنا

بسم الله الرحمن الرحيم

محمد اقبال قاسمی سلفی

ختم تراویح میں سورہ ناس کے بعد "المفلحون" تک پڑھنا۔


بر صغیر کےحفاظ تراویح میں ختم قرآن کرتے ہوئے سورہ ناس کے بعد سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات پڑھنے کا بھی التزام کرتے ہیں۔ 

لیکن یہ طریقہ نبی کریم ﷺسے کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ نہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین سے 
نہ تابعین سے 
نہ اتباع تابعین سے 
نہ ائمہ اربعہ رحمھم اللہ سے۔۔ 
اس سلسلے میں  جن دلیلوں کا سہارا لیا جاتا ہےوہ درج ذیل ہے۔ 
پہلی دلیل:
  حديث عن عبد الله بن عباس ، عن أبي بن كعب ، عن النبي صلى الله عليه وسلم :

أنه كان إذا قرأ : ( قل أعوذ برب الناس ) افتتح من الحمد ، ثم قرأ من البقرة إلى : ( وأولئك هم المفلحون ) ، ثم دعاء بدعاء الختمة ، ثم قام. 
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سورہ ناس سے فارغ ہوتے ہی سورہ فاتحہ سے آغاز کردیا کرتے تھے اس کے بعد سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات (اولئك هم المفلحون تک) پڑھتے،اس کے بعد دعاء ختم پڑھتے اور کھڑے ہو جاتے-
اسے ابن جزری نے "النشر"،میں اور علامہ جوہری نے "فوائد منتقاۃ" میں عباس بن احمد البرتی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 
لیکن اس سند کا مدار زمعہ بن صالح پر ہے جسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ 

امام محمد بن إسماعيل البخاري اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں: منكر الحديث كثير الغلط۔ 
یہ راوی منکر الحدیث ہے اور بہت زیادہ غلطیاں کرتا ہے۔ 
امام أبو حاتم الرازي فرماتے ہیں : ضعيف الحديث، وهو ضعيف عند جميعهم۔ 
یہ راوی نہ صرف ضعیف الحدیث ہے بلکہ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ 
نیز اس سند میں درباس مولی ابن عباس ہے جو مجہول ہے کما قال ابو حاتم۔ 

دوسری دلیل:
 عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏    الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ   ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏    الَّذِي يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ إِلَى آخِرِهِ، ‏‏‏‏‏‏كُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ۔ 
ترجمہ:
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: الحال اور المرتحل  ( اترنے اور کوچ کرنے والا )  عمل۔ اس نے کہا: الحال اور المرتحل  ( اترنے اور کوچ کرنے والا )  سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو قرآن شروع سے لے کر آخر تک پڑھتا ہے، جب بھی وہ اترتا ہے کوچ کر دیتا ہے“
(سنن ترمذی:2948)
یہ روایت دو طرح سے مروی ہے ایک :صالح المري ، عن قتادة ، عن زرارة بن أوفى ، عن ابن عباس کے طریق سے، اس طریق سے یہ روایت مسند متصل روایت کی گئی ہے
دوسری: صالح المري ، عن قتادة ، عن زرارة بن أوفى ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، من غير ذكر ابن عباس کے طریق سے، اس طریق سے یہ روایت مرسلاً مروی ہے۔ 
امام ترمذی نے مرسلاً ہی اس روایت کو ترجیح دی ہے جیساکہ امام ترمذی اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
یہ حدیث غریب ہے،  ہم اسے صرف ابن عباس رضی الله عنہما کی اس روایت سے جانتے ہیں جو اس سند سے آئی ہے اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔  (سنن ترمذی:2948)

اس روایت کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مرفوع شاہد ہے، لیکن اس روایت میں مقدام بن داؤد ہے جو ضعیف الحدیث ہے۔

اس حدیث کو امام ترمذی، حافظ ابن حجر، علامہ البانی اور تقریباً تمام اھل الحدیث نے ضعیف قرار دیا ہے۔

ختم تراویح میں ہمارے یہاں کے حفاظ کا اس انداز میں ختم تراویح کرنا اس لئے بھی درست نہیں ہے کیونکہ 
 اللہ کے رسول ﷺ رمضان کے مہینے میں جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قران کا دور کیا کرتے تھے۔ 
جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرائیل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو آپ کی سخاوت اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر و بھلائی کے معاملے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔ 
(صحیح بخاری:3554) 
لیکن کسی صحیح حدیث میں نبی کریم ﷺ سے تکمیل قرآن پر ایساعمل  کرنا ہرگز مذکور نہیں ہے۔ 
اسی طرح فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے فرمایا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام مجھ سے ہر سال قرآن مجید کا دورہ کرتے تھے اور اس سال انہوں نے مجھ سے دو مرتبہ دورہ کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میری موت کا وقت آن پہنچا ہے۔
(صحیح بخاری:4997)

 اس نبوی دورۂ قرآن سےبھی  اس عمل کا کوئی  ثبوت نہیں ملتا۔ 

علامہ ابن قیم فرماتے ہیں:
" وفَهِمَ بعضهم من هذا : أنه كلما فرغ من ختم القرآن ؛ قرأ فاتحة الكتاب ، وثلاث آيات من سورة البقرة ؛ لأنه حل بالفراغ ، وارتحل بالشروع!

وهذا لم يفعله أحد من الصحابة ، ولا التابعين ، ولا استحبه أحد من الأئمة ...

وقد جاء تفسير الحديث متصلا به : أن يضرب من أول القرآن إلى آخره كلما حل ارتحل . وهذا له معنيان : أحدهما : أنه كلما حل من سورة أو جزء ارتحل في غيره . والثاني : أنه كلما حل من ختمة ارتحل في أخرى " انتهى.

" إعلام الموقعين " (4/306)

بعض لوگ اوپر والی  روایت( آپ نے فرمایا: ”جو قرآن شروع سے لے کر آخر تک پڑھتا ہے، جب بھی وہ اترتا ہے کوچ کر دیتا ہے“) 
(سنن ترمذی:2948)
 سے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ختم قرآن میں سورہ ناس کے بعد سورہ فاتحہ اور بقرہ کی ابتدائی آیات پڑھے، 
تو یہ ایسا عمل ہے جسے کسی صحابی نے  کیا ہے اور نہ کسی تابعی نے۔ اور نہ اماموں میں سے کسی امام نے اسے مستحب قرار دیا ہے۔
اور اس حدیث کی تفسیر اسی حدیث میں متصلاً موجود ہے  " أن يضرب من أول القرآن إلى آخره كلما حل ارتحل"”جو قرآن شروع سے لے کر آخر تک پڑھتا ہے، جب بھی وہ اترتا ہے کوچ کر دیتا ہے“
یعنی جب بھی کسی سورت یا پارے کو مکمل کرتا ہے تو دوسری سورت یا جزء کا آغاز کردیتا ہے ، اسی طرح جب ایک تکمیل قرآن سے فارغ ہوتا ہے تو دوسری تکمیل قرآن کی طرف رواں دواں ہوجاتاہے۔ 
یعنی ایک مومن کا رشتہ  تلاوت قران کے ساتھ ہرحال میں  قائم و دائم رہتا ہے۔
قرآن کے ساتھ ایک مومن کا رشتہ صرف رمضان کی تراویح، شب برات کے حلوے یا اباحضور کی وفات تک ہی محدود نہیں رہتا۔ 
 جیسا کہ ماہر القادری نے بیان فرمایا ہے:
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں ، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویذ بنایا جاتا ہوں ، دھودھو کے پلایا جاتا ہوں
جزدان حریر وریشم کے ، اور پھول ستارے چاندی کے
پھر عطر کی بارش ہوتی ہے ، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں
جس طرح سے طوطے مینا کو ، کچھ بول سکھاے جاتے ہیں
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں ، اس طرح سکھایا جاتا ہوں
جب قول وقسم لینے کے لیے ، تکرار کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے ، ہاتھوں پہ اُٹھایا جاتا ہوں
دل سوز سے خالی رہتے ہیں ، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
کہے کو میں اک اک جلسہ میں ، پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں
نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے ، سچائی سے بڑھ کر دھوکا ہے
اک بار ہنسایا جاتا ہوں ، سو بار رولا یا جاتا ہوں
یہ مجھ سے عقیدت کے دعوے ، قانون پہ راضی غیروں کے
یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں ، ایسے بھی ستایا جاتا ہوں
کس بزم میں مجھ کو بار نہیں ، کس عُرس میں میری دُھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں ، مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں۔ 
اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں جو ختم تراویح کے موقع سے حفاظ کیا کرتے ہیں ۔ 
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...