Thursday, December 21, 2023

الدنيا مزرعة الآخرة.(دنیا آخرت کی کھیتی یے) روایت من گھڑت ہے۔ ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع : الدنيا مزرعة الآخرة.(دنیا آخرت کی کھیتی یے) روایت من گھڑت ہے۔ 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

قرآن و سنت کو چھوڑ کر اپنے صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضا خانی علماء اور مفتیوں کی نبی کریم ﷺ کے اوپر سلسلہ بہتان تراشی میں سے یہ روایت بھی ہے : الدنيا مزرعة الاخرة.(دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔) 

الدنيا مزرعة الآخرة( دنیا آخرت کی کھیتی ہے) 
یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔ اس روایت کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ 
(مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔ 

اس روایت کے بارے میں علامہ سخاوی فرماتے ہیں: 
لم اقف عليه مع ايراد الغزالي له في الاحياء. 
(المقاصد الحسنه: ص: 351) 

ملا علی قاری حنفی نے اس کو اپنی کتاب "الاسرار المرفوعة في اخبار الموضوعة" میں روایت کیا ہے اور علامہ سخاوی کا قول نقل کیا ہے۔ ( لم اقف عليه مع ايراد الغزالي له في الاحياء) 

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی نے بھی اپنے فتوے میں اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ 
چنانچہ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کیا "الدنیا مزرعة الآخرة" کسی صحیح اور مستند روایت سے ثابت ہے؟ مذکورہ بالاحدیث کی تحقیق و تخریج بتادیں!

تو جامعہ نے جواب دیتے ہوئے فتوی دیا : یہ حدیث کسی مستند کتاب میں موجود نہیں ہے، بلکہ بعض علماء نے اسے موضوع قرار دیا ہے، لہذا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے، اجتناب ضروری ہے۔

دارالافتاء 
 جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144201201040

لیکن حیرت کی انتہا اس وقت ہوتی ہے جب دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کے مسند افتاء پر بیٹھ کر مفتی دارالعلوم دیوبند اس روایت کی صحت و ضعف سے لا علمی کا اظہار کرے۔ 

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس زبان زد دیوبندی و رضا خانی روایت کے بابت دریافت کیا گیا کہ بخدمت جناب علماء کرام، الدنیا مزرعة الآخرہ اس حدیث کے متعلق رہنمائی فرمائیں یہ حدیث بیان کرنا کیسا ہے اور یہ بھی سنا ہے کہ اس حدیث میں بہت ضعف ہے ۔ واضح طور پر سمجھادیں۔
  تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا : 
جواب : 
مذکورہ روایت کے متعلق علامہ سخاوی نے مقاصد حسنہ میں لکھا ہے کہ مجھے اس کی سند نہیں ملی جب کہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے قال في المقاصد: لم أقف علیہ مع إیراد الغزالي لہ في الإحیاء وقال القاری: قلت معناہ صحیح مقتبس من قولہ تعالی: مَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَہُ فِی حَرْثِہِ (کشف الخفاء)

پس مذکورہ روایت کا مفہوم ومضمون بیان کرنے میں حرج نہیں حدیث کے ضعف وصحت کا حال معلوم نہیں۔

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 161766

 انہیں کنز، قدوری، ہدایہ در مختار جیسی خانہ ساز فقہی کتابوں کی مغلق اور مبہم عبارتوں کا حال خوب معلوم ہے، اور ایسی مشہور روایت جو ان کے یہاں تحریر و تقریر، درس و تدریس، وعظ و خطابت میں خوب رائج اور مستعمل ہے، جو نہ مغلق ہے نہ مبہم ہے، اس کی صحت و سقم کا حال تا حال مفتی صاحب کو معلوم نہیں۔ 
جبکہ اس روایت کے متعلق علامہ سخاوی کا قول لم اقف عليه(مجھے یہ روایت نہیں ملی) مفتی صاحب کے فتوے میں درج ہے۔ اور انہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ علامہ سخاوی نے اس روایت کو اور اس تبصرے کو اپنی کتاب "المقاصد الحسنه في بيان كثير من الاحاديث المشهورة على الألسنة " میں بیان کیا ہے، جس کتاب کے نام سے بھی ظاہر ہے کہ علامہ سخاوی نے اس کتاب میں ایسی ضعیف اور موضوع روایتوں کو اکٹھا کیا ہے جو عوام میں تو مشہور ہو گئیں ہیں لیکن درحقیقت وہ بے سند ، موضوع اور من گھڑت روایتیں ہیں۔ اسی طرح فتوے میں ملا علی قاری حنفی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ ملا علی قاری حنفی نے اس روایت کو اپنی کتاب " الاسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة " جسے موضوعات کبری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، میں ذکر کیا ہے اور جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے ، ملا علی قاری حنفی نے موضوعات کبریٰ میں موضوع اور من گھڑت روایتوں کو ہی جمع کیا ہے۔  

سائل نے مفتی صاحب سے اس روایت کی صحت و ضعف کے متعلق رہنمائی مانگی تھی جیسا کہ سوال سے واضح ہے: " بخدمت جناب علماء کرام، الدنیا مزرعة الآخرہ اس حدیث کے متعلق رہنمائی فرمائیں یہ حدیث بیان کرنا کیسا ہے اور یہ بھی سنا ہے کہ اس حدیث میں بہت ضعف ہے ۔ واضح طور پر سمجھا دیں۔ "

لیکن جس بابت رہنمائی مانگی گئی اسے دینے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی اور جس کے متعلق پوچھا ہی نہیں اس کا فتویٰ عنایت فرما دیا۔ 
کیا دھڑکنوں نے جانے سوالات کر دیے
چارہ گروں نے سوچے بنا دے دیا جواب! 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...