Friday, January 31, 2025

موضوع : ناخن کاٹنے کا خود ساختہ حنفی تبلیغی طریقہ

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته !!

موضوع : ناخن کاٹنے کا خود ساختہ  تبلیغی طریقہ 

از : محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

حنفی علماء و مفتیان بالخصوص تبلیغی جماعت والوں کو ناخن کاٹنے کا مسنون طریقہ بتاتے ہوے اکثر یہ سنا جاتا ہے جو کہ اس طرح ہے: ناخن کاٹتے ہوے سب سے پہلے دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے شروع کرے اور چھوٹی انگلی تک کاٹے ، اس کے بعد بائیں ہاتھ میں چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور انگوٹھے تک ناخن کاٹے ، آخرمیں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹے۔

لیکن ناخن کاٹنے کا یہ طریقہ کسی بھی حدیث میں مذکور نہیں ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں ناخن کاٹنے کا یہ طریقہ موجود ہو۔ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ طریقہ منقول ہے اور نہ ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی صحابی سے یہ طریقہ مذکور ہے ۔

ناخن تراشنے کی اس ترتیب اور طریقہ کو سنت کہ کر اس کی تعلیم و ترغیب دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر بہتان تراشی کرنا ہے جس ک متعلق سخت وعیدیں ہیں۔

 عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے ہمارے اس امر ( دین ) میں کوئی ایسی نئی بات شروع کی جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے ۔‘‘ 
صحیح مسلم: 4492
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

ناخن تراشی کا مذکور بالا تفصیلی طریقہ ، جس پر تبلیغی حضرات سنت و شرعی سمجھ کر خود بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی عمل کی ترغیب دیتے ہیں ۔ اسے درج ذیل محدثین کرام اور خود حنفی علماء نے بھی غیر مسنون قرار دیا ہے ۔

کشف الخفاء میں 
علامہ عجلونی لکھتے ہیں: 
یہ من گھڑت حدیث ہے ۔

علامہ سخاوی اپنی کتاب المقاصد الحسنہ میں ص نمبر 313 پر لکھتے ہیں:
 یہ طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے ۔

دارلعلوم دیوبند نے اس طریقے کا سنت ہونے س انکار کیا ہے۔

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ میں نے آپ کے فتوی میں پڑھا ہے کہ ناخن کاٹنے کا کوئی خاص طریقہ /سنت نہیں ہے، لیکن میں نے تبلیغی جماعت والوں سے ناخن کاٹنے کا سنت طریقہ کئی بار سناہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے شروع کرے اور چھوٹی انگلی تک کاٹے ، اس کے بعد بائیں ہاتھ میں چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور انگوٹھے تک ناخن کاٹے ، آخرمیں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹے ۔ براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں۔جزاک اللہ

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتے ہوئے لکھا: 

صحیح یہی ہے کہ ناخن کاٹنے کا کوئی طریقہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔

دارالافتاء 
دارلعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 62528 

اس ک علاوہ مولانا خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی لکھتے ہیں کہ ناخن جس طریقے سے بھی کاٹے جائیں تو اس کی سنت ادا ہو جائے گی ۔
(بذل المجہود ۔ج : 1 ص : 131)

مولانا زکریا کاندھلوی دیوبندی لکھتے ہیں: 
جمعہ کے دن ناخن کاٹنا سنت ہے ، لیکن کاٹنے کا کوئی خاص طریقہ سنت س ثابت نہیں۔ بلکہ جس ترتیب سے بھی کاٹے جائیں سنت ادا ہو جائے گی ۔
(التعلیق علی بذل المجہود: 1/131)
مولانا یونس جونپوری دیوبندی سابق شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارنپور لکھتے ہیں: 
یہ امام نووی کی راۓ ہے ، کوئی حدیث نہیں ہے ۔
(الیواقیت الغالیہ : 2/415)

فتاویٰ شامی میں لکھا ہے۔ : 
یہ طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم س ثابت نہیں ہے ۔ 

(فتاویٰ شامی: 9/306)

مولانا ابوالکلام دیوبندی پالنپوری لکھتے ہیں: 
عام طور پر مشہور ہے کہ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کے ناخن کاٹنے سے ابتدا کی جاۓ، پھر اس ک بعد درمیانے انگلی اور اس طرح آخر تک ۔ پھر بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شر وع کرکے انگوٹھے تک ترتیب وار ناخن کاٹے جائیں ، سب سے آخر میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹنا جاۓ ۔
یہ حدیث احادیث کی کسی کتاب میں موجود نہیں ہے ، بلکہ معتبر علماء نے اپنی کتابوں میں اسے من گھڑت کہا ہے۔اس لئے اس کو بیان کرنا درست نہیں ہے۔
(بیس مشہور لیکن من گھڑت روایات جن کا بیان کرنا درست نہیں ہے ۔)

واضح ہو کہ ناخن تراشنا امور فطرت میں سے ہے، حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  

   الْفِطْرَةُ خَمْسٌ : الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْآبَاطِ .

پانچ چیزیں امور فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرانا ، زیر ناف مونڈنا ، مونچھ کترانا ، ناخن ترشوانا اور بغل کے بال نوچنا۔ (صحیح البخاری :5891 )
فطرت یعنی انبیاء کرام کی سنت قدیمہ ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے. 

لیکن مذکورہ بالا تفصیلی طریقہ کہیں مذکور نہیں ہے۔
ا
للهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...