Thursday, December 21, 2023

الدنيا مزرعة الآخرة.(دنیا آخرت کی کھیتی یے) روایت من گھڑت ہے۔ ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع : الدنيا مزرعة الآخرة.(دنیا آخرت کی کھیتی یے) روایت من گھڑت ہے۔ 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

قرآن و سنت کو چھوڑ کر اپنے صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضا خانی علماء اور مفتیوں کی نبی کریم ﷺ کے اوپر سلسلہ بہتان تراشی میں سے یہ روایت بھی ہے : الدنيا مزرعة الاخرة.(دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔) 

الدنيا مزرعة الآخرة( دنیا آخرت کی کھیتی ہے) 
یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔ اس روایت کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ 
(مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔ 

اس روایت کے بارے میں علامہ سخاوی فرماتے ہیں: 
لم اقف عليه مع ايراد الغزالي له في الاحياء. 
(المقاصد الحسنه: ص: 351) 

ملا علی قاری حنفی نے اس کو اپنی کتاب "الاسرار المرفوعة في اخبار الموضوعة" میں روایت کیا ہے اور علامہ سخاوی کا قول نقل کیا ہے۔ ( لم اقف عليه مع ايراد الغزالي له في الاحياء) 

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی نے بھی اپنے فتوے میں اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ 
چنانچہ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کیا "الدنیا مزرعة الآخرة" کسی صحیح اور مستند روایت سے ثابت ہے؟ مذکورہ بالاحدیث کی تحقیق و تخریج بتادیں!

تو جامعہ نے جواب دیتے ہوئے فتوی دیا : یہ حدیث کسی مستند کتاب میں موجود نہیں ہے، بلکہ بعض علماء نے اسے موضوع قرار دیا ہے، لہذا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے، اجتناب ضروری ہے۔

دارالافتاء 
 جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144201201040

لیکن حیرت کی انتہا اس وقت ہوتی ہے جب دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کے مسند افتاء پر بیٹھ کر مفتی دارالعلوم دیوبند اس روایت کی صحت و ضعف سے لا علمی کا اظہار کرے۔ 

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس زبان زد دیوبندی و رضا خانی روایت کے بابت دریافت کیا گیا کہ بخدمت جناب علماء کرام، الدنیا مزرعة الآخرہ اس حدیث کے متعلق رہنمائی فرمائیں یہ حدیث بیان کرنا کیسا ہے اور یہ بھی سنا ہے کہ اس حدیث میں بہت ضعف ہے ۔ واضح طور پر سمجھادیں۔
  تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا : 
جواب : 
مذکورہ روایت کے متعلق علامہ سخاوی نے مقاصد حسنہ میں لکھا ہے کہ مجھے اس کی سند نہیں ملی جب کہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے قال في المقاصد: لم أقف علیہ مع إیراد الغزالي لہ في الإحیاء وقال القاری: قلت معناہ صحیح مقتبس من قولہ تعالی: مَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَہُ فِی حَرْثِہِ (کشف الخفاء)

پس مذکورہ روایت کا مفہوم ومضمون بیان کرنے میں حرج نہیں حدیث کے ضعف وصحت کا حال معلوم نہیں۔

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 161766

 انہیں کنز، قدوری، ہدایہ در مختار جیسی خانہ ساز فقہی کتابوں کی مغلق اور مبہم عبارتوں کا حال خوب معلوم ہے، اور ایسی مشہور روایت جو ان کے یہاں تحریر و تقریر، درس و تدریس، وعظ و خطابت میں خوب رائج اور مستعمل ہے، جو نہ مغلق ہے نہ مبہم ہے، اس کی صحت و سقم کا حال تا حال مفتی صاحب کو معلوم نہیں۔ 
جبکہ اس روایت کے متعلق علامہ سخاوی کا قول لم اقف عليه(مجھے یہ روایت نہیں ملی) مفتی صاحب کے فتوے میں درج ہے۔ اور انہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ علامہ سخاوی نے اس روایت کو اور اس تبصرے کو اپنی کتاب "المقاصد الحسنه في بيان كثير من الاحاديث المشهورة على الألسنة " میں بیان کیا ہے، جس کتاب کے نام سے بھی ظاہر ہے کہ علامہ سخاوی نے اس کتاب میں ایسی ضعیف اور موضوع روایتوں کو اکٹھا کیا ہے جو عوام میں تو مشہور ہو گئیں ہیں لیکن درحقیقت وہ بے سند ، موضوع اور من گھڑت روایتیں ہیں۔ اسی طرح فتوے میں ملا علی قاری حنفی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ ملا علی قاری حنفی نے اس روایت کو اپنی کتاب " الاسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة " جسے موضوعات کبری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، میں ذکر کیا ہے اور جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے ، ملا علی قاری حنفی نے موضوعات کبریٰ میں موضوع اور من گھڑت روایتوں کو ہی جمع کیا ہے۔  

سائل نے مفتی صاحب سے اس روایت کی صحت و ضعف کے متعلق رہنمائی مانگی تھی جیسا کہ سوال سے واضح ہے: " بخدمت جناب علماء کرام، الدنیا مزرعة الآخرہ اس حدیث کے متعلق رہنمائی فرمائیں یہ حدیث بیان کرنا کیسا ہے اور یہ بھی سنا ہے کہ اس حدیث میں بہت ضعف ہے ۔ واضح طور پر سمجھا دیں۔ "

لیکن جس بابت رہنمائی مانگی گئی اسے دینے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی اور جس کے متعلق پوچھا ہی نہیں اس کا فتویٰ عنایت فرما دیا۔ 
کیا دھڑکنوں نے جانے سوالات کر دیے
چارہ گروں نے سوچے بنا دے دیا جواب! 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

Wednesday, December 13, 2023

‎کیا حنفیت واقعی سر تا پا من گھڑت ہی من گھڑت ہے؟؟ ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع : کیا حنفیت واقعی سر تا پا من گھڑت ہی من گھڑت ہے؟؟ 

قرآن و حدیث کو چھوڑ کر صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی و رضا خانی علماء اور مفتیوں کی جہالت اور شریعت سازی پر جتنا لکھا جائے وہ شاہد کم ہی ہوگا۔ 

بات ہے 70000 والے نصاب کی ! یعنی 125000(سوا لاکھ) یا 70000( ستر ہزار) بار کلمہ پڑھ کر اپنے مردوں کی بخشش کرانے کی!
سوا لاکھ یا ستر ہزار بار کلمہ پڑھ کر جس مردے کو ٹرانسفر کر دیا جائے اس کی بخشش کردی جا تی ہے اور ٹرانسفرر ( ٹرانسفر کرانے والے) کو بھی بخشش کا ٹکٹ دے دیا جاتا ہے۔ 
 
جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں بھی یہ بات درج ہے۔ 
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب یہ پوچھا گیا کہ : اگر کلمہ طیبہ پڑھ کر بخشانہ ہو تو صحیح تعداد کیا ہے؟ سوا لاکھ یا ستر ہزار ہے؟ (۲) اگر ماں باپ اور بیوی بچوں کو 70000 والا نصاب بخشنا ہو تو سب کے لیے الگ الگ پڑھنا ہوگا یا ایک دفعہ پڑھ کر ہی سب کو بخش دیا جائے؟ (۳) کلمہ طیبہ پورا پڑھا جائے یا صرف پہلا حصہ؟

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا : 

جواب 

"مرقاة شرح مشکوة کے حوالے سے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت پہنچی ہے کہ جو شخص ستر ہزار مرتبہ لا إلہ إلا اللہ پڑھے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے اور جس کے لیے پڑھا جائے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ (۲) ایک ہی دفعہ پڑھ کر سب کو بخش دیا جائے، سب کو پورا پورا ثواب ملے گا، اور اگر آپ ہر ایک کے لیے الگ الگ پڑھ کر بخشنا چاہیں تو اور بہتر ہے۔ (۳) لاإلہ إلا اللہ الگ جزہے اور محمد رسول اللہ الگ جز ہے، دونوں الگ الگ جز قرآن و حدیث میں مذکور ہیں، ایک جز کو پڑھنے سے ایک کا ثواب ملے گا اور دونوں کو پڑھنے سے دونوں کا ثواب ملے گا۔ البتہ مشائخ کا معمول یہ رہا ہے کہ پہلے جز ”لا إلہ إلااللہ“ کا ورد کرنے کی صورت میں ۱۰، ۱۵، مرتبہ کے بعد ”محمد رسول اللہ“ بھی شامل کر لیتے ہیں۔ قال الشیخ محي الدین ابن العربی أنہ بلغني عن النبي صلی علیہ وسلم أن من قال لا إلہ إلا اللہ سبعین ألفا غفر لہ ومن قیل لہ غفرلہ أیضا․ (مرقاة ۳/۹۸،۹۹)" 

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 65892

لیکن یہ فتوی واہیات، شریعت سازی اور نبی کریم ﷺ پر بہتان تراشی کا بد ترین نمونہ ہے۔ اس نمونہ پر جتنی بھی انگشت بدندانی کی جاۓ کم ہے۔ 
کیونکہ مردوں کی بخشش کا یہ فارمولہ نہ نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ ہے۔ 
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین سے۔۔۔ 
نہ خلفاء راشدین سے۔۔۔۔ 
نہ ائمہ اربعہ رحمھم اللہ سے۔۔ 
صحیح تو کیا، کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت مذکور نہیں ہے جس میں یہ فارمولہ مذکور ہو۔ 
 
دار العلوم دیوبند کے اس فتوے میں ملا علی قاری کی مرقاة المفاتیح کے حوالے سے غالی صوفی ابن عربی کی جس روایت کو پیش کیا گیا ہے، وہ روایت بذات خود بے سند ہے۔ اس کی سند نہ تو دارالعلوم دیوبند کے پاس ہے، نہ ملا علی قاری کے پاس اور نہ ہی ابن عربی نے کوئی سند پیش کی ہے۔ 

اور شاید انہیں معلوم نہیں کہ یہ حدیث اور محدثین و محققین کی دنیا ہے، جہاں بیٹے کا سماع باپ سے اگر نہ ہو تو محدثین اس حدیث کو لا يعرف له سماع من ابيه کہ کر ضعیف اور منقطع قرار دے دیا کرتے ہیں۔ یہاں کنز و قدوری کے تکے باز مسائل نہیں چلتے۔ 
دیوبندی اور رضا کھانی بزرگوں کے بزرگ صوفی ابن عربی کی پیدائش 558 ھجری میں ہوئی ہے اور ابن عربی " بلغنی"سے روایت کر رہا ہے یعنی مجھے یہ حدیث پہونچی ہے۔ لیکن کیسے پہنچی، کس نے پہنچایا، کوئی سلسلہ سند اس صوفی نے پیش نہیں کیا، ابن عربی اور نبی کریم ﷺ کے درمیان 558 سالوں کا طویل فاصلہ ہے۔ اس طویل فاصلے کو کون پر کرے گا؟ ابن عربی، ملا علی قاری حنفی، یا پھر دارالعلوم دیوبند؟؟ 
 
اور بے سند روایتوں کے سہارے تکے بازی کر کے فتوے دینا فتوے کی کون سی قسم ہے، کوئی اسی دارالعلوم دیوبند سے یہ فتوی پوچھ لے۔ 
 
ورنہ سلف صالحین اور محدثین عظام کے دو ٹوک فتؤوں پر غور و فکر کر لے! 

 عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں:

عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: «الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ.
 
عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔ 
(صحیح مسلم: 32) 

امام ابوعبد اللہ الحاکم فرماتے ہیں: اگر اسناد نہ ہوتی، محدثین کرام اس کی طلب اور اس کی حفاظت و صیانت کا مکمل اہتمام نہ فرماتے تو مینارۂ اسلام منہدم ہوچکا ہوتا ، ملحدین اور بدعتیوں کو حدیثیں گڑھنے اور اسانید کو الٹ پلٹ کرنے پر قدرت ہوجاتی؛ کیوں کہ احادیث جب اسانید سے خالی ہوں گی تو وہ بے اعتبار ہوکر رہ جائیں گی ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ،ص : 115)

 سفیان ثوری رَحْمَہ اللہ فرماتے ہیں: الَإسْنَادُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ سِلَاحٌ , فَبِأَيِّ شَيْءٍ يُقَاتِلُ ؟ یعنی : اسناد، مومن کا ہتھیار ہے، جب اس کے پاس ہتھیار ہی نہیں ہوگا تو وہ کس چیز سے جنگ لڑے گا ۔( کتاب المجروحین، ص:31)

عبد اللہ بن مبارک رحمہ الله فرماتے ہیں : بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ: یَعْنِي الِاسْنَادَ۔ یعنی : ہمارے (محدثین) اور دوسرے لوگوں کے درمیان قابل اعتماد چیز اسناد ہے ۔
(مقدمہ مسلم) 

 ابواسحاق ابراہیم بن عیسی طالقانی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا : ابوعبدالرحمن ! ( وہ ) حدیث کیسی ہے جو ( ان الفاظ میں ) آئی ہے :’’ نیکی کے بعد ( دوسری ) نیکی یہ ہے کہ تم اپنی نماز کے ساتھ اپنے والدین کے لیے نماز پڑھو اور اپنے روزے کے ساتھ اپنے والدین کے لیے روزے رکھو ؟‘‘ کہا : عبداللہ ( بن مبارک ) نے کہا : یہ کس ( کی سند ) سے ہے ، کہا : میں نے عرض کی : یہ شہاب بن خراش کی ( بیان کردہ ) حدیث ہے ، انھوں نے کہا : ثقہ ہے ، ( پھر ) کس سے ؟ کہا : میں نے عرض کی : حجاج بن دینار سے ، کہا : ثقہ ہے ، ( پھر ) کس سے ؟ کہا : میں نے عرض کی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ کہنے لگے : ابواسحاق ! حجاج بن دینار اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان کٹھن مسافتیں ہیں جن کو عبور کرتے ہوئے اونٹنیوں کی گردنیں کٹ ( کر گر ) جاتی ہیں
(مقدمہ صحیح مسلم: حدیث نمبر :32)

حجاج بن یوسف اور نبی کریم ﷺ کے درمیان صرف ایک صدی کا فاصلہ ہے، تب عبد اللہ بن مبارک یہ فرما رہے ہیں کہ حجاج بن یوسف اور رسول اللہ کے درمیان کٹھن مسافتیں ہیں جن کو عبور کرتے ہوئے اونٹنیوں کی گردنیں کٹ جاتی ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں ذکر کردہ روایت کے راوی صوفی ابن عربی اور نبی کریم ﷺ کے درمیان پانچ صدیوں کا فاصلہ ہے۔ کن حنفی اونٹنیوں کے سہارے یہ فاصلے طے کیے دارالعلوم دیوبند نے! 

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی نے بھی اس روایت کو بے سند قرار دیتے ہوے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ تلاش بسیار کے باوجود یہ روایت انہیں نہیں نہ مل سکی۔ 

چنانچہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی سے یہ پوچھا گیا کہ کیا یہ روایت ہے کہ اگر کوئی شخص سوا لاکھ مرتبہ کلمہ پڑھ کر اپنے پاس محفوظ رکھے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے یا اس مقدار میں پڑھ کر کسی کو بخش دے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا : 
اَذکار دو طرح کے ہوتے ہیں:

۱۔ وہ اَذکار و اَوراد جو خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہوں۔ 

۲۔وہ وظائف جو بزرگوں کے تجربات اور معمولات سے متعلق ہوں ۔

جو وظائف واذکار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہوتے ہیں، ان میں ثواب ،مغفرت ، جنت ، جنت میں لگنے والے پودوں کا بھی تذکرہ ہوسکتا ہے؛ کیوں کہ وہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا بتلایا ہوا ہے، اورآپ علیہ السلام وہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے بتلانے کی وجہ سے بتاتے ہیں ، لہذا ان میں غیب کی چیزوں خصوصاً ثواب وعتاب کا تذکرہ مل سکتا ہے۔

جو وظائف بزرگوں سے منقول ہوں ان میں چوں کہ ان کے اپنے تجربات اور مشاہدہ کا دخل ہوتا ہے، اس لیے ان میں صرف ان ہی چیزوں کا تذکرہ مل سکتا ہے جو مشاہدہ میں آسکتی ہوں یا پھر انہوں نے اس کا تجربہ کیا ہو ، محسوس کیا ہو ، یا اس کا تعلق غیب سے نہ ہو ، یا عمومی نصوص سے استیناس ہو، اگر اس کے علاوہ کوئی چیز ہوگی تو اسے شرعی طور پر معتبر نہیں مانا جائے گا خصوصاً مخصوص ثواب وعقاب کا تعلق بزرگوں کے تجربات سے نہیں ہے۔

مذکورہ وظیفہ چوں کہ مغفرت سے متعلق ہے؛ اس لیے یہ صرف اس وقت معتبر ہوگا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو ، اور یہ روایت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہمیں تلاش کے باوجود نہ مل سکی؛ البتہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقاۃ المفاتیح"باب ما علی الماموم من المتابعۃ للامام "(۴/۲۵۴) میں ابن عربی رحمہ اللہ کی "الفتوحات المکیہ " سے حوالہ سے نقل کی ہے، جس کی کوئی سند نہیں، اور اس کی صحت کے لیے خود ابن عربی رحمہ اللہ کےپاس موجود کسی نوجوان کے کشف کا تذکرہ کیا ہے۔

"قَالَ الشَّيْخُ مُحْيِي الدِّينِ بْنُ الْعَرَبِيِّ: إنَّهُ بَلَغَنِي «عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ سَبْعِينَ أَلْفًا غُفِرَ لَهُ، وَمَنْ قِيلَ لَهُ غُفِرَ لَهُ أَيْضًا» ، فَكُنْتُ ذَكَرْتُ التَّهْلِيلَةَ بِالْعَدَدِ الْمَرْوِيِّ مِنْ غَيْرِ أَنْ أَنْوِيَ لِأَحَدٍ بِالْخُصُوصِ، بَلْ عَلَى الْوَجْهِ الْإِجْمَالِيِّ، فَحَضَرْتُ طَعَامًا مَعَ بَعْضِ الْأَصْحَابِ، وَفِيهِمْ شَابٌّ مَشْهُورٌ بِالْكَشْفِ، فَإِذَا هُوَ فِي أَثْنَاءِ الْأَكْلِ أَظْهَرَ الْبُكَاءَ فَسَأَلْتُهُ عَنِ السَّبَبِ فَقَالَ: أَرَى أُمِّي فِي الْعَذَابِ فَوَهَبْتُ فِي بَاطِنِي ثَوَابَ التَّهْلِيلَةِ الْمَذْكُورَةِ لَهَا فَضَحِكَ وَقَالَ: إِنِّي أَرَاهَا الْآنَ فِي حُسْنِ الْمَآبِ، قَالَ الشَّيْخُ: فَعَرَفْتُ صِحَّةَ الْحَدِيثِ بِصِحَّةِ كَشْفِهِ، وَصِحَّةَ كَشْفِهِ بِصِحَّةِ الْحَدِيثِ".(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للعلامة علي القاري، (المتوفى: 1014هـ) ص:879 ج:3 ط: دار الفكر، بيروت – لبنان)

تاہم احادیثِ مبارکہ کی تصحیح وتضعیف کشف وغیرہ کی وجہ سے نہیں ہوسکتی ہے، اس لیے اس روایت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ کلمۂ طیبہ کے دیگر بہت سے فضائل احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہیں، اور احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتاہے کہ یہ کلمہ ایک مرتبہ بھی اِخلاص کے ساتھ کہہ دیا جائے تو انسان کی اَبدی کامیابی اور کامل مغفرت کا، یا بالآخر مغفرت کا ذریعہ بن جاتاہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144105200867

اس فتوے کے بعد جو کہ ایک دیوبندی مکتب فکر کا ہی فتوی ہے، مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، بس اتنا بتا دیں کہ اس70000 ( ستر ہزار) والے فارمولے اور ابن عربی کی اس بے سند روایت کو شیخ صوفی زکریا صاحب نے بھی شیخ ابو یزید قرطبی کے حوالے سے اپنی کتاب" فضائل اعمال"، باب فضائل ذکر میں شرح و بسط کے ساتھ ذکر کیا ہے، جسے تبلیغی حضرات حالت سکران و وجد میں مزے لے لے کر پڑھا کرتے ہیں۔ 

صحیح فرمایا ہے محدثین نے کہ حدیث میں جتنا جھوٹ ان صوفیوں اور بزرگوں نے گھڑا ہے، اتنا کسی نے نہیں گھڑا ہے۔ 

یحیی بن سعید فرماتے ہیں: ما رأيت من الصالحين اكذب منهم فى الحديث. 
حديث رسول میں بزرگوں سے زیادہ جھوٹا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ 

(مقدمہ صحیح مسلم)

ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بزرگوں نے تو عادت بنالی ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف اور موضوع روایت ہی بیان کریں گے۔ 
(شرح علل الترمذی: 115) 

حافظ ابو عبداللہ بن مندہ فرماتے ہیں: 
 اذا رايت في حديث حدثنا فلان الزاهد فاغسل يدك منه. 
جب کسی حدیث تم یہ دیکھو کہ فلاں بزرگ نے ہم سے روایت کیا ہے تو تو اس حدیث سے اپنے ہاتھ دھو لو۔ (شرح علل الترمذی: 113)

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

Wednesday, December 6, 2023

نماز مومن کی معراج ہے' روایت کی تحقیق! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع : 'نماز مومن کی معراج ہے'  روایت کی تحقیق! 

صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضا کھاؤنی علماء و مفتیان کی تحریر و تقریر میں یہ روایت اکثر ملاحظہ کیا ہوگا : الصلوۃ معراج المومنین (نماز مومن کی معراج ہے۔)  یہ روایت حنفیوں کے یہاں اس قدر معتبر ہے کہ اکٹر حنفی مسجدوں میں یہ روایت محراب کی زینت بنی رہتی ہے اور مسجد کی درودیوار پر اس روایت کو نقش کرایا جاتاہے ۔

لیکن یہ روایت بے اصل اور بے سند ہے۔ صحیح تو کیا، ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند نے بھی ان الفاظ کے حدیث رسول ہونے کی سرے سے نفی کی ہے۔ 

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس کے بابت دریافت کیا گیا کہ کیا کوئی ایسی حدیث یا حدیث کا مفہوم ہے کہ صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی ہر سنت کو پوری کرتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج والی سنت پوری نہیں کرسکتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز مومن کی معراج ہے۔

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا : یہ حدیث نہیں ہے: الصلاة معراج الموٴمنین،یہ کسی بزرگ کا قول ہے، چوں کہ نماز کی فرضیت وہیں ہوئی ہے اور یہ بہت اہم ہے جس کی وجہ سے نماز کو مومن کی معراج کہا گیا ہے۔ لیکن یہ حدیث نہیں ہے۔

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر : 10092

اس کے باوجود دیوبندی، تبلیغی اور رضاکھاؤنی علماء اور مفتیوں کو اکثر یہ روایت بیان کرتے ہوئے سنا جاتا ہے۔ 

جبکہ نبی کریم ﷺ کی طرف ایسی جھوٹی روایت کی نسبت کرنا نہ صرف حرام ہے بلکہ جہنم کی وعید ہے. 
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ 
(مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔ 

 عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . 
 
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔

(صحیح بخاری: 1291) 

علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔
(در مختار: ص 87) 

نماز کے فضائل و مناقب پر بے شمار صحیح احادیث موجود ہیں، دیوبندی، تبلیغی اور رضا کھاؤنی لوگوں کو چاہیے کہ اپنے صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں کے بجائے قرآن و صحیح احادیث کا مطالعہ کریں، خود بھی گمراہی سے بچیں اور قوم ملت کو بھی بچائیں۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...