السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع : حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ پر بہتان تراشی!
قرآن و صحیح احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل پیرا دیوبندی و رضاحانی علماء، خطباء اور مفتیوں کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب درج ذیل واقعے کو بیان کرتے ہوئے سنا جاتا ہے۔
"حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی زبان میں لکنت تھی، "اشھد "نہیں کہہ سکتے تھے تو اذان میں "اسھد "کہتے تھے، ایک بار ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ اذان کہنے سے منع کر دیا اور فرمایا: صبح صادق ہو تو کوئی اور اذان کہے۔ لیکن رات بہت ہی زیادہ طویل ہوگئی، سارے لوگ بالآخر اکتا گئے، سب آکر مسجد میں اکٹھے ہوئے کہ آخر آج رات کیوں رک گئی ہے ؟ تو جبرائیل علیہ السلام، اللہ تعالی کی طرف سے حکم لائے کہ جب تک بلال کو اذان کی اجازت نہیں دی جائے گی رات ختم نہیں ہوگی، اجازت دی گئی تو رات ختم ہوگئی".
لیکن مذکورہ بالا واقعہ سراسر موضوع اور من گھڑت ہے۔ صحیح تو کیا، کسی ضعیف سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ واقعہ مذکور ہو۔
بلکہ اس واقعے کے برعکس حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ بلند اور خوبصورت آواز کے حامل تھے۔جیسا کہ عبد اللہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے اذان کے متعلق جب اپنا خواب نبی کریم ﷺ سنایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا خواب سن کر ان کو حکم دیا تھا : "فقم مع بلال فالق عليه ما رايت فليؤذن به فإنه اندى صوتا منك۔۔۔"(سنن ابی داود، حدیث نمبر: 499۔ سنن ترمذی،حدیث نمبر: 189 )
ترجمہ:
” تم بلال کے ساتھ اٹھ کر جاؤ اور جو کلمات تم نے خواب میں دیکھے ہیں، وہ انہیں بتاتے جاؤ، تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں، کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند اور خوبصورت ہے۔
سنن ابی داود کی اس روایت میں "فإنه اندى صوتا منك" کے الفاظ ہیں اور ترمذی کی روایت میں" فإنه أندى وأمد صوتا منك" کے الفاظ ہیں۔
علامہ شوکانی نے "نیل الاوطار" میں "فإنه أندى صوتا منك" کے معنی لکھے ہیں : أي أحسن صوتاً منك ..
یعنی بلال خوبصورت آواز کے مالک ہیں۔
إمام ابن الأثير نے النھایة میں لکھا ہے۔أي أرفع وأعلى وقيل : أحسن وأعذب .یعنی بلال بلند و بالا اور میٹھی دلکش آواز کے مالک ہیں۔
علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : " كانَ مِنْ أَفْصَحِ النَّاسِ، لَا كَمَا يَعْتَقِدُهُ بَعْضُ النَّاسِ أَنَّ سِينَهُ كَانَتْ شِينًا، حَتَّى إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ يَرْوِي حَدِيثًا فِي ذَلِكَ لَا أَصْلَ لَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ سِينَ بِلَالٍ عِنْدَ اللَّهِ شِينٌ ۔
(البداية والنهاية،ج:5، ص: 333 )
ترجمہ:
حضرت بلال فصیح و بلیغ انسان تھے اور جو بات لوگوں نے گھڑلی ہے کہ حضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی، یہاں تک کہ ایک روایت بیان کر ڈالی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کا سین بھی اللہ تعالی کے نزدیک شین ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے-
علامہ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وقد ترجمه غير واحد بأنه كان ندي الصوت حسنه فصيحه، وقال النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لعبد اللَّه بن زيد صاحب الرؤيا: ألق عليه، أي على بلال، الأذان، فإنه
أندى صوتا منك.
متعدد علماء نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ترجمے میں یہ بات لکھی ہے کہ ان کی آواز بہت خوبصورت تھی اور وہ فصیح اللسان بھی تھے۔ نبی کریم ﷺ نے عبد اللہ بن زید سے کہا تھا کہ وہ یہ کلمات اذان حضرت بلال کو سکھا دیں کیونکہ وہ تم سے زیادہ خوبصورت آواز کے مالک ہیں۔
آگے لکھتے ہیں:
ولو كانت فيه لثغة لتوفرت الدواعي على نقلها، ولعابها أهل النفاق والضلال، المجتهدين في التنقص لأهل الإسلام.
اور اگر ایسا ہوتا تو حضور علیہ السلام انہیں موذن ہی کیوں کر بناتے اور یوں تو دشمنانِ اسلام کو بہت کچھ کہنے کا موقع مل جاتا، اس لیے مذکورہ واقعہ بیان کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
( المقاصد الحسنه للسخاوي: 397/1)
علامہ عجلونی نے" كشف الخفاء ومزيل الإلباس" میں اس روایت کو لکھنے کے بعد لکھا ہے کہ علامہ جلال الدین سیوطی نے الدرر میں فرمایا کہ امہات الکتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور علامہ جمال الدین مزی سے نقل کرتے ہوئے شیخ برہان سفاقسی فرماتے ہیں کہ عوام کی زبان پر تو ایسا مشہور ہے، لیکن اصل کتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا-
(كشف الخفاء و مزيل الإلباس للعجلوني: (258/1)
علامہ بدر الدین زرکشی نے"التذکرۃ فی الأحاديث المشتھرۃ "میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ حافظ جمال الدین مزی فرماتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبان پر تو مشہور ہے، لیکن اس بارے میں ہم نے امہات الکتب میں کچھ بھی نہیں دیکھا۔
(التذكرة الزركشي: 1/208)
رضاخانیوں کے نائب مفتی اعظم ہند شریف الحق امجدی لکھتے ہیں:
یہ واقعہ قوال و کم واقف مولوی حضرات سناتےہیں یہ کچھ کتب میں درج ہےلیکن تمام محدثین کااس پراتفاق ہےکہ یہ روایت موضوع من گھڑت اوربالکلیہ جھوٹ ہے ۔ نیز فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ کسی بھی معتبر کتاب میں نہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ بہت فصیح تھے اور آپ کی آواز بہت پیاری تھی ۔ (فتاوی شارح بخاری ج: ص : 82، 83 )
دیوبندیوں کا مشہور دارالافتاء دارالعلوم دیوبند نے مزکورہ واقعہ پر فتویٰ دیتے ہوئے لکھا ہے:
(الف) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے سے جو واقعہ آپ نے ذکر کیا ہے بسیار تلاش کے باوجود کتب حدیث و سیر میں ہمیں نہیں ملا، جو لوگ اس واقعے کو صحیح کہتے ہیں، آپ ان ہی سے اس کا مستند حوالہ معلوم کریں اور جب تک مستند حوالہ معلوم نہ ہو تب تک اس طرح کے واقعات لوگوں کے درمیان بالکل نہ بیان کرنا چاہئے۔
(ب) حضرت بلال رضی اللہ عنہ چوں کہ اصلاً حبشہ کے تھے؛ اس لیے آپ کے رنگ کالا تھا (دیکھیں: سیر اعلام النبلاء: ۳/۲۱۲، ط: بیروت، اور الأعلام للزرکلی: ۲/۷۳)؛ لیکن آپ کی زبان میں لکنت تھی اس کا ذکر تلاش کے باوجود ہمیں نہیں ملا۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر : 149179
مذکورہ بالا تفصیل سے عیاں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب یہ واقعہ جمہور محدثین کے نزدیک موضوع اور من گھڑت ہے، تقلیدی مفتیوں نے بھی اس واقعہ کو بے سند قرار دیا ہے۔ باوجود اس کے بکثرت تقلیدی خطیبوں اور مفتیوں کو اسے بیان کرتے سنا جاتا ہے۔
انہیں چاہیے کہ اپنے صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں کو پڑھنے کے بجائے کتاب و سنت کا مطالعہ کریں، اور عوام کو تقلیدی تاریکیوں میں چلانے کے بجائے قران وسنت کی شاہراہ کی طرف راہنمائی کریں۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!
No comments:
Post a Comment