السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
موضوع : زبان سے نیت کرنے کی کہانی حنفی علماء کی زبانی !
محمد اقبال قاسمي سلفي
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
زبان سے نماز کی نیت کرنا؟ ؟؟؟
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں :
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو اللہ اکبر کہہ کرنماز شروع کرتے اوراس سے پہلے کچھ بھی نہيں کہتے تھے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل قطعی طور پر کبھی بھی زبان سے نیت کی ادائيگي نہیں فرمائي ، اورنہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں اللہ تعالی کے لیے فلاں نماز ، اورقبلہ رخ ہوکر ، چار رکعات ، بطو امام ، یا پیچھے اس امام کے ، ادا کرتا ہوں اور نہ ہی کبھی یہ کہا کہ میں نماز قضاء یا ادا یا فرضي اوریا نفلی ادا کرتا ہوں ۔
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں اور نہ ہی منقول ہیں ، نہ تو صحیح سند کے ساتھ اور نہ ہی کسی ضعیف سند کے ساتھ ، بلکہ کسی مرسل سند میں ان الفاظ میں سے کوئي ایک لفظ بھی ثابت نہيں ۔
بلکہ نہ تو یہ کسی صحابی سے ثابت ہے اور نہ ہی تابعین کرام میں سے کسی نے اسے مستحسن قرار دیا ہے اورنہ ہی آئمہ اربعہ میں سے کسی امام نے اسے کہنے کو کہا ہے ۔
زاد المعاد لابن قیم ( 1 / 201 ) ۔
علامہ ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں:
بعض حفاظ نے کہا ہے کہ کسی صحیح یا ضعیف سند سے بھی ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ابتدا کرتے وقت یہ فرماتے کہ میں فلاں نماز ادا کر رہا ہوں اور نہ ہی صحابہ یا تابعین میں سے کسی سے یہ منقول ہے۔ بلکہ جو منقول ہے وہ یہ کہ آپ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ’اللہ اکبر‘ کہتے، اور یہ (زبان سے نیت کرنا) بدعت ہے۔ (فتح القدیر شرح الہدایہ‘‘ (۱/۲۶۶،۲۶۷)
علامہ حموی حنفی رقم طراز ہیں:
’ابن امیر حاج ’’حلیہ شرح منیہ‘‘ میں ’’فتح القدیر‘‘ کی عبارت پر اضافہ کرتے ہیں کہ یہ فعل ائمۂ اربعہ سے بھی مروی نہیں۔ ’’شرح الأشباہ والنظائر‘‘ (ص۴۵) میں (۵۔۶)
علامہ ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں:
ظاہر ہےفتح القدیر سے اس کا بدعت ہونا ہی ثابت ہوتا ہے۔‘‘’(بحر الرائق‘‘ (ص۲۱۰)
علامہ حسن شرنبلالی حنفی نے ’’مجمع الروایات‘‘ سے نقل کیا ہے :
کہ زبان سے نیت بولنے کو بعض علماء نے حرام کہا ہے، اس لیے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے کرنے والے کو سزا دی ہے۔‘‘
(شرح نور الایضاح:۵۶)
فتاویٰ غربیۃ، کتاب الصلوۃ کے دسویں باب میں ہے:
’’کہا گیا ہے کہ زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔‘‘(فتاوی غربیہ:ج۳،ص۲۳۴)
امام ابن عابدین حنفی فرماتے ہیں:
زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔
(رد المحتار‘‘ ۱/۲۷۹
ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں:
’’الفاظ کے ساتھ نیت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بدعت ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع جس طرح آپ کے کاموں میں کرنا لازم ہے، اسی طرح اتباع کام کے نہ کرنے میں بھی لازم ہے، جو شخص آپ کے نہ کیے ہوئے پر اڑا رہےگا وہ بدعتی ہے... نیز فرماتے ہیں: تم جان چکے ہو کہ نہ بولنا ہی افضل ہے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘ (۱/۴۱)
مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نقشبندی حنفی لکھتے ہیں:
’’زبان سے نیت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سند صحیح بلکہ سند ضعیف سے بھی ثابت نہیں اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم زبان سے نیت نہیں کرتے تھے بلکہ جب اقامت کہتے تو صرف ’اللہ اکبر‘ کہتے تھے، زبان سے نیت بدعت ہے۔‘‘ (مکتوبات دفتر اول حصہ سوم، مکتوب نمبر ۱۸۶ ص۷۳)
طحطاوی حنفی لکھتے ہیں:
’’صاحب در مختار‘‘ کے قول: ’’یعنی سلف نے اس کو پسند کیا ہے‘‘، اس میں اشارہ ہے اس امر کا کہ حقیقت میں نیت کے ثابت ہو نے کے بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے اس لیے کہ زبان سے بولنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور نہ صحابہ وائمہ اربعہ سے، یہ تو محض بدعت ہے۔‘
(‘شرح در مختار‘‘ (۱/۱۹۴)
علامہ انور شاہ کاشمیری حنفی فرماتے ہیں:
’’نیت صرف دل کا معاملہ ہے۔‘‘
(فیض الباری شرح صحیح البخاری :۱/۸)
علامہ عبد الحی لکھنوی حنفی فرماتے ہیں:
نماز کی ابتداء میں زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔
(عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح الوقایہ‘‘(۱/۱۵۹)
مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:
زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ دل میں جب اتنا سوچ لیوے کہ آج کی ظہر کے فرض پڑھتی ہوں اور اگر سنت نماز پڑھتی ہو تو یہ سوچ لے کہ ظہر کی سنت پڑھتی ہوں، بس اتنا خیال کر کے ’اللہ اکبر‘ کہہ کے ہاتھ باندھ لیوے تو نماز ہو جاوےگی اور جو لمبی چوڑی نیت لوگوں میں مشہور ہے اس کا کہنا کچھ ضروری نہیں
( ’’بہشتی زیور‘‘ (۲/۲۸)
ایک شخص ابن عقیل ، جو کہ اصحاب امام احمد بن حنبل میں سے ہے ، کے پاس آیا اور کہا ," اے شیخ ! میں نہر دجلہ میں غسل جنابت کرنے گیا تھا ،اس میں غوطہ لگایا اور میں نکل گیا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں پاک نہیں ہوا کیونکہ میں نے نیت نہیں کی تھی ، تو ابن عقیل نے اس سے کہا کہا کہ مجھے لگتا ہے تم نماز ہی مت پڑھو ، اس آدمی نے کہا : کیوں ؟ تو ابن عقیل جواب دیا : ایسا اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ ، أَوْ يُفِيقَ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : سوئے ہوئے سے حتی کہ وہ جاگ پڑے ، بچے سے حتی کہ وہ بالغ ہو جائے اور دیوانے سے حتی کہ اس کی عقل واپس آ جائے ، یا اسے ( وقتی طور پر ) افاقہ ہو جائے ۔‘‘
سنن ابن ماجہ: 2041
اور تم پاگل ہو ۔تم نہر دجلہ میں پاکی حاصل کرنے کے ارادے سے بلا نیت غوطہ کیسے لگا سکتے ہو؟ یعنی تمہیں کس چیز نے گھر سے نکالا ؟ کون سی چیز تمہیں نہر تک لے کر آئی اور غوطہ لگانے پر آمادہ کیا ؟ یہی تو نیت ہے بلا شبہ ۔شرح عمدۃ الاحکام: ص : 139
شیخ صالح بن عثیمین شرح عمدۃ الاحکام من کلام خیر الانام میں لکھتے ہیں:
ایک شخص نے مسجد حرام میں کسی کو اس طرح نیت کرتے ہوئے دیکھا: اللهم اني نويت أن أصلي صلاة الظهر فريضة اربع ركعات خلف امام الحرم ، (میں چار رکعت ظہر کے قرض نماز کی نیت کرتا ہوں ،پیچھے اس امام حرم مکی کے۔) اور جب اس نے اللہ اکبر کہنے کا ارادہ کیا تو اس آدمی نے کہا: ،ابھی رکو ، تھوڑا باقی بے ابھی ، تو نے جب جگہ متعین کر ہی دیا ہے یہ کہ کر "خلف الامام الحرم المکی" ، تو اب وقت بھی متعین کر دو یہ کہہ کر کہ آج فلاں تاریخ ، فلاں مہینہ ، فلاں سال کو یہ نیت کر رہا ہوں، تو یہ تیری نیت اور مضبوط ہوجائے گی۔
شرح عمدۃ الاحکام من کلام خیر الانام: 140
میں تو کہتا ہوں کہ پوری نیت یوں کرے: میں فلاں ابن فلاں مقام ۔۔۔۔پوسٹ۔۔۔تھانہ ۔۔۔ضلع ۔۔صوبہ۔۔۔۔۔اج دن ۔۔۔۔ بتاریخ ۔۔۔۔مہینہ۔۔۔۔۔سال بمطابق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہجری بوقت گھنٹہ۔۔۔۔۔۔منٹ۔۔۔۔منہ میرا کعبہ شریف کی طرف ، پیچھے اس امام کے نام ۔۔۔۔والد کا نام ۔۔۔۔۔۔مقام ۔۔۔۔۔پوسٹ۔۔۔تھانہ ۔۔۔۔ضلع۔۔۔۔۔صوبہ۔۔۔میرے دائیں جانب فلاں ابن فلاں۔۔۔۔مقام ۔۔۔پوسٹ ۔۔۔تھانہ ۔۔۔میرے بائیں جانب فلاں ابن فلاں ۔۔۔۔مقام ۔۔۔پوسٹ۔۔۔تھانہ۔۔۔ضصع ۔۔۔صوبہ۔۔۔۔۔ظہر کے فرض نماز کی نیت کرتا ہوں۔
علامہ شیخ بن باز رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
نعم يكفيك ذلك، ما دمت قمت للصلاة التي تعلمها ظهر عصر مغرب إلى غير ذلك، يكفي، ولا حاجة إلى التحدث بها عند الإحرام، أنت جئت لها وجلست لها، وانتظرتها وقمت حين سمعت الإقامة، تقصد الصلاة التي أقيمت، هذا يكفي وهذا هو النية، ولا حاجة إلى سوى ذلك.
أما ما يفعله بعض الناس من التلفظ بأن يقول: نويت أن أصلي كذا وكذا، إمامًا أو مأمومًا أو كذا، هذا لا أصل له، بل هو بدعة في أصح قولي العلماء؛ لأن الرسول ﷺ لم يكن يتلفظ بالنية، وهكذا أصحابه ما كانوا يتلفظون بالنية، وهكذا التابعون وأتباعهم من الأئمة الأربعة وغيرهم ما كانوا يعرفون هذا، فالمشروع للمؤمن أن يكتفي بالقلب، أن يكتفي بالقلب.. فهو بمجيئه للصلاة وجلوسه ينتظر الصلاة، وبقيامه للصلاة حين أقيمت الصلاة، كل هذا يعتبر نية، فلا حاجة بعد ذلك إلى أن يتحدث بها بقلبه، ولا أن يتلفظ بها بلسانه.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی روزے رکھے ، لیکن زبان سے نیت کرنے کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام ،تابعین ،اتپاع تابعین ،ائمہ محدثین سے کہیں بھی موجود نہیں ہے ۔کیا آج کے۔ لوگوں کو صحابہ حتی کہ نبی سے بھی زیادہ عقل و شعور اور دین کا فہم پیدا ہو گیا، کیا یہ لوگ قرآن فہمی اور شریعت فہمی میں نبی کو پیچھے چھوڑدیا ۔نعوذ باللہ من ذلک ۔
جبکہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
سورہ حجرات: آیت نمبر : ا
.....