فاتحہ خلف الامام اور صحابہ کرام
1) امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ
امام حاکم فرماتے ہیں:
اما حديث عمر فحدثنا ابو العباس محمد بن يعقوب:ثنا احمد بن عبدالجبار:حفص بن غياث و اخبرنا ابو بكر بن اسحاق:انبأ ابراهيم بن أبي طالب:ثنا ابو كريب:ثنا حفص عن ابي اسحاق الشيباني عن جواب التيمي (و) ابراهيم بن محمد بن المنتشر عن الحارث بن سويد عن يزيد بن شريك انه سأل عمر عن القراءة خلف الامام فقال: اقرأ بفاتحة الكتاب، قلت وان كنت انت؟ فقال:وان كنت انا، قلت وان جهرت؟ قال و ان جهرت"
یزید بن شریک (تابعی) سے روایت ہےکہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے قراءت خلف الامام کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کیا سورہ فاتحہ پڑھ۔ تو میں نے کہا اگر آپ ہوں تو؟ فرمایا:اگر میں ہوں تو بھی پڑھ۔ میں نے پوچھا کہ اگر آپ قراءت بالجہر کر رہے ہوں؟ تو فرمایا: اگر میں قراءت بالجہر کررہا ہوں (تو بھی پڑھ)
(المستدرک علی الصحیحین:ی873)
یہ حدیث مستدرک للحاکم کے علاوہ جزءِ القراءت للبخاری ، التاریخ الکبیر للبخاری، مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن دارقطنى وغیرہ میں بھی موجود ہے۔
امامِ دارقطنی فرماتے ہیں: هذا اسناده صحيح. اس کی سند صحیح ہے۔
نیز فرمایا:و رواته كلهم ثقات. اس کے سارے راوی ثقہ ہیں۔
امام حاکم اور امامامام ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔
واضح رہے اس کی سند میں حفص بن غیاث راوی ہے۔ جو کتب ستہ کاراوی ہےجو جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ ہے اور مدلس ہے۔ لیکن ہشیم وغیرہ نے اس کی متابعت کر رکھی ہے۔
2) ابو ہریرەؓ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ» ثَلَاثًا غَيْرُ تَمَامٍ. فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ؟ فَقَالَ: «اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ»
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القریٰ(سورۃ الفاتحہ) کی قراءت نہ کی تو ناقص ہے ۔‘‘ تین مرتبہ فرمایا ، یعنی پوری ہی نہیں ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : اس کو اپنے دل میں پڑھ لو۔
(صحیح مسلم:395)
امام بخاری فرماتے ہیں:
و حدثنيه محمد بن عبيد الله قال:حدثنا ابن أبي حازم عن العلاء عن ابيه عن ابي هريرة قال:اذا قرأ الامام بأم القرآن فاقرأ بها واسبقه فانه اذا قال ولا الضآلين قالت الملائكة آمين، من وافق ذالك قمن ان يستجاب لهم.
ابو ہریرەؓ نے فرمایا: جب امام سورہ فاتحہ پڑھے تو تم بھی پڑھو اور اسے امام سے پہلے ختم کرلوکرلو، پس بے شک جب وہ ولاالضالین کہتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں جس کی آمین اس کے موافق ہو گئی تو وہ اس کے لائق ہے کہ اس کو قبول کر لیا جائے۔
(جزء القراءت للامام بخارى:283)
اس حدیث کے تمام راوی صحیح بخاری اور مسلم کے راوی ہیں۔
مشہور حنفی محقق محمد بن حسن نیموی لکھتے ہیں:و اسناده حسن.
(آثار السنن:358)
اور یہ اثر اس بات کی دلیل ہے کہ ابو ہریرەؓ جہری نمازوں میں بھی مقتدی کو سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔
3) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ
حدثنا وكيع عن ابن عون عن رجاء بن حيوة عن محمود بن ربيع قال:صليت صلوة و الى جنبى عبادة بن الصامت قال:فقرأ بفاتحة الكتاب قال: فقلت له يا ابا الوليد الم اسمعك تقرأ بفاتحة الكتاب؟ قال اجل انه لا صلوة الا بها.
(مصنف ابن ابي شيبه:3770)
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک نماز پڑھی اور میرے بازو میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی پڑھ رہے تھے تو انہوں نے سورۃ الفاتحہ پڑھی تو میں نے کہا اے ابو الولیدالولید! کیا میں نے آپ کو سورۃ الفاتحہ پڑھتے ہوئے نہیں سنا؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں! سورۃ الفاتحہ کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔
یہ حدیث مصنف ابن ابی شیبہ کے علاوہ کتاب االقراءت للبیہقی اور سنن الکبریٰ للبیہقی میں بھی موجود موجود ہے۔ السنن الکبری للبیہقی میں يقرأ خلف الامام کی بھی صراحت ہے۔
یعنی امام کے پیچھے پڑھ رہے تھے۔
سرفراز خان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں:"بہرحال یہ بالکل بات ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کے قائل تھے۔ اور ان کی یہی تحقیق اور مسلک و مذہب تھا۔ (احسن الکلام)
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جہری نمازوں میں بھی سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْمَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ نَافِعٌ: أَبْطَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى أَبُو نُعَيْمٍ بِالنَّاسِ، وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ لِعُبَادَةَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ، قَالَ: أَجَلْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، قَالَ: فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، وَقَالَ: هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ ؟ فَقَالَ بَعْضُنَا: إِنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَا، وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنُ، فَلَا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ .
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فجر میں تاخیر کی تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہہ کر خود لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کر دی، اتنے میں عبادہ آئے ان کے ساتھ میں بھی تھا، ہم لوگوں نے بھی ابونعیم کے پیچھے صف باندھ لی، ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، عبادہ سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے، جب ابونعیم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے آپ کو ( نماز میں ) سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، حالانکہ ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہاں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جہری نماز پڑھائی جس میں آپ زور سے قرآت کر رہے تھے، آپ کو قرآت میں التباس ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: جب میں بلند آواز سے قرآت کرتا ہوں تو کیا تم لوگ بھی قرآت کرتے ہو؟ ، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہاں، ہم ایسا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ایسا مت کرنا، جبھی میں کہتا تھا کہ کیا بات ہے کہ قرآن مجھ سے کوئی چھینے لیتا ہے تو جب میں بلند آواز سے قرآت کروں تو تم سوائے سورۃ فاتحہ کے قرآن میں سے کچھ نہ پڑھو ۔
(سنن ابو داؤد:825صحیح)
4) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ .
ہم ظہر و عصر میں امام کے پیچھے پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھتے تھے، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:845)
یہ روایت السنن الکبری للبیہقی اور کتاب القراءت للبیہقی میں بھی موجود ہے۔
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
5) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
امام ابوبكر بن ابي شيبه نے کہا:
حدثنا وكيع عن اسماعيل بن ابي خالد عن العيزار بن حريث العبدي عن ابن عباس قال: اقرأ خلف الامام بفاتحة الكتاب. (مصنف ابن أبي شيبة:3773)
یہ روایت شرح معانی الآثار للطحاوی، السنن الکبری للبیہقی اور کتاب القراءت للبیہقی میں بھی موجود ہے۔
اس حدیث کے تمام راوی صحیح مسلم کے راوی ہیں۔
امام بیہقی اس حدیث کی سند کے بارے میں فرماتے ہیں۔
هذا اسناد صحيح لا غبار عليه.
یہ سند صحیح ہے، اس پر کوئی غبار نہیں ہے۔ (کتاب القراءت للبیہقی)
6)اسی طرح خادم رسول، مشہور جلیل القدر صحابی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی صحیح سند کے ساتھ یہ ثابت ہے کہ وہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
ثابت البنانی کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہمیں امام کے پیچھے قرآت کا حکم دیتے تھےاور میں انس رضی اللہ کے ساتھ کھڑا ہوتا آپ سورہ فاتحہ اور مفصل میں سے کوئی سورہ پڑھا کرتے تھے اور اپنی قرات ہمیں سناتے تھے تاکہ ہم ان سے یہ طریقہ لے لیں۔
(کتاب القراءت للبیہقی:231)
7) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ
امام بخاری فرماتے ہیں:
حدثنا مالك بن اسماعيل قال حدثنا زياد البكائي عن ابي الفروة عن ابي المغيرة عن ابي بن كعب رضي الله عنه انه كان يقرأ خلف الامام.
ابو المغیرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابی بن کعب امام کے پیچھے قرات کرتے تھے۔
(جزء القراءت للبخاري:52، جزء القراءت للبيهقي:154)
اس سند کے سارے راوی ثقہ ہیں۔
8) عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه
امام طحاوي فرماتے ہیں:
حدثنا ابو بكرة قال:حدثنا ابوداؤد قال حدثنا شعبة عن حصين قال سمعت مجاهدا يقوليقول:صليت مع عبدالله بن عمرو الظهر و العصر فكان يقرأ خلف الامام.
مجاہد تابعی فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمرو کے ساتھ ظہر اور عصر کی نماز پڑھی تو وہ امام کے پیچھے پڑھا کرتے تھے۔
(شرح معانی الآثار للطحاوی)
یہ حدیث مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، جزءِ القراءت للبخاری و البیہقی اور السنن الکبری للبیہقی میں بھی موجود ہے۔
امام بیہقی نے اس کی سند کے بارے میں کہا۔ هذا اسناده صحيح. اس کی سند صحیح ہے۔
النیموی حنفی کہا۔ اسنادہ صحیح۔ اس کی سند صحیح ہے۔
(آثار السننالسنن:358، قالہ فی التعلیق الحسن)