السلام عليكم ورحمة الله و بركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع : بڑی شخصیتوں کا نام لے کر مقلدین علماء کا عوام کو ایک زبردست دھوکا!
مصادر : مختلف مراجع و مصادر!
صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے علماء و مفتیان سادہ لوح عوام کو اکثر کسی بڑی شخصیت کے نام پر مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور جب انہیں کے حوالے سے ان کے دیگر مسائل پر عمل کی دعوت دی جاتی ہے تو اپنا رخ پھیر لیتے ہیں۔ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْـفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۔
(اور کہتے ہیں کہ ہم بعضوں پر ایمان لائے ہیں اور بعضوں کے منکر ہیں اور چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے درمیان ایک راہ نکالیں۔)
(سورہ نساء : 150)
چنانچہ امام احمد بن حنبل کے نام پر عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ احمد بن حنبل نے نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کو مکروہ کہا ہے۔ اور احمد بن حنبل کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں، امام بخاری کے استاذ ، امام المحدثین اور امام اہل السنہ ہیں ، حتی کہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ امام احمد کے بعد جتنے محدثین پیدا ہونگے وہ امام احمد کے اتباع ہونگے
(اعلام الموقعین ج1 ص 23)
ہم کہتے ہیں بالکل صحیح فرمایا آپ نے کہ امام احمد بن حنبل کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں، امام بخاری کے استاذ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی امام احمد بن حنبل نے فرمایا :
رفع الیدین کرنے والا نہ کرنے والے سے بہتر ہے۔
(مسائل لاحمد بن حنبل برواية ابنه عبد الله بن حنبل : تحقيق زهير الشاويش : المكتب الاسلامي البيروت: ص : ٧٠)
اسی امام احمد بن حنبل نے فرمایا :
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رفع الیدین نہ کرنے والے کو کنکریاں مارا کرتے تھے اور اس تارک رفع کو رفع الیدین کا حکم دیتے تھے۔
(مسائل لاحمد بن حنبل برواية ابنه عبد الله بن حنبل : تحقيق زهير الشاويش : المكتب الاسلامي البيروت: ص : ٧٠)
اسی امام احمد بن حنبل کا عمل بتاتا ہوں :
وہ رکوع جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوے رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
(مسائل لاحمد بن حنبل برواية ابنه عبد الله بن حنبل : تحقيق زهير الشاويش : المكتب الاسلامي البيروت: ص : ٧٠)
اسی امام احمد بن حنبل نے کہا :
رفع الیدین رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔
(مسائل لاحمد بن حنبل برواية ابنه عبد الله بن حنبل : تحقيق زهير الشاويش : المكتب الاسلامي البيروت: ص : ٧٠)
اسی امام احمد بن حنبل نے عقبہ بن عامر سے روایت کیا:
ہر رفع الیدین پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔
(مسائل لاحمد بن حنبل برواية ابنه عبد الله بن حنبل : تحقيق زهير الشاويش : المكتب الاسلامي البيروت: ص : ۷۲)
اسی امام احمد بن حنبل نے فرمایا :
" يجهر بآمين اذا قرأ بفاتحة الكتاب" ومن خلفه. یعنی امام اور مقتدی بلند آواز سے آمین کہیں گے۔
(مسائل لاحمد بن حنبل برواية ابنه عبد الله بن حنبل : تحقيق زهير الشاويش : المكتب الاسلامي البيروت: ص : ۷۳)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ایسے بے شمار مسائل ہیں۔ کیا ان مسائل پر بھی یہ فرماتے ہوے امت کو دعوت عمل دیں گے ک یہ مسائل امام احمد بن حنبل کے ہیں یا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس کے قائل و فاعل
ہیں۔
اور امام احمد بن حنبل کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں ، امام بخاری کے استاذ ، امام المحدثین اور امام اہل السنہ ہیں ، حتی کہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ امام احمد کے بعد جتنے محدثین پیدا ہونگے وہ امام احمد کے اتباع ہونگے
(اعلام الموقعین ج1 ص 23)
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ امام احمد بن حنبل نے سینے پر ہاتھ باندھنے کی حدیث کو اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے، اہل حدیث حضرات سینے پر ہاتھ باندھ کر اسی حدیث رسول ﷺ پر عمل کرتے ہیں، اور بالفرض امام احمد بن حنبل نے سینے پر ہاتھ باندھنے کو مکروہ کہا ہے تو یہ ان کا اپنا قول ہے جو حدیث رسول کے مقابلے میں یکسر مطروح و مردود ہے۔ اور بھلا یہ کس منہ سے امام احمد کے قول کی بنیاد پر سینے پر ہاتھ باندھنے کو حرام ہونے کا فتوی دیتے ہیں جبکہ یہ حرام کاری صدیوں سے اجتماعی طور پر ان کے گھروں میں ہوتی چلی آرہی ہے اور آج بھی قائم و دائم ہے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!
No comments:
Post a Comment