Sunday, October 3, 2021

مولانا مودودی ‏اور ‏امیر ‏معاویہ ‏پر ‏الزام ‏بغاوت! ‏! ‏

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مولانا اقبال قاسمی سلفی


مولانا مودودی ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے من گھڑت رویات کا سہارا لے کر صحابہ کرام پر جی بھر کر افترا پردازی کی ہے۔ بے سند روایتوں کے ذریعے صحابہ کرام کی عظیم شخصیتوں پر قلم کاری کا خوب مظاہرہ کیا ہے۔ مولانا خود تو بے سند یافتہ مولانا تھے لیکن دوسروں کو سند خوب دیا کرتے تھے۔ انہوں نے تو صحابہ کرام کو بھی حق اور باطل کا certificate دے دیا تھا۔ 
چنانچہ  مولانا لکھتے ہیں:

"اس جنگ کے دوران میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے نص صریح سے یہ بات کھول دی کہ فریقین میں سے حق پر کون ہے اورباطل پر کون وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمار بن یاسر جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں شامل تھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق نبی ﷺ کا یہ ارشاد صحابہ میں مشہور تھا۔ اور بہت سے صحابیوں نے اس کو حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سنا تھا کہ تم کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا"۔ 
(خلافت و ملوکیت۔ص 136) 

در اصل حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے تعلق سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشنگوئی تھی کہ اے عمار! تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا۔ پوری روایت ملاحظہ کریں۔ 

حضرت عکرمہ کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور  ( اپنے صاحبزادے )  علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے  ( رضاعی )  بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو  ( ہمارے پاس )  تشریف لائے اور  ( چادر اوڑھ کر )  گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں  ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے )  ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرےگی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی  ( اطاعت کی )  طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ 
(Sahi bukhari 2812) 
 
یہ روایت صحیح بخاری ، مسلم کے علاوہ اور بھی متعدد کتب حدیث میں موجود ہے۔ 

اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ "افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی"۔ 

واضح رہے کہ صحابی رسول حضرت عمار جنگ صفین(جو حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان ہوئی تھی)  میں حضرت علی کے ساتھ تھے اور اسی جنگ  میں آپ قتل ہو گۓ تھے۔ اور اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث کے مطابق آپ کو باغی جماعت قتل کرے گی۔ 
اب اس باغی جماعت سے کون سے جماعت مراد ہے۔ کیا اس کا مصداق امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت ہے؟؟
 جیسا کہ مولانا مودودی اور شیعہ حضرات اس حدیث کا مصداق امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت کو قرار دے کر انہیں ہدف تنقید بناتے ہیں۔ اسی حدیث کے ذریعے شیعیت زدہ لوگ امیر معاویہ اور ان کی جماعت پر تکفیری فتوے لگاتے ہیں۔ 

لیکن سوال یہ کہ:

1) مولانا مودودی اس حدیث کے ذریعہ دو ٹوک انداز میں جس طرح حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی جماعت کو حق اور باطل کا سرٹیفکیٹ جاری فرما رہے ہیں۔ یہ حدیث تو بقول مولانا صحابہ کرام کے درمیان مشہور تھی لیکن کیا صحابی رسول میں سے کسی ایک نے بھی اس حدیث کی بنیاد پر امیر معاویہ اور ان کی جماعت کو باغی جماعت قراردیا تھا؟ اگر نہیں تو کیوں؟؟ 

2) کیا صحابہ کرام یہ جاننے کے بعد بھی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت باغی جماعت ہے، پھر بھی کیا ایک باغی جماعت جماعت کا ساتھ دینے رہے؟؟؟ 

3) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسن اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان صلح ہوگئ تھی اور پوری امت امیر معاویہ کی خلافت پر متفق ہو گئی تھی، تو کیا حضرت حسن اور صحابہ کرام کی پوری جماعت یہ جاننے کے بعد بھی کہ معاویہ باغی ہیں، ایک باغی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا؟؟

4) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بیس سال تک بلا نزاع خلیفہ رہے، تو کیا صحابہ کرام اور پوری امت ایک باغی کو بیس سال تک اپنا خلیفہ  تسلیم کئے رہی اور کسی ایک نے بھی یہ کہنے  کی جرأت نہ کی کہ حدیث رسول ﷺ کے مطابق آپ اور آپ کی جماعت باغی جماعت ہے؟؟ 

 جنگ صفین کے دوران ہی ایک مرحلہ ایسا آیا کہ جنگ بندی کی پیشکش کی گئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پیشکش کو قبول بھی کیا تو کیا، بقول مولانا مودودی اور ان کے چاہنے والے، نص صریح سے فیصلہ ہو جانے کے بعد بھی، کہ باغی کون ہے، حضرت علی نے اسے قبول کیا؟؟ جبکہ قرآن تو کہتا ہے باغی جماعت سے اس وقت تک قتال کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آۓ۔ 
(سوره الحجرات:09) 

6) پھر تو حضرت علی کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے جنگ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ حضرت عمار ان کے ساتھ تھے۔ لوگوں کو بس یہ حدیث سنا دیتے، فیصلہ ہوجاتا۔ کیونکہ صحابہ کرام یہ جاننے کے بعد کہ حضرت علی حق پر ہیں، کبھی حضرت معاویہ کا ساتھ نہیں دیتے۔ دلچسپ بات تو یہ کہ حضرت علی کی طرف سے ایسے صحابہ بھی لڑ رہے تھے جو اس حدیث کے راوی بھی ہیں۔ مثلاً ابو قتادہ، ابو حذیفہ اور ابو الیسر رضی اللہ عنہم۔ 

7) بقول مولانا مودودی اور ان کے چاہنے والے، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشنگوئی بہت مشہور تھی،تو کیا حضرت عمار کی شہادت کے بعد کسی بھی صحابی رسول نے مولانا مودودی کی طرح سمجھ داری اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امیر معاویہ اور ان کی جماعت کو باطل اور باغی قرار دیا اور یہ کہا کہ اب تو نص صریح سے فیصلہ ہو گیا کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟؟ جیسا کہ مولانا مودودی فیصلہ فرما رہے ہیں۔ ان کے فیصلے کو ایک بار پھر ملاحظہ کریں: 
"اس جنگ کے دوران میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے نص صریح سے یہ بات کھول دی کہ فریقین میں سے حق پر کون ہے اورباطل پر کون وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمار بن یاسر جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں شامل تھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق نبی ﷺ کا یہ ارشاد صحابہ میں مشہور تھا"۔ 
(خلافت و ملوکیت۔ ص 136)

 اس حدیث میں وارد الفئة الباغيه (باغی جماعت)کا صحیح اطلاق کیا ہے اور اس کے حقیقی مصداق کون لوگ ہیں۔ ان شاء اللہ اسے ہم اگلے پوسٹ میں مطالعہ کریں گے۔ 
 
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!!
Maulana Maududi is one of those people who have resorted to fabricated traditions and slandered the Companions. He has done a good job of writing on the great personalities of the Companions through unauthentic traditions. Maulana himself was an uncertified Maulana but he used to give certificates to others. He even gave a certificate of truth and falsehood to the Companions. So Maulana writes: “During this war there was an incident which revealed from the clear text who is on the right side and who is on the wrong side. The incident is that Hazrat Ammar bin Yasir Among the army of Anhu were those who were martyred while fighting the army of Hazrat Mu'awiyah. You were going to be killed by a rebel group. " (Khilafah and Kingship, p. 136) In fact, there was a prophecy of the Messenger of Allah (peace be upon him) regarding Hazrat Ammar bin Yasir that O Ammar! You will be killed by a rebel group. See the whole tradition. Hazrat Ikrimah says: Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) said to him and (his son) Ali ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) that you both go to the service of Abu Sa'eed Al-Khudri (may Allah be pleased with him) and listen to the hadiths of the Prophet So we came. At that time, Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) was in the garden with his (foster) brother and was watering the garden. He sat down and said, "We were carrying the bricks of the Prophet's Mosque (for the construction of the mosque after the Prophet's migration) one by one, but Ammar was bringing two bricks." He passed by and wiped the dust off his head. Ammar will be killed by a rebellious group. It may be inviting them to Allah (obedience) but they will be calling him to Hell. (Sahi bukhari 2812) This narration is found in Sahih Bukhari, Muslim and many other books of hadith. In this hadith, the Messenger of Allah said: "Alas! Ammar will be killed by a rebel group." It should be noted that Sahabi Rasool Hazrat Ammar was with Hazrat Ali in the battle of Safin (which took place between Hazrat Ali and Hazrat Mu'awiyah) and he was killed in that battle. And according to the hadith of the Messenger of Allah, the rebellious group will kill you.
Now which party is meant by this rebellious party? Is this the case with the party of Amir Mu'awiyah? As Maulana Maududi and the Shiites use this hadith as an example of Amir Mu'awiyah's party and target him as a target of criticism. It is through this hadith that Shiite people issue Takfiri fatwas against Amir Muawiyah and his party. But the question is: 1) Maulana Maududi is issuing a certificate of truth and falsehood to this group of Hazrat Ali and Mu'awiyah through this hadith. According to Maulana, this hadith was popular among the Companions, but did any of the Companions of the Prophet call Amir Mu'awiyah and his party a rebellious group on the basis of this hadith? If not why ?? 2) Did the Companions, even after knowing that the party of Hazrat Mu'awiyah (RA) is a rebellious party, still support a rebellious party ??? 3) After Hazrat Ali, Hazrat Hassan and Hazrat Mu'awiyah were reconciled and the whole Ummah agreed on the caliphate of Amir Mu'awiyah. That Muawiyah is a rebel, had he made a deal with a rebel ?? 4) Hazrat Amir Muawiyah (RA) remained the caliph without any dispute for twenty years, so did the Companions and the entire Ummah accept a rebel as their caliph for twenty years and no one dared to say that the hadith of the Prophet (SAW) According to you and your party is a rebel party ?? It was during the Battle of Safin that a ceasefire was offered and Hazrat Ali accepted the offer, according to Maulana Maududi and his admirers, even after the text had been decided. Who is the rebel, Hazrat Ali accepted it ?? While the Qur'an says fight the rebellious group until they return to the command of Allah. (Surat al-Hujurat: 09) 6) Then there was no need for Hazrat Ali to fight Hazrat Mu'awiyah because Hazrat Ammar was with him. If only this hadith had been narrated to the people, a decision would have been made. Because the Companions, after knowing that Hazrat Ali is on the right path, never support Hazrat Muawiyah. Interestingly, such companions were also fighting on behalf of Hazrat Ali who are also the narrators of this hadith. For example, Abu Qatada, Abu Hudhaifah and Abu Al-Yasir. 7) According to Maulana Maududi and his admirer, the prediction of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) about Hazrat Ammar (RA) was very famous. Demonstrating courage and bravery, he declared Amir Muawiyah and his party as false and rebellious and said that now it has been decided from the clear text who is on the right and who is on the wrong ?? As Maulana Maududi decides. Look at his decision again: "During this war, there was an incident which made it clear from the text who is on the right side and who is on the wrong side. The incident is that Hazrat Ammar bin Yasir Those who were in the army of Hazrat Ali (RA) were martyred while fighting the army of Hazrat Mu'awiyah (RA). (Khilafah and Monarchy) p. Inshallah we will read it in the next post.
Assalamu Alaikum

2 comments:

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...