السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
موضوع : کیا مرنے ک بعد انسان ناپاک ہو جاتا ہے ؟
از: محمد اقبال قاسمي سلفي
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
حنفی علماء ، مفتیان اور ان کی کتب فقہ کے مطابق انسان مرنے ک بعد ناپا ہو جاتا ہے ۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
الآدمی حیوان دموي فیتنجس بالموت کسائر الحیوانات (شامی ۳: ۸۴، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)
دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں درج ہے:
انتقال پر ہر انسان نجس ہوجاتا ہے اگر چہ اس کے جسم یا کپڑے پر کوئی ظاہری نجاست نہ ہو۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 63465
لیکن صحیح یہ ہے کہ انسان مرنے ک بعد نجس نہیں ہوتا خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو ۔کیونکہ کتاب و سنت میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہو کہ انسان مرنے ک بعد ناپاک ہو جاتا ہے ۔
دلائل:
اللہ رب العزت نے فرمایا :
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ ۔
ترجمہ : ہم نے بنی آدم کو لائق تکریم بنایا ہے ۔ سورہ الاسراء : 70
اس آیت کریمہ میں جملہ بنی آدم کو مکرم بتایا گیا ہے ،اور بنی آدم عام ہے جو زندہ ، مردہ، مسلمان اور کافر سبھی کو شامل ہے۔ نیز بنو آدم کی تکریم کا تقاضا ہے کہ اسے نجس نہ قرار دیا جانے ،خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ ۔
صحیح بخاری میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَقَالَ : أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أَبَا هِرٍّ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُس .
میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی ۔ اس وقت میں جنبی تھا ۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ کے ساتھ چلنے لگا ۔ آخر آپ ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا ۔ آپ ابھی بیٹھے ہوئے تھے ، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ ! کہاں چلے گئے تھے ، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ! مومن تو نجس نہیں ہوتا ۔
صحیح بخاری: 285
اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ "سبحان اللہ ! مومن تو نجس نہیں ہوتا " کے عموم کا تقاضا ہے کہ انسان جس طرح زندگی میں پاک ہے ،اسی طرح مرنے کے بعد بھی وہ پاک رہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے:
(المسلمُ لا يَنجُسُ حيًّا ولا ميِّتًا)
رواه البخاريُّ معلقًا بصيغة الجزم قبل حديث (1253) واللفظ له، ورواه موصولًا ابنُ أبي شَيبة في ((المصنَّف)) (11246) موقوفًا على ابن عبَّاس رَضِيَ اللهُ عنهما. قال البيهقيُّ في ((السنن الكبرى)) (1/306): معروف، وصحَّح إسنادَه ابن حجر في ((تغليق التعليق)) (2/460) وقال: وهو موقوف, وقد رُوي من هذا الوجه مرفوعًا. يُنظر: ((المجموع)) للنووي (2/561).
نیز یہ کہ مومن میت کو غسل دینا مشروع ہے ، اگر وہ نجس ہوتا تو اسے غسل دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔
((الحاوي الكبير)) للماوردي (3/8). ((المجموع)) للنووي (2/560).
ام عطیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے:
, قَالَتْ : تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَضَفَرْنَا شَعَرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا.
صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1263
رسول اللہ ﷺ کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو ۔ اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بھی دے سکتی ہو اور آخر میں کافور یا ( آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ ) تھوڑی سی کافور استعمال کرو پھر جب غسل دے چکو تو مجھے خبر دو ۔ چنانچہ فارغ ہو کر ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے ( ان کے کفن کے لیے ) اپنا ازار عنایت کیا ۔ ہم نے اس کے سر کے بالوں کی تین چوٹیاں کر کے انہیں پیچھے کی طرف ڈال دیا تھا ۔
وجہ دلالت یہ ہے کہ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین یا پانچ یا اس سے بھی زائد بار دھونے کا حکم دیا ، اگر میت کا بدن نجس ہوتا تو کثرت غسل کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ مثلاً کتا کہ اسے جتنی دفعہ بھی دھویا جاے وہ پاک نہیں ہوگا کیونکہ وہ نجس العین ہے برخلاف آدمی کے جو طاھر العین ہے۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی اور بیری ک پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا ، اگر مرنے کے بعد انسان نجس العین ہوجاتا تو اسے ان چیزوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا خواہ اسے صابن اور شیمپو سے ی کیوں نہ دھو دیا جانے ۔
امام شافعی اور امام احمد بن حنبل سمیت جمہور علماء کا یہی مسلک ہے ۔
المجموع)) للنووي (2/563)
(المغني)) لابن قدامة (1/34).
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!!