Sunday, November 26, 2023

موضوع: میدان کربلا میں حضرت قاسم بن حسن کی شادی اور رسم مہندی! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: میدان کربلا میں حضرت قاسم بن حسن کی شادی اور رسم مہندی! 

مصادر! مختلف مراجع و مصادر! 

صوفی سنتوں کے من گھرٹ قصے کہانیوں پر عمل پیرا رضا کھانی مولوی و مفتیان محرم الحرام میں واقعہ کربلا پر آنسوؤں کی داد لینے کے لیے من گھڑت قصوں کا انبار لگا دیتے ہیں : ان ہی میں سے حضرت قاسم کی شادی اور مہندی کا بھی واقعہ ہے۔ 
چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت قاسم بن حسن نے عاشورے کے روز حضرت امام حسین ؑ سے میدان جنگ میں جانے کی اجازت طلب کی تو امام نے کم سنی کی وجہ سے آپ کو اذن جہاد نہیں دیا ۔یہ بات قاسم پر بہت گراں گزری ۔اچانک قاسم کو اپنا وہ بازو بند یاد آیا جو ان کے والد ماجد نے انکے بازو پر باندھا تھا اور انہیں وصیت کی تھی کہ جب تم پر غم پر غلبہ زیادہ ہو تو تم اسے کھولنا ۔پس قاسم نے اپنا بازو بند کھولا تو اس بازو بند میں اس کے باپ کی طرف سے لکھا تھا کہ کربلا میں اپنی جان چچا پر نچھاور کرنا۔قاسم خوشی کے عالم میں یہ وصیت نامہ لے کر اپنے چچا کے پاس گئے اور وصیت چچا کو دکھائی ۔ حضرت امام حسن کا خط پڑھ کر حضرت امام حسین نے گریہ کیا اور کہا کہ مجھے بھی ایک وصیت کی تھی کہ میں اپنی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا تم سے عقد کروں۔ لہذا آپ نے اپنے بھائیوں عباس ، عون اور اپنی بہن زینب کو شادی کی تیاری کا حکم دیا اور اس طرح دسویں محرم کے روز قاسم بن حسن کی شادی ہوئی اور اس کے بعد آپ میدان کار زار میں تشریف لے گئے۔ 
(روضة الشهداء: ملا کاشفی : 401) 

آئیے اس قصے کی تصحیح و تغلیط سے پہلے ہم رضا کھانیوں کے ہی امام احمد رضا کھان سے حقیقت واقعہ دریافت کرتے ہیں۔ 
چنانچہ جب اس بابت مولانا احمد رضا کھان سے  سوال کیا گیا کہ: حضرت قاسم کی شادی کا میدان کربلا میں ہونا جس بنا پر مہندی نکالی جاتی ہے، اہل سنت کے نزدیک ثابت ہے یا نہیں ؟
تو کھان  صاحب نے جواب دیا: 
 نہ یہ شادی ثابت ہے نہ یہ مہندی؛ سوا اختراع کے کوئی چیز نہیں ہے۔ 
(یعنی یہ بنائی ہوئی باتیں ہیں) ۔ (فتاوی رضویہ، ج24، ص502)

اسی طرح ایک اور رضاکھانی  علی نقشبندی لکھتے ہیں کہ : یہ تمام باتیں من گھڑت اور اہل بیت رضی اللہ عنہم پر بہتان عظیم ہے ۔ امام حسین کی دو صاحب زادیاں تھیں(سکینہ اور فاطمہ صغری) اور واقعۂ کربلا سے پہلے دونوں کی شادی ہو چکی تھی ۔ 
(میزان الکتب، ص246) 

یہاں تک کہ جمہور شیعہ عالموں نے بھی اس واقعے کا انکار کیا ہے۔ 
چنانچہ شیعہ زکی حیدری لکھتے ہیں: 
"اس کے علاوہ ہم شیعوں کی مستند کتابوں میں امام حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد صرف دو ہے ایک کا م سکینہ (س) اور ایک کا نام فاطمہ صغریٰ ہے فاطمہ (س) کا نکاح امام حسن (ع) کے بیٹے حسن مثنیٰ سے ہوا تھا جن سے آج تک طباطبائی سادات کا سلسلہ چل رہا ہے۔ ہمارے کراچی میں مدفن "حضرت عبداللہ شاہ غازی" جن کی مزار شیعہ و سنی عقیدتمندوں کی آماج گاہ ہے یہ بھی حسن مثنیٰ یعنی بیبی فاطمہ صغریٰ کی اولاد میں سے ہیں۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام حسین (ع) کی کوئی بیٹی ایسی نہیں تھی جس کا عقد ہونا باقی ہو کہ جناب قاسم (ع) ان سے عقد کریں۔ لھٰذا اب مہندیاں سجانے والوں کو دعوت ہے کہ امام حسین (ع) کی ایک آدہ اور بیٹیاں نکال لائیں اور وہ بھی مستند حوالوں کے ساتھ پھر اس کا عقد جناب قاسم (ع) سے اور وہ بھی کربلا میں ثابت کریں۔
آگے مزید لکھتے ہیں: اور بھائی یہ شادی اتنی "ارجنٹ" ہی کیوں ہونے لگی کہ کربلا کی تپتی ریت میں دشمن کا لشکر گھیرا ڈالے کھڑا ہو اور امام (ع) کو اپنے بھتیجے کی شادی کی ضرورت محسوس ہونے لگی؟ امام (ع) معاذاللہ محل و مقام نہیں دیکھتے کہ کدس وقت کون سا کام انجام دیا جائے؟اور بھیا معاف کیجئے گا بھلا امام حسین (ع) نے اپنی بیٹی کی شادی کرنی ہی تھی تو عاشورہ سے قبل اور جناب قاسم (ع) کے دیگر برادران سے کیوں نہ کی جو کہ شادی کے لائق تھے اور جناب قاسم (ع) سے عمر میں بڑے تھے؟ شادی کے قابل بچی کا عقد 13 یا 12 سالہ جناب قاسم سے کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ 
ایک طرف خود ہی کہتے ہو وہ 13 سال کے تھے اور پھر نابالغ کی شادی منا کر مہندیاں نکالتے ہو۔ صرف مزے لینے ہیں نا تم نے عاشورہ سے؟

اس واقعے کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بھی کافی ہے کہ سب سے پہلے اس واقعے کو ایک گھڑنتو طومار خاں ملا کاشفی متوفی 110ھ نے اپنی کتاب روضۃ الشھداء میں بے سند بیان کیا ہے۔ یعنی ایک ہزار سالوں تک اس واقعے کو نہ کسی نے بیان کیا اور نہ ہی کسی نے اپنی کتاب میں درج کیا۔ تقریبا ایک ہزار سال بعد ملا کاشفی کو اس واقعے کا کشف ہوا اور اس نے اپنی کتاب میں لکھ دیا جس کی اس نے نہ کوئی سند پیش کی نہ کسی معتبر ماخذ کا حوالہ ہی دیا ہے۔"

جبکہ صحیح احادیث میں جان نثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی جان نثاری با سند صحیح موجود ہیں: 
جنگ اُحد کے دن مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا لیکن بعد ازاں تیر اندازوں نے رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی کی تو شکست ہو گئی اور بعض لوگ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو مدینے کی جانب موجود ایک پہاڑ کی بلندی پر واقع بستیوں تک جا پہنچے تاہم وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹ آئے۔ دورانِ معرکہ حنظلہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی مشرکین کے سرغنہ ابو سفیان بن حرب سے مڈبھیڑ ہو ئی۔ جب حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان پر قابو پا لیا اور وہ انہیں قتل کرنے ہی والے تھے تو مشرکین میں سے ایک شخص شداد بن اسود نے انہیں دیکھا اور حنظلہ رضی اللہ پر تلوار کا وار کر کے انہیں قتل کر دیا۔ جب معرکہ ختم ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ فرشتے حنظلہ رضی اللہ کو غسل دے رہے ہیں اور صحابہ کو حکم دیا کہ وہ ان کی بیوی سے ان کے بارے میں دریافت کریں۔ جب صحابہ کرام نے ان کی بیوی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حنظلہ رضی اللہ عنہ نے جب جہاد کی پکار سنی تو وہ حالتِ جنابت میں تھے اور اسی حالت میں وہ نکل کھڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو بتایا کہ حالتِ جنابت میں شہید ہوجانے کی وجہ سے فرشتوں نے انہیں غسل دیا۔
(رواه بن حبان والحاكم والبيهقي) 
راوي : عبدالله بن الزبير ، المحدث : شعيب الأرناؤوط ، المصدر : تخريج صحيح ابن حبان : الصفحة أو الرقم : 7025 : خلاصة حكم المحدث : صحيح. 

واضح ہو کہ کربلا کے متعلق اکثر روایات جعلی اور من گھڑت ہیں جسے جھوٹے روایوں نے گھڑ گھڑ کر کربلا کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ 
مولوی احمد رضا کھان صاحب لکھتے ہیں: 

شہادت نامے (شہادت کے بیانات) جو آج کل عوام میں رائج ہیں اکثر روایات باطلہ وبے سر وپا سے مملو، اکاذیب موضوعہ پر مشتمل ہیں۔ ایسے بیان کا پڑھنا اور سننا وہ شہادت نامہ ہو خواہ کچھ اور، مجلس میلاد مبارک میں ہو خواہ کہیں اور مطلقا حرام و ناجائز ہے (فتاوٰی رضویہ، 24، ص 514 رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

قصہ گو دیوبندی اور رضاکھانی واعظین کو چاہیے کہ جھوٹے قصے کہانیوں کا مطالعہ کرنے کے بجائے صحیح اور مسند کتابوں کا مطالعہ کریں اور امت مسلمہ کو ضلالت و بدعت کے بجائے کتاب و سنت کے واضح شاہراہ کی طرف رہنمائی فرمائیں! 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...