Monday, November 27, 2023

موضوع: مصنوعی کربلا ، امام باڑہ اور فتویٰ احمد رضاخان

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مولانا اقبال قاسمي سلفي

موضوع: مصنوعی کربلا ، امام باڑہ اور فتویٰ رضاخانی! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

سب سے پہلے  مصنوعی کربلا کے متعلق رضاکھانیوں کے امام، مولانا احمد رضا خان  کا فتوی پیش کیے دیتا ہوں۔
مولوی احمد رضا خان اس مصنوعی کربلا کے متعلق فتوی دیتے ہوئے لکھتے ہیں: 

مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے۔ 

(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

قرآن و حدیث کے واضح شاہراہ کو چھوڑ کر صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے  رضاخانیوں نے شرک و بدعات کے ذریعے اسلام کو مضحکہ خیز بنادیا ہے۔

ان ہی میں سے فرضی اور مصنوعی کربلا بھی ہے، جو آج ہند وپاک میں بکثرت پاۓ جاتے ہیں۔ ماہ محرم میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
 اس فرضی اور مصنوعی امام بارہ کو روضہ حسین کا مقام و مرتبہ دیا جاتاہے ۔
جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اصل قبر کے متعلق کسی کو علم نہیں ہے، اور کسی بھی مستند ماخذ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر اور جسم کے مدفن کے بارے میں مذکور نہیں ہے ۔ اسی لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مدفن کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ کہاں ہے۔ 

علامہ بن باز رحمہ اللہ سے جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ کہاں ہے تو انہوں نے جواب دیا: 

 بالواقع قد اختلف الناس في ذلك، فقيل: إنه دفن في الشام، وقيل: في العراق، والله أعلم بالواقع.
أما رأسه فاختلف فيه؛ فقيل: في الشام، وقيل في العراق، وقيل: في مصر، والصواب أن الذي في مصر ليس قبرًا له، بل هو غلط وليس به رأس الحسين، وقد ألف في ذلك بعض أهل العلم، وبينوا أنه لا أصل لوجود رأسه في مصر ولا وجه لذلك، وإنما الأغلب أنه في الشام؛ لأنه نقل إلى يزيد بن معاوية وهو في الشام، فلا وجه للقول بأنه نقل إلى مصر، فهو إما حفظ في الشام في مخازن الشام، وإما أعيد إلى جسده في العراق، وبكل حال فليس للناس حاجة في أن يعرفوا أين دفن؟ وأين كان؟
وإنما المشروع الدعاء له بالمغفرة والرحمة، غفر الله له ورضي عنه، فقد قتل مظلومًا فيدعى له بالمغفرة والرحمة، ويرجى له خير كثير، وهو وأخوه الحسن سيدًا شباب أهل الجنة، كما قال ذلك النبی صلى الله عليه وسلم. 

(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز (6/ 461).

(در اصل اس بارے میں اختلاف ہے۔ کہاجاتا ہے کہ وہ شام دفن کیے گئے اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ عراق میں دفن کیے گئے ہیں والله اعلم بالواقع. 

سر  حسین کے متعلق بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شام عراق اور بعض نے مصر کو بھی سر حسین کا مدفن قرار دیا ہے۔ اور درست یہ ہے کہ مصر میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر نہی ہے جس کے متعلق باور کرایا جاتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مصر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر کے پاۓ جانے کی کوئی اصل نہیں ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ وہ شام میں ہے۔ اس لیے کہ اسے شام میں یزید بن معاویہ کی طرف منتقل کر دیا گیا تھا۔ پس یو تو وہ شام کے مخازن میں ہی محفوظ کردیا گیا یا اسے عراق میں جسد حسین کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ بہر صورت لوگوں کو یہ جاننے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ انہیں کہاں دفن کیا گیا؟ اب ان کے لیے دعاء مغفرت اور رحمت کی ضرورت ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم فرماۓ! کیونکہ انہیں ظالمانہ طور پر قتل کیا گیا تو ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جاۓ اور ان کے لیے ڈھیر ساری بھلائیوں کی امید رکھی جائے۔ 
یقیناً حضرت حسین اور انکے بھائی حسن جنتی جوانوں کے سردار ہیں جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے). 
(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز (6/ 461)

اور نہ ہی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد محترم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مدفن کا کسی کو یقینی علم ہے۔ 

اسی لیے مدفن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق سنیوں اور شیعوں کی مختلف آراء ہیں۔ 
اہلسنت کے نزدیک قصرالامارہ، کوفہ ؛ اہل تشیع کے یہاں روضہ حیدریہ،نجف، عراق جبکہ ممکنہ طور پر مسجد ازرق ، افغانستان کو مدفن علی تصور کیا جاتا ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار کہاں ہے۔ حوالے کے ساتھ جواب درکار ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا : 

"تحقیق نہیں۔"

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 41513

اس سے معلوم ہوا کہ نواسہ رسول سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کے متعلق کسی کو بھی یقینی علم نہیں ہے اور نہ ہی ان کے والد محترم حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر کے متعلق یقین کے ساتھ یہ کہا جاسکتا کہ ان کا مدفن کہاں ہے ۔

قابل غور یہ ہے کہ آج جبکہ ان دونوں حضرات کی قبر محفوظ نہیں ہے تب لوگوں نے غلو کرتے ہوئے مصنوعی قبریں بنا کر شرک و بدعت کی حدیں پار رکھی ہیں جس قبر پرستی سے نبی کریم ﷺ نے سختی کے ساتھ منع فرمایا تھا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ ان لوگوں ( یہود و نصاری ) پر لعنت فرمائے جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنایا ۔‘‘ 
(سنن نسائی : 2048) 


 عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ : لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : لَوْلَا ذَلِكَ لَأُبْرِزَ قَبْرُهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا .

 نبی کریم ﷺ نے اپنے مرض الموت میں فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ کی قبر بھی کھلی رکھی جاتی لیکن آپ کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں آپ کی قبر کو بھی سجدہ نہ کیا جانے لگے ۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4441) 

 حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی ﷺ کو آپ کی وفات سے پانچ دن پہلے یہ کہتے ہوئے سنا :’’ میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے ، جس طرح اس نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا تھا ، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا ، خبردار ! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا کرتے تھے ، خبردار ! تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بنانا ، میں تم کو اس سے روکتا ہوں ۔‘‘ 

اب اخیر میں ایک بار پھر  مصنوعی کربلا کے متعلق رضاکھانیوں کے امام مولوی  احمد رضا کھان صاحب کا  فتوی ۔لاحظہ فرمالیں۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی 
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن ! 

مولوی احمد رضا کھان  اس مصنوعی کربلا کے متعلق فتوی دیتے ہوئے لکھتے ہیں: 

مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے۔ 

(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

Sunday, November 26, 2023

موضوع: میدان کربلا میں حضرت قاسم بن حسن کی شادی اور رسم مہندی! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: میدان کربلا میں حضرت قاسم بن حسن کی شادی اور رسم مہندی! 

مصادر! مختلف مراجع و مصادر! 

صوفی سنتوں کے من گھرٹ قصے کہانیوں پر عمل پیرا رضا کھانی مولوی و مفتیان محرم الحرام میں واقعہ کربلا پر آنسوؤں کی داد لینے کے لیے من گھڑت قصوں کا انبار لگا دیتے ہیں : ان ہی میں سے حضرت قاسم کی شادی اور مہندی کا بھی واقعہ ہے۔ 
چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت قاسم بن حسن نے عاشورے کے روز حضرت امام حسین ؑ سے میدان جنگ میں جانے کی اجازت طلب کی تو امام نے کم سنی کی وجہ سے آپ کو اذن جہاد نہیں دیا ۔یہ بات قاسم پر بہت گراں گزری ۔اچانک قاسم کو اپنا وہ بازو بند یاد آیا جو ان کے والد ماجد نے انکے بازو پر باندھا تھا اور انہیں وصیت کی تھی کہ جب تم پر غم پر غلبہ زیادہ ہو تو تم اسے کھولنا ۔پس قاسم نے اپنا بازو بند کھولا تو اس بازو بند میں اس کے باپ کی طرف سے لکھا تھا کہ کربلا میں اپنی جان چچا پر نچھاور کرنا۔قاسم خوشی کے عالم میں یہ وصیت نامہ لے کر اپنے چچا کے پاس گئے اور وصیت چچا کو دکھائی ۔ حضرت امام حسن کا خط پڑھ کر حضرت امام حسین نے گریہ کیا اور کہا کہ مجھے بھی ایک وصیت کی تھی کہ میں اپنی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا تم سے عقد کروں۔ لہذا آپ نے اپنے بھائیوں عباس ، عون اور اپنی بہن زینب کو شادی کی تیاری کا حکم دیا اور اس طرح دسویں محرم کے روز قاسم بن حسن کی شادی ہوئی اور اس کے بعد آپ میدان کار زار میں تشریف لے گئے۔ 
(روضة الشهداء: ملا کاشفی : 401) 

آئیے اس قصے کی تصحیح و تغلیط سے پہلے ہم رضا کھانیوں کے ہی امام احمد رضا کھان سے حقیقت واقعہ دریافت کرتے ہیں۔ 
چنانچہ جب اس بابت مولانا احمد رضا کھان سے  سوال کیا گیا کہ: حضرت قاسم کی شادی کا میدان کربلا میں ہونا جس بنا پر مہندی نکالی جاتی ہے، اہل سنت کے نزدیک ثابت ہے یا نہیں ؟
تو کھان  صاحب نے جواب دیا: 
 نہ یہ شادی ثابت ہے نہ یہ مہندی؛ سوا اختراع کے کوئی چیز نہیں ہے۔ 
(یعنی یہ بنائی ہوئی باتیں ہیں) ۔ (فتاوی رضویہ، ج24، ص502)

اسی طرح ایک اور رضاکھانی  علی نقشبندی لکھتے ہیں کہ : یہ تمام باتیں من گھڑت اور اہل بیت رضی اللہ عنہم پر بہتان عظیم ہے ۔ امام حسین کی دو صاحب زادیاں تھیں(سکینہ اور فاطمہ صغری) اور واقعۂ کربلا سے پہلے دونوں کی شادی ہو چکی تھی ۔ 
(میزان الکتب، ص246) 

یہاں تک کہ جمہور شیعہ عالموں نے بھی اس واقعے کا انکار کیا ہے۔ 
چنانچہ شیعہ زکی حیدری لکھتے ہیں: 
"اس کے علاوہ ہم شیعوں کی مستند کتابوں میں امام حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد صرف دو ہے ایک کا م سکینہ (س) اور ایک کا نام فاطمہ صغریٰ ہے فاطمہ (س) کا نکاح امام حسن (ع) کے بیٹے حسن مثنیٰ سے ہوا تھا جن سے آج تک طباطبائی سادات کا سلسلہ چل رہا ہے۔ ہمارے کراچی میں مدفن "حضرت عبداللہ شاہ غازی" جن کی مزار شیعہ و سنی عقیدتمندوں کی آماج گاہ ہے یہ بھی حسن مثنیٰ یعنی بیبی فاطمہ صغریٰ کی اولاد میں سے ہیں۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام حسین (ع) کی کوئی بیٹی ایسی نہیں تھی جس کا عقد ہونا باقی ہو کہ جناب قاسم (ع) ان سے عقد کریں۔ لھٰذا اب مہندیاں سجانے والوں کو دعوت ہے کہ امام حسین (ع) کی ایک آدہ اور بیٹیاں نکال لائیں اور وہ بھی مستند حوالوں کے ساتھ پھر اس کا عقد جناب قاسم (ع) سے اور وہ بھی کربلا میں ثابت کریں۔
آگے مزید لکھتے ہیں: اور بھائی یہ شادی اتنی "ارجنٹ" ہی کیوں ہونے لگی کہ کربلا کی تپتی ریت میں دشمن کا لشکر گھیرا ڈالے کھڑا ہو اور امام (ع) کو اپنے بھتیجے کی شادی کی ضرورت محسوس ہونے لگی؟ امام (ع) معاذاللہ محل و مقام نہیں دیکھتے کہ کدس وقت کون سا کام انجام دیا جائے؟اور بھیا معاف کیجئے گا بھلا امام حسین (ع) نے اپنی بیٹی کی شادی کرنی ہی تھی تو عاشورہ سے قبل اور جناب قاسم (ع) کے دیگر برادران سے کیوں نہ کی جو کہ شادی کے لائق تھے اور جناب قاسم (ع) سے عمر میں بڑے تھے؟ شادی کے قابل بچی کا عقد 13 یا 12 سالہ جناب قاسم سے کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ 
ایک طرف خود ہی کہتے ہو وہ 13 سال کے تھے اور پھر نابالغ کی شادی منا کر مہندیاں نکالتے ہو۔ صرف مزے لینے ہیں نا تم نے عاشورہ سے؟

اس واقعے کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بھی کافی ہے کہ سب سے پہلے اس واقعے کو ایک گھڑنتو طومار خاں ملا کاشفی متوفی 110ھ نے اپنی کتاب روضۃ الشھداء میں بے سند بیان کیا ہے۔ یعنی ایک ہزار سالوں تک اس واقعے کو نہ کسی نے بیان کیا اور نہ ہی کسی نے اپنی کتاب میں درج کیا۔ تقریبا ایک ہزار سال بعد ملا کاشفی کو اس واقعے کا کشف ہوا اور اس نے اپنی کتاب میں لکھ دیا جس کی اس نے نہ کوئی سند پیش کی نہ کسی معتبر ماخذ کا حوالہ ہی دیا ہے۔"

جبکہ صحیح احادیث میں جان نثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی جان نثاری با سند صحیح موجود ہیں: 
جنگ اُحد کے دن مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا لیکن بعد ازاں تیر اندازوں نے رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی کی تو شکست ہو گئی اور بعض لوگ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو مدینے کی جانب موجود ایک پہاڑ کی بلندی پر واقع بستیوں تک جا پہنچے تاہم وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹ آئے۔ دورانِ معرکہ حنظلہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی مشرکین کے سرغنہ ابو سفیان بن حرب سے مڈبھیڑ ہو ئی۔ جب حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان پر قابو پا لیا اور وہ انہیں قتل کرنے ہی والے تھے تو مشرکین میں سے ایک شخص شداد بن اسود نے انہیں دیکھا اور حنظلہ رضی اللہ پر تلوار کا وار کر کے انہیں قتل کر دیا۔ جب معرکہ ختم ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ فرشتے حنظلہ رضی اللہ کو غسل دے رہے ہیں اور صحابہ کو حکم دیا کہ وہ ان کی بیوی سے ان کے بارے میں دریافت کریں۔ جب صحابہ کرام نے ان کی بیوی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حنظلہ رضی اللہ عنہ نے جب جہاد کی پکار سنی تو وہ حالتِ جنابت میں تھے اور اسی حالت میں وہ نکل کھڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو بتایا کہ حالتِ جنابت میں شہید ہوجانے کی وجہ سے فرشتوں نے انہیں غسل دیا۔
(رواه بن حبان والحاكم والبيهقي) 
راوي : عبدالله بن الزبير ، المحدث : شعيب الأرناؤوط ، المصدر : تخريج صحيح ابن حبان : الصفحة أو الرقم : 7025 : خلاصة حكم المحدث : صحيح. 

واضح ہو کہ کربلا کے متعلق اکثر روایات جعلی اور من گھڑت ہیں جسے جھوٹے روایوں نے گھڑ گھڑ کر کربلا کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ 
مولوی احمد رضا کھان صاحب لکھتے ہیں: 

شہادت نامے (شہادت کے بیانات) جو آج کل عوام میں رائج ہیں اکثر روایات باطلہ وبے سر وپا سے مملو، اکاذیب موضوعہ پر مشتمل ہیں۔ ایسے بیان کا پڑھنا اور سننا وہ شہادت نامہ ہو خواہ کچھ اور، مجلس میلاد مبارک میں ہو خواہ کہیں اور مطلقا حرام و ناجائز ہے (فتاوٰی رضویہ، 24، ص 514 رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

قصہ گو دیوبندی اور رضاکھانی واعظین کو چاہیے کہ جھوٹے قصے کہانیوں کا مطالعہ کرنے کے بجائے صحیح اور مسند کتابوں کا مطالعہ کریں اور امت مسلمہ کو ضلالت و بدعت کے بجائے کتاب و سنت کے واضح شاہراہ کی طرف رہنمائی فرمائیں! 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...