السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: نواسہ رسول کا قاتل کون: یزید یا کوئی اور؟
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
جیسا کہ عام طور سے لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل یزید ہے ۔ یزید نے ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کروایا تھا۔
کیا واقعی یزید نے ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا؟
یا قاتلینِ نواسہ رسول کوئی اور تھے؟
آیئے صحیح ترین روایات کی روشنی میں جانتے ہیں کہ اس وقت موجود صحابی رسول اور زوجہ مطہرہ ام المومنین نے قتل کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا تھا۔
ابن ابی نعم کہتے ہیں: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا ان سے ایک شخص نے ( حالت احرام میں ) مچھر کے مارنے کے متعلق پوچھا ( کہ اس کا کیا کفارہ ہو گا ) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے ہو؟ اس نے بتایا کہ عراق کا، فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو، ( مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے ) حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو ( بےتکلف قتل کر ڈالا ) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہ دونوں ( حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5994)
اس روایت سے یہ بالکل واضح ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر جیسے صحابی جو اس وقت موجود تھے، انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل یزید کو نہیں بلکہ عراقیوں اور کوفیوں کو ٹھہرایا۔ اور اس بات کی گواہی دیدی کہ نواسہ رسول کو یزید نے نہیں بلکہ کوفیوں نے قتل کیا تھا۔
اسی طرح ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کوفیوں پر لعنت فرمائی جب انہیں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر ملی، چنانچہ شہر بن حوشب کہتے ہیں:
عن شهر بن حوشب قال : سمعت أم سلمة حين جاء نعي الحسين بن علي لعنت أهل العراق وقالت : قتلوه قتلهم الله عز و جل غروه وذلوه لعنهم الله
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ جب حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو میں نے کہتے ہو سنا، انہوں نے کوفیوں پر اللہ کی لعنت کی۔ اور کہا: "انہوں نے حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا، اللہ انہیں تباہ وبرباد کردے، انہوں نے حسین رضی اللہ عنہ کو دھوکا دیا اور انہیں رسوا کیا۔ اللہ کی ان پر لعنت ہو۔ "
(فضائل صحابہ: امام احمد بن حنبل واسنادہ حسن)
مجمع الزوائد میں بھی یہ روایت موجود ہے، اور اسے نقل کرنے کے بعد امام ہیثمی نے فرمایا: رواه الطبراني و رجاله مو ثقون. کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد:15145)
اس روایت میں بھی ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل یزید کو نہیں بلکہ عراقیوں اور کوفیوں کو قرار دیا۔
اس طرح صحابہ کرام ، ازواج مطہرات اور اہل بیت میں سے کسی سے بھی کوئی ایسی صحیح روایت موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ انہوں نے قتل حسین کا ذمہ دار یزید کو ٹہرایا ہو یا یزید کی خلافت سے دستبرداری اختیار کر لی ہو۔
بلکہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے صحابی رسول واقعہ کربلا کے بعد بھی یزید کی بیعت پر قائم رہے اور دوسروں کو بھی بیعت یزید پر قائم و دائم رہنے کی تلقین کی :
حضرت نافع مولی عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ :
یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں جب حرہ کے واقعے میں جو ہوا سو ہوا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن مطیع کے پاس گئے ، اس نے کہا : ابوعبدالرحمن ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت ) کے لیے گدا بچھاؤ ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آیا ، میں تمہارے پاس ( صرف ) اس لیے آیا ہوں کہ تم کو ایک حدیث سناؤں جو میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے ( مسلمانوں کے حکمران کی ) اطاعت سے ہاتھ کھینچا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں حاضر ہو گا کہ اس کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو گی اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی ( مسلمان حکمران ) کی بیعت نہیں تھی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 4793)
نیز حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کر کے یزید کی بیعت نہ توڑنے کی نصیحت کی اور انہیں آخرت کی ذلت و رسوائی سے آگاہ کیا،
اور یزید کی بیعت توڑنے والے سے لا تعلقی کا اعلان کر دیا۔
جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت نافع سے روایت ہے کہ:
جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے ، آپ نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص ( یزید ) کی بیعت ، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی عذر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو ! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا ، میں اس سے الگ ہوں ۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر: 7111)
واضح ہو کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات واقعہ کربلا کے بعد کہی تھی۔
اگر نواسہ رسول کا قاتل یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ ہوتے تو ہرگز عبداللہ بن عمر رضی اللہ عھما کا موقف یہ نہیں ہوتا بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہوتا۔
مسلک دیوبند کا مشہور ادارہ دارالعلوم دیوبند کا بھی یہ فتویٰ ہے کہ یزید حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل نہیں ہے۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب یہ پوچھنا گیا کہ
کیا یہ صحیح ہے کہ یزید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل نہیں ہے؟ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو کس نے شہید کیا۔
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا :
" جی ہاں! یزید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل نہیں بلکہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک یزید کے دربار میں لے جایا گیا تو اس نے اس پر اظہار افسوس کیا اور ابن زیاد پر لعن طعن کیا۔"
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:3619
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment