السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع : 'نماز مومن کی معراج ہے' روایت کی تحقیق!
صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضا کھاؤنی علماء و مفتیان کی تحریر و تقریر میں یہ روایت اکثر ملاحظہ کیا ہوگا : الصلوۃ معراج المومنین (نماز مومن کی معراج ہے۔) یہ روایت حنفیوں کے یہاں اس قدر معتبر ہے کہ اکٹر حنفی مسجدوں میں یہ روایت محراب کی زینت بنی رہتی ہے اور مسجد کی درودیوار پر اس روایت کو نقش کرایا جاتاہے ۔
لیکن یہ روایت بے اصل اور بے سند ہے۔ صحیح تو کیا، ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے۔
دارالعلوم دیوبند نے بھی ان الفاظ کے حدیث رسول ہونے کی سرے سے نفی کی ہے۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس کے بابت دریافت کیا گیا کہ کیا کوئی ایسی حدیث یا حدیث کا مفہوم ہے کہ صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی ہر سنت کو پوری کرتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج والی سنت پوری نہیں کرسکتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز مومن کی معراج ہے۔
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا : یہ حدیث نہیں ہے: الصلاة معراج الموٴمنین،یہ کسی بزرگ کا قول ہے، چوں کہ نماز کی فرضیت وہیں ہوئی ہے اور یہ بہت اہم ہے جس کی وجہ سے نماز کو مومن کی معراج کہا گیا ہے۔ لیکن یہ حدیث نہیں ہے۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر : 10092
اس کے باوجود دیوبندی، تبلیغی اور رضاکھاؤنی علماء اور مفتیوں کو اکثر یہ روایت بیان کرتے ہوئے سنا جاتا ہے۔
جبکہ نبی کریم ﷺ کی طرف ایسی جھوٹی روایت کی نسبت کرنا نہ صرف حرام ہے بلکہ جہنم کی وعید ہے.
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔
(مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔
عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291)
علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔
(در مختار: ص 87)
نماز کے فضائل و مناقب پر بے شمار صحیح احادیث موجود ہیں، دیوبندی، تبلیغی اور رضا کھاؤنی لوگوں کو چاہیے کہ اپنے صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں کے بجائے قرآن و صحیح احادیث کا مطالعہ کریں، خود بھی گمراہی سے بچیں اور قوم ملت کو بھی بچائیں۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!
No comments:
Post a Comment