بسم الله الرحمن الرحيم
ترک صلوۃ کی ایک جھوٹی تبلیغی وعید!!!!
اقبال قاسمی سلفی
حنفی علماء ،خطباء حضرات بالخصوص حنفی تبلیغی حضرات فوت شدہ نمازوں کے متعلق ایک روایت بیان کرتے ہیں۔
روي أنه عليه الصلاة والسلام قال: «من ترك الصلاة حتى مضى وقتها ثم قضى: عذب في النار حقبا». والحقب: ثمانون سنة، والسنة: ثلاثمائة وستون يوما، كل يوم كان
مقداره ألف سنة.
ترجمہ:
حضور ﷺ سے نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص نماز کو قضا کردے، گو وہ بعد میں پڑھ بھی لے، پھر بھی اپنے وقت پر نہ پڑھنے کی وجہ سے ایک حُقب جہنم میں جلے گا۔ اور حقب کی مقدار اسی برس کی ہوتی ہے، اور ایک برس تین سو ساٹھ دن کا، اور قیامت کا ایک دن ایک ہزار برس کے برابر ہوگا، (اس حساب سے ایک حقب کی مقدار دو کروڑ اٹھاسی لاکھ برس ہوئی: 28800000)۔
اس روایت کو مولانا زکریا حنفی دیوبندی صاحب نے اپنی کتاب "فضائل اعمال" میں ذکر کیا ہے۔
لیکن یہ بالکل بے سند اور من گھڑت روایت ہے۔ صحیح تو کیا اس کی کوئی ضعیف سند بھی حدیث کی کتابوں میں موجود نہیں ہے۔ایسی روایتوں کو حدیث بتاکر ذکر کرنا اور رسول ﷺ کی طرف منسوب کرنا انتہائی درجے کا جرم اور خود کو جہنم کا مستحق بنانا ہے۔ کیونکہ یہ رسول ﷺ پر بہتان ہے ۔
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں :
سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ۔
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
(صحیح بخاری:109)
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
قران و صحیح احادیث رسول ﷺ میں ترک نماز کی یا نماز میں غفلت و سستی برتنے کی بے شمار وعیدیں وارد ہوئی ہیں، انہیں بیان کرنے پر اکتفا نہ کرتے ہوئے حدیث رسول ﷺ کے نام پر جھوٹی روایتیں بیان کرنا یقیناً اپنی عاقبت خراب کرنے کا باعث ہے۔
جناب صوفی زکریا کاندھلوی حنفی دیوبندی صاحب نے اس روایت کو زیر تحریر لانے کے بعد حوالے میں جو عربی عبارت تحریر فرمائی ہے وہ درج ذیل ہے۔
لکھتے ہیں:
"كذا في «مجالس الأبرار»، لم أجده فيما عندي من كتب الحديث، الا أن «مجالس الأبرار» مدحه شيخ مشایخنا الشاه عبد العزيز الدهلوي.
ترجمہ: یہ روایت ’’مجالس الابرار‘‘ سے لی گئی ہے، لیکن میرے پاس جو حدیث کی کتب موجود ہیں اُن میں مجھے یہ حدیث نہ مل سکی، البتہ اتنا ہے کہ ہمارے شیخ المشایخ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ’’مجالس الابرار‘‘ نامی کتاب کی تعریف فرمائی ہے۔"
زکریا صاحب کی اس عبارت سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ انہیں بھی تلاش بسیار کے باوجود اس روایت کی سند نہیں مل سکی، بلکہ جس "مجالس الابرار" نامی کتاب سے یہ روایت لی گئی ہے،وہاں بھی اس کی کوئی سند موجود نہیں ہے۔اب ایسی بے سند روایت کی تعریف کے پل شاہ عبد العزیز دہلوی تو کیا امام بخاری بھی باندھ دیتے تو وہ روایت موضوع ہی رہتی، صحیح کے درجے کو کبھی نہیں پہنچ پاتی۔
واضح رہے کہ شاہ عبد العزیز دہلوی صاحب نے اس بے سند روایت کی مدح خوانی نہیں فرمائی ہے بلکہ اس مجالس الابرار نامی کتاب کی تعریف کی ہے جس میں یہ روایت درج ہے۔
کسی کتاب کا مجموعی طور سے مدح کرنا، اس کتاب میں درج ہر ہر روایت کی صحت کی دلیل کیسے بن گیا، یہ تو زکریا صاحب جیسے صوفی حضرات کو ہی کشف ہوسکتا ہے، محدثین کے نزدیک ایسے کشف و ظنون کی نہ کبھی کوئی گنجائش رہی اور نہ کبھی رہے گی۔
ورنہ سنن اربعہ، مسند احمد،، مستدرک حاکم اور مصنف ابن ابی شیبہ جیسی حدیث کی کتابوں میں درج کسی بھی حدیث پر ضعیف یا موضوع ہونے کا حکم نہیں لگایا جاتا کیونکہ یقیناً محدثین کے نزدیک حدیث کی یہ کتابیں "مجالس الابرار " کے مقابلے کہیں زیادہ محبوب و محمود ہیں۔
دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے فتوے میں اس روایت کی سند سے لا علمی کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ اس بابت جب دارالعلوم دیوبند سے سوال کیا گیا :
"میں فضائل اعمال سے درج ذیل حدیث کے رواة اور اصل سند کے بارے میں جاننا چاہتاہوں۔ ” رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی کی نماز قضا ہوجائے تو اس کو نجات مل سکتی ہے مگر اس کو ایک حقب جہنم میں جلنا پڑے گا وقت پر نماز پڑھنے کی وجہ سے“ ایک حقب اسیً سال ہوتاہے اور ہر سال 360 دن کا ہوتاہے اور ایک دن 1000 سال کے برابر، تو یہ کل 28,800,000 سال ہوگئے ۔ براہ کرم، حدیث کے حوالہ کے لیے مجالس الابرار کا حوالہ نہ دیں۔"
سوال نمبر: 58845
جواب :
"بسم الله الرحمن الرحيم
کافی تلاش کے باوجود اس حدیث کی سند نہیں مل سکی۔ خود حضرت شیخ ا لحدیث صاحب رحمہ اللہ نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد تحریر فرمایا ہے، لم أجدہ فیما عندي من کتب الحدیث میرے پاس حدیث حدیث کی موجودہ کتابوں میں مجھے یہ حدیث نہیں ملی۔"
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر: 58845
تقلیدی علماء اور فضائل اعمال والے تبلیغی حضرات اگر اس عبارت کے ترجمے پر ہی غور کرلیتے تو شاید ان کے سامنے اس روایت کا بے سند اور باطل ہونا واضح ہوجاتا اور ایسی بے سند روایتوں کو تکیہ کلام نہ بناتے۔ لیکن یہ فہم شاید ان حضرات کے مقدر میں نہ تھا اسی لئے تو زکریا صاحب نے اس عبارت کا ترجمہ ہی غبن کردیا۔
اور شیخ صاحب ایسا کیوں نہ کرتے، جھوٹی حدیث سناکر نیکی کی دعوت دینے کا تمغہ امتیاز جو حاصل کرنا تھا حضرت جی کو۔ حضرت جی نے تو اس کتاب میں متعدد مقامات پر اس شوق کا مظاہرہ فرمایا ہے۔ مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ابتدأ میں حضور اقدسؐ رات کو جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے کو رسی سے باندھ لیا کرتے کہ نیند کے غلبہ سے گر نہ جائیں۔ اس پر طٰہٰ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی نازل ہوئی‘‘ (فضائل نماز ص 82 تیسرا باب حدیث 8، تبلیغی نصاب ص 398)
جبکہ یہ روایت موضوع ہے۔
کیونکہ اس روایت کا راوی عبد الوہاب بن مجاہد ہے جسے محدثین کرآم نے کذاب اور وضاع قرار دیا ہے۔
نیز یہ اس صحیح روایت کے بھی خلاف ہے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک رسی پر پڑی جو دو ستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی۔ دریافت فرمایا کہ یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے عرض کی کہ یہ زینب رضی اللہ عنہا نے باندھی ہے جب وہ ( نماز میں کھڑی کھڑی ) تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹکی رہتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں یہ رسی نہیں ہونی چاہیے اسے کھول ڈالو، تم میں ہر شخص کو چاہیے جب تک دل لگے نماز پڑھے، تھک جائے تو بیٹھ جائے۔
(صحیح بخاری:1150)
اللہ کے رسول ﷺ تو ایسی عبادت سے منع فرمارہے ہیں اور زکریا صاحب مذکورہ موضوع روایت کے ذریعے سے یہ کہتے ہیں کہ ’’نبیﷺ اپنے کو رسی سے باندھ لیا کرتے کہ نیند کے غلبہ سے گر نہ جائیں‘‘!!
تعجب تو یہ ہے کہ نبی ﷺ پر ایک طرف یہ بہتان باندھا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ نیند سے گرنے کا اندیشہ ہوتا تھا، دوسری طرف انکے بزرگوں کو پندرہ پندرہ برس مسلسل لیٹنے کی نوبت نہیں آئی ۔کئی کئی دن ایسے گزر جاتے کہ کوئی چیز چکھنے کی نوبت نہ آتی ۔
(فضائل اعمال ‘ فضائل نماز باب سوم ص360)
ان کے ایک بزرگ صاحب تو روزانہ ایک ہزار رکعت کھڑے ہو کر پڑھتے جب پاﺅں رہ جاتے یعنی کھڑے ہونے سے عاجز ہو جاتے تو ایک ہزار رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔
(فضائل صدقات حصہ دوم ص588)
ایک(نامعلوم) بزرگ کی خدمت میں ایک شخص ملنے آیا ۔تو وہ ظہر کی نماز میں مشغول تھے ۔وہ انتظار میں بیٹھ گیا جب نماز سے فارغ ہو چکے تو نفلوں میں مشغول ہو گئے اور عصر تک نفلیں پڑھتے رہے ۔یہ انتظار میں بیٹھا رہا نفلوں سے فارغ ہوئے تو عصر کی نماز شروع کر دی اور اس سے فارغ ہو کر دعا میں مشغول ہو گئے ۔پھر مغرب کی نماز پڑھی اور نفلیں شروع کر دیں۔عشاءکی نماز تک اس میں مشغول رہے عشاءکی نماز پڑھ کر نفلوں کی نیت باندھ لی اور صبح تک اس میں مشغول رہے ۔پھر صبح کی نماز پڑھی اور ذکر شروع کر دیا اور درود و ظائف پڑھتے رہے ۔اسی میں مصلے پر بیٹھے بیٹھے آنکھ جھپک گئی فوراً آنکھوں کو ملتے ہوئے اٹھے۔استغفار و توبہ کرنے لگے اور یہ دعا پڑھی:اللہ ہی سے پناہ مانگتا ہو ںایسی آنکھ کی جو نیند سے بھرتی نہیں -
( فضائل اعمال فضائل نماز باب سوم ص 386)
یعنی 17گھنٹے نان اسٹاپ عبادت!!
جبکہ نبی ﷺ کی تعلیمات اس کے برعکس ہے۔
دو چند صحیح حدیثیں ملاحظہ فرمائیں!
تین حضرات ( علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں ( رات میں ) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ فمن رغب عن سنتي فليس مني میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
(صحیح بخاری:5063)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی اور ابودرداء رضی اللہ عنہما کو بھائی بھائی بنا دیا۔ ایک مرتبہ سلمان، ابودرداء رضی اللہ عنہما کی ملاقات کے لیے تشریف لائے اور ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بڑی خستہ حالت میں دیکھا اور پوچھا کیا حال ہے؟ وہ بولیں تمہارے بھائی ابودرداء کو دنیا سے کوئی سروکار نہیں۔ پھر ابودرداء تشریف لائے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کھائیے، میں روزے سے ہوں۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بولے کہ میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا۔ جب تک آپ بھی نہ کھائیں۔ چنانچہ ابودرداء نے بھی کھایا رات ہوئی تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کی تیاری کرنے لگے۔ سلمان نے کہا کہ سو جایئے، پھر جب آخر رات ہوئی تو ابودرداء نے کہا اب اٹھئیے، بیان کیا کہ پھر دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بلاشبہ تمہارے رب کا تم پر حق ہے اور تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، پس سارے حق داروں کے حقوق ادا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا ہے۔
(صحیح بخاری:6139)
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ عبادت میں بہت محنت مشقت برداشت کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کرتے ہوئے فرمایا واللہ میں اللہ کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ اپنے اوپر اتنا عمل لازم کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا لیکن تم اکتا جاؤ گے۔
مسند احمد:24912، واسنادہ صحیح۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ان کے پاس ایک عورت تھی، آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ کہا: فلانی ہے، یہ سوتی نہیں، اور وہ اس کی نماز کا تذکرہ کرنے لگیں، آپ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تم میں سکت اور طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا، لیکن تم (عمل کرتے کرتے) تھک جاؤ گے اسے تو وہ دینی عمل سب سے زیادہ پسند ہے جسے آدمی پابندی سے کرے“۔
(سنن نسائی:5038)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!