Friday, December 17, 2021

فاتحہ ‏خلف الامام ‏کے صحیح ‏اورصریح ‏دلائل

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع : فاتحہ خلف الامام کےصحيح ،صريح اور مرفوع دلائل ! 
مصادر : مختلف مراجع و مصادر! 

1) امام بخاری فرماتے ہیں:
حدثنا يحي بن يوسف قال: انبأنا عبيد الله عن ايوب عن ابى قلا بة عن انس رضي الله عنه:ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى باصحابه فلما قضى صلاته اقبل عليهم بوجهه فقال:اتقرؤون فى صلاتكم والامام يقرأ؟ فسكنوا، فقالها ثلاث مرات، فقال قائل او قائلون:انا لنفعل، قال:فلا تفعلوا، و ليقرأ احدكم بفاتحة الكتاب فى نفسه.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے  صحابہ کو ایک نماز پڑھائی، پس جب آپ نے نماز پوری کی تو ان کی طرف چہرہ مبارک کرتے ہوئے فرمایا کیا تم اپنی نماز میں پڑھتے ہو جبکہ امام پڑھ رہا ہوتا ہے؟ تو وہ خاموش ہوگئے، آپ نے یہ بات تین دفعہ دہرائی، تو ایک یا کئی اشخاص نے کہا:بے شک ہم ایسا کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا:پس ایسا نہ کرو، اور تم میں سے ہر شخص  سورہ فاتحہ اپنے دل میں پڑھے۔ 
(جزء القراءت:255) 
یہ حدیث (1)مسند ابی یعلی الموصلی:2805، (2)صحیح ابن حبان:1841, 1849(3) موارد الظمآن:458, 459(4) السنن الکبری للبیہقی کے علاوہ تاریخ بغداد، مجمع الزوائد اور الجوہر النقی لابن ترکمانی حنفی میں بھی موجود ہے۔

اس سند کے تمام راوی صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں۔ 

حافظ ہیثمی اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:
"رواه ابويعلى والطبراني فى الاوسط و رجاله ثقات"
اسے ابویعلی نے مسند میں اور طبرانی نے الاوسط میں روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔(مجمع الزوائد)

ابن حبان فرماتے ہیں:
سمع هذا الخبر ابو قلابه من محمد بن عائشة عن بعض اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم و سمعه من انس بن مالك، فالطريقان جميعا محفوظان.
ابو قلابہ نے یہ خبر محمد بن ابی عائشہ سے بعض اصحاب رسول کی سند کے ساتھ سنی، اور انس بن مالک سے بھی سنی پس یہ دونوں سندیں محفوظ(صحیح) ہیں۔ (صحیح ابن حبان:1849) 

2) امام بخاری فرماتے ہیں:
حدثنا عبدان قال حدثنا يزيد بن زريع قال حدثنا خالد عن ابى قلابة عن محمد بن أبي عائشة عمن شهد ذاك قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم فلما قضى صلاته قال:أتقرؤون والام يقرأ قالوا:انا لنفعل قال:فلا تفعلوا الا ان يقرأ بفاتحة الكتاب فى نفسه. 
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے نماز پڑھائی جب آپ نماز سے فارغ ہوۓ تو فرمایا:کیا تم اس وقت پڑھتے ہو جب امام پڑھ رہا ہوتا ہے؟ صحابہ نے کہا بے شک ہم ایسا کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس ایسا نہ کرو سواۓ اس کے کہ تم میں سے ہر شخص  سورہ فاتحہ اپنے دل میں پڑھے۔

 اس حدیث کو امام عبد الرزاق نے المصنف:2766، احمد بن حنبل نے المسند:18238, 20876، امام دار قطنی نے سنن:1272، امام بیہقی نے سنن الکبری، کتاب االقراءت لہ:157، معرفۃ السنن والآثار میں متعدد سندوں کے ساتھ خالد الحذا سے روایت کیا ہے۔
امام بیہقی فرماتے ہیں:هذا اسناده صحيح(معرفة السنن والآثار) 
ابن حبان نے اسے محفوظ(صحیح) کہا ہے۔ (صحیح ابن حبان) 
حافظ ہیثمی فرماتے ہیں:رجاله الصحيح. (مجمع الزوائد) 
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:اسنادہ حسن 
(التلخيص الحبير) 
اس سند کے تمام راوی صحیح مسلم کے راوی ہیں۔ 

3) امام بخاری فرماتے ہیں:
حدثنا شجاع بن الوليد قال: حدثنا النضر قال:حدثنا عكرمة قال:حدثنحدثني عمرو بن سعد عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تقرؤون خلفى؟قالوا:نعم انا لنهذهذا، قال فلا تفعلوا الا بام القرآن. 
عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:(اے صحابہ) کیا تم میرے پیچھے پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے جواب میں کہا:جی ہاں، ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں، فرمایا:پس کچھ بھی نہ پڑھو سواۓ سورہ فاتحہ کے۔ 
(جزء القراءت:63) 
اسے امام بیہقی نے کتاب االقراءت میں روایت کیا ہے۔ 
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
4) امام ترمذی فرماتے ہیں:
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، ‏‏‏‏‏‏فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏    إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏    قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِي وَاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏    فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا   ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي قَتَادَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏    لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ    قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق يَرَوْنَ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ.
 رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فجر پڑھی، آپ پر قرأت دشوار ہو گئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا: ”مجھے لگ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم ہم قرأت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو سوائے سورۃ فاتحہ کے اس لیے کہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے“۔ 
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث زہری نے بھی محمود بن ربیع سے اور محمود نے عبادہ بن صامت سے اور عبادہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی، یہ سب سے صحیح روایت ہے، 
۳ - اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا امام کے پیچھے قرأت کے سلسلے میں عمل اسی حدیث پر ہے۔ ائمہ کرام میں سے مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے، یہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ۔
(سنن ترمذی:311)
یہ حدیث محمد بن اسحاق کی سند سے درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے۔ 
مسند احمد:23125، سنن ابی داوُد:823، جزء القراءات للبخاری:257، سنن دار قطنی:1200، مستدرک الحاکم:869، المعجم الصغیر للطبرانی:1581، صحیح ابن حبان:1872، منتقی ابن الجارود:321، السنن الکبری للبیہقی، کتاب االقراءت للبیہقی: اور صحیح ابن خزیمہ وغیرہ۔ 
اس حدیث کو مندرجہ ذیل علماء نے صحیح قرار دیا ہے۔ 

امام بخاری رحمہ اللہ
امامِ ابوداؤد رحمہ اللہ
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ
ابن حبان رحمہ اللہ
اور مندجہ ذیل علماء نے اسے حسن قرار دیا ہے:
ترمذی رحمہ اللہ
دار قطنی رحمہ اللہ 
ابن حجر رحمہ اللہ

اس حدیث کے ایک راوی محمد بن اسحاق بن یسار جمہور محدثین،علماء اور فقہاء کے نزدیک ثقہ، صدوق اور صحیح الحديث ہیں۔ 

حافظ زیلعی حنفی:نصب الرای، علامہ عینی حنفی:عمدۃ القاری، امام سہیلی:الروض الانف، ابن ہمام حنفی:فتح القدیر ۔ 
ان کے علاوہ مندرجہ ذیل دیوبندی علماء نے ان کی توثیق کی ہے۔ 
انور شاہ کشمیری
محمد یوسف بنوری 
محمد ادریس کاندھلوی
ظفر احمد عثمانی
مولانا زکریا، تبلیغی نصاب والے ۔ 
بریلویوں کے رہنما احمد رضا خان نے بھی توثیق کی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:ہمارے علماء کے نزدیک بھی توثیق ہی راجح ہے۔

5) امام بیہقی فرماتے ہیں:
اخبرنا ابو عبد الله الحافظ:انبأناابوعلى الحسين بن على الحافظ:نااحمد بن عمير الدمشقي:نا موسى بن سهل الرملي:نا محمد بن ابى السري:نا يحيى بن حسان:يحي بن حمزة عن العلاء بن الحارث عن مكحول  عن محمود بن الربيع عن عبادة بن الصامت قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:لا صلوة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب امام و غير امام. 
(كتاب القراءت البيهقي:115) 
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوے سنا:اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے امام ہو یا غیر امام۔ 

اس حدیث کے سارے راوی ثقہ ہیں۔ 
احمد بن عمیر ثقات المسلمین میں سے تھے۔ آپ پر امام دارقطنی کی جرح ثابت نہیں ہے۔ کیونکہ اس جرح کا راوی ابو عبد الرحمن السلمی ہے۔اور یہ شخص کذاب تھا۔

علاء بن حارث جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں آپ کی روایات صحیح مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ آپ پر تغیر عقل کا الزام ہے۔ لیکن اس جرح کا راوی آجری ہے اور یہ آجری مجہول الحال ہے۔ (تہذیب التہذیب) 

 6)صحیح مسلم میں ہے:
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ - قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ، مَا شَأْنُكُمْ؟ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ، فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، فَوَاللهِ، مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي، قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ»
 ہم سے ابو جعفرمحمد بن صباح اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ۔ حدیث کے لفظوں میں بھی دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حجاج صوّاف سے انھوں نے یحیی بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت معاویہ بن ابی حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا : یرحمک اللہ اللہ تجھ پر رحم کرے ۔ لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا : میری ماں مجھے گم پائے ، تم سب کو کیا ہو گیا ؟ کہ مجھے گھور رہے ہو پھروہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے ۔ جب میں نے انھیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں ( تو مجھے عجیب لگا ) لیکن میں خاموش رہا ، جب رسول اللہ نماز سے فارغ ہوئے ، میرے ماں باپ آپ پرقربان ! میں نے آپ سے پہلے اور آپکے بعدآپ سے بہتر کوئی معلم ( سکھانے والا ) نہیں دیکھا ! اللہ کی قسم ! نہ تو آپ نے مجھے ڈانٹا ، نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا ۔ آپ نے فرمایا : یہ نماز ہے اس میں کسی قسم کی گفتگو روا نہیں ہے ‘ یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے ۔(صحیح مسلم:537) 
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقتدی جس طرح تسبیح اور تکبیر کہے گا اسی طرح قرآن (سورہ فاتحہ) بھی پڑھے گا۔ کیونکہ یہ حدیث خاص طور پر مقتدی کے بارے میں ہے ۔ امام الفقہاء والمحدثین امام بخاری وغیرہ نے بھی اس حدیث سے قراءت خلف الامام کے مسئلے پر استدلال کیا ہے۔

مولانا عبد الحئ حنفی لکھنوی فرماتے ہیں: 

کسی صحیح مرفوع حدیث میں فاتحہ خلف الامام سے منع نہیں کیا گیا ا ر جو کچھ مرفوع روایتیں اس سلسلے میں پیش کی جاتی ہیں یا تو وہ بے اصل ہیں یا وہ صحیح نہیں ہیں۔ التعلیق الممجد : ص : 99

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...