Sunday, March 26, 2023

‎ہم رمضان کا استقبال کیسے کریں! ‏

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
       ہم رمضان کا استقبال کیسے کریں! 

محمد اقبال قاسمی سلفی


1)رمضان جیسے بابرکت مہینے کو پانا ایک مسلمان کے لیے یقیناً باعث غنیمت ہے، کتنے لوگ جو گذشتہ  رمضان میں ہمارے ساتھ تھے، تراویح،تہجد میں ہمارے ساتھ شریک ہوکر مسجدوں کو آباد کرنے والے تھے اس سال نہیں ہیں،وہ اس دار فانی سے رخصت ہو گئے، ہم ان کے لئے دعا گو ہیں:
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰)
ترجمہ: 
 اے ہمارے رب! ہمیں اورہمارے ان بھائیوں کوبخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، بہت رحمت والا ہے
(سورہ حشر:10) 
 
لیکن اللہ وحدہ لاشریک نے ہمیں اب تک زندگی کی مہلت دے رکھی ہے تاکہ ہم اپنی نیکیوں میں اضافہ کریں۔ 
حضرت عبداللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ جو کہ صحابیٔ رسول  ﷺ  ہیں ، نے حضرت عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ  ﷺ  نے دو آدمیوں کو آپس میں بھائی بنا دیا ۔ ان میں سے ایک شہید ہو گیا اور دوسرا اس کے کچھ بعد فوت ہوا ۔ ہم نے اس کا جنازہ پڑھا ۔ نبی  ﷺ  نے فرمایا :’’ تم نے ( جنازے میں ) اس کے لیے کیا دعا کی ؟ ‘‘ صحابہ نے عرض کیا : ہم نے اس کے لیے یہ دعا کی : [اللھم ! اغفرلہ ……… الحقہ بصاحبہ] ’’ اے اللہ ! اسے معاف فرما ۔ اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی ( بھائی ) کے ساتھ ملا دے ۔‘‘ نبی  ﷺ  نے فرمایا :’’ تو اس کے بعد اس کی نمازیں اور دوسرے نیک اعمال کدھر گئے ؟  اللہ کی قسم ! ان کے درمیان تو زمین و آسمان کے مابین جیسا فاصلہ ہے ۔
(سنن نسائی:1987) 

2) رمضان المبارک  نیکیوں کے بہار کا موسم ہے اس لئے رمضان سے پہلے  ہم اپنےاندر  نیکیوں کی تڑپ اور طلب میں مزید اضافہ کرلیں۔ 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیطان اور سرکش جن جکڑ دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، پکارنے والا پکارتا ہے: خیر کے طلب گار! آگے بڑھ، اور شر کے طلب گار! رک جا  اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں  ( تو ہو سکتا ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو )  اور ایسا  ( رمضان کی )  ہر رات کو ہوتا ہے“۔ 
(سنن ترمذی:682) 

نبی کریم ﷺ فرما رہے ہیں اے باغی الشر اقصر۔ 
اے شر کے متلاشی رک جا۔ 
یعنی اب تو رک جا، اب تو گناہوں سے باز آجا، گناہ کرتے ہوئےپورے سال گذر گۓ،رمضان آگیا،اب تو باز آجا، اب تو پلٹ، اپنے رب کریم کو یاد کر، آنسو بہا، وہ بڑا کریم اور غفور الرحیم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

3) رمضان سے ایک دو دن پہلے یا یوم الشک میں روزہ نہ رکھیں۔ 
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ:لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ۔ 
  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے  ( شعبان کی آخری تاریخوں میں )  ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔ 
(صحیح بخاری:1914) 

4) رمضان سے پہلے اپنی نیتوں کو خالص کر لیں۔ 

عَنْ شَدَّادِبْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «من صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ»
حضرت شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص دکھلاوے کی خاطر نماز پڑھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، جو شخص دکھلاوے کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، اور جو شخص دکھلاوے کی خاطر صدقہ کرتا ہے تو اس نے شرک کیا ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔(مشکوۃ:5331) 

5) استقبال رمضان میں رمضان کی آمد سے پہلے اپنے  دلوں کو اپنے مسلم بھائیوں کے لئے صاف کر لیں کہیں ایسا نہ ہوکہ رمضان کے روزے، تراویح، تہجد تلاوتیں، سب کے سب یہیں رہ جائیں اور ہماری ساری عبادتیں ضائع چلی جائیں۔ 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:    تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا ، اس بندے کے سوا جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو ، چنانچہ کہا جاتا ہے : ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ، ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔ ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔‘‘ ( اور صلح کے بعد ان کی بھی بخشش کر دی جائے ۔(صحیح مسلم:2565) 

6) رمضان آنے سے پہلے روزے کے مقصد کو جانیں
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے۔ 
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)
ترجمہ:
اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقوی کی صفت پیدا ہو۔ 
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ روزہ کا مقصد محض بھوک پیاس برداشت کرنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ روزہ کا مقصد تو یہ ہےکہ ہم پرہیزگار بنیں، ہر حال میں اللہ سے ڈرنے والا اور اس کے حکموں پر چلنے والا بنیں۔ 

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْؕ-وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ(۳۷)
ترجمہ: 
اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے ۔ 
(سورہ حج:37) 

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ
تم فرماؤ، بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
(سورہ الانعام:162)

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :    مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ    . 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا  ( روزے رکھ کر بھی )  نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری:1903)
 
یعنی اللہ ایسے روزوں سے بے نیاز ہے، اس کی تو شان ہی بے نیازی کی ہے۔ 
الله الصمد اس کی شان بے نیاز ہے۔ 
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِۚ-وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ(۱۵)
ترجمہ: 
اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج اور اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا.(سوره فاطر:15) 

7) کتاب اللہ کو اس ماہ کے ساتھ خواص مناسبت ہے۔ 
 
8) استقبال رمضان میں شعبان  کے اخیر عشرہ سے ہی تکبیر اولی کے ساتھ نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں اور نبوی فضیلت کے مستحق بنیں۔  عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏    مَنْ صَلَّى لِلَّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَتَانِ، ‏‏‏‏‏‏بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی تو اس کے لیے دو قسم کی برات لکھی جائے گی: ایک آگ سے برات، دوسری نفاق سے برات“۔
(سنن ترمذی:241)

اللهم اردنا الحق حقا  وارزقنا اتباعه

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...