فاتحہ خلف الامام اور تابعین عظام۔
1) سعید بن جبیر رحمہ اللہ
فرماتے ہیں:
لا بد ان تقرأ بام القرآن مع الامام.
یہ ضرور ہے کہ تو امام کے ساتھ سورہ فاتحہ پڑھے۔
مصنف عبدالرزاق:2789، کتاب القراءت للبیہقی:237۔
مصنف عبد الرزاق میں ابن جریج کے سماع کی صراحت ہے۔
2) حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:
ترجمہ: امام کے پیچھے، ہر نماز میں سورہ فاتحہ اپنے دل میں(آہستہ ) پڑھ۔
(کتاب القراءت للبیہقی:242 وسندہ صحیح، مصنف ابن ابی شیبہ:3762)
3) امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا:
ظہر و عصر میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھ اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھ۔
کتاب القراءت للبیہقی:243،
مصنف ابن ابی شیبہ:3764
4) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی قراءت کرتے تھے۔
مصنف ابن ابی شیبہ:3750 و سندہ صحیح
5) ابو الملیح اسامہ بن عمیر امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔
مصنف ابن ابی شیبہ:3768 وسندہ صحیح۔
اس کے علاوہ اور بھی تابعین امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔
6) امام اوزاعی فرمایا کرتے تھے:
امام کو چاہیے کہ شروع نماز میں تکبیر اولی کے بعد سکتہ کرےاور سورہ فاتحہ کی قراءت کے بعد سکتہ تاکہ مقتدی سورہ فاتحہ پڑھ لے۔ اگر امام سکتہ نہ کرے تو مقتدی کو چاہیے کہ کہ امام کے ساتھ ساتھ ہی سورہ فاتحہ پڑھ اور جلدی پڑھ لے پھر غور سے امام کی قرأت سنے۔(کتاب القراءت للبیہقی:247 وسندہ صحیح)
No comments:
Post a Comment