السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع : کیا حنفیت واقعی سر تا پا من گھڑت ہی من گھڑت ہے؟؟
قرآن و حدیث کو چھوڑ کر صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی و رضا خانی علماء اور مفتیوں کی جہالت اور شریعت سازی پر جتنا لکھا جائے وہ شاہد کم ہی ہوگا۔
بات ہے 70000 والے نصاب کی ! یعنی 125000(سوا لاکھ) یا 70000( ستر ہزار) بار کلمہ پڑھ کر اپنے مردوں کی بخشش کرانے کی!
سوا لاکھ یا ستر ہزار بار کلمہ پڑھ کر جس مردے کو ٹرانسفر کر دیا جائے اس کی بخشش کردی جا تی ہے اور ٹرانسفرر ( ٹرانسفر کرانے والے) کو بھی بخشش کا ٹکٹ دے دیا جاتا ہے۔
جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں بھی یہ بات درج ہے۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب یہ پوچھا گیا کہ : اگر کلمہ طیبہ پڑھ کر بخشانہ ہو تو صحیح تعداد کیا ہے؟ سوا لاکھ یا ستر ہزار ہے؟ (۲) اگر ماں باپ اور بیوی بچوں کو 70000 والا نصاب بخشنا ہو تو سب کے لیے الگ الگ پڑھنا ہوگا یا ایک دفعہ پڑھ کر ہی سب کو بخش دیا جائے؟ (۳) کلمہ طیبہ پورا پڑھا جائے یا صرف پہلا حصہ؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا :
جواب
"مرقاة شرح مشکوة کے حوالے سے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت پہنچی ہے کہ جو شخص ستر ہزار مرتبہ لا إلہ إلا اللہ پڑھے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے اور جس کے لیے پڑھا جائے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ (۲) ایک ہی دفعہ پڑھ کر سب کو بخش دیا جائے، سب کو پورا پورا ثواب ملے گا، اور اگر آپ ہر ایک کے لیے الگ الگ پڑھ کر بخشنا چاہیں تو اور بہتر ہے۔ (۳) لاإلہ إلا اللہ الگ جزہے اور محمد رسول اللہ الگ جز ہے، دونوں الگ الگ جز قرآن و حدیث میں مذکور ہیں، ایک جز کو پڑھنے سے ایک کا ثواب ملے گا اور دونوں کو پڑھنے سے دونوں کا ثواب ملے گا۔ البتہ مشائخ کا معمول یہ رہا ہے کہ پہلے جز ”لا إلہ إلااللہ“ کا ورد کرنے کی صورت میں ۱۰، ۱۵، مرتبہ کے بعد ”محمد رسول اللہ“ بھی شامل کر لیتے ہیں۔ قال الشیخ محي الدین ابن العربی أنہ بلغني عن النبي صلی علیہ وسلم أن من قال لا إلہ إلا اللہ سبعین ألفا غفر لہ ومن قیل لہ غفرلہ أیضا․ (مرقاة ۳/۹۸،۹۹)"
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 65892
لیکن یہ فتوی واہیات، شریعت سازی اور نبی کریم ﷺ پر بہتان تراشی کا بد ترین نمونہ ہے۔ اس نمونہ پر جتنی بھی انگشت بدندانی کی جاۓ کم ہے۔
کیونکہ مردوں کی بخشش کا یہ فارمولہ نہ نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ ہے۔
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین سے۔۔۔
نہ خلفاء راشدین سے۔۔۔۔
نہ ائمہ اربعہ رحمھم اللہ سے۔۔
صحیح تو کیا، کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت مذکور نہیں ہے جس میں یہ فارمولہ مذکور ہو۔
دار العلوم دیوبند کے اس فتوے میں ملا علی قاری کی مرقاة المفاتیح کے حوالے سے غالی صوفی ابن عربی کی جس روایت کو پیش کیا گیا ہے، وہ روایت بذات خود بے سند ہے۔ اس کی سند نہ تو دارالعلوم دیوبند کے پاس ہے، نہ ملا علی قاری کے پاس اور نہ ہی ابن عربی نے کوئی سند پیش کی ہے۔
اور شاید انہیں معلوم نہیں کہ یہ حدیث اور محدثین و محققین کی دنیا ہے، جہاں بیٹے کا سماع باپ سے اگر نہ ہو تو محدثین اس حدیث کو لا يعرف له سماع من ابيه کہ کر ضعیف اور منقطع قرار دے دیا کرتے ہیں۔ یہاں کنز و قدوری کے تکے باز مسائل نہیں چلتے۔
دیوبندی اور رضا کھانی بزرگوں کے بزرگ صوفی ابن عربی کی پیدائش 558 ھجری میں ہوئی ہے اور ابن عربی " بلغنی"سے روایت کر رہا ہے یعنی مجھے یہ حدیث پہونچی ہے۔ لیکن کیسے پہنچی، کس نے پہنچایا، کوئی سلسلہ سند اس صوفی نے پیش نہیں کیا، ابن عربی اور نبی کریم ﷺ کے درمیان 558 سالوں کا طویل فاصلہ ہے۔ اس طویل فاصلے کو کون پر کرے گا؟ ابن عربی، ملا علی قاری حنفی، یا پھر دارالعلوم دیوبند؟؟
اور بے سند روایتوں کے سہارے تکے بازی کر کے فتوے دینا فتوے کی کون سی قسم ہے، کوئی اسی دارالعلوم دیوبند سے یہ فتوی پوچھ لے۔
ورنہ سلف صالحین اور محدثین عظام کے دو ٹوک فتؤوں پر غور و فکر کر لے!
عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں:
عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: «الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ.
عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔
(صحیح مسلم: 32)
امام ابوعبد اللہ الحاکم فرماتے ہیں: اگر اسناد نہ ہوتی، محدثین کرام اس کی طلب اور اس کی حفاظت و صیانت کا مکمل اہتمام نہ فرماتے تو مینارۂ اسلام منہدم ہوچکا ہوتا ، ملحدین اور بدعتیوں کو حدیثیں گڑھنے اور اسانید کو الٹ پلٹ کرنے پر قدرت ہوجاتی؛ کیوں کہ احادیث جب اسانید سے خالی ہوں گی تو وہ بے اعتبار ہوکر رہ جائیں گی ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ،ص : 115)
سفیان ثوری رَحْمَہ اللہ فرماتے ہیں: الَإسْنَادُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ سِلَاحٌ , فَبِأَيِّ شَيْءٍ يُقَاتِلُ ؟ یعنی : اسناد، مومن کا ہتھیار ہے، جب اس کے پاس ہتھیار ہی نہیں ہوگا تو وہ کس چیز سے جنگ لڑے گا ۔( کتاب المجروحین، ص:31)
عبد اللہ بن مبارک رحمہ الله فرماتے ہیں : بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ: یَعْنِي الِاسْنَادَ۔ یعنی : ہمارے (محدثین) اور دوسرے لوگوں کے درمیان قابل اعتماد چیز اسناد ہے ۔
(مقدمہ مسلم)
ابواسحاق ابراہیم بن عیسی طالقانی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا : ابوعبدالرحمن ! ( وہ ) حدیث کیسی ہے جو ( ان الفاظ میں ) آئی ہے :’’ نیکی کے بعد ( دوسری ) نیکی یہ ہے کہ تم اپنی نماز کے ساتھ اپنے والدین کے لیے نماز پڑھو اور اپنے روزے کے ساتھ اپنے والدین کے لیے روزے رکھو ؟‘‘ کہا : عبداللہ ( بن مبارک ) نے کہا : یہ کس ( کی سند ) سے ہے ، کہا : میں نے عرض کی : یہ شہاب بن خراش کی ( بیان کردہ ) حدیث ہے ، انھوں نے کہا : ثقہ ہے ، ( پھر ) کس سے ؟ کہا : میں نے عرض کی : حجاج بن دینار سے ، کہا : ثقہ ہے ، ( پھر ) کس سے ؟ کہا : میں نے عرض کی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ کہنے لگے : ابواسحاق ! حجاج بن دینار اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان کٹھن مسافتیں ہیں جن کو عبور کرتے ہوئے اونٹنیوں کی گردنیں کٹ ( کر گر ) جاتی ہیں
(مقدمہ صحیح مسلم: حدیث نمبر :32)
حجاج بن یوسف اور نبی کریم ﷺ کے درمیان صرف ایک صدی کا فاصلہ ہے، تب عبد اللہ بن مبارک یہ فرما رہے ہیں کہ حجاج بن یوسف اور رسول اللہ کے درمیان کٹھن مسافتیں ہیں جن کو عبور کرتے ہوئے اونٹنیوں کی گردنیں کٹ جاتی ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں ذکر کردہ روایت کے راوی صوفی ابن عربی اور نبی کریم ﷺ کے درمیان پانچ صدیوں کا فاصلہ ہے۔ کن حنفی اونٹنیوں کے سہارے یہ فاصلے طے کیے دارالعلوم دیوبند نے!
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی نے بھی اس روایت کو بے سند قرار دیتے ہوے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ تلاش بسیار کے باوجود یہ روایت انہیں نہیں نہ مل سکی۔
چنانچہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی سے یہ پوچھا گیا کہ کیا یہ روایت ہے کہ اگر کوئی شخص سوا لاکھ مرتبہ کلمہ پڑھ کر اپنے پاس محفوظ رکھے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے یا اس مقدار میں پڑھ کر کسی کو بخش دے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا :
اَذکار دو طرح کے ہوتے ہیں:
۱۔ وہ اَذکار و اَوراد جو خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہوں۔
۲۔وہ وظائف جو بزرگوں کے تجربات اور معمولات سے متعلق ہوں ۔
جو وظائف واذکار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہوتے ہیں، ان میں ثواب ،مغفرت ، جنت ، جنت میں لگنے والے پودوں کا بھی تذکرہ ہوسکتا ہے؛ کیوں کہ وہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا بتلایا ہوا ہے، اورآپ علیہ السلام وہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے بتلانے کی وجہ سے بتاتے ہیں ، لہذا ان میں غیب کی چیزوں خصوصاً ثواب وعتاب کا تذکرہ مل سکتا ہے۔
جو وظائف بزرگوں سے منقول ہوں ان میں چوں کہ ان کے اپنے تجربات اور مشاہدہ کا دخل ہوتا ہے، اس لیے ان میں صرف ان ہی چیزوں کا تذکرہ مل سکتا ہے جو مشاہدہ میں آسکتی ہوں یا پھر انہوں نے اس کا تجربہ کیا ہو ، محسوس کیا ہو ، یا اس کا تعلق غیب سے نہ ہو ، یا عمومی نصوص سے استیناس ہو، اگر اس کے علاوہ کوئی چیز ہوگی تو اسے شرعی طور پر معتبر نہیں مانا جائے گا خصوصاً مخصوص ثواب وعقاب کا تعلق بزرگوں کے تجربات سے نہیں ہے۔
مذکورہ وظیفہ چوں کہ مغفرت سے متعلق ہے؛ اس لیے یہ صرف اس وقت معتبر ہوگا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو ، اور یہ روایت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہمیں تلاش کے باوجود نہ مل سکی؛ البتہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقاۃ المفاتیح"باب ما علی الماموم من المتابعۃ للامام "(۴/۲۵۴) میں ابن عربی رحمہ اللہ کی "الفتوحات المکیہ " سے حوالہ سے نقل کی ہے، جس کی کوئی سند نہیں، اور اس کی صحت کے لیے خود ابن عربی رحمہ اللہ کےپاس موجود کسی نوجوان کے کشف کا تذکرہ کیا ہے۔
"قَالَ الشَّيْخُ مُحْيِي الدِّينِ بْنُ الْعَرَبِيِّ: إنَّهُ بَلَغَنِي «عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ سَبْعِينَ أَلْفًا غُفِرَ لَهُ، وَمَنْ قِيلَ لَهُ غُفِرَ لَهُ أَيْضًا» ، فَكُنْتُ ذَكَرْتُ التَّهْلِيلَةَ بِالْعَدَدِ الْمَرْوِيِّ مِنْ غَيْرِ أَنْ أَنْوِيَ لِأَحَدٍ بِالْخُصُوصِ، بَلْ عَلَى الْوَجْهِ الْإِجْمَالِيِّ، فَحَضَرْتُ طَعَامًا مَعَ بَعْضِ الْأَصْحَابِ، وَفِيهِمْ شَابٌّ مَشْهُورٌ بِالْكَشْفِ، فَإِذَا هُوَ فِي أَثْنَاءِ الْأَكْلِ أَظْهَرَ الْبُكَاءَ فَسَأَلْتُهُ عَنِ السَّبَبِ فَقَالَ: أَرَى أُمِّي فِي الْعَذَابِ فَوَهَبْتُ فِي بَاطِنِي ثَوَابَ التَّهْلِيلَةِ الْمَذْكُورَةِ لَهَا فَضَحِكَ وَقَالَ: إِنِّي أَرَاهَا الْآنَ فِي حُسْنِ الْمَآبِ، قَالَ الشَّيْخُ: فَعَرَفْتُ صِحَّةَ الْحَدِيثِ بِصِحَّةِ كَشْفِهِ، وَصِحَّةَ كَشْفِهِ بِصِحَّةِ الْحَدِيثِ".(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للعلامة علي القاري، (المتوفى: 1014هـ) ص:879 ج:3 ط: دار الفكر، بيروت – لبنان)
تاہم احادیثِ مبارکہ کی تصحیح وتضعیف کشف وغیرہ کی وجہ سے نہیں ہوسکتی ہے، اس لیے اس روایت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ کلمۂ طیبہ کے دیگر بہت سے فضائل احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہیں، اور احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتاہے کہ یہ کلمہ ایک مرتبہ بھی اِخلاص کے ساتھ کہہ دیا جائے تو انسان کی اَبدی کامیابی اور کامل مغفرت کا، یا بالآخر مغفرت کا ذریعہ بن جاتاہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144105200867
اس فتوے کے بعد جو کہ ایک دیوبندی مکتب فکر کا ہی فتوی ہے، مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، بس اتنا بتا دیں کہ اس70000 ( ستر ہزار) والے فارمولے اور ابن عربی کی اس بے سند روایت کو شیخ صوفی زکریا صاحب نے بھی شیخ ابو یزید قرطبی کے حوالے سے اپنی کتاب" فضائل اعمال"، باب فضائل ذکر میں شرح و بسط کے ساتھ ذکر کیا ہے، جسے تبلیغی حضرات حالت سکران و وجد میں مزے لے لے کر پڑھا کرتے ہیں۔
صحیح فرمایا ہے محدثین نے کہ حدیث میں جتنا جھوٹ ان صوفیوں اور بزرگوں نے گھڑا ہے، اتنا کسی نے نہیں گھڑا ہے۔
یحیی بن سعید فرماتے ہیں: ما رأيت من الصالحين اكذب منهم فى الحديث.
حديث رسول میں بزرگوں سے زیادہ جھوٹا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔
(مقدمہ صحیح مسلم)
ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بزرگوں نے تو عادت بنالی ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف اور موضوع روایت ہی بیان کریں گے۔
(شرح علل الترمذی: 115)
حافظ ابو عبداللہ بن مندہ فرماتے ہیں:
اذا رايت في حديث حدثنا فلان الزاهد فاغسل يدك منه.
جب کسی حدیث تم یہ دیکھو کہ فلاں بزرگ نے ہم سے روایت کیا ہے تو تو اس حدیث سے اپنے ہاتھ دھو لو۔ (شرح علل الترمذی: 113)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!
No comments:
Post a Comment