Thursday, September 30, 2021

مولانامودودی اور امیر معاویہؓ پر الزام بغاوت ‏۔ ‏پارٹ2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا اقبال قاسمی سلفی

مولانامودودی اور امیر معاویہؓ پر الزام بغاوت ۔ پارٹ2

حضرت عکرمہ فرماتے ہیں:
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور  ( اپنے صاحبزادے )  علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے  ( رضاعی )  بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو  ( ہمارے پاس )  تشریف لائے اور  ( چادر اوڑھ کر )  گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں  ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے )  ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی  ( اطاعت کی )  طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ 
(صحیح بخاری:2812) 

 اس حدیث میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے تعلق سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :"اے عمار تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔" 

 اس باغی جماعت سے کون سی جماعت مراد ہے۔ کیا اس سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت مراد ہے جیسا کہ مولانا مودودی اور انکے فالوورس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت پر باغی جماعت ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ 
کیا واقعی صحابی رسول، کاتب وحی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ باغی تھےتھے؟؟؟ اور اگر نہیں تھے توان روایات کا کیا مطلب ہے؟؟ 

اس سے پہلے کے بلاگ پوسٹ میں ہم نے چند پوائنٹس رکھے تھے۔ بہتر ہوگا اسے بھی مطالعہ کر لیں۔ 

اب آگے ملاحظہ کریں۔ 

 صحیح بخاری کی اس روایت کے بارے میں صحیح موقف یہی ہے کہ "تقتله الفئة الباغيه" کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، یہ راویوں کا اضافہ یے۔ امام بخاری نے اسے درج نہیں کئے تھے۔ 
ابو مسعود الدمشقی نے "اطراف الصحیحین" میں، امام بیہقی نے "دلائل النبوۃ" میں، امام حمیدی نے "الجامع بین الصحیحین" میں، ابن اثیر جزری نے اپنی کتاب "جامع  الاصول فی احادیث الرسول"میں ، امام مزی نے اپنی کتاب "تحفۃ الاشراف بمعرفۃ الاطراف" میں اور امام ذہبی نے اپنی کتاب "تاریخ الاسلام ووفیات المشاھیر" میں اسی موقف کو اپنایا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کی صحت پر تو امت کا اجماع ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ اس اجماع کے باوجود چند ایک متعین مقامات ہیں جن میں کچھ علل و اوہام کی بناء پر محدثین نے کلام کیا ہے۔
أبو بكر الخلال(235ـ311هـ)  (شیخ الحنابلۃ) فرماتے ہیں:
محمد بن عبداللہ بن ابراہیم نے اپنے والد سے سنا، وہ کہتے ہیں:
" میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ، اس حوالے سے 28 روایات مروی ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک روایت بھی صحیح نہیں ہے۔ "
(ابو بکر الخلال:السنہ:2/463) 
امام ابو بکر الخلال دوسرا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ہمیں اسماعیل بن فضل نے خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن ابراہیم سے سنا یے ، وہ کہتے ہیں:

"میں نے امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، ابو خیثمہ اور معیطی رحمہ اللہ کے حلقے میں یہ بات سنی ہے کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ، اس حوالے سے کوئی ایک روایت بھی صحیح نہیں ہے۔" 
(ابو بکر الخلال:السنہ:2/463)

اور اگر  روایت کے اس ٹکڑے کو درست بھی مان لیا جائے تو "الباغيه" کا یہاں پر وہ معنی نہیں ہے جو مخالفین صحابہ، مرزائی اور حنفی مودودی نے لیا ہے۔ یہاں بغاوت سے وہ بغاوت  مراد نہیں ہے جو خوارج وغیرہ کے لئے بولا گیا ہے۔ 
اس کی وجہ یہ ہے کہ صحیح بخاری کی ہی ایک روایت میں رسول ﷺ نے فرمایا  :
 لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ ، دَعْوَتُهُمَا وَاحِدَةٌ.
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہو گی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا۔ 
(صحیح بخاری:7121) 
اور حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔ ان دو جماعتوں سے مراد حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی جماعت ہے۔ اور ان کے دعوی سے مراد "اسلام" ہے کہ دونوں اسلام کے نام پر لڑیں گے۔ یا ان کے دعوے سے مراد یہ ہے کہ دونوں حق پر ہونے کا دعویٰ کریں گے۔ 
جیسا کہ صحیح مسلم کی روایتوں میں اس کی صراحت ہے۔ 
عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَ فِيهِ قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَى فُرْقَةٍ مُخْتَلِفَةٍ يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ مِنْ الْحَقِّ۔ 
 نبی کریم ﷺ نے یہ بات ایک حدیث میں روایت کی جس میں آپ نے اس قوم کا تذکرہ فرمایا جو ( امت کے ) مختلف گروہوں میں بٹنے کے وقت نکلے گی ، ان کو دونوں گروہوں میں سے حق سے قریب تر گروہ قتل کرے گا۔ 
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَمْرُقُ مَارِقَةٌ فِي فُرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ فَيَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں میں گروہ بندی کے وقت دین میں سے تیزی سے نکل جانے والا ایک فرقہ تیزی سے نکلے گا ۔ ان کے قتل کی ذمہ داری دونوں جماعتوں میں سے حق سے زیادہ تعلق رکھنے والی جماعت پوری کرے گی ۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَقِّ
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے دو گروہ ہوں گے ان دونوں کے درمیان سے ، دین میں سے تیزی سے باہر ہوجانے والے نکلیں گے ، انھیں وہ گروہ قتل کرے گا۔ جو دونوں گروہوں میں سے زیادہ حق کے لائق ہوگا۔ 
(صحیح مسلم:2459، 2460، 2461) 
ان تمام احادیث میں دونوں گروہوں سے مراد حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی جماعت ہے۔
نیز ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں ہی جماعت حق پر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک جماعت  "اولى بالحق" اور "اقرب من الحق" ہے۔
یعنی حق پر تو دونوں ہی جماعت ہے لیکن ان میں سے ایک جماعت زیادہ حق پر اور حق کے قریب تر ہے، اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت ہے۔ 

اب اگر "تقتله الباغيه" میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت کے لئے باغی سے وہ معنی مراد لیں جو مرزائی اور مودودی لوگ لیتے ہیں، یعنی ناحق پر ہونا یا باطل ہونا، تو دونوں حدیثوں میں تضاد ہوجاۓ گا، کہ ایک حدیث(حدیث نمبر:7121) میں تو اللہ کے رسول ﷺ  معاویہ کی جماعت کو حق پر ہونا قرار دے ہےہیں ، جبکہ دوسری حدیث میں باغی یعنی باطل کہہ رہے ہیں۔ 
 اور زبان رسالت سے ایسا تضاد صادر نہیں ہو سکتا۔

لہذا بغی کا یہاں اصل معنی "چایت" کے ہیں جیسا کہ قرآن پاک آیات "ابتغاء مرضات الله" اللہ کی رضا چاہنے کے لئے، اور حدیث "يا باغي الخير" اے خیر کے چاہنے والے ، میں جو معنی مراد ہیں

اور بغی کا اصل معنی یہی ہوتا ہے چاہنے والا۔ 
البتہ بعض اوقات اس لفظ میں "چاہت" کے ساتھ کسی معنی کا اضافہ ہو ہوتا ہے
۔جیسا کہ آیت مبارکہ
 "فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ۔ 
میں وہ چاہنا مراد ہے  جو آپ کا حق نہ ہو۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اس معنی میں "باغی" کہا گیا کہ وہ اپنا حق تو چاہ ہی رہے ہیں یعنی قاتلینِ عثمان کا بدلہ۔ لیکن اس سے زیادہ چاہ رہے ہیں جتنا ان کا بنتا ہے یعنی ان حالات میں قصاص چاہ رہے ہیں جن حالات میں حضرت علی کے لئے قصاص لینا ممکن نہیں تھا۔ 
 
اور اگر "بغی" کو  بغاوت ہی کے معنی میں لیں تو مطلب ہوگا کہ حضرت عمار رضی عنہ کو واقعی باغی جماعت ہی نے قتل کیا تھا جو اس وقت سبائی ٹولے کی شکل میں موجود تھا۔ موقع ملتے ہی کسی طرح وہ  معاویہ رضی اللہ عنہ کی صفوں میں گھس  کر حضرت عمار کو شہید کردیا ۔ اور الزام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت پر لگا دیا۔

1 comment:

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...