Monday, November 18, 2024

کیا مرنے ک بعد انسان ناپاک ہو جاتا ہے ؟

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع : کیا مرنے ک بعد انسان ناپاک ہو جاتا ہے ؟ 

از: محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

حنفی علماء ، مفتیان اور ان کی کتب فقہ کے مطابق انسان مرنے ک بعد ناپا ہو جاتا ہے ۔

فتاویٰ شامی میں ہے: 
الآدمی حیوان دموي فیتنجس بالموت کسائر الحیوانات (شامی ۳: ۸۴، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)

دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں درج ہے: 
انتقال پر ہر انسان نجس ہوجاتا ہے اگر چہ اس کے جسم یا کپڑے پر کوئی ظاہری نجاست نہ ہو۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 63465

لیکن صحیح یہ ہے کہ انسان مرنے ک بعد نجس نہیں ہوتا خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو ۔کیونکہ کتاب و سنت میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہو کہ انسان مرنے ک بعد ناپاک ہو جاتا ہے ۔ 
دلائل: 
اللہ رب العزت نے فرمایا :
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ ۔
ترجمہ : ہم نے بنی آدم کو لائق تکریم بنایا ہے ۔ سورہ الاسراء : 70
اس آیت کریمہ میں جملہ بنی آدم کو مکرم بتایا گیا ہے ،اور بنی آدم عام ہے جو زندہ ، مردہ، مسلمان اور کافر سبھی کو شامل ہے۔ نیز بنو آدم کی تکریم کا تقاضا ہے کہ اسے نجس نہ قرار دیا جانے ،خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ ۔
صحیح بخاری میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَقَالَ : أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أَبَا هِرٍّ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُس .

 میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی ۔ اس وقت میں جنبی تھا ۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ کے ساتھ چلنے لگا ۔ آخر آپ ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا ۔ آپ ابھی بیٹھے ہوئے تھے ، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ ! کہاں چلے گئے تھے ، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ! مومن تو نجس نہیں ہوتا ۔
صحیح بخاری: 285

اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ "سبحان اللہ ! مومن تو نجس نہیں ہوتا " کے عموم کا تقاضا ہے کہ انسان جس طرح زندگی میں پاک ہے ،اسی طرح مرنے کے بعد بھی وہ پاک رہے۔


حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے:
(المسلمُ لا يَنجُسُ حيًّا ولا ميِّتًا)

رواه البخاريُّ معلقًا بصيغة الجزم قبل حديث (1253) واللفظ له، ورواه موصولًا ابنُ أبي شَيبة في ((المصنَّف)) (11246) موقوفًا على ابن عبَّاس رَضِيَ اللهُ عنهما. قال البيهقيُّ في ((السنن الكبرى)) (1/306): معروف، وصحَّح إسنادَه ابن حجر في ((تغليق التعليق)) (2/460) وقال: وهو موقوف, وقد رُوي من هذا الوجه مرفوعًا. يُنظر: ((المجموع)) للنووي (2/561).

نیز یہ کہ مومن میت کو غسل دینا مشروع ہے ، اگر وہ نجس ہوتا تو اسے غسل دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔
((الحاوي الكبير)) للماوردي (3/8). ((المجموع)) للنووي (2/560).

ام عطیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے:
, قَالَتْ : تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَضَفَرْنَا شَعَرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا.
صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1263

رسول اللہ ﷺ کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو ۔ اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بھی دے سکتی ہو اور آخر میں کافور یا ( آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ ) تھوڑی سی کافور استعمال کرو پھر جب غسل دے چکو تو مجھے خبر دو ۔ چنانچہ فارغ ہو کر ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے ( ان کے کفن کے لیے ) اپنا ازار عنایت کیا ۔ ہم نے اس کے سر کے بالوں کی تین چوٹیاں کر کے انہیں پیچھے کی طرف ڈال دیا تھا ۔

 وجہ دلالت یہ ہے کہ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین یا پانچ یا اس سے بھی زائد بار دھونے کا حکم دیا ، اگر میت کا بدن نجس ہوتا تو کثرت غسل کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ مثلاً کتا کہ اسے جتنی دفعہ بھی دھویا جاے وہ پاک نہیں ہوگا کیونکہ وہ نجس العین ہے برخلاف آدمی کے جو طاھر العین ہے۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی اور بیری ک پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا ، اگر مرنے کے بعد انسان نجس العین ہوجاتا تو اسے ان چیزوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا خواہ اسے صابن اور شیمپو سے ی کیوں نہ دھو دیا جانے ۔

امام شافعی اور امام احمد بن حنبل سمیت جمہور علماء کا یہی مسلک ہے ۔
المجموع)) للنووي (2/563)
 (المغني)) لابن قدامة (1/34).


اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!!

Tuesday, November 5, 2024

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑھیا کی گٹھری اٹھانے کا من گھڑت قصہ !

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑھیا کی گٹھری اٹھانے کا من گھڑت قصہ ! 

از: محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

قصہ :-

مکہ کی ایک بڑھیا تھی، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اسلام سے تنگ آکر مکہ سے نکل جانے کا فیصلہ کیا ، چنانچہ وہ گٹھڑی سر پہ رکھے ،لاٹھی ٹیکتی راستے پر کسی مددگار کے انتظار میں کھڑی ہوگئی، تھوڑی دیر میں ایک خوبصورت جوان ملتا ہے، پوچھتا ہے اماں جی کہاں جارہی ہیں؟ لائیے میں آپ کی مدد کروں، گٹھڑی مجھے دے دیجئے۔ بڑھیا کہتی ہے: بیٹا! سنا ہے شہر میں ایک جادوگر آیا ہوا ہے جس کا نام محمد (ﷺ) ہے، جو اس سے ملتا ہے یا اس سے بات کرتا ہے وہ اسی کا ہوکر رہ جاتا ہے، میں اسی کے ڈر سے یہ شہر چھوڑکر جارہی ہوں۔ کہیں وہ مجھ پر جادو نہ کردے اور میں اپنے آبائی مذہب اور معبودوں کو چھوڑ نہ بیٹھوں، اس خوب صورت نوجوان نے اس بڑھیا کی گٹھڑی اپنے سر پر اٹھا کر اس کو منزل مقصود تک پہونچا دیا اور سامان سر سے اتار کر واپسی کی اجازت چاہی، تب بڑھیا نے بہت دعائیں دیں اور کہا کہ: چہرے سے تو کسی اعلیٰ خاندان کے لگتے ہو، اور بہت نیک بیٹے ہو، تم نے میری مدد کی ہے، میری نصیحت مانو تم بھی اس جادوگر سے بچ کر رہنا، ارے ہاں میں تمہارا نام تو پوچھنا بھول ہی گئی۔ بیٹا تمہارا کیا نام ہے؟ وہ جوان مسکرا کے کہتا ہے: اماں جی میرا نام ہی محمد (ﷺ) ہے۔۔ آپ کی زبان مبارک یہ یہ کلمہ سن کر وہ بڑھیا مسلمان ہوگئی. 

 ائمہ ، علماء مفتیان و مقررین منبرو محراب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کے موضوع پر جب بھی لب کشائی کرتے ہیں تو ان کی لب کشائی اس وقت تک بند نہیں ہوتی ، جب تک اس قصے کو نہ بیان کردیں۔ یہاں تک کہ بعض مقررین اسی قصے کو موضوع سخن بناکر گھنٹوں مائک پر چیختے سنائی دیتے ہیں ۔
لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب یہ قصہ سرے سے موضوع اور من گھڑت ہے۔ صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ واقعہ مذکور ہو، اور نہ ہی کسی بھی معتبر مآخذ میں اس کو ذکر گیا ہے۔

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن پاکستانی حنفی نے بھی اس واقعے کو بے سند قرار دیا ہے۔
چنانچہ جب ان سے اس بابت دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوے لکھا : 

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے متعلق اکثر ایک بڑھیا کا واقعہ دو طرح سے سننے کو ملتا ہے:

1۔ آپ ﷺ نے ایک بڑھیا کا سامان اٹھایا اور اس نے آپ علیہ السلام کے بارے میں برا بھلا شروع کردیا، پھر جب آپ علیہ السلام نے اپنا نام بتایا تو وہ بڑھیا آپ ﷺ کے اخلاق کی وجہ سے مسلمان ہوگئی۔

2۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بوڑھی عورت کوڑا ڈالا کرتی تھی، پھر ایک وقت بعد وہ بڑھیا بیمار پڑ گئی تھی، آپ ﷺ نے بیماری کی حالت میں اس کی عیادت بھی کی تھی۔

اس واقعہ کو لوگ بلا تحقیق حدیث کہہ کر بیان کرتے ہیں۔

آپ کے سوال سے مراد اسی واقعہ کی تحقیق مقصود ہے تو یہ واقعہ احادیث اور سیرت طیبہ کی کسی بھی معتبر کتاب میں نہیں، بلکہ کسی ضعیف روایت میں بھی اس طرح کا کوئی واقعہ مذکور نہیں ہے، لہٰذا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے ذکر کرنا درست نہیں ہے۔

دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر : 144506100043

اسی طرح دارالعلوم دیوبند سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اللہ کے نبی کی سیرت کے تعلق سے اکثر یہ دو واقعات بڑھیا کے سننے ملتے ہیں، ایک وہ بڑھیا جو اللہ کے نبی پر روزانہ کوڑا کرکٹ پھینکا کرتی تھی اور دوسرا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک بڑھیا کا قصہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکا سامان اٹھایا اور اس نے آپ علیہ السلام کے بارے میں برابھلا شروع کردیا پھر جب آپ علیہ السلام نے اپنا نام بتایا تو وہ بڑھیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی وجہ سے مسلمان ہوئی ، ان واقعات کی کیا حقیقت ہے ؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
یہ دونوں واقعات کسی حدیث میں ہماری نظر سے نہیں گذرے کسی اچھے مورخ کی طرف رجوع فرمائیں۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 155541

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کے موضوع پر بے شمار احادیثیں موجود ہیں ،ان ائمہ اور مقررین حضرات کو چاہئے کہ ان صحیح اور ثابت شدہ چیزوں کو بیان کرنے پر اکتفا کریں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چھوٹی بات، جھوٹے واقعات و قصص منسوب کرنے سے خود بھی بچیں اور پوری امت کو بچانے کی فکر کریں۔

سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔ 
 عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . 
 
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے :
 "میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔"

(صحیح بخاری: 1291) ،

موضوع حدیثیں بیان کرنے والا جھوٹا دجال ہے۔ 
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

’’ آخری زمانے میں ( ایسے ) دجال ( فریب کار ) کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ۔ تم ان سے دور رہنا ( کہیں ) وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ۔‘‘ 

(صحیح مسلم: حدیث نمبر : 16) 

علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں:

" موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔"
 (در مختار: ص 87) 

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...