Thursday, August 31, 2023

موضوع: بے سند بات حجت نہیں بن سکتی! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: بے سند بات حجت نہیں بن سکتی! 

 عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے ہمارے اس امر ( دین ) میں کوئی ایسی نئی بات شروع کی جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے ۔‘‘ 
صحیح مسلم: 4492

عن  عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ جس نے ایسا عمل کیا ، ہمارا دین جس کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے ۔‘‘ 

صحیح مسلم: 4493

 ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔ 
 عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . 
 
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291) ،

موضوع حدیثیں بیان کرنے والا جھوٹا دجال ہے۔ 
عن ابي هريرة يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ»
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آخری زمانے میں ( ایسے ) دجال ( فریب کار ) کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ۔ تم ان سے دور رہنا ( کہیں ) وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ۔‘‘ 
(صحیح مسلم: حدیث نمبر : 16) 


علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔ (در مختار: ص 87) 
 عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں:

عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: «الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ.
 
عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔ 
(صحیح مسلم: 32) 

امام ابوعبد اللہ الحاکم فرماتے ہیں: اگر اسناد نہ ہوتی، محدثین کرام اس کی طلب اور اس کی حفاظت و صیانت کا مکمل اہتمام نہ فرماتے تو مینارۂ اسلام منہدم ہوچکا ہوتا ، ملحدین اور بدعتیوں کو حدیثیں گڑھنے اور اسانید کو الٹ پلٹ کرنے پر قدرت ہوجاتی؛ کیوں کہ احادیث جب اسانید سے خالی ہوں گی تو وہ بے اعتبار ہوکر رہ جائیں گی ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ،ص : 115)

 سفیان ثوری رَحْمَہ اللہ فرماتے ہیں: الَإسْنَادُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ سِلَاحٌ , فَبِأَيِّ شَيْءٍ يُقَاتِلُ ؟ یعنی : اسناد، مومن کا ہتھیار ہے، جب اس کے پاس ہتھیار ہی نہیں ہوگا تو وہ کس چیز سے جنگ لڑے گا ۔( کتاب المجروحین، ص:31)

عبد اللہ بن مبارک رحمہ الله فرماتے ہیں : بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ: یَعْنِي الِاسْنَادَ۔ یعنی : ہمارے (محدثین) اور دوسرے لوگوں کے درمیان قابل اعتماد چیز اسناد ہے ۔
(مقدمہ مسلم) 

 ابواسحاق ابراہیم بن عیسی طالقانی کہتے ہیں:  میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا : ابوعبدالرحمن ! ( وہ ) حدیث کیسی ہے جو ( ان الفاظ میں ) آئی ہے :’’ نیکی کے بعد ( دوسری ) نیکی یہ ہے کہ تم اپنی نماز کے ساتھ اپنے والدین کے لیے نماز پڑھو اور اپنے روزے کے ساتھ اپنے والدین کے لیے روزے رکھو ؟‘‘ کہا : عبداللہ ( بن مبارک ) نے کہا : یہ کس ( کی سند ) سے ہے ، کہا : میں نے عرض کی : یہ شہاب بن خراش کی ( بیان کردہ ) حدیث ہے ، انھوں نے کہا : ثقہ ہے ، ( پھر ) کس سے ؟ کہا : میں نے عرض کی : حجاج بن دینار سے ، کہا : ثقہ ہے ، ( پھر ) کس سے ؟ کہا : میں نے عرض کی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ کہنے لگے : ابواسحاق ! حجاج بن دینار اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان کٹھن مسافتیں ہیں جن کو عبور کرتے ہوئے اونٹنیوں کی گردنیں کٹ ( کر گر ) جاتی ہیں
(مقدمہ صحیح مسلم: حدیث نمبر :32) 
 
علامہ پڑہاروی حنفی شارح شرح عقائد کوثر النبی میں لکھتے ہیں: 

ان لوگوں کی روش پر تعجب ہے، جو علومِ حدیث سے بالکل ناواقف ہیں ،(اس کے باوجود حدیث کے معاملہ میں محدثین کاسہارالینے کے بجائے) ان کے ساتھ تعصب کارویہ رکھتے ہیں،( جس کااثریہ ہے) کہ وہ موضوع روایات بیان کرنے میں مبتلا ہوتے ہیں ،اس کی وجہ سے احادیث نبویہ میں وارد بہت بڑی وعید کے مستحق بن جاتے ہیں؛ حالاں کہ ہم نے حق وباطل کوالگ الگ سمجھادیاہے ، اس کے بعدبھی یہ اپنے (جاہل) آبا واجداد کے غلط طرزعمل کی پیروی کرنے سے چھٹکارہ نہیں پاتے،(ایسے ہی لوگوں کی ایک نوع کے بارے میں ارشادربانی ہے )اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالی کے نازل کیے ہوئے احکامات کی پیروی کرو، تو یہ لوگ جواب میں کہنے لگتے ہیں: نہیں، بلکہ ہم تو اس رسم ورواج کی پیروی کریں گے،جس پر ہم نے اپنے آباوٴ اجداد کو دیکھا تھا،(یہ لوگ ایساکرنے پربضد ہیں) اگر چہ ان کے آباوٴ اجداد کچھ نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی راہ راست پرتھے.

علامہ سخاوی لکھتے ہیں: اس لئے کہ نبی کریم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ایسا نہیں ہے جیسا کہ مخلوق میں سے کسی دوسرے انسان کی طرف منسوب کردینا۔ کیونکہ ارباب علم و بصیرت نے یہ اتفاق کیا ہے کہ یہ کام گناہ کبیرہ میں سے سب سے بڑا گناہ ہے۔اور متعدد علماء دین اور ائمہ نے ایسے شخص کی توبہ قبول نہ ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔ بلکہ شیخ ابو محمد جوینی نے تو ایسے شخص کو کافر کہاہے اور اس کے فتنے اور نقصانات سے ڈرایا ہے۔ 
(المقاصد الحسنه صفحہ نمبر: 4) 

مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی حنفی دیوبندی " انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک" میں 12-13 پر لکھتے ہیں: 
جس طرح حضور اکرم ﷺ کے فرمان کا انکار کرنا محرومی اور تباہی کا باعث ہے، اسی طرح کسی دوسرے کی بات کو حضور ﷺ کا فرمان بتانا بھی عظیم ترین گناہ اور کفر کا سبب ہے۔ 
(انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک: از مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی صفحہ نمبر: 12)

فقہاء کا کوئی اعتبار نہیں! 

ملا علی قاری حنفی تذکرۃ الموضوعات میں فرماتے ہیں: 

"صاحب ہدایہ یا دوسرے شارحین ہدایہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ فقہاء ہیں ، محدثین نہیں ہیں "

اس بات کو نقل کرنے کے بعد مولانا عبدالحئ حنفی فرماتے ہیں: 

ملا علی قاری کی تحریر سے ایک بہت مفید بات معلوم ہوئی وہ یہ کہ فقہ کی کتابیں اگرچہ اپنی جگہ مسائل فقہی میں معتبر ہیں اور اگرچہ ان کے مصنفین بھی قابل اعتماد ہیں اور فقہاء کاملین میں سے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ان سے جو حدیثیں نقل کی گئی ہیں ، ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ محض ان کتابوں میں ہونے کی وجہ سے ان کے ثبوت کا یقین کیا جا سکتا ہے۔ 
مقدمہ عمد ۃ الرعایہ: 13

احمد رضا خان لکھتے ہیں: اسی وجہ سے علامہ ابن الہمام نے فتح القدیر میں اور ان کے شاگرد نے حلیہ میں تحریر فرمایا ہے کہ کسی چیز کا سنت ہونا حدیث ضعیف سے ثابت نہیں ہو سکتا۔ 
(فتاویٰ رضویہ جلد اول صفحہ نمبر: 12) 

حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی تحفہ اثنا عشریہ میں تحریر فرماتے ہیں:
 اہل سنت کے نزدیک حدیث قابل اعتبار اسی وقت ہوگی جب باسند محدثین کی کتابوں میں پائی جاۓ۔ اور اس پر درست ہونے کا حکم بھی لگایا گیا ہو اور بے سند حدیث اہل سنت کے یہاں بے نکیل کا اونٹ ہے جس پر محدثین کوئی دھیان نہیں دیتے۔

(تحفہ اثنا عشریہ صفحہ نمبر: 494)

مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی تحریر فرماتے ہیں کہ " بنیادی طور پر دیوبند و بریلی کا مسلمہ اصول ہے کہ ثبوت کے لئے قرآن و حدیث، اجماع یا قیاس ہی پیش کئے جا سکتے ہیں ، الف لیلیٰ کے قصوں ، خواب و خیال کی حکایتوں اور افسانوی واقعات سے کسی چیز کا ثبوت نہیں ہوتا۔ 

(انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک: صفحہ نمبر 83- 84) 

اہل تجربہ کی ارشادی باتیں کسی چیز کے ثبوت و ممانعت کے لئے کافی نہیں ہیں: دیوبندی و بریلوی کا متفقہ فیصلہ! 
چنانچہ بانی رضاخانیت مولانا احمد رضا خان سے پوچھا گیا: 
علماء میں مشہور ہے کہ اپنے دامن آنچل سے بدن نہ پوچھنا چاہیے اور اسے بعض سلف سے نقل کرتے ہیں۔ اور رد المحتار میں فرمایا: دامن سے ہاتھ منہ پوچھنا بھول پیدا کرتا ہے ۔ 
اقول( احمد رضا خان صاحب فرماتے ہیں) یہ اہل تجربہ کی ارشادی باتیں ہیں ، کوئی شرعی ممانعت نہیں۔ 
(فتاویٰ رضویہ جلد اول صفحہ نمبر: 30)
اس فتوے کی تشریح کرتے ہوئے مناطر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی صاحب لکھتے ہیں: اعلحضرت کے اس قاعدے سے معلوم ہوا کہ کسی معاملے میں اہل  تجربہ کی ارشادی باتیں چاہے سلف صالحین سے ہی کیوں نہ نقل کی گئی ہوں وہ نہ شرعی حجت ہیں اور نہ کسی چیز کے ثبوت و ممانعت کے لیے کافی ہو سکتی ہیں ۔ 
(انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک: صفحہ نمبر: 85)

سب سے زیادہ جھوٹ بزرگوں نے حدیث میں گھڑا ہے!! 
یحیی بن سعید فرماتے ہیں: ما رأيت من الصالحين اكذب منهم فى الحديث. 
حديث رسول میں بزرگوں سے زیادہ جھوٹا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ 

(مقدمہ صحیح مسلم)

ابن عدی فرماتے ہیں: بزرگوں نے تو عادت بنالی ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف اور موضوع روایت ہی بیان کریں گے۔ 
(شرح علل الترمذی: 115) 

حافظ ابو عبداللہ بن مندہ فرماتے ہیں: 
 اذا رايت في حديث حدثنا فلان الزاهد فاغسل يدك منه. 
جب کسی حدیث تم یہ دیکھو کہ فلاں بزرگ نے ہم سے روایت کیا ہے تو تو اس حدیث سے اپنے ہاتھ دھو لو۔ (شرح علل الترمذی: 113)

امام نووی فرماتے ہیں: اور ایسا اس وجہ سے کہ صوفیاء حضرت محدثین جیسی مشقتیں برداشت کرنا گوارہ نہیں کرتے لہذا ان کی روایتوں میں غلطی واقع ہوتی ہے اور انہیں اس کی پہچان نہیں ہوتی اور وہ جھوٹ نقل کردیتے ہیں حالانکہ وہ اسے جھوٹ نہیں سمجھ رہے ہوتے۔ 

صحابہ اور تابعین کے تفسیری اقوال میں  مضبوط سند والی روایات ہی قبول کی جائی گی۔
(مقدمہ ابن تیمیہ)

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: تین چیزیں ایسی ہیں جس میں اسناد نہیں ہوتی ۔تفسیر ، ملاحم اور مغازی ۔اس طرح کی اکثر روایات منقطع یا مرسل ہوتی ہیں۔

اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں: 

اکثر مقلدین عوام بلکہ خواص اس قدر جامد ہوتے ہیں کہ اگر قول مجتہد کے خلاف کوئی آیت یا حدیث کان میں پڑتی ہے تو ان کے قلب میں انشراح و انبساط نہیں رہتا بلکہ اول قلب میں استنکار پیدا ہوتا ہے پھر تاویل کی فکر ہوتی ہے ، خواہ کتنی ہی بعید ہو اور خواہ دوسری قوی دلیل اس کے معارض ہو بلکہ مجتہد کی دلیل اس مسئلہ میں  بجز قیاس کے کچھ بھی نہ ہو ، بلکہ خود اپنے دل میں اس تاویل کی وقعت نہ ہو، مگر نصرت مذہب ک لیے تاویل ضروری سمجھتے ہیں۔ دل یہ نہیں مانتا کہ قول مجتہد کو چھوڑ کر صحیح و صریح حدیث پر عمل کر لیں۔

(تذکرۃ الرشید ،1/ 131)

Monday, August 21, 2023

موضوع: کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی ہے؟

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی ہے؟ 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

صوفی سنتوں کے موضوع اور من گھڑت قصے کہانیوں پر چلنے والے رضاخانی مقررین اور مفتیوں کی زبانی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے اکثر یہ روایت سماعت کی جاتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی تھی- اس پر مزید رضاحانی اور شیعی اضافہ یہ کیا جاتا ہے کہ جب حضرت علی کی والدہ کو درد زہ شروع ہوا تو خانہ کعبہ کی دیوار شق ہوگئ، اندرون کعبہ ولادت ہوئی، دوبارہ بیت اللہ کی دیوار شق ہوئی اور فاطمہ اپنے بچے کو لے کر باہر آئیں؛ یہ سراسر شیعہ اور رضاخانی مولویوں کی تقریری اور میلادی اپج ہے۔

اس من گھڑت قصے کو ابن مغازلی نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مناقب کے ذیل میں روایت کیا ہے۔ 

ابن مغازلی روایت کرتے ہیں: 

اخبرنا ابو طاهر محمد بن علي بن محمد البيع ، قال: اخبرنا ابو عبد الله احمد بن محمد بن عبد الله بن خالد الكاتب ، قال : حدثنا أحمد بن جعفر بن محمد بن سالم الختلي قال: حدثني عمر بن أحمد بن روح، قال: حدثني ابو طاهر يحيى بن الحسن العلوي قال: حدثني محمد بن سعيد االدارمي ، حدثني موسى بن جعفر ، عن ابيه ، عن محمد بن علي ، عن ابيه علي بن الحسين قال: كنت جالسا مع ابي ونحن زائرون (زائرين أونزور) قبر جدنا عليه السلام ، وهناك نسوان كثيرة ، فأقبلت أمرأة منهن فقلت لها: من أنت يرحمك الله ؟ قالت: أنا زيدة بنت قريبة بن العجلان من بني ساعدة .فقلت لها : فهل عندك شيئا تحدثينا ؟ فقالت : أي والله حدثتني أمي أم عمارة بنت عبادة بن نضلة بن مالك بن عجلان الساعدي ...أنها كانت ذات يوم في نساء من العرب اذ أقبل أبو طالب كئيبا حزينا ، فقلت له: ما شأنك يا أبا طالب ؟ قال: أن فاطمة بنت أسد في شدة المخاض ، ثم وضع يده على جبهته ، فبينما هو كذلك إذ أقبل محمد صلى الله عليه وسلم فقال: ما شأنك ياعم ؟ فقال : ان فاطمة بنت أسد تشتكي المخاض ، فأخذ بيده وجاء وهي معه فجاء بها الى الكعبة فأجلسها في الكعبة ، ثم قال : اجلسي على أسم الله! قالت: فطلقت طلقة فولدت غلاما مسرورا، نظيفا ، منظفا ، لم أر كحسن وجهه فسماه ابو طالب عليا وحمله النبي صلى الله عليه وأله حتى اداه الى منزلها.قال على بن الحسين عليهم السلام: فوالله ما سمعت بشئ قط إلا وهذا أحسن منه.
ترجمہ 

ام عمارہ بنت عبادہ الساعدیہ کی طرف سے زیدہ بنت عجلان الساعدیہ نے مجھے خبردی ، کہا کہ میں ایک دن عرب کی چند عورتوں میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک ابوطالب غمگین ہو کر آیا ، میں نے کہا : کیا حال ہے ؟ تو ابوطالب نے کہا : فاطمہ بنت اسد دردزہ میں مبتلا ہے اور وقت ہو جانے کے باوجود بچہ پیدا نہیں ہو رہا ، پھر ابوطالب اپنی بیوی فاطمہ کو خانہ کعبہ کے اندر لے آیاـ اور کہا کہ اللہ کے نام پر بیٹھ جاؤ ، بیٹھ گئی اور پھر دردزہ شروع ہو گیا ، اور ایک پاکیزہ بچہ پیدا ہوا جس کا نام ابوطالب نے علی رکھاـ


یہ روایت سرے سے ناقابل استدلال ہے، کیونکہ اس کی سند میں زيدة بنت قريبة بن العجلان من بني ساعدة ، اس کی ماں أم عمارة بنت عبادة بن نضلة بن مالك بن عجلان الساعدي، جیسے مجہول اور یحییٰ بن حسن جیسے کذاب راوی موجود ہیں۔ اسی لئے شیعوں نے بھی اس روایت کو قابل التفات نہیں سمجھا اور اس روایت کو مستدل نہیں بناتے۔ اور نہ ہی " الکافی" میں جسے شیعہ حضرات أعظم كتاب بعد القرآن سمجھتے ہیں، کلینی نے اس روایت قابل ذکر سمجھا۔ 

اس کی سند میں موجود علتوں کے علاوہ قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ" علی بن حسین بن علی فرماتے ہیں "فوالله ما سمعت بشئ قط إلا وهذا أحسن منه"
"اللہ کی قسم! میں نے اس سے بہتر بات اس سے پہلے کبھی نہیں سنی۔ 
یہ جملہ صاف بتا رہا ہے کہ خاندان اہل بیت کوبھی اس سے پہلے اس واقعے کا علم نہیں تھا۔ نہ انہوں نے اس پہلے کبھی اس واقعے کو کسی سے سنا تھا۔ نہ کسی صحابی سے اور نہ خود اپنے اہل خانہ سے۔ اپنے جد امجد کی اتنی بڑی فضیلت سے اب تک خانوادہ ناشناس تھا ، کسی کو خبر نہ تھی سواۓ ایک مجہولہ عورت کے۔ بقول شیعوں کے یہ بات خبر متواتر سے ثابت شدہ یے، لیکن خبر متواتر تو کیا، علی بن حسین خبر واحد کا بھی انکار کر رہے ہیں۔ "فوالله ما سمعت بشئ قط إلا وهذا أحسن منه"
"اللہ کی قسم! میں نے اس سے بہتر بات اس سے پہلے کبھی نہیں سنی۔

مزہد یہ کہ ابن مغازلی، یعنی جس کتاب میں یہ روایت موجود ہے، اس کا مصنف ہی کثیر الغلط اور قلیل الحفظ و المعرفہ ہیں۔ 
ابن نجار تاریخ ذیل بغداد میں ابن مغازلی کے بارے میں لکھتے ہیں: جاء في ذيل تاريخ بغداد لابن النجار: علي بن محمد بن محمد بن الطيب بن أبي يعلى بن الجلابي، أبو الحسن، المعروف بابن المغازلي: من أهل واسط، والد مُحَمَّد الذي قدمنا ذكره، سمع كثيرا وكتب بخطه وحصل، وخرج التاريخ وجمع مجموعات، منها الذيل الذي ذيله على «تاريخ واسط» بحشل ومشيخة لنفسه، وكان كثير الغلط، قليل الحفظ والمعرفة.

ابن نجار کے علاوہ شیعہ عالموں نے تو کتاب "مناقب ابن مغازلی" کے مصنف کا ہی انکار کیا ہے کہ وہ اس کتاب کے کسی مصنف کو نہیں جانتے ۔ 
چنانچہ راویوں کے جرح و تعدیل پر مشتمل طہرانی(شیعہ)کی کتاب " الذریعہ " ترجمہ نمبر : 7286 کے تحت طہرانی لکھتے ہیں: 
 مناقب ابن المغازلى كتاب جليل لا أعرف مولفه، مرتب على مطالب رابعها فى مناقب أمير المومنين ع و فيه مقاصد، الخامس و العشرين منها فى ذكر أولاده ثم أولاد سائر الأئمة إلى الحجة ع و ذكر احوالهم، رايته فى خزانة آل السيد عيسى العطار ببغداد.

سیدناعلیؓ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کے لیے ایک اور من گھڑت قصہ بیان کیا جاتا ہے جس کا حقیقت سے دور کا واسطہ نہیں ہے 

قصہ کچھ یوں ہے: 

''حلمیہ بنت ابی ذوہیب عبداللہ بن الحارث سعدیہ ایک مرتبہ حجاج بن یوسف کے دور خلافت میں ان سے ملنے کے لیے گئیں ـ حجاج نے کہا : ائے حلمیہ ! اللہ تجھے میرے پاس لایا ، میں چاہتا ہوں کہ تجھے بلاؤں اور تم سے انتقام لوں ، حلمیہ نے کہا: اس سورش و غصہ کا کیا سبب ہے ؟ حجاجج نے جواب دیا : میں نے سنا ہے کہ تم علی ؓ کو ابوبکرؓ اور عمرؓ فضیلت دیتی ہو ، حلمیہ نے کہا : حجاج ! خدا کی قسم میں اپنے امام کو اکیلی حضرت عمرؓ و ابوبکرؓ پر فضلیت نہیں دیتی ہوں ، ابوبکرؓ و عمرؓ میں کیا لیاقت ہے کہ حضرت علیؓ سے ان کا موازنہ کیا جائے ، میں تو اپنے امام کو آدم ، نوح ، ابراہیم ، سلمیان ، موسی اور عیسی پر بھی فضیلت دیتی ہو، حجاج نے برآشفتہ ہو کر کہا میں تجھ سے دل برداشتہ ہوں ، میرے بدن میں آگ لگ گئی ہے ، اگر تو نے اس دعوٰی کو ثابت کردیا تو ٹھیک ورنہ میں تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا ، تاکہ تم دوسروں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے ، پھر حلمیہ نے ایک ایک کر کے دلائل کے ساتھ علیؓ کی برتری ثابت کردی ـ یہاں تک کہ جب حجاج نے کہا تو کس دلیل سے علیؓ کو عیسی علیہ السلام پر ترجیح دیتی ہے ؟ حليمہ نے کہا :اے حجاج سنو ! جب مریم بن عمران بچہ جننے کے قریب ہوئی جب کہ وہ بیت المقدس میں ٹھہری تھی ، حکم الہی آیا کہ بیت المقدس سے باہر نکل جاؤ اور جنگل کی طرف رخ کرو تاکہ بت المقدس تیرے نفاس سے ناپاک نہ ہوجائے ، اور جب حضرت علیؓ کی ماں فاطمہ بن اسد وضع حمل کے قریب ہوئیں تو وحی آئی کہ کعبہ میں داخل ہو جاؤ اور میرے گھر کو اس مولود کی پیدائش سے مشرف کر، پھر حلمیہ کہنے لگی ائے حجاج اب تم ہی انصاف کروکہ دونوں بچوں میں کون شریف ہو گا ؟ حجاج یہ سن کر راضی ہو گیا اور حلمیہ کا وظیفہ مقرر کردیا ۔
(آئینہ مذاہب امامیہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی :ص 111-113

اس واقعے کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ حلیمہ نے حجاج بن یوسف کے زمانے کو پایا ہی نہیں۔ 

اس روایت کو صحیح ماننے سے اہل السنہ و الجماعہ کے اصولوں کی مخالفت لازم آئے گی کیونکہ اس روایت میں علیؓ کو عمرین یعنی ابوبکر وعمرؓ پر فوقیت دینے کی کوشش کی گئی ، جبکہ اہل النسہ والجماعہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تمام صحابہ کرام میں سب سے زیادہ افضل ابوبکرؓ پھر عمرؓ پھر عثمانؓ پھر علیؓ اور ان کے بعد عشرہ مبشرہ ؓ ہیں ـ

سنی علماء میں سے ابن مغازلی کے علاوہ امام حاکم نے اپنی کتاب "المستدرک علی الصحیحین" میں اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے، جسے شیعوں نے خوب تر ہوا دی ہے۔ چنانچہ امام حاکم لکھتے ہیں:

"تواترت الأخبار أن فاطمة بنت أسد ولدت أمير المؤمنين علي بن أبي طالب كرم الله وجهه في جوف الكعبة "(5/206) 
یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ حضرت علی کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔ 

 لیکن امامِ حاکم کی یہ بات صد فی صد نادرست ہے، کیونکہ اخبار متواترہ تو کیا کوئی صحیح خبر مشہور، مستفیض یہاں تک کہ خبر واحد بھی موجود نہیں ہے، اور اگر تھی تو امام حاکم کو وہ روایتیں پیش کرنی چاہیے تھی۔ 
اور بے دلیل امام حاکم تو کیا، کسی زمانے میں بھی کسی بات کا مشہور ہو جانا، یا مشہور ہونے کادعویٰ کر بیٹھنا اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل ہرگز نہیں ہوا کرتی۔

علامہ سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
و ما وقع فی مستدرک الحاکم من ان علیا ولد فيها ضعیف 
(تدریب الراوی: ص356) 

ترجمہ:
امام حاکم کی یہ بات ضعیف ہےكہ حضرت علی کعبہ میں پیدا ہوئے ہیں۔

واضح ہو کہ امام حاکم نے صرف اسی کمزور اور بلا ثبوت بات کو صحیح و متواتر نہیں کہا بلکہ اپنی اس کتاب "المستدرک" ميں اس کے علاوہ بھی بہت سی موضوع اور باطل روایات کو صحیح قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے اتنے بڑے بڑے تسامحا ت کیوں کئے ہیں، علماء نے اس کی وجوہات بھی تحریر کی ہیں۔ 

فتح المغیث میں امام سخاوی لکھتے ہیں:
حاکم نے غفلت کی وجہ سے کئی موضوع احادیث کو بھی صحیح قرار دے دیا ہے ۔ ہو سکتا ہے ایسا انہوں نے تعصب کی وجہ سے کیا ہو کیونکہ ان پر تشیع کا الزام تھا لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ مستدرک ان کی آخری عمر کی تنصیف ہے اور اس وقت ان کے حافظے پر بھی کافی فرق پڑ چکا تھا اور ان پر غفلت طاری تھی اس لیے تنقیح و تصحیح نہیں کر سکے۔ (ج 1ص39) 


خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش کے متعلق جمہور 
ثقہ محدثین کا اتفاق ہے کہ ان کی پیدائش مکہ کے شعب بنی ہاشم میں ہوئی ہے نہ کہ اندرون کعبہ۔ اندرون کعبہ جن کی پیدائش ہوئی ہے وہ حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ یہی ثقہ علماء اور محدثین کا موقف ہے۔ 
چنانچہ: امام حاکم نے مستدرک حاکم میں باسند اسے روایت کیا ہے۔ 

اخبرنا ابو بکر محمد بن احمد بن بالويه ثنا ابراهيم بن اسحاق الحربی ثنا مصعب بن عبد الله فذکر نسب حکیم بن حزام و ذاد فيه:و امه فاختة بنت ذهير بن اسد بن عبد العزٰی و کانت ولدت حکیماً فی الکعبة و هيحامل فضربها المخا ض و هي فی جوف الکعبة فولدت فيها فحملت فی نطع و غسل ما کان تحتها من الثیاب عند حوض زمزم ،ولم یولد قبله و لا بعده فی الکعبة احد۔ 

امام مسلم (متوفی ۲٦١ ھ) فرماتے ہیں:
ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبة و عاش ماءة و عشرین سنة
حضرت حکیم بن حزام کعبہ میں پیدا ہوے اور آپ ایک سو بیس سال تک زندہ رہے۔

علامہ ابو جعفر محمد بن حبیب بغدادی (متوفی ۲۴۵ ھ) لکھتے ہیں :و حکیم هذا ولد فی الکعبة (کتاب المحبر :ص ١۷٦

امام ازرقی (متوفی ۲۵۰ ھ )لکھتے ہیں:
فولدت حکیما فی الکعبة (اخبار مکہ: ج١ ص ١۷۴

اما م زبیر بن بکار (متوفی ۲۵٦ ھ) لکھتے ہیں: 
فولدت حکیم بن حزام فی الکعبة
(جمھرة نسب قریش و اخبارھا : ج١ ص ۳٦٦

درج ذیل تمام کتابوں میں اس کے مصنفین نے حکیم بن حزام کو ہی مولود کعبہ قرار دیا ہے: 
اسد الغابہ: 58/2 میں ,
تہذیب الکمال: 173/7 ,
تاریخ اسلام: 277/2 ، الاصابہ: (رقم : 1800 ) ,
تہذیب التہذیب: 447/2 ,
البدایہ واالنہایہ: 68/8, الاستیعاب :362/1' 
جمہرۃ انساب العرب: 121

خلیفہ بن خیاط لکھتے ہیں:
ولد علی بمکة فی شعب بنی هاشم 
(تاریخ خلیفہ بن خیاط :ص: 199
یعنی حضرت علی کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی۔

ابن عساکر لکھتے ہیں:ولد علی بمکة فی شعب بنی هاشم
 (تاریخ دمشق کبیر :ج 45، ص: 448) 
حضرت علی کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی۔

ابن حبان البسیتی لکھتے ہیں: فولدت حکیم بن حزام فی جوف الکعبة ۔ 
(تاریخ الصحابة: ص: 68

امام خطابی فرماتے ہیں: فولدت حکیماً فی الکعبة (غریب الحدیث :ج 2 ص: 557) 

حافظ ابو نعیم الاصبھانی لکھتے ہیں: حکیم بن حزام ولد فی الکعبة۔
(معرفة الصحابہ: ج2 ص 701) 

ابن عبد البر لکھتے ہیں:حکیم بن حزام بن خویلد ولد فی الکعبة۔ 
(الاستیعاب:ج1 ص:417) 

حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
قالوا ولد حكيم في جوف الكعبة ولا يعرف احد ولد فيه غيره واما ماروي ان علي بن ابي طالب رضي الله عنه ولد فيها فضعيف عند العلماء۔ (تهذیب الاسماء واللغات للنووی:ج1 ص149
حافظ ابن حجر عسقلانی سیدناحکیم بن حزام ؓ کی جائے پیدائش کے بارے رقم طراز ہیں:
أن حكيما ولد في جوف الكعبة قال وكان من سادات قريش وكان صديق النبي صلى الله عليه وسلم قبل المبعث وكان يوده ويحبه بعد البعثة
سیدنا حکیم بن حزام کی جائے ولادت کعبہ ہے ، آپ کا شمار قریش کر سرداروں میں ہوتا تھا ، بعثت سے قبل حکیم بن حزام نبی اکرم ﷺ کے دوست تھے اور بعثت کے بعدبھی وہ آپ ﷺ سے مَحبت کرتے تھے
 ( الاصابة في تميز صحابة لابن حجر عسقلاني:2/97) 

شیعہ عالم نے بھی لکھا ہے کہ :
"محدثین صرف حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ) کو ہی مولودِ کعبہ سمجھتے ہیں.

(شرح نہج البلاغہ : جلد 1، صفحہ 14)

فتویٰ دارالعلوم دیوبند! 

سوال: 
کیا امیر الموٴمنین اور چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش کعبہ میں ہوئی تھی یا یہ شیعوں اوربریلویوں کی بنائی ہوئی بات ہے؟

جواب! 
 امیرالموٴمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جائے پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے کہ کہاں ہوئی تھی؟ شیعوں کی ایک بڑی جماعت کو یقین ہے کہ ان کی پیدائش اندرونِ کعبہ ہوئی۔ محدثین نے اس کو تسلیم نہیں کیا، ان کا خیال ہے کہ کعبہ میں جو صاحب پیدا ہوئے وہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ حکیم بن حزام بن اُسد بن العزی بن قصي ہیں۔ (شرح نھج البلاغة لابن أبي الحدید: ج۱ ص۱۴، بحوالہ المرتضی: ص۵۰)

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 1017 

 رضا خانی مفتی، مفتی محمد امجد علی اپنی کتاب "بہار شریعت" میں تحریر فرماتے ہیں :

"مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم و مکان حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا و مکان ولادتِ علی رضی اللہ عنہ و جبلِ ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانِ متبرکہ کی زیارت سے بھی مشرف ہوا.

(بہار شریعت جلد اول حصہ 6 صفحہ 1150مکتبۃ المدینہ کراچی)

ایک دوسرے رضاخانی مفتی، مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی اس سوال : کیا "حضرت علی خانہ کعبہ شریف میں پیدا ہوے" کے جواب میں رقم طراز ہیں: 

جی نہیں ! حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولودِ کعبہ سمجھنا ایسا کمزور گمان ہے جس کے ثبوت پر کوئی صحیح دلیل نہیں کیونکہ آپ کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے والد ابوطالب کے مکان شعبِ بنی ہاشم کے اندر پیدا ہوئے ، جس مکان کو لوگ مولدِ علی کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور اس مکان کے دروازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی :

"ھذا مولد امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب "

یعنی یہ حضرت امیر المومنین علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ ہے ۔

اور اہل مکہ بھی اس پر بغیر اختلاف کے متفق تھے, نیز آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ پر ایک قبہ بنا ہوا تھا جس کو نجدیوں نے دیگر مقامات مقدسہ کے ساتھ گرادیا.

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمین!

Wednesday, August 9, 2023

موضوع: میلاد چھاپ مولویوں کی امامت

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

موضوع: میلاد چھاپ مولویوں کی امامت! 

 سڑک چھاپ نیتا اور جھولا چھاپ ڈاکٹروں کی طرح فاتحہ اور میلاد مروجہ کر کے اپنی جھولی بھرنے والے میلاد چھاپ مولویوں کی تعداد بر صغیر ہندو پاک میں بکثرت پائی جاتی ہے۔ 
جن کا نہ ناظرہ درست ہے۔ 
نہ اردو زبان کا ذوق و شعور ہے۔ 
 نہ قرآن کی آیت کا ترجمہ پتہ ہے۔ 
نہ حدیث رسول کا علم ہے۔ 
نہ مسائل کا حصول ہے۔ 

لیکن افسوس! باوجود اس کے آج میلاد چھاپ مولوی حضرات ہی لوگوں کے سارے مسائل کا امام بنے بیٹھے ہیں۔ 
میلا چھاپ مولوی لوگوں کے ایمان پر ڈاکے ڈال رہے ہیں، خود بھی گمراہ ہیں، دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔
جن کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے پیشنگوئی فرمائی تھی ۔ 

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّو۔ 
(صحیح بخاری : حدیث نمبر:100) 

حضرت عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوے سنا : 
کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے ۔ بلکہ وہ ( پختہ کار ) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا ۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے ، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے ۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے ۔

اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث آج حرف بحرف صادق آرہی ہے۔ لوگوں نے ان جاہلوں کو سردار بنا لیا ہے، ان ہی سے عقیدہ، نماز روزے کے مسائل دریافت کئے جارہے ہیں، اور میلاد چھاپ مولوی اپنی جہالت کے باوجود اسے جواب دے رہے ہیں۔ خود تو گمراہ تھے ہی دوسروں کو بھی گمراہ کر کے چہار سو گمراہی کی دعوت دے رہے ہیں۔ 

جبکہ اسلام میں امامت کے مسائل بہت تفصیل سے موجود ہیں۔ نبیﷺ نے امامت کے حقداروں کو تفصیل کے ساتھ بیان فرما دیا ہے:  
 حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

أبو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا۔ 
(سنن ترمذی: 235) 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے۔ 

اس حدیث میں میلاد چھاپ مولویوں کی امامت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے یہاں جو مولوی ہوا کرتے ہیں وہ تجویدی غلطیوں کے علاوہ امامت کے بنیادی مسائل سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ 
 لیک آج کا میلاد چھاپ مولوی بزعم خویش خود کو ہی امامت کا حقدار اعلیٰ سمجھ بیٹھا ہے۔ عالم بالقرآن والسنہ کے رہتے ہوے بھی جاہل میلاد چھاپ مولوی ہی پنج وقتہ اور جنازے کی امامت کررہے ہیں

مذہب اسلام میں امامت اتنا حساس مسئلہ ہے کہ نبی کریم ﷺ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے رہتے ہوئے کسی دوسرے کو امام نہیں بنایا۔ آپ بار بار یہی فرماتے رہے، ابو بکر کو بلاؤ، اسے کہو کہ امامت کرے۔ 
چنانچہ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : 
عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ ، إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، قَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَعَادَتْ ، فَقَالَ : مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ 
 نبی کریم ﷺ بیمار ہوئے اور جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ وہ نرم دل ہیں جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان کے لیے نماز پڑھانا مشکل ہو گا ۔ آپ نے پھر فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی بات کہی ۔ آپ نے پھر فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں ، تم لوگ صواحب یوسف ( زلیخا ) کی طرح ( باتیں بناتی ) ہو ۔ آخر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بلانے آیا اور آپ نے لوگوں کو نبی ﷺ کی زندگی میں ہی نماز پڑھائی
(صحیح بخاری: حدیث نمبر : 678)


کتاب و سنت نے امامت کی اہلیت طے کر دی ہے۔ میلاد چھاپ مولوی کے مقابلے میں ایک بچے کو امام بنایا جا سکتا ہے اگر وہ قرآن کو صحیح پڑھنا جانتا ہے۔جیسا کہ صحابہ کرام نے عمرو بن سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو صحابہ کرام نے اپنا اامام منتخب کر لیا تھا جبکہ عمروبن سلمہ ابھی بچے تھے۔ 
حضرت عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ قافلے ہمارے پاس سے گزرا کرتے تھے ۔ ہم ان سے قرآن سیکھ لیتے تھے ۔ میرے والد محترم نبی ﷺ کے پاس ( اپنی قوم کا نمائندہ بن کر ) گئے ۔ ( واپسی کے وقت ) آپ نے فرمایا : تم میں سے امامت وہ کرائے جو زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو ۔ میرے والد واپس آئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمھاری امامت وہ شخص کرائے جو قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو ۔ لوگوں نے تلاش کیا تو میں ان سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا تھا ، لہٰذا میں ان کی امامت کراتا تھا ، حالانکہ میں آٹھ سال کا تھا ۔ 
(سنن نسائی: حدیث نمبر: 790) 

میلاد چھاپ مولوی اور شرک ! 
میلاد چھاپ مولوی علانیہ مشرک ہوتے ہیں، یہ لوگ شرک و بدعت پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے داعی بھی ہوتے ہیں، مروجہ میلاد میں ان مولویوں کے ذریعہ پڑھی جانے والی کتابیں سراسر شرک بدعت کا داعی، موضوع اور من گھڑت روایتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

اور مشرک آدمی کے اعمال تباہ و برباد ہوجاتے ہیں وہ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہوتے۔ 
 اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں مختلف انبیاء کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :

وَلَوْ أَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ
(الانعام : 88) 
”اور اگر یہ لوگ بھی شرک کرتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہو جاتے۔ “
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا :
وَلَقَدْ أُوْحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ
( الزمر : 65) 
”اور تحقیق وحی کی گئی آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے تھے، اگر تو نے شرک کیا تو تیرے عمل ضائع ہو جائیں گے اور البتہ تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ “
ان آیات سے واضح ہو گیا کہ مشرک آدمی کے اعمال اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔ خواہ وہ نماز ہو یا روزہ، حج ہو یا زکوٰۃ۔ غرض کسی قسم کا عمل بھی مشرک کا قبول نہیں بلکہ وہ سارے اعمال اکارت اور ضائع ہوں گے۔ تو جب امام مشرک ہو گا اور اس کا اپنا عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں تو اس کی اقتدا میں ادا کی جانے والی نماز کیسے قبول ہو گی ؟

شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ:

ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے جو بزرگوں کی قبروں پر برکت حاصل کرنے کے لیے جاتا ہے یا میلاد وغیرہ کے موقع پر قرآن کی تلاوت کرتا ہے اور اس پر اجرت بھی لیتا ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

"اس میں کچھ تفصیل ہے کہ اگر شرک کے بغیر صرف میلاد ہی مناتا ہے تو یہ شخص بدعتی ہے، اس لیے اس کو [مسجد کا مستقل] امام نہیں ہونا چاہیے؛ کیونکہ صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (اپنے آپ کو دین میں نت نئے امور سے بچاؤ؛ کیونکہ [دین میں] تمام نت نئے امور بدعت ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے)[ اس روایت کو بو داود ( 3991 ) نے نقل کیا ہے] میلاد منانا بدعات میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ امام مردوں کو پکارے ان سے مدد طلب کرے یا جنوں اور دیگر مخلوقات سے مدد مانگے اور کہے: "یا رسول اللہ مدد" یا کہے کہ: "یا رسول اللہ ہمارے مریض کو شفا دے دیجیے" یا کہے : "یا حسین " یا کہے: "یا سید بدوی" یا دیگر کسی بھی فوت شدہ شخصیت کو پکارے یا بتوں کی طرح جمادات کو پکارے اور ان سے مدد طلب کرے تو ایسا شخص مشرک ہے اور شرک اکبر کا مرتکب ہے، ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جا سکتی اور نہ ہی اس کی امامت صحیح ہو گی -اللہ تعالی ہم سب کو محفوظ رکھے- 

فتاوی شیخ ابن باز " ( 9 / 373 ، 374 ) و ( 12 / 108 ، 109 )

میلاد چھاپ مولوی بد عت مکفرہ کا کھلے عام ارتکاب کرتے ہیں۔ ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا اور نہ پڑھنا دونوں یکساں ہے۔ 

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب یہ سوال کیا گیا کہ: 

میرا سوال یہ ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟جتنے سارے اعلی حضرت کے متبعین ہیں ان کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟اور کہنا یہ ہے کہ ہمارے امام صاحب قاسمی ہیں ، لیکن عید میں گلے ملتے ہیں اور تراویح کا پیسہ بھی لیتے ہیں ، قرآن خوانی بھی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ تو کہنا یہ ہے کہ یہ سب بھی بدعت ہے تو کیا ان کے پیچھے نماز ہوجائے گی؟ اگر ان کے پیچھے نماز ہوگی تو ان کے پیچھے کیوں نہیں جن کے عقائد درست نہیں ہے، ان کے پیچھے نماز نہیں تو بدعتی کے عقائد بھی تو درست نہیں تو ان کے پیچھے جائز کیسے ہوگی؟اور کوئی کہے کہ عقائد ہم دل میں کیسے دیکھیں تو یہ کیا صحیح ہے؟

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 

بدعتی کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور عید کی نماز کے بعد مصافحہ کرنا، گلے ملنا، مروجہ قرآن خوانی کرنا، تراویح پڑھانے پر اجرت لینا ؛ یہ سب امور بھی شریعت کی رو سے صحیح نہیں ہیں، اگر کوئی امام ان چیزوں کا مرتکب ہے، تو اُس کے پیچھے بھی نماز مکروہ ہوگی، لیکن بدعتی کا معاملہ زیادہ نازک ہے؛ اس لیے کہ بعض بدعتی کے عقائد سراسر اِسلام کے خلاف اور کفریہ ہوتے ہیں،اُن کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں اور جن بدعتیوں کے عقائد و اعمال فسقیہ ہوتے ہیں، اُن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے اور عقائد کا تعلق اگرچہ اندرون اور دل سے ہے؛ لیکن ظاہری اعمال ہی سے باطن پر حکم لگایا جاتا ہے۔

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
(فتوی نمبر : 60626)

بدعتی اور میلاد چھاپ مولویوں کے چنگل سے امت کو بچائیں، ان کا سامنا کریں، لوگوں کو ان کی کم علمی سے آگاہ کریں۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمين!

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...